بسم الله الرحمن الرحيم
سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) اور ایران: عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے ایک سبق
تحریر: انجینئر حسب اللہ النور – ولایہ سوڈان
(ترجمہ)
شام کے لیے امریکی ایلچی، ٹام براک نے بیان دیا ہے کہ: "داعش کے خلاف زمین پر ایک اہم قوت کے طور پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کا اصل مقصد اب ختم ہو چکا ہے"۔ (حلب الیوم، 19/01/2026)۔
اس کے برعکس، مشرقِ وسطیٰ کے سمندروں میں امریکی فوجی دستے غیر معمولی طور پر جمع ہو رہے ہیں، جبکہ ایرانی نظام کے خلاف امریکی دھمکیوں کے لہجے میں بھی شدت آ رہی ہے، حالانکہ اس نظام نے طویل عرصے تک خطے میں امریکی پالیسی کی خدمت کی ہے۔
سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) باقاعدہ طور پر 10 اکتوبر 2015 کو تشکیل دی گئی تھی، جو کہ شروع سے ہی ایک واحد فوج کے بجائے کئی دھڑوں پر مشتمل ایک فوجی اتحاد تھا۔ اس کے قیام کا مقصد امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی براہ راست مدد سے، بنیادی طور پر 'دولتِ اسلامیہ' (داعش) کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف مقامی قوتوں کو متحد کرنا تھا۔ امریکہ نے خطے میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے 'دولتِ اسلامیہ' ' (داعش) سے مقابلے کے بہانے فنڈنگ، تربیت اور اسلحے کی فراہمی کے ذریعے اس کی مکمل پشت پناہی کی ذمہ داری سنبھالی۔ جب اس کا کردار ختم ہو گیا تو امریکی صدر ٹرمپ نے خطے سے امریکی افواج کو نکال لیا اور شامی حکومت کو ان علاقوں سے سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کو نکال باہر کرنے کی اجازت دے دی جن پر انہوں نے پہلے قبضہ کر رکھا تھا، یوں امریکہ نے انہیں تنہا چھوڑ دیا اور قسد کے خواب چکنا چور ہو گئے۔
سوشل میڈیا پر بہت سے کردوں نے اس پورے واقعے کو 'غداری' قرار دیا، گویا امریکہ پر ان کی خدمات کے بدلے کوئی اخلاقی فرض یا سٹریٹجک ذمہ داری عائد ہوتی تھی!۔
دوسری جانب ایران کا معاملہ ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان تکرار اپنی پانچویں دہائی میں داخل ہو چکی ہے، تو ان تعلقات کی حقیقت کیا ہے؟۔
اس حقیقت کو جاننے کے لیے اس تعلق کے سفر میں آنے والے کچھ اہم موڑ پر رکنا ضروری ہے۔
واقعات کو تیزی سے بیان کرنے کے بجائے، یہ مناسب ہوگا کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ ایرانی نظام کا قیام کیسے عمل میں آیا، جیسا کہ 2016 کے وسط میں منظرِ عام پر آنے والی کئی امریکی دستاویزات میں بتایا گیا ہے۔
ان دستاویزات میں درج ہے کہ خمینی کی درخواست پر اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے ان کے وعدے کے بعد، امریکی انتظامیہ نے اس وقت کے نیٹو کے ڈپٹی کمانڈر انچیف، امریکی جنرل رابرٹ ہوئزر کے ذریعے شاہ کے وفادار ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کو غیر فعال کرنے کی براہ راست نگرانی کی۔ اس کے بعد جنوری 1979 کے وسط میں شاہ اور ان کے خاندان کو ایران سے نکال کر جلاوطنی کی نگرانی کی گئی، اور پھر خمینی کو تہران جانے کے لیے ہری جھنڈی دکھا دی گئی، جہاں ایک فرانسیسی طیارے نے انہیں پہنچایا تاکہ وہ ایران میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔
عالمی منڈیوں میں ایرانی تیل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ امریکہ نے دو اسٹریٹجک اہداف حاصل کیے:
پہلا یہ کہ: اقتدار میں مستحکم ہونے کے بعد خمینی نے شاہ کے دورِ حکومت کی مخالفت میں اپنے دو اہم اتحادیوں، یعنی ایرانی کمیونسٹ پارٹی (تودہ پارٹی) اور دیگر بائیں بازو کے دھڑوں سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔ 1983 میں ان پر پابندی عائد کر دی گئی، ان کے لیڈروں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے کارکنوں کو پھانسیوں اور تشدد کی مہمات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح، خاص طور پر اسلامی نعروں کی آڑ میں، ایران کو سوویت یونین سے دور رکھنے کی ضمانت مل گئی۔
دوسرا یہ کہ: خمینی کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد ہی عراق کے ساتھ جنگ چھڑ گئی، جس نے سنی اور شیعہ کے درمیان فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا اور یہ ایک کھلی جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ یہ سب اس وقت ہوا جب امریکہ نے ایران کو عراق، شام، لبنان اور یمن میں پھیلنے کی اجازت دی، اور اس طرح امریکہ نے مسلمانوں کے درمیان مزید تفرقہ اور انتشار کو یقینی بنا دیا۔
تعلقات کے سفر میں دوسرا پڑاؤ عراق کے بارے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمتیں تھیں۔ امریکی سفارت کار اور عراق کے لیے ایلچی زلمے خلیل زاد کی کتاب "میرا سفر ایک ہنگامہ خیز دنیا میں" کے مطابق اس نے ان تعلقات کی نوعیت کا خلاصہ کرتے ہوئے ذکر کیا کہ محمد جواد ظریف نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر امریکی طیارے ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کریں تو ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ حملے کے بعد بھی ان کے درمیان ملاقاتیں جاری رہیں جن میں عراق میں مستقبل کی حکومت پر بحث کی گئی، اور ایران نے جلاوطن اپوزیشن پر مشتمل حکومت کی تشکیل، بعث پارٹی کے خاتمے اور عراقی سیکورٹی فورسز کی نئے سرے سے تعمیر کی بھرپور حمایت کی، اور یہی کچھ حقیقت میں ہوا۔
جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، تو بون کانفرنس کو امریکہ اور ایران کے درمیان تعاون کا عروج سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ تریتا پارسی نے اپنی کتاب "دشمن کھونا: اوباما، ایران اور سفارت کاری کی فتح" میں اشارہ کیا ہے۔ اس نے ذکر کیا کہ اس تعاون کا عروج 10 دسمبر 2001 کو بون شہر میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے دوران سامنے آیا، جب افغانستان میں حکومت کے لیے نئے منصوبے کی منظوری دی گئی، جسے امریکہ اور ایران نے مل کر کانفرنس کے انعقاد سے کئی ہفتے پہلے انتہائی احتیاط کے ساتھ تیار کیا تھا۔
اس سلسلے میں سابق ایرانی صدر رفسنجانی نے کہا: "اگر طالبان کے خلاف جنگ میں ہماری افواج کی مدد نہ ہوتی تو امریکی افغانستان کی دلدل میں ڈوب جاتے"۔ (روزنامہ الشرق الاوسط، 09/02/2002)۔ اسی طرح سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کے قانونی اور پارلیمانی امور کے نائب، محمد علی ابطحی نے 13 جنوری 2004 کو ابوظہبی میں ہونے والی ایک کانفرنس "خلیج اور مستقبل کے چیلنجز" میں کہا: "اگر ایران کا تعاون نہ ہوتا تو کابل اور بغداد اتنی آسانی سے فتح نہ ہوتے، لیکن ہمیں انعام ملا اور ہمیں 'بدی کے محور' (Axis of Evil) میں شامل کر دیا گیا!" (اسلام آن لائن، 13/01/2004)۔ صدر احمدی نژاد نے بھی 26 ستمبر 2008 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے اسی بات کو دہرایا: "ایران نے افغانستان کے حوالے سے امریکہ کی مدد کی تھی، اور اس مدد کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ نے ہمیں براہ راست فوجی حملے کی دھمکیاں دیں، حالانکہ ہمارے ملک نے عراق میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے بھی امریکہ کی مدد کی ہے"۔
امریکہ نے ایران کو علاقائی طور پر پھیلنے اور اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کی اجازت دی یہاں تک کہ وہ خطے کے لیے خطرہ بن گیا، پھر جلد ہی اسے 'بدی کے محور' میں شامل کر لیا، اس کا اقتصادی محاصرہ کیا یہاں تک کہ ایران کی کرنسی کی قدر میں 80 فیصد سے زیادہ کمی آگئی، اور اس پر فوجی حملے بھی کیے۔ آج اس کا شدید محاصرہ کر کے ایرانی نظام کا تختہ الٹنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
امریکہ اپنے مفادات اور عملی تقاضوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ ایران کی صورتحال کو "کارکردگی کی بنیاد پر حریف" (Functional Adversary) کہا جاتا ہے، جیسے کہ کچھ ممالک کو امریکہ "کارکردگی کی بنیاد پر دوست" (Functional Friend) قرار دیتا ہے۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ اس ظاہری دشمنی سے کئی مفادات حاصل کیے ہیں، جن میں خطے میں اپنی موجودگی کا جواز پیش کرنا، خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرنے پر مجبور کرنا، اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچنا، مالی بلیک میلنگ، اور "استحکام کے بجائے خوف" کی پالیسی کے ذریعے خطے کے معاملات چلانا شامل ہے۔
امریکہ نے جن حکومتوں کو استعمال کرنے کے بعد ٹھکرا دیا ان کی فہرست بہت طویل ہے۔ مثال کے طور پر جعفر نمیری، جس نے امریکہ کی ایما پر فلاشا یہودیوں کو یہودی وجود میں منتقل کیا، اس کے باوجود امریکہ نے مصری حکومت کو اشارہ دیا جس نے نمیری کی امریکہ سے خرطوم واپسی میں رکاوٹ ڈالی یہاں تک کہ اس کا اقتدار ختم ہو گیا۔ اسی طرح عمر البشیر نے امریکہ کے حکم پر جنوبی سوڈان کو الگ کیا، لیکن اسے جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا یہاں تک کہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ گیا۔ اس فہرست میں حسنی مبارک، بشار، اور وہ افغان جنگجو جنہوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر جنگ لڑی، اور ایسے بہت سے دوسرے نام شامل ہیں۔ امریکہ کی اس سیاہ تاریخ کے باوجود، اسلامی ممالک میں کٹھ پتلی حکمران اور مفاد پرست سیاستدان اب بھی اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے امریکہ کے سامنے گڑگڑا رہے ہیں۔ انہیں نہ تو اپنے سے پہلے والوں کے عبرت ناک انجام نے متاثر کیا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان کے لیے کافی ہوا کہ:
﴿وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ﴾
"اور یہودی اور نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے" (سورۃ البقرۃ: آیت 120)
کیا ان لوگوں کے لیے یہ بہتر نہ تھا کہ وہ امریکہ کی پناہ لینے کے بجائے امریکہ کے رب کی پناہ لیتے؟ تفرقہ اور انتشار کو دوام دینے کے بجائے، جس نے انہیں کمزوری اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیا، کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ وہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے کہ:
﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ﴾
"بے شک تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں"(سورۃ الانبیاء: آیت 92)۔
کاش کہ وہ ایک ہی قیادت، یعنی خلافتِ راشدہ کے تحت اپنے جھنڈے کو متحد کرتے جو ان کے لیے ذلت کے بجائے عزت و وقار کا باعث بنتا، کیونکہ
﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾
"عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے"(سورۃ المنافقوں: آیت 8) ۔
کیا اب بھی اس امت کے بیٹوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ وہ اپنے ان حکمرانوں کا ہاتھ پکڑیں اور انہیں حق پر چلنے کے لیے سختی سے مجبور کریں اور انہیں حق کی پیروی تک ہی محدود کر دیں؟ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:«كَلَّا وَاللَّهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَيْ الظَّالِمِ، وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْراً، وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْراً، أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللَّهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ، ثُمَّ لَيَلْعَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ» "ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے، اور تم ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور اسے حق پر چلنے پر مجبور کرو گے اور اسے حق پر ہی قائم رکھو گے، ورنہ اللہ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے پر مار دے گا (یعنی تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کر دے گا)، پھر وہ تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جیسے اس نے ان (پچھلی امتوں) پر کی" ( ابوداؤد،ترمذی)