الأحد، 04 ربيع الأول 1448| 2026/08/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال کا جواب

 

عراق اور ایران نواز دھڑوں کا انجام

 

(ترجمہ)

 

 

سوال:

الشرق الاوسط نے 4/8/2026ء کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا: ("عراقی حکومت خود کو ایک انتہائی حساس صورتحال  کے سامنے پاتی ہے، اور وہ واشنگٹن کی جانب سے دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کے مطالبات اور عراقی سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی اداروں کے اندر سرایت کر جانے والے ایرانی اثر و رسوخ کے درمیان سیاسی اور سیکیورٹی مفلوج حالت میں جی رہی ہے... اور حشد شعبی کے ادارے نے 29/7/2026ء کو اعلان کیا تھا کہ متعدد عراقی صوبوں میں حشد کے سرکاری ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنانے والے امریکی اور سعودی لڑاکا طیاروں کے حملوں کے نتیجے میں حشد کے کم از کم 20 اہلکار ہلاک اور 32 دیگر زخمی ہوئے ہیں... الشرق الاوسط، 4/8/2026ء")۔ اور ("امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر مشترکہ حملہ کیا ہے... الحرہ، 31/7/2026ء")، اور یہ کارروائی وزیر اعظم علی فالح الزیدی کے امریکہ کے سرکاری دورے سے واپسی کے بعد کی گئی! تو اس وقت ان سب کے پیچھے کیا ہے؟ اور کیا عراق پر امریکہ کی گرفت اس سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئی ہے جتنی پہلے تھی؟

 

جواب:

 

ان سوالات کے بارے میں تصویر کو واضح کرنے کے لیے ہم مندرجہ ذیل امور کا جائزہ لیتے ہیں:

1- صدام حسین کے عراق پر امریکی قبضے کے ذریعے امریکہ نے عراقی حکومت/بعث پارٹی کی حکومت اور اس کے پشت پناہوں یعنی پورے خطے میں برطانوی اثر و رسوخ کو ایک کاری ضرب لگائی تھی، لیکن برطانوی اثر و رسوخ سعودی پھیپھڑوں کے ذریعے سانس لیتا رہا۔ سابق سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے عراق میں امریکی پالیسی پر کھل کر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ عراق میں جن علاقوں پر امریکہ قبضہ کر رہا ہے، وہ انہیں ایران کے حوالے کر رہا ہے۔ لیکن 2015ء میں برطانیہ کے آلہ کار شاہ عبداللہ کی وفات اور سعودی عرب میں امریکی آلہ کاروں سلمان اور اس کے بیٹے محمد کے برسرِاقتدار آنے سے امریکہ نے خطے میں برطانوی اثر و رسوخ کو آخری کاری ضرب لگائی، کیونکہ اب انگریزوں کے لیے صرف خلیج کی چھوٹی ریاستیں اور اردن ہی باقی رہ گئے ہیں، اور یہ سب ایسی چھوٹی ریاستیں ہیں جو امریکی اثر و رسوخ کی مخالفت کرنے کی کوئی طاقت یا سکت نہیں رکھتیں، بلکہ وہ خلل ڈالنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتیں! اور اس طرح امریکہ خطے میں اصل اثر و رسوخ کا مالک بن گیا۔

 

2- دہشت گردی کے بہانے اسلام کے خلاف اپنی جنگ میں امریکی پالیسی کا یہ تقاضا تھا کہ اسلامی خطے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جائے، اور اسی پالیسی کے تحت ایران کو دوسرے فرقہ وارانہ مرکز یعنی سعودی عرب کے مدمقابل ایک فرقہ وارانہ مرکز بنا دیا گیا۔ اس پالیسی کا ایک تقاضا خطے میں ایران کے کردار کو وسعت دینا بھی تھا، جس میں امریکی قبضے کے سائے تلے عراق میں داخل ہونا اور وہاں "اثر و رسوخ" قائم کرنا شامل تھا، اور ساتھ ہی یمن اور لبنان میں فرقہ وارانہ گروہوں کے ذریعے اس کا اثر و رسوخ اور شام وغیرہ تک اس کا فرقہ وارانہ پھیلاؤ بھی شامل تھا، اور امریکہ کو اس ایرانی کردار کی شدید ضرورت رہی۔

 

3- شام میں ایران سے متعلق امریکی ضرورت کے خاتمے کے ساتھ ہی ایران کا وہ کردار بھی ختم ہو گیا جو امریکی پالیسی نے اس کے لیے طے کیا تھا، اور اب اس سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ چنانچہ ایران نے واقعی شام سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا اور اپنی افواج فوری طور پر واپس بلا لیں، اور لبنان میں اپنی پارٹی کے رہنماؤں کے قتل کے باوجود اس نے یہودی وجود کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیا، لیکن اس نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح 2025ء میں اس کے خلاف یہودی وجود کی جنگ ہوئی، تو اس نے خود کو ندامت سے ہونٹ چباتے پایا کہ وہ اس دن کیوں نہ لڑا جب سفید بیل کھایا گیا تھا (یعنی دشمن کو ابتدا ہی میں نہ روکا گیا تھا)، یعنی 7 اکتوبر 2023ء کے واقعات کے فوری بعد، بلکہ اس نے لبنان میں اپنی پارٹی کے کردار پر ہی اکتفا کیا... چنانچہ وہ جنگ، 2025ء، اور اس کے بعد امریکہ کی قیادت میں ہونے والے دیگر راؤنڈز جس میں اس کا قریبی یہودی وجود بھی ساتھ تھا، خطے میں ایرانی کردار کو ختم کرنے کی پالیسی کی عکاسی کرتے تھے، اور تہران نواز عراقی گروہوں نے اس کے ساتھ مل کر لڑنا شروع کر دیا اور عراق یا خلیج کے بعض ممالک میں امریکی اہداف پر راکٹ اور ڈرون فائر کیے۔ یہاں امریکہ نے ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی کے تحت عراق میں ایرانی کردار کو ختم کرنے پر اصرار کیا تا کہ ایران کا درجہ کم کر کے اسے ایک تابع  ریاست بنا دیا جائے اور اگر ممکن ہو تو اس کے علاقائی کردار کو سکیڑ دیا جائے... چنانچہ آج عراق میں سیاسی پیش رفت کا محرک عراق میں ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی ٹرمپ کی پالیسی ہے۔

 

4- پس امریکہ جس نے 2003ء میں عراق پر قبضہ کیا تھا اور وہاں کے سیاسی نظام کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر استوار کر کے ایران کو اس پر بڑا اثر و رسوخ فراہم کیا تھا، وہ آج اس صورتحال کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ عراقی حکومتوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ خود کو ایک عرب ریاست کے طور پر دوبارہ ترتیب دیں نہ کہ ایک فرقہ وارانہ ریاست کے طور پر، یعنی ایران سے اپنے تعلقات منقطع کریں اور خلیجی ممالک اور باقی عرب ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ معمول پر لائیں ۔ یہ سب عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کے خلاف جنگ یا اس کے وجود کے خاتمے کے سلسلے میں ہے، چنانچہ اس نے عراق کو فراہم کی جانے والی ایرانی گیس پر پابندیاں لگانا شروع کر دیں اور بغداد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس گیس کے لیے غیر ایرانی متبادل تلاش کرے۔ اور جب عراق کا متبادل ترکمانستان کی گیس بنی جس کا ایران سے گزرنا ضروری تھا تو امریکہ نے اسے مسترد کر دیا، اور عراق کی جانب سے ایران سے بجلی کی درآمد کو بھی مسترد کر دیا: ("امریکہ نے پابندیوں سے حاصل وہ استثنیٰ ختم کر دیا ہے جو عراق کو پڑوسی ملک ایران سے بجلی خریدنے کی اجازت دیتا تھا، اور یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران پر 'شدید ترین دباؤ' ڈالنے کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ الجزیرہ نیٹ، 9/3/2025ء")۔ اور اس سے قبل امریکہ کسی بھی ایسے عراقی ادارے پر پابندیاں عائد کرتا رہا ہے جو ایران کے ساتھ ڈالر میں لین دین کرتا تھا: ("وال اسٹریٹ جرنل نے آج بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ نے 14 عراقی بینکوں پر ڈالر میں لین دین کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ اور فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک کی جانب سے عائد کردہ یہ پابندی ایران کو امریکی کرنسی کی منتقلی کے خلاف ایک جامع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ القدس العربی، 19/7/2023ء")۔

