Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

نہضہ ڈیم میں امریکہ کا استعماری کردار

 

تحریر: استاد ناصر رضا

 

(ترجمہ)

 

پچھلی صدی کے اواخر سے ہی عالمی سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی اور اسٹریٹجک ماہرین یہ بات کر رہے ہیں کہ 21 ویں صدی پانی کی جنگوں کی صدی ہے۔ اسی لیے بڑی استعماری طاقتوں نے دنیا بھر میں پانی کے اہم اور حیاتیاتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے منصوبے اور پروگرام تیار کیے۔ ایتھوپیا میں ہیلا سلاسی کے دورِ حکومت کے دوران، زمین پر پانی کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک، یعنی دریائے نیل کے طاس (بیسن) پر قبضے کے لیے امریکہ اور یہودی وجود نے اپنا کردار ادا کیا، یہ وہ دریا ہے جو سوڈان اور مصر سے ہوتا ہوا بحیرہ روم میں گرتا ہے۔

 

امریکی بیورو آف ری کلیمیشن (زرعی اصلاحات کے دفتر) نے 1956 اور 1964 کے درمیان نہضہ ڈیم (گرینڈ ایتھوپین رینائسنس ڈیم) کے حتمی مقام کا تعین کیا تھا۔ اس کا سنگِ بنیاد ایتھوپیا کے اس وقت کے وزیر اعظم میلیس زیناوی نے 2 اپریل 2011 کو رکھا تھا، جس کے بارے میں ایتھوپیا کا دعویٰ ہے کہ یہ 6450 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ہے۔ اس کی تعمیر کا عمل 14 سال تک جاری رہا اور 9 ستمبر 2025 کو 4.8 بلین ڈالر کی لاگت سے اس کے افتتاح کا اعلان کیا گیا۔ 1988 میں ایک امریکی تحقیقی مطالعہ بعنوان "پورے طاس (بیسن) کے خطے میں امریکی موجودگی کو مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی" شائع ہوا تھا، جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ جو پانی پر کنٹرول حاصل کر لے گا، وہ باقی ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے گا۔

 

15 جولائی 2025 کو بی بی سی عربی نے امریکی صدر ٹرمپ کا نہضہ ڈیم کے حوالے سے یہ بیان نقل کیا کہ "امریکہ نے اس ڈیم کی مالی معاونت کی ہے اور اس بحران کا جلد ہی کوئی حل نکل آئے گا"۔ اسی طرح اسکائی نیوز عربی نے ان کا یہ قول بھی نقل کیا کہ "کسی مستقل معاہدے تک پہنچنے کے لیے مناسب تکنیکی مہارت، منصفانہ اور شفاف مذاکرات کے ساتھ ساتھ نگرانی اور ہم آہنگی کے لیے ایک مضبوط امریکی کردار کی ضرورت ہے، اور یہ کہ دریائے نیل کے تمام ممالک کے لیے ایک مستقل معاہدہ طے پانا ممکن ہے"۔ نیل کے پانی کے حوالے سے اس امریکی ثالثی کا سیسی (مصر) اور برہان (سوڈان) نے فوری طور پر خیر مقدم کیا۔

 

جہاں تک نہضہ ڈیم کے معاملے میں یہودیوں کے کردار کا تعلق ہے، تو لیبرمین نے 2009 میں اپنے دورے کے دوران اس کی تصدیق کی تھی، جس میں انہوں نے پانی کے 100 ماہرین کے ہمراہ نیل کے طاس کے نو ممالک کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ان ممالک کے ساتھ کئی ڈیموں اور پانی کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا، اور یقینی طور پر ان کا ایتھوپیا کا دورہ نہضہ ڈیم کے حوالے سے ہی تھا۔

 

امریکہ صرف نہضہ ڈیم پر ہی نہیں رکا، بلکہ اس نے نیلِ ازرق (بلیو نائل) کے بہاؤ پر چار دیگر ڈیموں کے لیے بھی مطالعہ پیش کیا، جن کے نام یہ ہیں: کارادوبی، من دایہ، مابیل، اور مقاتش۔ جن میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش 200 بلین کیوبک میٹر ہے، اور ایتھوپیا نے پہلے ہی ان ڈیموں کی تعمیر شروع کر دی ہے۔

 

نہضہ ڈیم کے بارے میں کچھ حقائق:

 

1- یہ ڈیم سوڈان کی مشرقی سرحدوں سے محض 9 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 74 سے 76 بلین کیوبک میٹر ہے، اور یہ درحقیقت ایک "آبی ٹائم بم" ہے۔ اگر یہ ڈیم خدانخواستہ ٹوٹ جاتا ہے، تو یہ دریا کے دونوں طرف 20 کلومیٹر تک کے علاقے کو بہا لے جائے گا اور اپنے راستے میں آنے والے تمام ڈیموں کو تباہ کر دے گا۔ اس سے پانی کے بہاؤ کی شدت میں اس قدر اضافہ ہو جائے گا کہ سوڈان اور مصر میں دریا کے کناروں پر آباد 10 کروڑ سے زائد انسانوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

 

2- یہ دعویٰ کہ اس ڈیم کی تعمیر کا مقصد بجلی پیدا کرنا ہے، بالکل غلط اور باطل ہے، کیونکہ ڈیم پر پانی کا گراؤ 6000 فٹ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پانی کی بہت کم مقدار سے بھی اس وقت پیدا ہونے والی بجلی سے کئی گنا زیادہ بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ اگر اس کا موازنہ چین کے دریائے یانگزے پر بنے "تھری گورجز ڈیم" سے کیا جائے، جس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 39.3 بلین کیوبک میٹر ہے اور وہ 22.5 گیگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ چین نہضہ ڈیم کے مقابلے میں آدھے پانی سے چار گنا زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے۔

 

3- 1964 میں نہضہ ڈیم کے حوالے سے جو ابتدائی مطالعہ کیا گیا تھا، اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 11 بلین کیوبک میٹر بتائی گئی تھی، تو پھر ایسا کیا ہوا کہ اس ڈیزائن میں تبدیلی کر کے اسے 74 یا 76 بلین کیوبک میٹر کر دیا گیا؟ اس کے پیچھے اصل راز موسمیاتی تبدیلیاں اور زمین کی بڑھتی ہوئی تپش (گلوبل وارمنگ) ہے، جس نے پانی کی ضرورت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

 

4- اگرچہ 1902ء کے اس معاہدے کے تحت، جس پر انگلستان نے سوڈان، مصر اور ایتھوپیا کے درمیان دستخط کرائے تھے، ایتھوپیا کو سوڈان اور مصر کی تحریری منظوری کے بغیر نیلِ ازرق پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود ایتھوپیا نے یہ ڈیم تعمیر کر لیا۔ مزید برآں، مصر اور سوڈان کے ایجنٹ حکمرانوں نے 2015ء میں نام نہاد "اعلانِ اصول" (معاہدہ مبادی) پر دستخط کر کے اس تباہ کن ڈیم پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی، جس نے ایتھوپیا کو نیلِ ازرق کے پانیوں میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کا حق دے دیا۔

 

5- ایتھوپیا نے ڈیم کے انتظام میں سوڈان اور مصر کی مداخلت کے کسی بھی حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کو دوہرا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یا تو ڈوبنے کا خطرہ، جیسا کہ اکتوبر 2025ء میں ہوا جب خریف کا موسم ختم ہونے کے بعد ایتھوپیا نے ڈیم کے دروازے کھول دیے جس سے پہلے سے بھرے ہوئے دریا میں پانی کا بہاؤ اتنا بڑھ گیا کہ سوڈان کے کئی علاقے اور یہاں تک کہ بالائی مصر بھی شدید سیلاب کی زد میں آ گئے۔ یا پھر خشک سالی کا خطرہ، جیسا کہ ایتھوپیا نے ڈیم بھرنے کے لیے جب دروازے بند کر کے پانی روکا تو نیلِ ازرق کا پانی اس قدر کم ہو گیا کہ وہ جگہ جگہ محض جوہڑوں کی شکل اختیار کر گیا، اور واٹر پمپ پینے کے لیے پانی نکالنے میں ناکام ہو گئے جس کے نتیجے میں سوڈان میں لاکھوں افراد پیاس کی شدت کا شکار ہوئے۔

 

6- "گریٹ افریقن رفٹ ویلی" (عظیم افریقی شگاف کی وادی) جیسے زلزلے کی زد میں رہنے والے خطے میں اتنی بڑی ذخیرہ اندوزی کی گنجائش والے ڈیم کی تعمیر نے یہاں زلزلوں کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جس سے خود ڈیم کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ماہرینِ ارضیات اور بین الاقوامی مراکز کے اعداد و شمار کے مطابق، ڈیم کی تعمیر سے قبل ایتھوپیا میں زلزلوں کی اوسط شرح سالانہ پانچ سے چھ ہوا کرتی تھی۔ لیکن ڈیم کی تعمیر اور بھرائی کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی ان اعداد و شمار میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ چنانچہ 2023ء میں تقریباً 38 زلزلے ریکارڈ کیے گئے، 2024ء میں یہ شرح بڑھ کر 90 تک پہنچ گئی، اور 2025ء میں مختلف شدت کے 250 سے زائد زلزلے ریکارڈ ہوئے، جن میں اکتوبر 2025ء کے شدید زلزلے بھی شامل ہیں۔ یہ وہی وقت تھا جب ایتھوپیا نے ڈیم کے مکمل بھر جانے کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث زمین کی تہہ پر پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اسے ڈیم کے دروازے کھولنے پڑے، جس کے نتیجے میں مذکورہ بالا سیلاب آئے۔ 2026ء کے آغاز سے بھی زلزلوں کی یہ لہر اسی تیزی سے جاری ہے اور ریکٹر اسکیل پر 5.5 شدت کے بار بار آنے والے جھٹکے انسانی زندگیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

 

ان تمام حقائق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امریکہ اور یہودی وجود اس بحران میں کوئی ثالث نہیں بلکہ اس کے خالق ہیں، اور وہ نیل کے طاس پر نہضہ ڈیم اور دیگر ڈیموں کے ذریعے امت کو لگام ڈالنے میں کبھی کامیاب نہ ہوتے اگر انہیں غدار حکمرانوں اور بکاؤ میڈیا، سیاست دانوں اور ماہرین پر مشتمل ایجنٹوں کے اس ٹولے کی مدد حاصل نہ ہوتی جو ان استعماری منصوبوں کے لیے ڈھول پیٹ رہے ہیں اور تالیاں بجا رہے ہیں۔

 

اسلام نے پانی کو اس کے ذرائع سمیت عوامی ملکیت قرار دیا ہے جس میں تمام لوگ شراکت دار ہیں۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: «النَّاسُ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ، الْمَاءِ وَالنَّارِ وَالْكَلَأِ» "لوگ تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، آگ اور چارہ" اور حضرت انسؓ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ «وَثَمَنُهَا حَرَامٌ» "اور اس کی قیمت (بیچنا) حرام ہے"۔ مزید برآں، شریعت نے پانی کے استعمال میں پینے کے مقصد کو اولین ترجیح دی ہے، لہٰذا سوڈان اور مصر میں لوگوں کے پینے کے پانی کے ذرائع پر قبضہ کرنا ممنوع ہے، اور دریا پر کوئی بھی ایسا ڈیم بنانا جو لوگوں کو پینے اور آبپاشی سے روکے، اسے ختم اور مسمار کر دینا چاہیے۔

 

اب جبکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ نہضہ ڈیم سوڈان اور مصر کے عوام کی شہ رگ پر ایک دشمن ڈیم ہے، تو اس کے خلاف "زندگی یا موت" کے فیصلے والا اقدام اٹھانا ضروری ہے، کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے عوام کے لیے بقا کا مسئلہ ہے۔ یہی وہ سوچ تھی جس نے خلافتِ عثمانیہ کو ان فوجی مہمات پر مجبور کیا تھا جنہیں "دریاۓ نیل کے منبع کی تلاش" کہا جاتا ہے، اور یہ مہمات روانڈا میں جھیل البرٹ نیانزا تک پہنچی تھیں جو آج کے یوگنڈا میں مسندی سے صرف 50 میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ سب امت کے لیے پانی اور خوراک کے ذرائع کو محفوظ بنانے کے لیے تھا، اور ان شاء اللہ عنقریب دوبارہ قائم ہونے والی خلافت بھی یہی راستہ اختیار کرے گی۔

 

ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کی مرکزی رابطہ کمیٹی  کے سربراہ

 

Last modified onبدھ, 11 مارچ 2026 20:18

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.