المكتب الإعــلامي
ولایہ بنگلادیش
| ہجری تاریخ | 17 من ربيع الثاني 1448هـ | شمارہ نمبر: 1448/06 |
| عیسوی تاریخ | منگل, 29 ستمبر 2026 م |
پریس ریلیز
امریکہ کے ساتھ جوہری تعاون: محتاجی کی ایک نئی زنجیر
(ترجمہ)
بنگلہ دیش نے امریکہ کے ساتھ پُرامن جوہری تعاون کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ہم حقیقی سائنسی ترقی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات بالکل واضح طور پر سمجھنی چاہیے کہ ٹیکنالوجی حاصل کرنا اور ٹیکنالوجی پر مکمل دسترس حاصل کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ جوہری طاقت صرف بجلی پیدا کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ علم، صنعتی صلاحیت اور تزویراتی طاقت کا معاملہ بھی ہے۔
امریکہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔ جاپان پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے اس نے دنیا کو جوہری طاقت کی ہولناکی دکھائی۔ آج بھی وہ یہ طے کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ کون سی قومیں ترقی کرکے طاقتور بن سکتی ہیں اور کنہیں اس کے زیرِ اثر رہنا ہوگا۔ ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کی اس کی دھمکیاں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ بڑی طاقتیں تزویراتی ٹیکنالوجی کو محض ایک عام تجارتی معاملہ نہیں سمجھتیں۔ لہٰذا بنگلہ دیش کو وہ واحد سوال ضرور پوچھنا چاہیے جو حقیقتاً اہم ہے: کیا یہ معاہدہ ہمیں خودمختار بنائے گا یا ہمیں ایک تابع ریاست میں تبدیل کر دے گا؟
اور یہ سوال صرف بنگلہ دیش کا نہیں۔ یہ پوری امتِ مسلمہ کا سوال ہے۔ امت مسلمہ صلاحیتوں سے محروم نہیں۔ پوری دنیا میں ہمارے پاس سائنس دان، انجینئرز، محققین اور باصلاحیت اذہان موجود ہیں۔ ہمارے پاس جس چیز کی کمی ہے، وہ سیاسی عزم ہے۔ جس چیز کی کمی ہے، وہ وحدت ہے۔ اور جس چیز کی کمی ہے، وہ ایسی ریاست ہے جو ہمارے انسانی وسائل کو حقیقی طاقت میں تبدیل کرسکے۔ اسلامی تاریخ ہمارے آج کے کمزور اور زبوں حال کے برعکس ایک مضبوط ماضی کی گواہی دیتی ہے۔ عثمانیوں نے ایسی توپیں تیار کیں جنہوں نے قسطنطنیہ کی فصیلوں کو توڑ دیا۔ ٹیپو سلطان کے راکٹ اس قدر ترقی یافتہ تھے کہ برطانوی انہیں قبضے میں لے کر ان کا مطالعہ کرنے پر مجبور ہوئے اور بعد میں اسی ٹیکنالوجی کو اپنے کنگریو راکٹ (Congreve Rockets) کی تیاری میں استعمال کیا۔ مسلمان کبھی طاقت کے میدان میں مہارت رکھتے تھے۔ آج ہم اسی طاقت کے حصول کے لیے دوسروں کے محتاج ہیں۔
جو قوم صرف ٹیکنالوجی خریدتی ہے، وہ محتاجی میں رہتی ہے۔ جو قوم ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرتی ہے، وہ اپنے مستقبل کا تعین خود کرتی ہے۔ امت مسلمہ ہمیشہ کے لیے دوسروں کے عسکری، سائنسی اور تکنیکی نظاموں پر منحصر نہیں رہ سکتی۔ انحصار تحفظ نہیں، بلکہ تسلیمِ شکست ہے۔ ہمارا مؤقف واضح ہے: امت مسلمہ کو ایک ایسی آزاد سیاسی اتھارٹی کی ضرورت ہے — خلافتِ راشدہ — جو اپنے سائنس دانوں، انجینئرز، وسائل اور صنعتوں کو ایک مشترکہ تزویراتی مقصد کے لیے منظم اور متحرک کرسکے۔ ایسی ریاست جو اپنی سلامتی کی صلاحیتیں خود تعمیر کرے، بجائے اس کے کہ انہیں دوسروں سے درآمد کرے۔ ایسی ریاست جو کسی بیرونی سرپرست کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔ مقصد ایک آقا کو چھوڑ کر دوسرے آقا کو اختیار کرنا نہیں۔ مقصد حقیقی خودمختاری اور آزادی ہے۔ ایسی امتِ مسلمہ جو اپنی ٹیکنالوجی خود تیار کرے، اپنی صنعتیں خود قائم کرے، اپنی تزویراتی صلاحیتیں خود ترقی دے اور کسی بھی بڑی طاقت کو اس پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہ دے۔ امت مسلمہ کے پاس افرادی قوت، وسائل اور علم کی کمی نہیں۔ کمی صرف اس سیاسی اتھارٹی کی ہے جو ان تمام صلاحیتوں کو یکجا کرکے انہیں اجتماعی طاقت میں تبدیل کرسکے۔
اور یہ تبدیلی محض معاہدوں کے ذریعے نہیں آئے گی۔ اس کے لیے حقیقی سائنسی، صنعتی اور تزویراتی خودمختاری کے قیام کے لیے سیاسی اتھارٹی اور واضح وژن درکار ہے — اور یہ نبوت کے منہج پر خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے بغیر ممکن نہیں۔
ولایہ بنگلہ دیش میں حزب التحریر کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ بنگلادیش |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: www.khilafat.org |
E-Mail: media@hizb-ut-tahrir.info |




