الأربعاء، 14 ربيع الأول 1443| 2021/10/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    5 من صـفر الخير 1443هـ شمارہ نمبر: 05 / 1443 AH
عیسوی تاریخ     اتوار, 12 ستمبر 2021 م

پریس ریلیز
20 سال کی "دہشت گردی" کے خلاف جنگ کے بعد کیا ہوا ہے؟

 

اس بات کو بیس سال گزر چکے ہیں جب امریکہ نے 2001 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر ٹاورز پر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد جنگ کا آغاز کیا تھا جسے اُس نے"دہشت گردی کے خلاف جنگ" قرار دیا تھا ، جس کے بعد امریکہ نے افغانستان اور عراق پر قبضہ کر لیا تھا۔  اور آج امریکہ کا یہ حال ہے کہ ، افغانستان سے شکست کی ندامت لیےنکل رہا ہے ، اُس پر بھروسہ کرنے والوں کو پیچھے چھوڑ رہا ہے ، کابل ایئر پورٹ پر ماتم کر رہا ہے۔

 

                  بیس سال پہلے ، دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح "دہشت گردی کے خلاف جنگ" ایک جھوٹے امریکی بہانے کے سوا کچھ نہیں تھا؛ اس کے پیچھے مقصد اسلامی ممالک پر حملہ کرنے ، ان کے لوگوں کو زیر کرنے ، ان کی دولت لوٹنے اور ان پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے فوجی اور سیاسی صلیبی جنگ شروع کرنا تھا۔ یا ، جیسا کہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بیان کیا تھا جب اُس نے اس کا اعلان کیا تھا ، یہ ایک "صلیبی جنگ" ہے۔

 

                  جہاں تک فوجی پہلو کی بات ہے ، امریکہ نے افغانستان اور عراق پر براہ راست قبضہ کیا اور اس قبضے کے بہانے اس نے مشرق وسطیٰ کے ممالک اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے ممالک میں بڑے بڑے فوجی اڈے بنائے اور بڑی تعداد میں اپنے فوجی تعینات کر دیے ۔ اس کے بعد ، اس نے اس خطے میں موجود کئی مسلح گروہوں میں اپنے لوگ شامل کیے اور پھر  کے کسی بھی ملک میں پیدا ہونے والے تنازعے یا کشیدگی میں  مداخلت کی ۔ اس مداخلت کے لیے اس نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو استعمال کیا  اور خود کو ایسے پیش کیا جیسے اس نے یہ تنازعہ شروع نہیں کیا  تا کہ اپنی مداخلت کو جائز قرار دےسکے۔

 

                  جہاں تک سیاسی پہلو کا تعلق ہے ، امریکہ نے مسلم ممالک کی تمام حکومتوں پر قوانین کی تشکیل اور ملکی پالیسیوں میں ترامیم مسلط کی ہیں جو براہ راست اور بالواسطہ طور پر اسلامی قانون کے بنیادی پہلوؤں کو ممنوع اور مجرم بناتی ہیں ، اور یہاں تک کہ اسلامی ممالک میں مزید مغربی اقدار کو متعارف کرانے پر بھی زور دیتی ہیں۔ جہاد کی شرائط اور تصورات کو کتابوں سے مٹا دیا گیا ، جنسی تعلیم کو اسکول کے نصاب میں شامل کیا گیا ، خاندانی قوانین میں ترمیم کی گئی ، اور ہم جنس پرست انجمنوں کو قانونی شکل دی گئی۔تکفیر اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے بہانے ، فتووں اور سیکولر مساجد کے کردار پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے تا کہ یہ کہا جائے کہ مسلمان اور غیر مسلم ایمان میں برابر ہیں۔

 

                  پھر ، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مسلمان امریکہ کے سامنے کھڑے نہ ہوں اور دوسرے مسلم ممالک میں مسلم امت اس کی صلیبی جنگ کے خلاف کوئی ردعمل نہ دیں ، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ دوسری اقوام اسلامی امت کے ساتھ ہمدردی نہ کریں ، امریکہ نے دنیا کی حکومتوں پر "ہمارے ساتھ یا دہشت گردوں کے ساتھ" کے عنوان سے اسلام کو مسخ کرنے کی مہم میں حصہ لینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس نے گوانتانامو جیل قائم کی ، اور وہاں قید مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لیے ویڈیو کلپس نشر کیں ، تاکہ یہ معاملہ دنیا کی باقی حکومتوں کے لیے ایک مثال بن جائے کہ انہوں نے کس طرح مسلمانوں کے ساتھ سلوک کرنا ہے۔ لہذا ، اس عمل نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اخلاقی طور پر متاثر کیا اور انہیں ملزم  بنا دیا ، اور ہر مسلمان کے لیے لازم ہو گیا کہ وہ دنیا کو ثابت کرے کہ وہ انتہا پسند دہشت گرد اور انسانیت کا دشمن نہیں ہے!اس مہم نے مسلم دنیا کے غدار حکمرانوں کو مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے کا کھلا موقع فراہم کیا ، اس لیے انہوں نے مبلغین پر ظلم کیے ، انجمنیں بند کر دیں ، اور ہر اس نوجوان مرد یا عورت کو گرفتار کر لیا جس پر وہ امریکی قابض فوجوں کے خلاف جہاد کی حمایت کرنے کا شبہ رکھتے تھے ، یا وہ  اللہ کے قانون کے مطابق حکمرانی چاہتے تھے ۔ جب امریکہ نے افغانستان اور عراق میں اپنے خلاف شدید مزاحمت کا سامنا کیا  تو اس سے نمٹنے کے لیے اس نے اپنے سیاست دانوں ، جیسے جان نیگروپونٹے کا سہارا لیا ، جنہوں نے اس کے لیے "سالواڈور آپشن"  منصوبہ بنایا جس کے تحت ایسے حالات پیدا کیے جاتے  کہ  مزاحمتی ملک کے لوگوں  ایک دوسرے کی گردنیں کاٹیں ، اور اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پاکستان میں پرویز مشرف ، افغانستان میں حامد کرزئی اور عراق میں نوری المالکی کو آگے لایا گیا ۔ یہ ہیں ان کی شیطانی پالیسیاں ۔

 

                  عرب بہار کے انقلاب شروع ہونے تک صورت حال اس طرح برقراررہی ۔ عرب بہار کے ساتھ ہی یہ امید پیدا ہوئی کہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے آزادی مل جائےگی۔ امت کا جوش و خروش اس کے ساتھ ظاہر ہوا ، اور ہر اس شخص نے، جس نے اس نئی صورتحال کا سوگ منایا اور عرب بہار کی موت کی خواہش کی، جھوٹ بولا۔امت کے کسی بھی بڑے مسئلے کی طرح اسلام سامنے آگیا ، اور امت نے اسلامی قانون کو دوبارہ نافذ کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا ، اور اس نے چوکوں میں نعرہ لگانا شروع کر دیا ، "ہمیشہ کے لیے ہمارے قائد ، ہمارے آقا محمد ،"  یہاں تک کہ خلافت مسلمانوں میں رائے عامہ بن گئی اور عرب بہار تقریباً اسلامی بہار میں بدل گئی۔ مغرب پاگل ہو گیا ، جس کی قیادت امریکہ کررہا تھا۔ یہ انقلاب ، جن کی مثال تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ، ہر اس چیز کی کو تہس نہس کر رہے تھے جو مغرب نے کئی دہائیوں کی استعماریت کے دوران تعمیر کیں تھیں۔ امریکہ نے عرب بہار کو تقریباً ایک شیطانی سازش بنا دیا ، اور ابتدا میں جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ انقلاب کے ساتھ ہے ، پھر اسے تباہ کرنے کے لیے اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بدلنے کی کوشش کی ، یہاں تک کہ امریکی صدر اوباما نے کہا کہ شام میں انقلاب کے حوالے سے ہونے والے پینٹاگون کے اجلاسوں نے اس کے سر کے بال سب سے زیادہ سفید کیے ہیں! امریکہ اور اس کے ایجنٹوں نے امت مسلمہ کے شہروں کو کچل دیا ، لاکھوں کو قتل کیا ، اور دسیوں لاکھوں کو بے گھر کیا ، اور قتل عام روزانہ کی خبر بن گئے ، اور جیلیں تشدد اور عصمت دری سے گونج رہی تھیں۔انقلابیوں کو پوری دنیا سے قتل کرنے والے دستوں کے ساتھ لایا گیا ، اور خطے کی حکومتوں کو اس جانب اکسایا گیا کہ وہ ان انقلابیوں کو سیاست اور کمپرومائز کی راہداریوں میں دھکیل دیں ۔

 

                  امت مسلمہ کے بارے میں مغرب کا نقطہ نظر مکمل طور پر استعماری ہے ، اور امت مغرب کا مقابلہ اس وقت تک نہیں کر سکے گی جب تک کہ وہ اس سے استعماری طاقتوں کے طور پر نمٹنے کا فیصلہ نہ کرے جسے ہمارے ملک سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ، آج کے مسلم دنیا کے حکمران ، جن کے پاس ملک کی چابیاں ہیں اور وہ استعمار کے لیے ہمارے ملک کےدروازے کھولتے ہیں، اگر ملک کی چابیاں ان سے نہیں لی گئیں تو یہ غدار حکمران ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپتے رہیں گے اور ہم اس کی قیمت اپنی زندگی اور عزت سے ادا کریں گے۔

 

                  تو اب ہم کیا کریں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ استعمار پر میزیں الٹ دیں اور مسلم ممالک سے اس کا اثر و رسوخ ختم کر دیں ، اور یہ سمجھ لیں کہ کوئی دوسرا حل امت مسلمہ کی صورتحال کو نہیں بدلے گا جو اس وقت یہ ہے کہ امت ایک پیالہ ہے جس کے لیے مغرب لڑ رہا ہے! اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَاناً مُّببِيناً

"اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام لو؟"(النساء، 4:144)۔

 

                  جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا یہ ممکن ہے ، تو اس کے لیے ایک رائے عامہ بنانا ہے جو اسلامی امت کے طاقتور لوگوں پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ اللہ سے ڈریں اور امت اسلامیہ کے کیمپ کا حصہ بنیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ

"اور ان کو ٹھیرائے رکھو کہ ان سے (کچھ) پوچھنا ہے"(الصافات، 37:24)۔

 

                  حزب التحریر آپ کے ساتھ اور آپ کے درمیان ہے ، اور اس نے اپنے آپ کو اور اس کے کارکنوں کو نبوت کے طریقے پر دوسری خلافت راشدہ کے قیام کے لیے تیار کیا ہے ، اور اس نے آپ کے ہاتھوں میں حکمرانی اور انتظامیہ  کی ایک اسلامی ثقافت رکھی ہے ، اور اپنے قیام کے بعد خلافت دنیا کی قیادت کے لیے مقابلہ کرے گی ، ان شاء اللہ۔

 

أفغانستان#           #Afganistan    #Afghanistan

 

انجینئر صالح الدین عدادہ

ڈائریکٹر مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
http://www.hizb-ut-tahrir.info
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizb-ut-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک