بسم الله الرحمن الرحيم
اداریہ
ایران کی جنگ اور امریکہ کی مالیاتی حکمتِ عملی؟
تحریر: ڈاکٹرمحمد جیلانی
(ترجمہ)
28 فروری 2026 کو جب خلیجِ عرب کے آسمان پر جنگ کے بادل چھائے اور لڑائی کا آغاز ہوا، تو دنیا کی توجہ طیارہ بردار بحری جہازوں کی سٹریٹیجک نقل و حرکت اور اس تصادم کے نتیجے میں ہونے والے بھاری جانی نقصان پر مرکوز رہی۔ تاہم، اس ہولناک جنگ کے پردے کے پیچھے، ایک قدیم اور کہیں زیادہ طاقتور مشین خاموشی سے چلنا شروع ہو گئی ہے، اور وہ ہے امریکی فیڈرل ریزرو کی نوٹ چھاپنے والی مشین۔ ایک ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بندش کے باعث عالمی تیل کی سپلائی میں اچانک بیس فیصد کمی سے عالمی معیشت لڑکھڑا رہی ہے، امریکی انتظامیہ ایک ایسی مالیاتی چال چلنے کی تیاری کر رہی ہے جو اپنی وسعت میں بیسویں صدی کی سب سے بڑی سیاسی و مالیاتی تبدیلیوں سے مشابہت رکھتی ہے۔
اس بحران کی حقیقت "تیل کے بدلے ڈالر" پر مبنی 'پیٹرو ڈالر' نظام کے بے رحم اعداد و شمار میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ جنگ کے آغاز سے پہلے، عالمی معیشت روزانہ تقریباً دس کروڑ بیرل تیل استعمال کر رہی تھی جس کی اوسط قیمت ستر ڈالر فی بیرل تھی، جس کے لیے روزانہ سات ارب ڈالر کی ضرورت ہوتی تھی اور اس کا زیادہ تر حصہ امریکی فیڈرل ریزرو فراہم کرتا تھا۔ لیکن آج، جب برینٹ خام تیل کی قیمت ایک سو دس ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے، عالمی تجارت کو ہر چوبیس گھنٹے میں گیارہ ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ یہ تبدیلی روزانہ چار ارب ڈالر، یا ماہانہ تقریباً ایک سو بیس ارب ڈالر کا ایک بہت بڑا عالمی مالیاتی خلا پیدا کر رہی ہے۔ چونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت صرف امریکی ڈالر میں طے ہوتی ہے، اس لیے محض توانائی کے شعبے میں "سبز نوٹ" (ڈالر) کی عالمی مانگ میں عملی طور پر پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے لیے یہ صورتحال کوئی بحران نہیں بلکہ اپنی کرنسی کی مقدار (M2) بڑھانے اور افراطِ زر (مہنگائی) کو دوسرے ممالک میں برآمد کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ اس طرح دنیا توانائی کی اپنی شدید ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان نئے ڈالروں کو جذب کر لے گی، جس سے خود امریکہ کے اندر مہنگائی کی شدت میں کمی آئے گی۔
یہ منظرنامہ 1973 کے ان تاریخی حالات کی ایک واضح بازگشت ہے جب سعودی عرب کی قیادت میں تیل کی پابندی نے قیمتوں کو دس گنا سے زیادہ بڑھا دیا تھا، جس نے پوری دنیا کو معاشی افراتفری میں دھکیل دیا تھا۔ تاہم، اسی افراتفری کی کوکھ سے مشہور "نکسن-فیصل" معاہدہ پیدا ہوا، جس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اوپیک (OPEC) ممالک اپنا تیل صرف ڈالر کے عوض فروخت کریں گے۔ اس معاہدے نے امریکہ کو 'بریٹن ووڈز' سسٹم کے تحت ڈالر کا سونے سے ربط ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والے اثرات سے نکلنے میں مدد دی۔ آج ہم 'پیٹرو ڈالر' کے اس نظام کو مزید مضبوط ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ جس طرح ستر کی دہائی کے بحران نے امریکہ کو سونے کی پابندیوں سے آزاد کیا تھا، ایران کے ساتھ موجودہ جنگ فیڈرل ریزرو کو توانائی کی نئی قیمتوں کی ادائیگی کے لیے کھربوں ڈالر چھاپنے کا موقع دے رہی ہے۔ یوں امریکہ دنیا کی توانائی کی ضروریات پر ایک بالواسطہ ٹیکس لگا کر اپنی عالمی بالادستی کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔
لیکن اس مالیاتی پھیلاؤ کا سارا بوجھ تیل درآمد کرنے والے ممالک کے کندھوں پر پڑ رہا ہے، جہاں موجودہ تنازع چین اور یورپی یونین کے لیے ایک مکمل تباہی ثابت ہو رہا ہے۔ امریکہ کے برعکس، جو اب خود تیل کا برآمد کنندہ بھی ہے اور عالمی ریزرو کرنسی کا مالک بھی، ان طاقتوں کو توانائی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کا سامنا ہے جس کی تلافی کا کوئی راستہ نہیں۔ چین، جو دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، دیکھ رہا ہے کہ توانائی کی لاگت کے دباؤ تلے اس کا صنعتی منافع ختم ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، یورپ بلند قیمتوں اور ان بلوں کی ادائیگی کے لیے مطلوبہ کرنسی چھاپنے کی ساختی نااہلی کے درمیان ایک شکنجے میں پھنس چکا ہے، جس سے امریکہ کی بالادستی سے آزاد ہونے کے اس کے دیرینہ خواب چکنا چور ہو رہے ہیں۔ اگرچہ روس کو مختصر مدت میں قیمتوں کے اضافے سے یقیناً فائدہ ہو رہا ہے، لیکن اس کا یہ فائدہ محض عارضی اور پیچیدہ تجارتی راستوں سے جڑا ہوا ہے، جبکہ امریکہ کا فائدہ خالصتاً سٹریٹیجک ہے، جو عالمی مالیاتی نظام کی بنیادوں میں پیوست ہے۔
جہاں تک امریکہ کے اندرونی حالات کا تعلق ہے، یہ سٹریٹیجک فتح ایک ایسی قیمت کے بدلے مل رہی ہے جسے وہاں کا عام شہری ہر بار پیٹرول پمپ پر کھڑے ہو کر ادا کرتا ہے۔ اگرچہ فیڈرل ریزرو افراطِ زر (مہنگائی) کو باہر برآمد کر کے فائدہ اٹھا رہا ہے، لیکن اس وقت ایندھن کی قیمت عالمی سطح پر خام تیل کی فی بیرل قیمت سے وابستہ ہے۔ چنانچہ امریکی صارف کو آج اس جنگ کے بدلے میں ایک قسم کا "سٹریٹیجک ٹیکس" ادا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے وقت میں ایندھن کی ریکارڈ قیمتیں ادا کر رہا ہے جب اس کے ملک کی کرنسی باقی دنیا کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ قیمت دراصل اس علاقائی انتظامی نمونے کو برقرار رکھنے کا بوجھ ہے جو دوسروں کو اپنا دستِ نگر بنانے پر مبنی ہے، جہاں امریکہ دنیا کو دوبارہ ڈالر کے پیچھے صف آراء ہونے پر مجبور کر کے اس بحران سے بالواسطہ فائدہ اٹھا رہا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں عوامی غم و غصے کے طوفان ہی کیوں نہ اٹھ کھڑے ہوں۔
28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ نے اس وہم کو ختم کر دیا ہے کہ عالمی معیشت کوئی غیر جانبدار میدان ہے، بلکہ اس نے ایک ایسے نظام کو بے نقاب کر دیا ہے جس کی بنیاد حاکمانہ بالادستی اور مکمل محکومی پر ہے۔ دنیا کو کم مقدار میں تیل کی خریداری کے لیے مزید ڈالروں کے حصول کی دوڑ میں لگا کر، فیڈرل ریزرو عملی طور پر ایک نئی صدی کے لیے امریکہ کی بالادستی کو دوبارہ مستحکم کر رہا ہے۔ ڈالر کی پیداوار میں متوقع اضافہ جنگ کا کوئی حادثاتی نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس نظام کا ایک منطقی انجام ہے جسے بحرانوں کی آغوش میں پنپنے کے لیے ہی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اور جیسا کہ 1973 کی تاریخ نے ثابت کیا تھا، یہ معاملہ محض تیل تک محدود نہیں تھا بلکہ عالمی معیشت کے تخت پر ڈالر کو ایک بے تاج بادشاہ کے طور پر برقرار رکھنے کا تھا۔ یہ وہی داؤ ہے جسے واشنگٹن آج ایک بار پھر اپنی پوری طاقت کے ساتھ کھیل رہا ہے۔
جہاں تک اس عالمی آکٹوپس کے مقابلے میں اسلامی ممالک کے مقام کا تعلق ہے، تو حقیقت یہ ہے کہ صورتحال کڑواہٹ میں بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ہمارے ممالک آج بھی امریکہ کی جولان گاہ بنے ہوئے ہیں، جہاں وہ دائیں بائیں حملے کر رہا ہے اور ان زمینوں کو اپنی عسکری و مالی فرعونیت کا میدان بنا رکھا ہے۔ نتیجتاً، لاکھوں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی جانیں لی جا رہی ہیں، جیسا کہ افغانستان، فلسطین اور شام میں ہوا اور آج ایران میں ہو رہا ہے۔ جبکہ ان قربانیوں کا ثمر سمیٹنے اور وقت کے فرعون، امریکہ سے چھٹکارا پانے کے لیے کسی سوچ یا منصوبہ بندی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ عربی مثل مشہور ہے کہ "براقش نے اپنے ہی ہاتھوں اپنا بیڑہ غرق کیا"۔ امتِ مسلمہ آج بھی اپنے ظالم اور بدکار حکمرانوں کے تلے دبی ہوئی ہے اور فتح و بیداری کے اسباب سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جب روزے اور عید کے دن کی یکجہتی کی بات آتی ہے تو ان کی چیخ و پکار بلند ہو جاتی ہے، وہ بحث و مباحثہ کرتے ہیں، چیلنج دیتے ہیں اور بسا اوقات سرکشی پر اتر آتے ہیں، لیکن جب دنیا و آخرت میں اپنے مقدر اور مستقبل کی بات ہو تو وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔ ان کا حال ویسا ہی ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ لقمان میں فرمایا ہے:
﴿وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِراً كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْراً فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾
"اور جب اسے ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح پیٹھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں، جیسے اس کے دونوں کانوں میں بوجھ (ڈاٹ) ہے۔ پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے"۔ (سورۃ لقمان: آیت 7)۔
یا جیسا کہ سورۃ نوح میں ارشاد ہوا:
﴿وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَاراً﴾
"اور میں نے جب کبھی انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے، تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور (اپنی روش پر) اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا"۔ (سورۃ نوح: آیت 7)