 

5- اور دوسری طرف، امریکہ عراقی حکومت سے ایران نواز گروہوں پر گھیرا تنگ کرنے اور انہیں حکومت سے دور رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے: ("ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے سینئر عراقی سیاست دانوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر آئندہ عراقی حکومت میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو شامل کیا گیا تو خود عراقی ریاست پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، جس میں نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں جمع ہونے والے تیل کے محصولات کی صورت میں اس کی سب سے اہم مالیاتی شہ رگ کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے 4 ذرائع کے مطابق، یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عراق کے اندر ایران سے وابستہ گروہوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی مہم کی اب تک کی سب سے سخت ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ اسکائی نیوز عربیہ، 23/1/2026ء")۔ اور عراقی حکومت کے امریکی ہدایات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی نشاندہی کرنے والے ایک مؤقف میں، حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں غیر جانبدار رہے گی، اور اس غیر جانبداری کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑی نہیں ہے، ورنہ امریکی فوج عراقی سرزمین کو ایران پر حملے کرنے اور عراق میں ایران نواز گروہوں پر ضرب لگانے کے لیے استعمال کر رہی ہے، اور ساتھ ہی یہودی وجود کو فوجی اڈے قائم کرنے کی ترغیب دے رہی ہے جس کا انکشاف بعض اخبارات نے کیا ہے: ("عراقی سرزمین پر اسرائیلی اڈے کی موجودگی کے بارے میں گذشتہ رپورٹس کے بعد، 'نیویارک ٹائمز' کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے مغربی عراق کے صحرا میں دوسرا خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا ہے۔ ڈوئچے ویلے جرمنی، 18/5/2026ء")۔

 

6- پھر امریکہ نے اس بات میں کھلم کھلا مداخلت کرنا شروع کر دی کہ حکومت کا سربراہ کون بنے گا۔ باوجود اس کے کہ المالکی امریکہ کا ایک مخلص ایجنٹ تھا اور اس نے قبضے کے دوران سخت امریکی گرفت کے ساتھ عراق پر حکومت کی تھی، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے عراقی وزیر اعظم کے طور پر اس کے دوبارہ انتخاب کی علانیہ مخالفت کی۔ ٹرمپ نے کہا: ("مالکی کے 'سابقہ' دور حکومت میں ملک غربت اور شدید افراتفری کی دلدل میں دھنس گیا۔ اس کی جنونی پالیسیوں اور پاگل پن پر مبنی آئیڈیالوجی کی وجہ سے ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے، اگر وہ منتخب ہوا تو امریکہ عراق کو کوئی امداد فراہم نہیں کرے گا۔ اسکائی نیوز عربیہ، 29/1/2026ء")۔ (اور عراقی پارلیمنٹ میں سب سے بڑے سیاسی بلاک نے المالکی کو حکومت کی قیادت سنبھالنے کے لیے نامزد کیا تھا۔ العربیہ، 14/2/2026ء)۔ ٹرمپ کے اصرار کے سامنے عراقیوں کے ساتھ المالکی کا احتجاج بھی کوئی کام نہ آ سکا: ("امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں، عراق کے سابق وزیر اعظم نوری المالکی نے بدھ کے روز 'عراق کے اندرونی معاملات میں کھلی امریکی مداخلت' کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کی 'خودمختاری کی خلاف ورزی' قرار دیا... اور ٹرمپ کے بیانات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، سیکڑوں افراد نے بغداد میں گرین زون کے قریب مظاہرہ کیا جہاں امریکی سفارت خانہ واقع ہے۔ فرانس 24، 28/1/2026ء")۔ اس طرح ٹرمپ کے بیانات نے بغیر کسی شک و شبہ کے یہ حقیقت بے نقاب کر دی کہ امریکہ اپنے ایجنٹ ممالک اور اپنے ایجنٹوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے، اور واقعی المالکی کو خارج کر دیا گیا اور 27/4/2026ء کو ایک ایسی شخصیت کو نامزد کیا گیا جسے امریکہ قبول کرتا تھا، یعنی علی الزیدی۔ یہ واقعہ اس بات کو آشکار کرتا ہے کہ عراق میں ایرانی اثر و رسوخ انتہائی کمزور ہے، بلکہ یہ اثر و رسوخ کے درجے تک بھی نہیں پہنچتا، بلکہ یہ تو عراق میں امریکہ کی طرف سے ایران کو راستہ دینے اور اسے سہولتیں فراہم کرنے کا نتیجہ تھا تاکہ وہ اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کر سکے۔

 

7- اور جب امریکہ نے اس کردار کو ختم کرنا چاہا، تو اس نے عراقی حکومت سے ان گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے آخری تاریخیں مقرر کرنے کا تقاضا کیا، بالکل اسی طرح جیسے وہ لبنان سے حزبِ ایرانِ لبنان کے خلاف مطالبہ کر رہا ہے۔ چنانچہ واقعی دو عراقی گروہوں نے ہتھیار ڈالنے پر اتفاق کیا: ("...جون کے اوائل میں، عراقی شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے وفادار عسکریت پسند 'سرايا السلام' کے جنگجو عراقی حکومت کو اپنے ہتھیار سونپنے کے لیے سامراء شہر میں جمع ہوئے۔ ہتھیار ڈالنے کا یہ عمل 'حشد شعبی' سے اس گروپ کی علیحدگی کی نمائندگی کرتا ہے، جو ایک طاقتور اتحاد ہے جس میں زیادہ تر شیعہ ملیشیائیں شامل ہیں، اور وہ بیک وقت عراقی ریاست کے اندر اور باہر کام کرتا ہے۔ 'سرايا السلام' سے وابستہ ہزاروں جنگجو اس اتحاد سے دستبردار ہونے والے پہلے جنگجو تھے، اور وہ آخری نہیں تھے: ایک اور طاقتور ملیشیا 'عصائب اہل الحق' نے بھی اعلان کیا کہ وہ بھی 'حشد شعبی' سے علیحدگی اختیار کر لے گی... اگرچہ اب بھی ایران کی حمایت یافتہ کئی نمایاں ملیشیائیں عراق اور وسیع تر خطے میں تہران کے مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے ڈٹی ہوئی ہیں۔ لیکن 'حشد شعبی' کی یہ تقسیم ایران کے لیے ایک حقیقی دھچکا ہے۔ انڈیپنڈنٹ عربیہ، 12/7/2026ء")۔ اور حکومت نے ہتھیار سونپنے کی آخری تاریخ مقرر کر دی: ("عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک آئندہ ستمبر کے آخر کے بعد کسی بھی فریق کو ریاست کے دائرہ کار سے باہر ہتھیار لے جانے کی اجازت نہیں دے گا۔ الزیدی نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت کا طریقہ کار ہتھیاروں کو صرف سرکاری اداروں کے ہاتھ میں محدود کرنے پر مبنی ہے۔ اسکائی نیوز عربیہ، 14/7/2026ء")۔ چنانچہ آج عراق میں ہونے والی سیاسی پیش رفت عراق میں ایران کے سابقہ کردار کو ختم کرنے اور وہاں اس کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی امریکی پالیسی سے جڑی ہوئی ہے۔ اور اس سلسلے میں امریکہ کی کامیابی نہ صرف عراق پر فوجی اور سیاسی دباؤ کی حد تک بلکہ مالیاتی صورتحال میں بھی بہت بڑی دکھائی دیتی ہے، کیونکہ عراقی تیل کا پیسہ امریکی وزارتِ خزانہ کے ایک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جاتا ہے، اس لیے عراق میں برسرِاقتدار حکومت امریکی وزارتِ خزانہ کی اجازت کے بغیر اپنے ملازمین کو تنخواہیں تک ادا نہیں کر سکتی!

 

8- اب ایک مسئلہ باقی رہ گیا ہے، اور وہ ہے عراق میں کرپشن اور کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کرنے کی مہم۔ یہ مہم عراق میں ایران سے وابستہ افراد کے خلاف ہی شروع کی گئی ہے تاکہ انہیں اس کے ذریعے دھمکایا جا سکے۔ اگرچہ یہ مہم دوسروں تک بھی پہنچی ہے، کیونکہ عراقی نظام جسے امریکہ نے خطے میں جمہوریت کا ماڈل بنانے کے لیے تیار کیا تھا، وہ سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے، اور یہ ان تمام حکومتوں میں سب سے زیادہ کرپٹ ہے: ("عراقی حکومت نے اپنے تازہ ترین بیانات میں کہا ہے کہ اس نے اب تک مالی اور انتظامی بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے کے الزام میں 21 حکام کو گرفتار کیا ہے، جبکہ دیگر مطلوبہ افراد کی ایک تعداد ابھی تک قانون کی نظروں سے اوجھل ہے، ...، اور عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے کابینہ کے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے اور عوامی دولت کی واپسی کے لیے پرعزم ہے، ...، ماہر اقتصادیات عبدالرحمن المشهدانی نے 'الجزیرہ نیٹ' سے گفتگو کرتے ہوئے عراق میں مالی اور سیاسی بدعنوانی کی اقتصادی لاگت کا تخمینہ ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ لگایا ہے، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ لوٹی گئی رقم کا ایک بڑا حصہ بیرونی معیشتوں میں ضم ہو چکا ہے۔ الجزیرہ نیٹ، 3/7/2026ء")۔

 

9- اور اس طرح، عراقی صدر کی جانب سے علی الزیدی کو وزیر اعظم نامزد کرنے کے بعد، 'الشرق' چینل کے مطابق 10/5/2026ء کو امریکی مطالبات کی فہرست میں عراقی حکومت سے ایرانی اثر و رسوخ کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا اور مسلح دھڑوں کو غیر مسلح کرنا شامل تھا۔ اور واقعی الزیدی نے امریکی مطالبات پر عمل درآمد شروع کر دیا: ("عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کی جانب سے امریکی ایلچی ٹام براک سے ملاقات کے بعد اور واشنگٹن کے اپنے متوقع دورے سے قبل حساس سیکیورٹی اور اقتصادی اداروں میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں اور تبدیلیوں نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ان کے 'اقدامات' ریاست کی رٹ بحال کرنے کا ایک قدم ہیں یا ان دباؤ کا جواب ہیں جن کا مقصد ایران کے قریبی دھڑوں کے اثر و رسوخ کو نشانہ بنانا ہے۔ الجزیرہ نیٹ، 19/6/2026ء")۔ اس کے بعد عراق میں سیاسی پیش رفت تیز ہو گئی: ("عراقی دارالحکومت بغداد نے 'گرین زون' میں ایک بے مثال سیکیورٹی آپریشن دیکھا؛ جہاں عراقی ایلیٹ فورسز نے وزیر اعظم علی الزیدی کے حکم پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت 12 موجودہ ارکانِ پارلیمنٹ سمیت 47 حکام کو حراست میں لے لیا۔ اس مہم نے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے والے وزارتِ پیٹرولیم کے انڈر سیکرٹری علی معارج کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ بی بی سی، 30/6/2026ء")۔

 

10- اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عراق میں سیاسی اثر و رسوخ خالصتاً امریکی اثر و رسوخ ہے۔ امریکہ نے "کوآرڈینیشن فریم ورک"  کی جانب سے نوری المالکی کی نامزدگی کو مسترد کر دیا تھا، جسے ایران نواز قرار دیا جاتا ہے، اور ان پر علی الزیدی کو نامزد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، تو "کوآرڈینیشن فریم ورک" نے ایسا ہی کیا۔ پھر امریکہ نے الزیدی کو ان گروہوں کو بے دخل کرنے اور غیر مسلح کرنے کا حکم دیا، حالانکہ ان کے تقرر کو ابھی چند ہی دن گزرے تھے، اور وہ واقعی ایسا کرنے لگے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے بدعنوانی کے خلاف مہم شروع کی... چنانچہ بدعنوانی کے خلاف مہم عراق میں ایران نوازوں کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے، خواہ یہ مہم دوسرے حکام تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے، کیونکہ عراق میں ایسا کوئی اہلکار ملنا مشکل ہے جو بدعنوانی سے پاک ہو۔ ایسا لگتا ہے جیسے الزیدی حکومت اور اس کے پیچھے امریکہ، مسلح دھڑوں، ایران نواز گروہوں اور حکام کو یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ ریاست کے احکامات پر تیزی سے عمل کریں، اور سستی کی صورت میں بدعنوانی کی فائلیں ان کا انتظار کر رہی ہیں، اور یہ بہت بڑی فائلیں ہیں۔ اس تعلق کے بغیر، ایک ایسے سیاسی نظام میں بدعنوانی کے خلاف مہم کو نہیں سمجھا جا سکتا جسے امریکہ نے اپنے تمام ستونوں میں کرپٹ بنیادوں پر کھڑا کیا تھا۔

 

11- اور جہاں تک بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ عراق امریکہ اور ایران کے اثر و رسوخ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور وہ اس بات سے استدلال کرتے ہیں کہ علی الزیدی نے 13/7/2026ء کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور امریکی صدر ٹرمپ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، پھر واشنگٹن سے واپسی کے بعد انہوں نے 23/7/2026ء کو تہران کا دورہ کیا، اور یہ بھی کہ: ("ایکسیوس ویب سائٹ کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، الزیدی نے امریکی دورے کو منسوخ کرنے کی ایرانی کوششوں کے باوجود امریکہ کا اپنا سرکاری دورہ جاری رکھنے پر اصرار کیا، جس کے بعد انہوں نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ عراقی وزیر اعظم واشنگٹن روانہ ہونے سے چند روز قبل ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریب (نمازِ جنازہ) میں شریک ہوئے تھے، ایک ایسے منظر نامے میں جو اس توازن کی عکاسی کرتا ہے جسے بغداد تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ العربیہ، 16/7/2026ء")، تو یہ توازن حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ عراق میں امریکی اثر و رسوخ کی حقیقت پر 2003ء سے امریکی فوجی موجودگی سے بڑھ کر کوئی اور دلیل نہیں، جہاں بہت سے حکام امریکی افواج کے انخلا کی بات کرتے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ موجود ہیں اور عراقی دھڑوں پر بھی ضرب لگانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، کیونکہ وہ ایران پر جنگ کے دوران انہیں ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بناتی رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہوائی اڈے کتنے قریب ہیں جہاں سے وہ پرواز کرتی ہیں۔ اور اسی طرح امریکہ نے ایران پر اپنے حملوں کو انجام دینے کے لیے عراق میں یہودی وجود کے لیے عارضی فوجی اڈے قائم کرنے کی سہولت فراہم کی، اس کے علاوہ عراقی تیل کی آمدنی دنیا کے مختلف درآمد کنندگان ممالک کی طرف سے امریکی وزارتِ خزانہ کے ایک اکاؤنٹ میں ادا کی جاتی ہے، اس لیے امریکہ عراقی حکومت پر اسی قدر خرچ کرتا ہے جس قدر وہ امریکی پالیسی پر عمل کرتی ہے۔ اور آج اس سے تیزی سے ردعمل دینے، حکومت سے ایرانی اثر و رسوخ کو دور کرنے اور ایران سے تعلقات رکھنے والے حکام کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، باوجود اس کے کہ وہ نوری المالکی کی طرح امریکہ کے مخلص ایجنٹ ہیں۔ اور اسی طرح "کوآرڈینیشن فریم ورک" کو، جس پر ایران کی وفاداری کا الزام لگایا جاتا ہے، الزیدی کی نامزدگی پر مجبور کیا گیا، اور پھر چند ہی دنوں بعد الزیدی کو ان (فریم ورک کے دھڑوں) کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اور امریکہ آج الزیدی حکومت سے جس چیز کا تیزی سے مطالبہ کر رہا ہے وہ ان مسلح دھڑوں کو غیر مسلح کرنا ہے جو پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ہیں اور امریکہ کے خلاف کچھ کارروائیاں کرتے ہیں۔ عراقی حکومت نے ان دھڑوں کو اپنے ہتھیار ڈالنے کے لیے 30/9/2026ء کی آخری تاریخ دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت واشنگٹن سے جاری ہونے والی ہدایات کے مطابق عراقیوں پر ضرب لگانے کے لیے اپنے سیکیورٹی اداروں کا استعمال کرے گی! اور ٹرمپ عراق میں اثر و رسوخ اور لوٹ مار کی بڑی بڑی باتیں کرتا ہے، اور یہ کہ عراقی حکومت اس کی افواج کو اپنے ملک کے اثر و رسوخ کے تحفظ سے بے نیاز کر دیتی ہے، اس نے کہا: ("ٹرمپ نے اوول آفس میں الزیدی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران ذکر کیا: 'ہم عراق چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ہم نہیں سمجھتے کہ اب ہمیں وہاں فوجی موجودگی کی ضرورت ہے'، انہوں نے مزید کہا: 'ہمارے پاس اب یہ ہے کہ تیل کی تمام کمپنیاں اب عراق کا رخ کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ شراکت داری کر رہی ہیں'۔ انڈیپنڈنٹ عربیہ، 15/7/2026ء")۔ اس طرح امریکہ اپنے ایجنٹوں کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے!

