بسم الله الرحمن الرحيم
ٹرمپ کی امن کونسل جدید دار الندوہ کی سازش
بقلم: الأستاذ صلاح الدين الأوزبيكي
(ترجمہ)
اگرچہ تاریخ کے اسٹیج پر کردار اور ذرائع بدل چکے ہیں، لیکن حق اور باطل کے درمیان کشمکش کی حقیقت اور طریقے عملاً تبدیل نہیں ہوئے۔ مکہ کے مشرکین خانہ کعبہ کے قریب واقع "دار الندوہ" نامی کونسل کے ہال میں اکٹھے ہوتے تھے اور اسلامی دعوت کو ختم کرنے، مسلمانوں کو کمزور کرنے اور رسول اللہ ﷺ کے عزم و ارادے کو توڑنے کے لیے انتہائی خبیث اور مکارانہ منصوبے بناتے تھے۔ دار الندوہ محض ایک عمارت نہیں تھی بلکہ اسلام کے خلاف منظم سیاسی فیصلے کرنے کا ایک مرکز تھا۔ وہاں قریش کے سردار جمع ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے قتل اور آپ کی دعوت کو مکمل طور پر مٹانے کی منصوبہ بندی کی۔ ابوجہل کی تجویز پر مشرکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہر قبیلے سے ایک مسلح اور طاقتور نوجوان منتخب کیا جائے اور وہ سب مل کر ایک ہی وقت میں نبی کریم ﷺ پر حملہ کر کے انہیں شہید کر دیں۔ اس شرمناک منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ خون کا بدلہ تمام قبائل میں بٹ جائے تاکہ بنو ہاشم رسول اللہ ﷺ کے قتل کا انتقام نہ لے سکیں۔ وہ دار الندوہ میں اسلام کا گلا گھونٹنے اور اس کے مستقبل کا خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم تھے۔
آج "امن کونسل" کا منصوبہ، جس کی ٹرمپ اور اس کے گرد موجود شرپسند قوتیں مبارک فلسطین اور غزہ کے حوالے سے تشہیر کر رہی ہیں، اسی تاریخی سازش کی ایک جدید شکل ہے جو شاید دار الندوہ والوں کی اس سازش سے کسی طرح کم خطرناک نہیں۔ اس "امن کونسل" کا مقصد "امن اور خوشحالی" کے لبادے میں وہی پرانا مقصد حاصل کرنا ہے، یعنی غزہ کو اس کے رہنے والوں سے خالی کروانا، اسے امریکہ کے کنٹرول میں ایک اقتصادی زون بنانا اور اجتماعی فتنے کے ذریعے مسلمانوں کے اسلامی عزم اور ایمانی جذبے کو ختم کرنا، جیسا کہ دار الندوہ میں طے پایا تھا۔
ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں غزہ کی جغرافیائی و دفاعی اہمیت کی تعریف کی گئی ہے اور اسے "فرانسیسی رویرا" (French Riviera) جیسے ایک خوبصورت تفریح گاہ میں بدلنے کی بات کی گئی ہے، ان کے پیچھے مسلمانوں کو ان کی بابرکت زمین سے محروم کرنے اور مال و دولت کے دھوکے کے ذریعے انہیں اپنے دین سے دستبردار ہونے پر راغب کرنے کا منصوبہ چھپا ہوا ہے۔
اور جس طرح دار الندوہ کے بڑوں نے شعب ابی طالب میں مسلمانوں کا محاصرہ کیا، انہیں بھوک کی اذیت سے آزمایا اور پھر اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، بالکل اسی طرح آج غزہ کے لوگوں پر مسلط کردہ بھوک اور وہاں ہونے والا قتلِ عام وہ دو ہتھیار ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کو اسی "امن کونسل" کے منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
سب سے زیادہ دکھ اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آج کی "دار الندوہ" صرف واشنگٹن میں ہی تعمیر نہیں ہوئی بلکہ بعض اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے محلات میں بھی بنی ہوئی ہے۔ فتنے کے یہ منحوس مراکز اب قاہرہ، ریاض، ابوظہبی اور عمان جیسے دارالحکومتوں میں پھل پھول رہے ہیں، اور "امن کونسل" کا مقصد ان ہی علاقائی "شیوخ" کو شریک کرنا اور ان کے ہاتھوں غزہ پر امریکہ کا کنٹرول مسلط کرنا ہے۔ جہاں ایک طرف ان ممالک کے حکام، بالخصوص مصری حکومت، غزہ کا محاصرہ کر کے اور اس کا گلا گھونٹ کر یہودی وجود کی خدمت کرنے میں خوشی محسوس کر رہے ہیں، وہیں متحدہ عرب امارات، مراکش اور بحرین "اقتصادی ترقی" کے بہانے غزہ کو غیر مسلح کرنے، مسلمانوں کو ان کی زمینوں سے نکالنے اور "ابراہم معاہدوں" (Abraham Accords) میں شرکت کے منصوبے کی قیادت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی امن کونسل میں شرکت کرنا اور غزہ کو بیچنے اور مسلمانوں کو ذلیل کرنے کے لیے کفار کے منصوبوں کی حمایت کرنا، اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور غزہ میں بہنے والے پاکیزہ خون کے ساتھ بدترین خیانت ہے۔ یہ محض ایک سیاسی اتحاد نہیں ہے بلکہ ان ظالموں کی عملی شرکت ہے جو اسلام کو ختم کرنے اور اپنے جرائم کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ﴾
"مومنوں کو چاہیے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں، اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں" (سورۃ آلِ عمران، آیت 28)
اس کونسل میں شرکت کا مطلب مظلوم بچوں کی چیخوں کا سودا کرنا، تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے حقوق سے دستبردار ہونا اور مسلمانوں کی مبارک زمینوں کو یہودی وجود کو تحفے میں دینا ہے، اور اس عظیم جرم کا انجام نہ صرف تاریخ کا ایک ملعون باب ہوگا بلکہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں دردناک عذاب بھی ہوگا۔ "دار الندوہ" کے وارثوں کے ساتھ تمہارے یہ معاہدے امتِ مسلمہ کے جسم میں پیوست ایک زہریلا خنجر ہیں۔ یہ مشرکین کے اس منصوبے کی طرح ہے جنہوں نے ہر قبیلے سے ایک ایک نوجوان لینے کا ارادہ کیا تھا تاکہ سب مل کر نبی کریم ﷺ کو قتل کریں، تاکہ ذمہ داری سب پر بٹ جائے اور مسلمان کسی ایک سے بدلہ نہ لے سکیں۔ تم اس قسم کی اجتماعی بین الاقوامی غداری کے ذریعے غزہ کے عزم و ارادے کو دبانے اور کچلنے کی کوشش کر رہے ہو۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ دار الندوہ کی سازشیں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے ثبات اور استقامت کو نہ توڑ سکیں، اور اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو ان سازشوں سے نکلنے کا راستہ دیا اور اسلام کی ریاست کی تعمیر کے لیے نصرت عطا فرمائی۔ اسی طرح امن کونسل کے وہ منصوبے جن کی آج ٹرمپ اور ایجنٹ حکمران تشہیر کر رہے ہیں، امت کے ارادے کے سامنے پاش پاش ہونے کے لیے مقدر ہیں۔ کیونکہ غزہ فروخت کے لیے کوئی جائیداد نہیں ہے، یہ امتِ مسلمہ کی غیرت اور عزت کی علامت ہے۔ ہمیں واضح طور پر یہ کہنا چاہیے کہ غزہ اور پورے فلسطین میں جاری ظلم کو روکنے، مسلمانوں کی آبرو اور عزت کی حفاظت کرنے اور فتنہ پرور کونسلوں کو تباہ کرنے کا واحد حل "خلافتِ راشدہ" کا قیام ہے! جب تک مسلمانوں کی قیادت وہ خلیفہ نہیں سنبھال لیتا جو ان کا دفاع کرے، کفار کو خوفزدہ کرے اور اسلام کے نظام کے مطابق عدل قائم کرے، تب تک غزہ کا المیہ جاری رہے گا اور مسلمانوں کا خون بہتا رہے گا۔ مسلمانوں کو اس "امن" کی ضرورت نہیں ہے جو استعمار نے وضع کیا ہے، بلکہ انہیں خلافت کے جھنڈے تلے سچے الٰہی انصاف کی ضرورت ہے جو انہیں جدید "دار الندوہ" اور اندرونی غداروں سے نجات دلائے اور ان کی زمین اور عزت کی حفاظت کرے۔
ان فتنہ پرور کونسلوں میں شریک ہونے والوں اور امت کی تقدیر سے کھیلنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سخت وارننگ ایک سبق ہونی چاہیے:
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ﴾
"اور تم ہرگز یہ نہ سمجھو کہ اللہ ان کاموں سے غافل ہے جو یہ ظالم کر رہے ہیں، وہ تو انہیں اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس دن (خوف کے مارے) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی"(سورۃ ابراہیم، آیت 42)