الأحد، 02 ذو القعدة 1447| 2026/04/19
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

امت کے نوجوان: بکھری ہوئی توانائی سے خلافت قائم کرنے والی قوت تک

 

 

تحریر: استاذ سعید فضل

 

(ترجمہ)

 

عالمِ اسلام میں نوجوانوں کا مسئلہ محض ایک ایسی عمر کے گروہ کا نہیں ہے جسے تفریحی پروگراموں یا ملازمت کے مواقع کی ضرورت ہے۔ بلکہ یہ ایک  اسٹریٹجک مسئلہ ہے جسے اگر ایک واضح نظریاتی منصوبے کی طرف نہ موڑا گیا، تو یہ بوجھ بن جائے گا یا دوسروں کے ایجنڈوں کا ایندھن بنے گا۔ نوجوان مرد اور خواتین کسی بھی نظریے کو اٹھانے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں، اس پر سب سے تیزی سے ردِعمل دیتے ہیں اور اسے اپنانے میں سب سے زیادہ دلیر ہوتے ہیں۔ اسی لیے، پوری اسلامی تاریخ میں، عالمِ اسلام نے جس کسی بھی کلیدی تبدیلی کا مشاہدہ کیا، نوجوان اس کے ہراول دستے میں رہے۔

 

جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بڑی تبدیلیاں ہچکچاہٹ کا شکار یا مراعات یافتہ طبقے نے نہیں، بلکہ اس نسل نے برپا کیں جو ایک نظریے پر یقین رکھتی تھی اور اس کے لیے جیتی تھی۔ محمد الفاتح کی مثال یاد کرنا ہی کافی ہے، جنہوں نے اپنی جوانی میں قسطنطنیہ فتح کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے خود کو ایک علاقائی حکمران کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی ریاست کے سربراہ کے طور پر دیکھا جو ایک رسالت (پیغام) اور ایک مشن لے کر چل رہی تھی اور نبی کریم ﷺ کی بشارتوں کو پورا کرنے کی تگ و دو کر رہی تھی۔ اسی طرح، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے لشکر کی قیادت کی جس میں رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ ان کے لیے قیادت کا معیار صلاحیت، اہلیت اور وابستگی تھی، نہ کہ عمر۔

 

یہ مثالیں محض تاریخی تعریف و تحسین کے لیے بیان نہیں کی گئیں، بلکہ ایک سیاسی اصول کی توثیق کے لیے ہیں: کہ جب نوجوانوں کو ایک واضح نظریے اور ریاست کے تصور سے جوڑ دیا جاتا ہے، تو وہ تبدیلی کی ایک حقیقی قوت بن جاتے ہیں۔ اسلامی ریاست کے تحت، نوجوانوں کو ثانوی کرداروں تک محدود نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے بجائے، وہ فیصلہ سازی، پیغامِ اسلام (رسالت) کی اشاعت، اللہ کے راستے میں جدوجہد، اور اسلام کی بنیادوں پر معاشرے کی تعمیر کا لازمی حصہ تھے۔

 

تاہم، آج مسئلہ مسلم ممالک میں نوجوان مردوں اور عورتوں کی کمی کا نہیں ہے، بلکہ اس سیاسی اور فکری ماحول کی نوعیت کا ہے جس میں وہ جی رہے ہیں۔ عثمانی خلافت کے زوال کے بعد جو موجودہ کٹھ پتلی (ایجنٹ) حکومتیں قائم ہوئیں، وہ نہ تو اس اصول پر مبنی تھیں کہ حاکمیت امت کے پاس ہے، اور نہ ہی اس اصول پر کہ اسلام وہ نظریہ ہے جو ریاست کی رہنمائی کرتا ہے، بلکہ وہ سرمایہ دارانہ بین الاقوامی نظام سے جڑی سیکولر قوم پرست بنیادوں پر قائم تھیں۔ یہ فطری بات ہے کہ یہ حکومتیں ایسی نسل تیار کرنے کی کوشش کریں جو اسلام سے کٹی ہوئی ہو اور ان کے حالات میں رچ بس جائے، نہ کہ ایسی نسل جو ان کے جواز پر سوال اٹھائے یا انہیں بدلنے کے لیے کام کرے۔

 

اس لیے، نوجوان مردوں اور عورتوں کو صارفیت (کنزیومر ازم)، لایعنی چیزوں میں مصروفیت اور کسی بھی اجتماعی مقصد سے عاری انفرادی کامیابی کے قصوں کے پیچھے بھاگنے کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ سب سے بڑی منزل ایک آرام دہ نوکری یا کسی "ترقی یافتہ" ملک کی طرف ہجرت ہے، جبکہ بنیادی سوال ان سے اوجھل کر دیا جاتا ہے: آپ کی امت میں آپ کا کیا کردار ہے؟ ایک ایسی حقیقت کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہے جہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت نافذ نہیں ہے، اور جہاں مسلمانوں کی وحدت برقرار نہیں ہے؟

 

اسلام کی سیاسی ثقافت نوجوان مردوں اور عورتوں کو محض ایک ایسے سماجی گروہ کے طور پر نہیں دیکھتی جسے نفسیاتی مدد کی ضرورت ہو، بلکہ انہیں تبدیلی کی ایک ایسی قوت قرار دیتی ہے جسے ایک نظریاتی منصوبے سے منسلک ہونا چاہیے۔ اسلام نے حاکمیت شریعت کے لیے اور اقتدار امتِ مسلمہ کے لیے مقرر کیا ہے، اور مسلمانوں پر یہ فرض کیا ہے کہ وہ ایک ایسے خلیفہ کی بیعت کریں جو اسلامی شریعت کو نافذ کرے اور دعوت و جہاد کے ذریعے اس کی رسالت (پیغام) کو دنیا تک پہنچائے۔ یہ شرعی فریضہ صرف علماء اور سیاست دانوں کی اکیلی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ پوری امتِ مسلمہ، بالخصوص اس کے نوجوانوں (شباب) کی ذمہ داری ہے۔

 

نوجوان مرد اور خواتین فکری کشمکش کا بوجھ اٹھانے کے لیے بہترین صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ فوری مفادات کے پابند کم ہوتے ہیں اور قربانی دینے کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں۔ وہ موجودہ حکمران نظاموں کے جھوٹ کو بے نقاب کرنے، ان کی محکومی کو ظاہر کرنے اور امت کے عقیدے کے ساتھ ان کے تضاد کو ثابت کرنے کے لیے سیاسی جدوجہد کرنے کے لیے -بھی بہترین پوزیشن میں ہیں۔ تاہم، یہ مقصد جذباتیت اور بے لگام جوش و خروش سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے اس نظریاتی سیاسی شعور کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی نظام کی نوعیت کو سمجھتا ہو، ریاستوں کی اصل حقیقت اور حکمرانوں کی ملی بھگت کو پہچانتا ہو، اور شرعی دلائل کی روشنی میں اسلام کے نظامِ حکومت کو سمجھتا ہو۔

 

نوجوانوں کو قیامِ خلافت کی قوت میں تبدیل کرنے کا مطلب معاشرے کو عسکری رنگ دینا یا فضول مسلح تصادموں میں الجھنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب ایک ایسی رائے عامہ بیدار کرنا ہے جو عمومی شعور سے پیدا ہو، جسے ایک ایسا نظریاتی گروہ اپنائے جو خیالات اور تصورات کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہو، یہاں تک کہ شریعت کا نفاذ محض ایک جذباتی تڑپ کے بجائے شعوری بنیادوں پر عوامی مطالبہ بن جائے۔ اسلام میں تبدیلی کا آغاز ایک فکر (نظریے) سے ہوتا ہے، پھر وہ رائے عامہ میں بدلتی ہے، اور آخر کار سیاسی حقیقت میں ڈھل جاتی ہے۔

 

وہ نوجوان مرد یا عورت جو یہ سمجھتی ہے کہ عقیدے کے بندھن کے مقابلے میں قوم پرستی ایک مصنوعی رشتہ ہے، اور یہ کہ موجودہ قوم پرستانہ سرحدیں ان کی امت کو تقسیم کرنے کے لیے مسلط کی گئی تھیں، وہ محض نعرے لگانے پر اکتفا نہیں کرے گا۔ وہ سوال کرے گا: وہ سیاسی وجود کہاں ہے جو مسلمانوں کو متحد کرتا ہے؟ وہ نظامِ حکومت کہاں ہے جو مکمل طور پر شریعت نافذ کرتا ہے؟ وہ ریاست کہاں ہے جو امت کی دولت کو عوامی ملکیت بناتی ہے، جس کا انتظام غیر ملکی کارپوریشنوں کے بجائے امت کے فائدے کے لیے چلایا جاتا ہو؟

 

نوجوانوں کی توانائیوں کے رخ کو موڑنے کا آغاز کامیابی کی ازسرِ نو تعریف سے ہوتا ہے۔ کامیابی ایسے نظام میں رچ بس جانے میں نہیں ہے جو اسلامی عقیدے کے منافی ہو، بلکہ اسے تبدیل کرنے کی جدوجہد میں ہے۔ کامیابی امت کی کمزوری کے عالم میں انفرادی فائدے حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اس نظریاتی اور شعوری سیاسی عمل کا حصہ بننے میں ہے جس کا مقصد خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کا دوبارہ احیاء کرنا ہو۔

 

آج عالمِ اسلام ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ اس کے نوجوان یا تو بکھرے ہوئے، انفرادی منصوبوں کے اسیر رہ سکتے ہیں، یا پھر تبدیلی کے عمل کی قیادت کرنے والے ایک باشعور ہراول دستے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ لایعنی کاموں میں یا غیر اسلامی ایجنڈوں کی خدمت میں ضائع ہونے والی نوجوانوں کی ہر توانائی ایک  اسٹریٹجک نقصان ہے، جبکہ ہر وہ نوجوان مرد یا عورت جو اسلام کے سیاسی وژن کو اپناتا ہے، وہ مستقبل کی اسلامی ریاست کی تعمیر میں ایک بنیادی اینٹ کی مانند ہے۔

 

تاریخ گواہی دیتی ہے کہ بڑی تبدیلیاں اکثر نوجوانوں کی اس نسل سے شروع ہوتی ہیں جو کرپٹ جمود (اسٹیٹس کو) کو مسترد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، اور یہ کسی پرجوش ہنگامہ آرائی کے ذریعے نہیں، بلکہ ایک واضح وژن کے ساتھ باشعور وابستگی کے ذریعے ہوتا ہے۔ عالمِ اسلام کے نوجوان اپنے اسلاف سے کسی طور کم تر نہیں ہیں، لیکن انہیں ایک صحیح سمت نما ، ایک متحد کرنے والے منصوبے اور منظم عمل کی ضرورت ہے جو یقین کو حقیقت میں بدل دے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى﴾

 

"بے شک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں بڑھا دیا تھا۔" (سورہ الکہف، آیت: 13)

 

ولایہ مصر  میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

 

 

Last modified onاتوار, 19 اپریل 2026 01:37

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک