الأحد، 25 شوال 1447| 2026/04/12
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بین الاقوامی قانون کا خاتمہ اور عالمی تبدیلیاں

بین الاقوامی قانون کی جڑیں سترہویں صدی کے وسط تک جاتی ہیں۔ یورپی ممالک نے آپس کے تعلقات کو منظم کرنا شروع کیا اور 1648 میں 'معاہدہ ویسٹ فیلیا' پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون کو قانونی حیثیت دینے کا آغاز تھا جس نے نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کے ممالک کو متاثر کیا۔ اس طرح یورپ کی مسیحی ریاستوں نے اپنے درمیان عشروں سے جاری جنگیں…
Read more...

مضيقِ ہرمز کی بندش اور اس کے عالمی اثرات

مضيقِ ہرمز وہ واحد بحری راستہ ہے جو خلیجی عرب ممالک کو سمندر اور پھر وہاں سے پوری دنیا سے جوڑتا ہے کیونکہ عراق میں بصرہ، کویت میں برآمدی مراکز، سعودی عرب میں راس تنورہ اور جبیل کی بندرگاہوں، اور متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی برآمدی تنصیبات جیسی اہم جگہوں سے نکلنے والے جہازوں کو عمان کی خلیج اور پھر بحر ہند پہنچنے سے پہلے لازمی طور پر…
Read more...

ایران کی جنگ اور طاقت کی آزمائشیں

امریکہ اور یہودی وجود کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جارحانہ جنگ محض خلیجی خطے میں ہونے والی کوئی فوجی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ امریکی طاقت کی حدود اور ایک ایسے عبوری دور میں جہاں عالمی طاقتوں کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، نئے علاقائی تنازعات سے نمٹنے کی عالمی نظام کی صلاحیت کا ایک پیچیدہ امتحان ہے۔  
Read more...

امریکہ اور اس کے غنڈے، یہودی وجود کے خلاف جہاد

ایران کے خلاف شیطانی محور ،امریکہ اور اس کے غنڈے، یہودی وجود کی جارحیت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی اداروں جیسے اقوام متحدہ یا بین الاقوامی عدالت انصاف یا کسی اور بین الاقوامی فورم پر مسلمانوں کی سرزمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ سب سے بڑے شیطان، امریکہ اور بڑی طاقتوں کے…
Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک