الخميس، 01 شوال 1447| 2026/03/19
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

جنوب ایشیا کا بدلتا ہوا میدانِ جنگ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تصادم

 

 

تحریر: ڈاکٹر عبد الرحمن عرفان - ولایہ افغانستان

 

(ترجمہ)

 

افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازعہ مسلسل تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں لڑائی کی شدت میں اتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔ یہ تصادم رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلامی ممالک کے دیگر خطوں میں امریکہ اور صیہونی وجود کی جانب سے ایران کے خلاف ایک اور جنگ مسلط ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والے اس بحران کی طرف توجہ کم ہو گئی ہے، باوجود اس کے کہ اس کے انسانی اور حفاظتی نتائج انتہائی سنگین ہیں۔

 

پاکستان نے اپنی اس کارروائی کو "غضب للحق" کا نام دیا ہے، جبکہ جواب میں طالبان حکومت نے اپنی کارروائی کا عنوان "ردِ ظلم" رکھا ہے۔ قطر، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک، جنہوں نے ماضی میں جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب دیگر بحرانوں اور ترجیحات میں مصروف ہیں۔ میڈیا کی اس عدم توجہ کا براہ راست اثر پڑا ہے، جسے پاکستان نے طالبان حکومت کے خلاف مزید سخت حملے کرنے کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا ہے۔

 

اگرچہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا ہے، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ان کا ہدف افغان طالبان ہیں۔ پاکستان کی جنگی حکمتِ عملی کا زیادہ تر انحصار فضائی طاقت پر ہے، جس میں اسلحہ کے گوداموں، فوجی ڈھانچے اور تنصیبات پر بمباری، اور ڈرون طیاروں کے ذریعے نگرانی شامل ہے۔ یہ طالبان حکومت کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔

 

یہ طریقہ کار کسی حد تک اس انداز سے ملتا جلتا ہے جو یہودی وجود نے حالیہ برسوں میں شام اور لبنان میں اپنایا ہے، جہاں وہ بنیادی ڈھانچے کو بتدریج تباہ کرنے کے لیے مسلسل اور درست نشانے والے فضائی حملے کرتی ہے۔ اس کے برعکس، طالبان حکومت نے اپنے دفاع کے لیے زیادہ تر زمینی حکمتِ عملی پر بھروسہ کیا ہے۔

 

افغانستان پر بمباری کے ذریعے پاکستان کے مقاصد:

 

۱- سیاسی اور حفاظتی رویے میں تبدیلی کے لیے طالبان حکومت پر دباؤ ڈالنا

 

پاکستان کو افغان طالبان سے شکایات ہیں۔ پاکستان کی یہ توقع تھی کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے افغانستان میں اس کے اسٹریٹجک اور سیاسی مفادات خود بخود محفوظ ہو جائیں گے۔ لیکن طالبان نے نہ صرف پاکستان کے مطالبات ماننے سے انکار کیا، بلکہ بعض شعبوں میں زیادہ آزادانہ راستہ اختیار کیا، اور بھارت کے ساتھ ان کے عملی و سیاسی تعلقات پاکستان کے نقطہ نظر سے شدید تشویش کا باعث بن گئے۔ اس لیے پاکستان فوجی دباؤ کے ذریعے طالبان حکومت کا رویہ تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرف تو یہ طالبان حکومت کو تحریک طالبان پاکستان پر حقیقی دباؤ ڈالنے پر مجبور کرتا ہے، اور دوسری طرف اسے اپنی خارجہ پالیسی اور علاقائی تعلقات کی تشکیل میں پاکستان کے تحفظات اور مفادات کا زیادہ خیال رکھنے پر اکساتا ہے۔

 

۲- طالبان حکومت کو کمزور کرنا

 

یہ فوجی مہم امریکی اہداف کے بھی عین مطابق ہے۔ امریکہ طالبان حکومت کو دباؤ میں لا کر بعض معاملات پر لچک دکھانے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، اور ساتھ ہی انہیں چین اور روس کے بہت زیادہ قریب جانے سے روکنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں، طالبان حکومت کی فوجی طاقت کو کمزور کرنا، بلکہ افغانستان میں امریکی افواج کے ذلت آمیز انخلاء کے بعد پیچھے رہ جانے والے آلات اور صلاحیتوں کے ایک حصے کو تباہ کرنا، امریکہ کے لیے ایک مطلوبہ نتیجہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب ٹرمپ بارہا ان آلات کی واپسی کی بات کر چکے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے، پاکستان درحقیقت وہ کامیابی حاصل کر رہا ہے جس کی امریکہ کو شدید خواہش ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ تنازعہ میں پاکستان کی انتظامی اور عسکری قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ: "پاکستان طالبان کا مقابلہ کرنے میں بہت اچھا کام کر رہا ہے"۔

 

۳۔ بیرونی بحرانوں کا سیاسی استحصال

 

سن ۲۰۲۵ میں، پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور اپنے علاقائی کردار کی ازسرِ نو تعمیر میں کسی حد تک کامیاب رہی۔ تاہم، داخلی محاذ پر اسے شدید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی صورتحال میں، برسرِ اقتدار لوگوں کے لیے بیرونی محاذ کھولنا عوامی توجہ کو داخلی بحرانوں سے ہٹا کر کسی بیرونی خطرے کی طرف مبذول کرنے کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھارت یہ کردار ادا کرتا تھا؛ لیکن اب افغانستان بتدریج بحران کی منتقلی کے ایسے ہی ایک مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔

 

افغان مجاہدین اور پاکستانی فوج کے درمیان تصادم محض کوئی سرحدی یا حفاظتی تنازعہ نہیں ہے، بلکہ یہ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے اور علاقائی سیاسی حرکیات کے ایک وسیع تر فریم ورک کے تحت پروان چڑھ رہا ہے۔ دہائیوں سے جنوبی ایشیا کی پہچان پاک بھارت کشیدگی کا محور یعنی ’کشمیر‘ رہا ہے۔ لیکن اب اس کشیدگی کی جگہ پاک افغان تناؤ یعنی ’ڈیورنڈ لائن‘ لے رہی ہے۔ یہ تبدیلی امریکی علاقائی پالیسی کے عین مطابق ہے جس کا مقصد پاک بھارت دشمنی کی شدت کو کم کر کے اسے پاکستانی قبائلی علاقوں اور افغانستان کی طرف موڑنا ہے۔ فریقین کے درمیان باہمی بے اعتمادی اور شکوک و شبہات کے پیشِ نظر، یہ امکان کم ہی ہے کہ ان کے درمیان تناؤ جلد ختم ہو جائے، بلکہ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والی اعصاب شکن جنگ کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

 

تاریخی طور پر، ماہِ رمضان امتِ مسلمہ کے لیے اپنے دشمنوں کے خلاف فتوحات اور بڑی فوجی کامیابیوں کا مہینہ رہا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ، آج مسلمان خود کو قوم پرستی کے جذبے سے بھڑکائی گئی جنگوں میں ایک دوسرے کا خون بہاتے ہوئے پاتے ہیں، ایسی جنگیں جو آخر کار امریکہ، بھارت اور پاک فوج کے اندر ایک مخصوص گروہ کے مفادات کی خدمت کرتی ہیں۔ افغان مجاہدین اور پاکستانی فوج کے مخلص افسران کو خونریزی کے اس سلسلے کو بند کرنا چاہیے اور ان کے دونوں ممالک کے درمیان برطانوی استعمار کی کھینچی ہوئی سرحدوں کو ختم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے، تاکہ انہیں نبوت کے نقشِ قدم پرقائم دوسری خلافتِ راشدہ کے سائے تلے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ متحد کیا جا سکے۔

Last modified onجمعرات, 19 مارچ 2026 21:13

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک