Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

درست سمت کا تعین

 

یہ کوئی فرقہ وارانہ جنگ نہیں بلکہ ایک بھرپور صلیبی جنگ ہے!

 

 

تحریر: استاد مناجی محمد

 

(ترجمہ)

 

فرزندانِ اسلام کے غیور اور نیک بخت جوانوں کے نام: ایرانی حکومت کے جرائم آپ کی توجہ اس صلیبی جنگ کی حقیقت سے نہ ہٹائیں جسے امریکہ نے اسلام اور امتِ مسلمہ کے خلاف چھیڑ رکھا ہے۔ اس جنگ کا میدان مشرق سے مغرب تک پوری اسلامی جغرافیہ ہے۔ جب صلیبی مغرب اس قابل نہ رہا کہ پوری امت کو ایک ساتھ اپنی آگ میں جھونک دے اور ہمارے پورے جغرافیہ پر ایک ساتھ حملہ کر سکے، تو اس نے اسے ایسی جنگوں میں بدل دیا جو پورے خطے پر محیط ہیں لیکن مختلف وقفوں میں لڑی جا رہی ہیں (افغانستان، عراق، صومالیہ، سوڈان، شام، یمن، غزہ، لبنان، ایران...)۔ ایران کے خلاف جاری موجودہ جنگ دراصل مغرب کی اسی صلیبی جنگ کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد ابھرتی ہوئی ہمہ گیر اسلامی لہر اور بڑھتے ہوئے اسلامی تہذیبی منصوبے کا راستہ روکنے کے لیے خطے کی نئے سرے سے تشکیل کرنا ہے۔

 

امریکہ اور مغرب کا خیال ہے کہ ان کے مقامی مہرے اور استعماری وظیفہ خوار نظام اسلامی چیلنج کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اسی لیے امریکہ نے خطے کی ازسرِ نو تشکیل اور ان وظیفہ خوار نظاموں کی دوبارہ ڈھانچہ بندی کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ انہیں براہِ راست "امریکی استعمار کی ہائی کمشنری" کے ذریعے کالونیوں کے طور پر چلایا جائے۔ یعنی ایسے امریکی سفارت خانے جو حکومتوں کے برابر ہوں اور ایسے سفیر جو امریکی استعمار کے مقامی حکمرانوں کی سطح کے ہوں، جن کے احکامات اور اشاروں پر مقامی نظام چلیں۔ ساتھ ہی خطے میں قابض امریکی فوج کی بھاری موجودگی ان اڈوں کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی جو اس کی زمینی و فضائی برتری اور سمندروں پر قبضے کو برقرار رکھیں۔

 

عراق کا نظام اور شام میں نئے ایجنٹ احمد الشرع کا نظام خطے کے نظاموں کی امریکی ڈھانچہ بندی کی ایک مثالی صورت ہے جسے امریکہ پورے خطے میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔ ایران پر ٹرمپ کا حملہ بھی ایرانی نظام کی دوبارہ ڈھانچہ بندی اور اسے قوت کے تمام اسباب سے محروم کرنے کے لیے ہے، تاکہ خطے میں اس کے اثر و رسوخ کے نیٹ ورک کو توڑ دیا جائے۔ اس کے بعد یا تو اسے امریکی شرائط کے مطابق مکمل طور پر ڈھال کر خطے کی نئی ترتیب میں شامل کیا جائے گا، یا پھر وہاں اس سے بھی زیادہ دب کر رہنے والا اور فرمانبردار نظام لایا جائے گا۔ اب امریکہ کو ایرانی حکمرانوں کی وہ خدمات کافی نہیں لگ رہیں جو وہ اسے فراہم کرتے رہے ہیں، بلکہ وہ اسے ایک خالص نوآبادی (کالونی)، ایک ایجنٹ نظام اور ایسے غلام حکمران بنانا چاہتا ہے جو حکم ملتے ہی بجا لائیں!

 

خطے کی یہ امریکی و صلیبی تشکیل اور نظاموں کی یہ ڈھانچہ بندی پاکستان اور ترکی کو بھی طوفان کی زد میں لے آئی ہے۔ جہاں تک باقی استعماری کٹھ پتلی ریاستوں کا تعلق ہے، تو غزہ کی جنگ نے ان کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے، ان کی "قومی ریاست" کا نقاب اتار دیا ہے اور کافر صلیبیوں کے سامنے ان کی مکمل محکومی کو ظاہر کر دیا ہے۔ ایران پر امریکہ کے وحشیانہ حملے کے بعد ہم ایک شرمناک اور لرزہ خیز استعماری صورتحال کے سامنے کھڑے ہیں۔ کافر صلیبی اپنی یہ صلیبی جنگ سرزمینِ اسلام کے اندر سے، انہی نوآبادیاتی اڈوں اور مسلمانوں کے سمندروں سے لڑ رہا ہے، جبکہ ان نوآبادیات کے رکھوالے (حکمران) نہ صرف مکمل طور پر جھکے ہوئے ہیں بلکہ اس میں شریک بھی ہیں۔

 

ہم کسی ایسی فرقہ وارانہ جنگ کے سامنے نہیں کھڑے جس کے لیے نفرت انگیز مذہبی تعصب کو ہوا دی جائے، بلکہ یہ ایک ایسی وحشیانہ صلیبی جنگ ہے جو غزہ، تہران، مغربی کنارے اور اصفہان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتی۔ اس کے میدان الگ ہو سکتے ہیں لیکن صلیبی مقصد ایک ہی ہے: اسلام کو کچلنا اور اس کی امت کو مٹا دینا۔ بدبخت صلیبی ہمیں بار بار اپنی نفرت کی حقیقت اور اپنی جنگ کی بربریت کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔ امریکی وزیرِ جنگ 'پیٹ ہیگستھ' نے اپنی صلیبی جنگ کے پس منظر کا برملا اور واضح اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ: "یہ بالکل واضح ہے کہ ایران جیسے پاگل نظام، جو نبوی اسلامی خوابوں کے جنون میں مبتلا ہیں، ان کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہو سکتے"۔ اس نے مزید کہا کہ "شدت پسند اسلام پسندوں کے پاس ایٹمی بم نہیں ہو سکتا"۔ اسی طرح ٹرمپ کے وفادار امریکی سینیٹر 'لنڈسے گراہم' کے غزہ جنگ اور ایران پر حملے سے متعلق بار بار آنے والے بیانات کہ "یہ ایک مذہبی جنگ ہے"، اسی حقیقت کی غمازی کرتے ہیں۔

 

لہذا ہمیں اپنی سمت  درست کرنی ہوگی، یہاں غلطی مہلک اور تباہ کن ثابت ہوگی۔ اسلام اور اس کی امت کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی ہے، اور یہ تب ہی ختم ہوگی جب اسلام کی دو دھاری تلوار، اس کی ریاست اور امت کی وحدت میدان میں آئے گی۔

 

سنی اور شیعہ کی تقسیم کو چھوڑ دیں، یہ مغرب کے بچھائے ہوئے وہ بارودی جال ہیں جن کا مقصد امتِ مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ مغرب جب بھی ہمارے خلاف لڑا ہے اور اپنی صلیبی جنگ چھیڑی ہے، تو وہ ہمیں ایک ہی طرح کے انسان، ایک دین، ایک ثقافت، ایک تہذیب اور ایک ہی امت کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ بدبخت ہم سے قوموں، گروہوں یا فرقوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ "مسلمان" ہونے کی حیثیت سے لڑتا ہے۔ وہ ہمیں ان تقسیموں میں الجھانے کی کوشش کرتا ہے جنہوں نے ہمیں بانٹ دیا ہے، جبکہ وہ خود ہمیں مٹانے اور ہمارے عظیم اسلام کو محو کرنے کے لیے متحد ہو کر لڑنے میں مصروف ہے۔

 

اے عظیم اسلام کے بیٹو! یہ جان لو کہ تمہارے اندرونی سیاسی معاملات کا حل ان تمام غدار حکمرانوں کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے میں ہے، نہ کہ ان کے زہریلے وطنی، قومی اور فرقہ وارانہ نعروں اور ان کی مصنوعی دشمنیوں کا جواب دینے میں جو کافر صلیبیوں نے تمہاری صفوں کو منتشر کرنے اور تمہاری اسلامی اخوت کو تباہ کرنے کے لیے پیدا کی ہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ ایران کے حکمران ہوں یا استعمار کے زیرِ اثر دیگر تمام حقیر حکمران، وہ خیانت میں ایک جیسے اور تمہارے خلاف جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک تمہارے خون میں لت پت ہے اور ان کے جرائم کا سیاہ ریکارڈ کبھی مٹ نہیں سکتا، چاہے وہ الجزائر کا "سیاہ عشرہ" ہو، مراکش کے "سیسے کے سال"  ہوں، عراق اور شام میں بعث پارٹی کے مظالم ہوں، رابعہ میں سیسی کے ہاتھوں ہونے والا قتلِ عام ہو، بشار الاسد کی سفاکیت ہو، شام میں ایرانی حکام کے ہاتھوں ہونے والے قتلِ عام ہوں، یا افغانستان و عراق پر قبضے میں امریکہ کی مدد اور یمن و لبنان میں اس کے مفادات کا تحفظ ہو۔ اور یہ فہرست ابھی بہت طویل ہے۔

 

جہاں تک تمہاری امت کا تعلق ہے، تو اس کے ساتھ معاملہ خالصتاً فکری ہے جسے گہرے مباحثے، باہمی نصیحت، حکمت اور صبر کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے اور تمہیں اپنے کافر دشمن کے خلاف ایک ہاتھ بن کر (متحد ہو کر) کھڑا ہونا چاہیے۔ لہٰذا کافر دشمن کے بچھائے ہوئے جالوں اور اس کی بارودی سرنگوں، جیسے وطن پرستی، قوم پرستی، فرقہ واریت، مذہبی تعصب اور مصنوعی دشمنیوں سے بہت زیادہ ہوشیار رہو۔ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے اور آپس کی لڑائی سے بچو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم ناکام ہو جاؤ گے، تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم کافر دشمن اور اس کے حواریوں کا وہ ناپاک مقصد پورا کر دو گے جو تمہاری صفوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔

 

اس بات کو سمجھ لو کہ مغرب کی صلیبی جنگ کسی بھی فرقہ وارانہ اختلاف اور نفرت انگیز تعصب سے کہیں زیادہ بڑی، کہیں زیادہ کفر پر مبنی اور کہیں زیادہ لعنتی ہے۔ کافر کی جنگ کا مقصد تمہاری ہلاکت اور تمہارے عظیم اسلام کو مٹا دینا ہے، لہٰذا اپنے ارادے مضبوط کرو اور جان لو کہ یہ اسلام اور اس کی امت کی جنگ ہے۔ تمہیں بدبودار عصبیتوں اور نفرت انگیز نعروں کے ذریعے اس اصل جنگ سے غافل نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی مغرب کے صلیبی طیاروں اور میزائلوں کے شور سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔ مغرب کی اصل کمزوری اس کی بدبودار تہذیب اور نفرت انگیز ثقافت میں ہے، نہ کہ اس کی افواج کے کچلے جانے میں۔ بچوں کے ساتھ زیادتی اور معصوم بچوں کے گوشت خور مغرب کا "ایپسٹین جہنم" تمہارے دشمن کی گراوٹ اور اس کے زوال کی واضح دلیل ہے۔

 

اور یہ جان لو کہ تمہاری نجات صرف اور صرف اسلام میں ہے، اور تمہاری کامیابی کی کشتی اور دشمن پر غلبے کی واحد صورت تمہاری اسلامی ریاست کا قیام اور تمہارے رب کی شریعت کا نفاذ ہے تاکہ تمہاری امت اور پوری انسانیت کو مغرب کے اس جہنم سے نجات دلائی جا سکے۔

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ۔ وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ * ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ

 

"اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا * اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے لیے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے * یہ اس لیے کہ انہوں نے اس چیز (وحی) کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل فرمائی، پس اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے" (سورۃ محمد : آیت 9،8،7)

Last modified onجمعرات, 19 مارچ 2026 21:02

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.