 

12- اور آخر میں، یہ امر انتہائی دردناک ہے کہ عراق جو کبھی خلافت کا مرکز ہوا کرتا تھا، جس کے خلیفہ نے روم کے قیصر کو مخاطب کر کے لکھا تھا: (الجواب ما تراه دون أن تسمعه)(جواب وہ ہے جو تم دیکھو گے نہ کہ وہ جو تم سنو گے)، اور پھر مسلمانوں کی افواج حرکت میں آئیں اور اسے ایسا سبق سکھایا جس نے اسے ہوش میں لا کھڑا کیا... اس ملک کے معاملات کو آج امریکہ چلا رہا ہے، نہ صرف سیاسی طور پر، بلکہ عراق کے پیسے کو امریکہ نے روک رکھا ہے اور عراقی حکومت اپنے ملازمین کو تنخواہیں تک نہیں دے سکتی جب تک کہ امریکہ اپنے پاس روکے ہوئے اس کے پیسوں میں سے کچھ دینے کی اجازت نہ دے دے! یقیناً یہ بہت بڑی رسوائی اور بہت بڑا جرم ہے۔ اور اللہ قوی و عزیز نے ان مجرم حکومتوں کے بارے میں سچ فرمایا ہے:

 

﴿سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ﴾

"عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے جرم کیا ہے، اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب پہنچے گا اس وجہ سے جو وہ مکر کیا کرتے تھے" [سورة الأنعام:آیت 124

 

اور امت اس ذلت سے نجات حاصل نہیں کر سکتی مگر یہ کہ وہ حزب التحریر، وہ قائد جو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا، کو نصرۃ (مدد) دے کر اپنی دوسری خلافتِ راشدہ کو دوبارہ قائم کرے، اور تب ہی اللہ کا وعدہ پورا ہو گا:

 

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ﴾

"تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہیں، اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت (اقتدار) عطا فرمائے گا" [سورة النور:آیت 55

 

اور پھر اس جابرانہ حکومت کے دور کے بعد جس میں ہم جی رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی بشارت پوری ہو گی، جیسا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ» "پھر ظالمانہ و جابرانہ بادشاہت (حکمرانی) ہو گی، تو وہ رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ وہ رہے، پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہے گا تو اٹھا لے گا، پھر نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ ہو گی، پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے"۔

 

اور پھر اللہ کی مدد آئے گی اور اس کا نصرت کا وعدہ سچا ہو گا:

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيم﴾

"اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے، اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہ نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا ہے" [سورة الروم:آیت 4-5

 

 

22 صفر 1448ھ

5/8/2026ء

Last modified onہفتہ, 15 اگست 2026 04:25

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک