الإثنين، 19 شوال 1447| 2026/04/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

الرایۃ کے متفرقات – شمارہ 593

 

 

صفحہ اول کی سرخی پر

 

بے شک یہودی وجود  نے اپنے جرائم میں حد پار کر دی ہے اور سرزمینِ مبارک کے لوگوں اور مسجدِ اقصٰی کے خلاف اپنی وحشیانہ کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اے مسلمانوں! اس نے اپنے وجود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے، سرزمینِ مبارک کے لوگوں کی نصرت کے لیے اور ہمارے رسول ﷺ کی جائے معراج کی آزادی کے لیے آپ کی طرف سے کوئی سنجیدہ اور نتیجہ خیز تحریک نہیں دیکھی۔ اس نے 'لبیکِ اے بہن' اور 'اے ہمارے لوگو، تمہاری مدد کی گئی' کی پکار نہیں سنی، اور نہ ہی اس نے تہلیل و تکبیر بلند کرتے ہوئے ان ہجوموں کی یلغار دیکھی جو نفیرِ عام اور جہاد کا اعلان کر رہے ہوں جیسا کہ آپ کے اسلاف نے پہلے کیا تھا، اور نہ ہی اس نے آپ میں کوئی ایسا قائد دیکھا جو یہ کہتا ہو کہ 'میں کیسے مسکرا سکتا ہوں اور مجھے زندگی کیسے بھلی لگ سکتی ہے جبکہ مسجدِ اقصٰی قید میں ہے؟!'۔

 

===

 

صفحہ اول کے لیے

 

 

اے مسلمانوں! تمہاری عزت تمہاری ریاست کی واپسی میں ہے

 

مسلم ممالک کے حکمرانوں کا زور و جبر آپس میں تو بہت سخت ہے، جبکہ استعماری کفار اور خاص طور پر امریکہ کے ساتھ ان کی وفاداری بڑھتی جا رہی ہے.. اس گمان میں کہ یہ وفاداری انہیں ان کی ٹیڑھی کرسیوں پر برقرار رکھے گی!۔ وہ اس بات کا ادراک نہیں کر رہے کہ یہ وفاداری ایک بہت بڑا جرم ہے جو انہیں دنیا میں رسوائی و ذلت اور آخرت میں دردناک عذاب کا وارث بنائے گی:

 

﴿سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ

 

"جن لوگوں نے جرم کیے ہیں، انہیں ان کی مکاریوں کے بدلے اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب پہنچ کر رہے گا۔" (سورۃ الانعام: 124)

 

وہ بھول گئے یا جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا کہ جب امریکہ کے لیے ان کی خدمات ختم ہو جائیں گی تو وہ انہیں گٹھلی کی طرح پھینک دے گا.. اگر وہ عقل رکھتے ہوں تو ان کے ہم مشربوں کی ماضی کی مثالیں اس پر پکار پکار کر گواہی دے رہی ہیں!۔ ان حکمرانوں کی استعماری کفار کے ساتھ وفاداری اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان میں سے کسی بھی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرے اس کی مدد کے لیے حرکت نہیں کرتے، بلکہ ان میں سب سے بہتر وہ سمجھا جاتا ہے جو مقتولین اور زخمیوں کی گنتی کرتا ہے!۔ حالانکہ امتِ مسلمہ کی یہ شأن نہیں بلکہ اصل میں اسے ایسا ہونا چاہیے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى» (مؤمنوں کی مثال آپس کی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے، جب جسم کے کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم بیداری اور بخار کے ذریعے اس کا ساتھ دیتا ہے)۔ لیکن اس امت نے اپنی وہ خلافت کھو دی ہے جو اس پر اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکومت کرتی تھی اور جس کے ذریعے وہ اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرتی تھی، اور جو اسے حق اور سچائی کے ساتھ دوبارہ ایک ایسا جسم بناتی تھی کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا تو سارا جسم بیداری اور بخار میں تڑپ اٹھتا۔

 

اے مسلمانوں: بے شک تمہاری عزت تمہاری ریاست 'خلافتِ راشدہ' کی واپسی میں ہے، اور بے شک ہراول دستہ 'حزب التحریر' جس نے اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولا، اس نے اللہ کے اذن سے خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ جدوجہد کے لیے خود کو وقف کر دیا ہے۔ وہ حقیقت میں ایسا ہی ہراول دستہ ہے جو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا، اور وہ ایک ایسی جماعت ہے جو اپنی پاکیزگی سے چمکتی ہے، اور وہ لوگ اس سے دور ہو جاتے ہیں جو اس کی پاکیزگی کے اہل نہیں ہوتے.. ہم اسے اور اس کے ساتھ کام کرنے والے تمام نوجوانوں کو ایسا ہی سمجھتے ہیں کہ وہ سنجیدہ، محنتی اور مخلص کارکن ہیں، جو دنیا سے بڑھ کر آخرت کی تمنّا رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کی رحمت کی امید میں اپنی راتیں اور دن ایک کیے ہوئے ہیں تاکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا وعدہ اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت ان کے ہاتھوں پوری ہو، اور یہ اللہ پر ہرگز مشکل نہیں ہے۔

 

یہی وہ راستہ ہے جو امت کو نجات دلائے گا، اس کی عزت بحال کرے گا، اس کی قوت کو مضبوط کرے گا اور اس کے دشمنوں کو اس پر حملہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور کر دے گا۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس کی خلافت دوبارہ لوٹ آئے اور زمین اس کی خیر اور عدل سے روشن ہو جائے۔ جس طرح خلافت نے قیصر و کسریٰ کے تکبر کو مٹایا تھا، ویسے ہی یہ ان کے پیروکاروں جیسے ظالم ٹرمپ اور اس جیسے استعماری کفار کے تکبر کو بھی ختم کر دے گی۔

 

جہاں تک یہودی وجود کا تعلق ہے، تو وہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے کہ اسے کوئی اہمیت دی جائے، کیونکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ

 

"یہ تمہیں معمولی اذیت کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اگر یہ تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر انہیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔" (سورۃ آل عمران: 111)

 

وہ اپنی ذات میں قائم رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ لڑائی کے اہل نہیں ہیں مگر لوگوں کے سہارے (رسی) کے ذریعے، جیسا کہ قوی و عزیز نے فرمایا:

 

﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ

 

"ان پر جہاں کہیں بھی پائے گئے، ذلت مسلط کر دی گئی، سوائے اللہ کی رسی اور لوگوں کی رسی (سہارے) کے۔" (سورۃ آل عمران: 112)

 

انہوں نے اللہ کی رسی کو کاٹ دیا ہے اور اب ان کے پاس صرف لوگوں کی رسی باقی ہے یعنی امریکہ، یورپ اور ان کے ایجنٹ مسلم ممالک کے غدار حکمران، جو یہودیوں کی وحشیانہ جارحیت کے سامنے ٹس سے مس نہیں ہوتے.. ورنہ یہودی وجود کا معاملہ تو عرصہ دراز پہلے ختم ہو چکا ہوتا اور وہ قصہ پارینہ بن چکا ہوتا۔ پس اصل مسئلہ ان ریاستوں کا ہے جو آج کل مسلم ممالک میں قائم ہیں، جن کے حکمران استعماری کفار اور اسلام و مسلمانوں کے دشمنوں کے وفادار ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کی مصیبت ان کے حکمرانوں میں ہے۔ استعماری کفار کے ساتھ ان کی وفاداری کا یہ عالم ہے کہ وہ ان کے حکم پر چلتے ہیں اور ان کے منع کرنے پر رک جاتے ہیں، بجائے اس کے کہ ان کی وفاداری اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہوتی، وہ اس کے احکامات نافذ کرتے اور اس کی راہ میں جہاد کرتے، اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی کرتے، جس سے اسلام اور مسلمانوں کو عزت ملتی اور کفر و کافروں کو ذلت نصیب ہوتی۔

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

 

"اور اس دن مؤمن اللہ کی نصرت پر خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہی غالب، نہایت رحم والا ہے۔" (سورۃ الروم: 4-5)

===

کلیدی عنوان کے تحت

 

سیسی کے سیکورٹی اداروں کی حزب التحریر کے نوجوانوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیوں اور گرفتاریوں کی مہم

 

مصر کے فرعونی نظام نے واشنگٹن میں موجود اپنے آقاؤں کے احکامات کی تعمیل کی ہے، اور اس کے سیکورٹی اداروں نے نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کی دعوت دینے والوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیوں اور گرفتاریوں کی مہم شروع کر دی ہے۔ یہ کارروائیاں رمضان المبارک کے آخری بابرکت ایام اور عید کے دنوں میں کی گئیں، جس میں تمام اسلامی شعائر اور ان مقدس ایام کی حرمت کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے تقدس، ان کی عزتوں اور گھروں کی حرمت کو بھی پامال کیا گیا، جہاں قیامِ لیل کی راتوں میں گھروں کے اندر موجود خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو خوفزدہ کیا گیا، گھروں کی پرتشدد تلاشی لی گئی، دروازے توڑے گئے، فرنیچر کی توڑ پھوڑ کی گئی اور خواتین و بچوں کو گھروں سے باہر نکال دیا گیا۔ نیز مواصلاتی آلات بھی قبضے میں لے لیے گئے، یہ وہ مناظر ہیں جن کی مثال ہم نے صرف ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر مقبوضہ فلسطین میں ہمارے لوگوں کے خلاف غاصب یہودی فوج کے ہاتھوں ہی دیکھی ہے۔

 

ان جرائم کے ردعمل میں حزب التحریر/ ولایہ مصر کے میڈیا آفس نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے: "ہم جانتے ہیں کہ اس مہم کے پیچھے مقامی محرکات یا دعوت کا کام کرنے والوں سے نظام کا خوف نہیں ہے، کیونکہ یہ جنگ اس (نظام) کی جنگ نہیں اور یہ تصادم اس کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ یہ صلیبی امریکہ کے احکامات کی تعمیل ہے جو خلافت کی دعوت کی سنگینی کو پوری طرح سمجھتا ہے، جیسا کہ حال ہی میں اس کے صلیبی وزیرِ جنگ 'پیٹ ہیگسیٹھ' کے بیانات میں بھی سامنے آیا ہے"۔ وہ (امریکہ) یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلم ممالک میں اس کے استعماری اثر و رسوخ کا خاتمہ صرف سیدنا محمد ﷺ کے پیروکاروں کے ہاتھوں ہی ہوگا، جیسا کہ فرعون کا انجام سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ہوا تھا۔ جہاں تک مصری نظام کا تعلق ہے، تو وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ صلیبی امریکہ کا ایک گندا آلہ کار ہے جسے وہ امتِ مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ اور خلافتِ راشدہ کے قیام کی دعوت دینے والوں کو کچلنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ وہی خلافت ہے جو مسلم ممالک کو متحد کرے گی، وہاں سے مغربی استعمار کے اثر و رسوخ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی، یہودی وجود کا خاتمہ کرے گی اور سرزمینِ مبارک فلسطین کو یہودیوں کی ناپاکی سے پاک کرے گی، تاکہ یہودیوں کے قتل اور مقبوضہ و محصور مسجدِ اقصٰی کی آزادی سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی بشارت پوری ہو سکے۔

===

 

 

ہماری حالت اب بھی ایسی کیوں ہے جو نہ کسی دوست کو خوش کرے اور نہ دشمن کو غمزدہ؟!

 

 

ہماری امت کی حالت اب بھی ایسی ہے جو نہ کسی دوست کو خوش کرتی ہے اور نہ دشمن کو غصہ دلاتی ہے۔ یہ ایک بکھری ہوئی امت ہے جس پر استعماری کافر اس وقت ٹوٹ پڑے جب اس کے وجود کو مسمار اور اس کی ریاست کو گرا دیا گیا، جب بدبخت ترین شخص اور انگریزوں کے ایجنٹ مصطفیٰ کمال نے 3 مارچ 1924ء کو خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ اسی وقت سے اسلام کو زندگی سے بے دخل کر دیا گیا، اس پر اس کے دشمن کا غلبہ ہو گیا اور اس پر اپنا وضع کردہ سیاسی نظام مسلط کر دیا گیا۔ وہ اس کے بیٹوں کو قتل کرتا ہے اور اس کے وسائل لوٹتا ہے، یہاں تک کہ یہ امت اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ بزدل 'یہودیوں' کی نظر میں بھی بے وقعت ہو گئی۔ ابھی غزہ کے مسلمانوں کا خون خشک نہیں ہوا تھا کہ میانمار کے روہنگیا، مشرقی ترکستان کے ایغور، اور انڈیا، سوڈان کے مسلمان نسل کشی کا شکار ہیں۔ آج امریکہ اور اس کے ساتھ یہودی وجود ایران پر اس بہانے جنگ مسلط کر رہے ہیں کہ اس کے اس نظام کو ختم کیا جائے جس نے پہلے اسے عراق اور افغانستان کی جنگ میں خدمات فراہم کی تھیں... اور امریکہ مسلمانوں کو اس جنگ کا ایندھن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

یہ سب کچھ ہم پر ہماری کمی کی وجہ سے نہیں ہو رہا کیونکہ ہماری تعداد بہت ہے، بلکہ ہم ویسے ہی ہیں جیسا کہ ہمارے سچے اور امانت دار رسول ﷺ نے خبر دی تھی: «غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ» (سیلاب کے کوڑے کرکٹ یا جھاگ کی مانند)۔ پس دو ارب کی یہ امت ساکن ہے اور حقیقی تبدیلی کے لیے حرکت نہیں کر رہی، اس کی فوجیں اپنی بیرکوں میں دبکی بیٹھی ہیں، انہیں نہ بچوں کی چیخوں نے تڑپایا اور نہ ہی بیواؤں کے آنسوؤں نے، کیونکہ اسے 'وہن' نے آلیا ہے، یعنی: «حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ» (دنیا کی محبت اور موت سے بیزاری)۔

 

اے مسلمانوں! اللہ کے حضور تمہارے پاس ان خائن حکمرانوں کے بارے میں خاموش رہنے کا کوئی عذر نہیں ہے جو تمہارے اور اللہ کے فرض کے درمیان حائل ہیں، اور وہ فرض اللہ کی شریعت کو نافذ کرنا ہے یعنی خلافت کا قیام جو 'فرائض کا تاج' ہے۔

 

ہم تمہیں دوبارہ اس عظیم فرض کی دعوت دیتے ہیں۔ تاکہ ہمارے ممالک دوبارہ ایک ریاست کے سائے تلے جمع ہو جائیں جس کا حکمران ایک امام ہو۔ ایسی خلافتِ راشدہ جو نبوت کے طریقہ کار پر ہو، جو تمہیں متحد کرے، اقصٰی کو یہودیوں کی ناپاکی سے پاک کرے، ظالموں سے بدلہ لے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے، تاکہ تم ذلت و مسکینی کا چوغہ اتار پھینکو اور عزت و شرف کا لباس زیبِ تن کر لو۔

===

 

آؤ ایک ایسے نظام کی طرف جو انسان کی عزت و وقار کا محافظ ہو، اس کے رنگ اور نسل سے قطع نظر

 

 

آج مغرب مادی چمک دمک کے پردے کے پیچھے "اخلاقی نزع" (اخلاقی موت کی کشمکش) کی حالت میں جی رہا ہے۔ انہوں نے اپنی عقلوں کو مادیت کی مٹی میں دفن کر دیا ہے اور مادے کے رب کو بھول گئے ہیں۔ آنے والا مالیاتی بحران محض ٹیکنالوجی کا بحران نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل انصاف کا بحران ہے۔

 

آج کا حل اس ماڈل کی نقالی کرنے میں نہیں ہے جو گندی مادیت کی دلدل میں ڈوب رہا ہے، بلکہ ایک ایسے نظام کی طرف واپسی میں ہے جو اقلیتوں کو اللہ کے ذمے (ضمانت) میں تحفظ فراہم کرے، زکوٰۃ، حقِ ملکیت اور حقِ رعایت کے ذریعے غربت کا خاتمہ کرے، اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے معاشرے کی حفاظت کرے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف اسلامی ممالک کے مسلمانوں سے بلکہ پوری دنیا سے ظلم کو مٹائیں، جس کی اکثریت اب مال و دولت رکھنے والوں کے ہاتھوں غلام بن چکی ہے۔

 

یہ بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسالات (پیغامات) محض اس لیے نازل کیے تاکہ لوگ ایک عادلانہ نظام کے سائے میں زندگی گزار سکیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ الحدید میں فرماتا ہے:

 

﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ

 

"بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔" (سورۃ الحدید: 25)

 

اس پر مزید یہ کہ اللہ نے ایک ایسے نظام کی ضرورت پر زور دیا جس کے پاس اس انصاف کے قیام کے لیے جہاں کہیں ضرورت ہو، قوت بھی موجود ہو، پس فرمایا:

 

﴿وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ

 

"اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں سخت جنگی قوت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے بھی ہیں۔" (سورۃ الحدید: 25)

 

چنانچہ ہم تمام لوگوں کو "خلافت علیٰ منہاج النبوۃ" کے قیام کی دعوت دیتے ہیں تاکہ اس نظام کا خاتمہ کیا جائے جو لوگوں کے درمیان ان کے رنگ، نسل اور دین کی بنیاد پر فرق کرتا ہے، اور ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جو ان سے کہتا ہے کہ اللہ نے انہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے اور انہیں قوموں اور قبیلوں میں محض اس لیے بانٹا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، نہ کہ رنگ و نسل کی بنیاد پر ایک دوسرے پر فوقیت جتائیں۔

===

امریکہ کے ساتھ اتحاد مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے

 

 

اے پاکستان فوج کے افسران! آپ مسلمانوں کے قتل کے گناہ سے اس بہانے بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ آپ اپنے کمانڈر کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ ایک مسلمان کا قتل ایک عظیم جرم ہے، تو سینکڑوں اور ہزاروں کا قتل کیسا ہو گا؟! اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

 

﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً

 

"اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔" (سورۃ النساء: 93)

 

 

اور معصیت (نافرمانی) میں اطاعت کے مسئلے پر امام بخاری نے روایت کیا ہے: "نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا، اس نے آگ جلائی اور کہا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا، جبکہ دوسروں نے کہا: ہم تو اسی (آگ) سے بھاگ کر (اسلام میں) آئے ہیں۔ جب یہ تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا جنہوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا: 'اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے'، اور دوسروں سے فرمایا: 'معصیت (نافرمانی) میں کوئی اطاعت نہیں، اطاعت تو صرف معروف (بھلائی) کے کاموں میں ہے'"۔

 

اے پاکستان فوج کے افسران! جنرل عاصم منیر آپ کو امریکہ کے ساتھ اتحاد اور افغانستان کے خلاف نام نہاد "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے اس کے ایجنڈے میں جکڑے ہوئے ہے۔ آپ مسلمانوں سے لڑ رہے ہیں، آپ انہیں قتل کرتے ہیں اور وہ آپ کو قتل کرتے ہیں۔ حالانکہ امریکہ کے ساتھ اتحاد مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ امریکہ واضح طور پر اضطراب کا شکار ہے اور اسے ایران کے حوالے سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرمپ یورپی یونین اور دوسروں کے اس کی جنگوں میں شامل نہ ہونے پر نالاں ہے۔ امریکہ کی سیاسی اور عسکری طاقت کا بت ٹوٹ چکا ہے۔ اس کے اڈوں اور ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور اس کے مغربی اتحادی ایک ایک کر کے اسے چھوڑ رہے ہیں۔ اسے پاکستان سے کمزور ریاست ایران کے ہاتھوں تکلیف دہ ضرب لگی ہے، تو ذرا سوچیں کہ اگر کوئی ایٹمی ریاست اٹھ کھڑی ہو، جس کے پاس بہترین اور سب سے بڑی مسلم فوج ہو اور جو ایمان، تقویٰ اور جہاد کے تصور سے سرشار ہو تو کیا عالم ہو گا؟!

 

مسلم فوج کا کردار مسلمانوں کو صلیبی امریکہ، یہودی وجود اور ہندو ریاست سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان فوج کے افسران منیر اور اس کے حکمراں گروہ کو ہٹا کر خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم نہ کریں۔ اسی طرح وہ اپنی عزت رفتہ بحال کر سکتے ہیں، اپنے گناہوں سے توبہ کر سکتے ہیں اور اپنے رب کی مغفرت کے امیدوار بن سکتے ہیں۔

===

 

ہماری آج کی لڑائی ہتھیاروں سے پہلے فکر کی لڑائی ہے

 

 

بے شک امت جب اسلام کی بنیاد پر اپنا سیاسی شعور دوبارہ بیدار کر لے گی، تو وہ محض وقتی مفادات کی تلاش میں نہیں رہے گی، بلکہ اس بنیادی تبدیلی کی خواہاں ہوگی جو عقیدے کی بنیاد پر سیاسی ڈھانچے کی نئے سرے سے تعمیر کرے۔ یہ تبدیلی کسی جذباتی ہیجان کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک منظم اصولی سیاسی عمل، ایسی فکری کشمکش جو درآمد شدہ نظریات کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرے، اور ایسی سیاسی جدوجہد پر مبنی ہوتی ہے جو موجودہ نظاموں کے غیر ملکی منصوبوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کو فاش کر دے۔

 

یہی وجہ ہے کہ یہ حکمران نظام ایک واضح اور مربوط فکر کے سامنے لرز اٹھتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر امت نے یہ ادراک کر لیا کہ ایک ایسے امام کا ہونا جو ان پر اسلام کے احکامات نافذ کرے، ایک فرض ہے، اور اسلام کے بغیر حکمرانی کرنے والے نظاموں کے تحت ٹکڑوں میں بٹے رہنا ایک اجتماعی گناہ ہے، تو وہ ایک اصولی متبادل کے قیام کی طرف جدوجہد شروع کر دے گی۔ تب ایک فکر ایک مادی قوت میں، ایک پختہ یقین عوامی رائے میں، اور عوامی رائے تبدیلی کے ایک طاقتور ارادے میں بدل جاتی ہے۔

 

بے شک امت کی آج کی جنگ ہتھیاروں کی جنگ ہونے سے پہلے فکر اور شعور کی لڑائی ہے۔ پس جب فکر اور شعور غالب آ جائیں گے، تو یہ مصنوعی جواز زمین بوس ہو جائیں گے اور اسلامی عقیدے سے جنم لینے والا حقیقی شرعی جواز ابھر کر سامنے آئے گا۔ اور جب امت اپنے اصولی سیاسی منصوبے کی طرف لوٹ آئے گی، تو وہ اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز کے راستے پر اپنا پہلا قدم رکھ چکی ہوگی، جو کہ محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک جامع سیاسی حقیقت ہوگی جو اسے اس کی وحدت، عزت اور عالمی قیادت دوبارہ عطا کرے گی۔

===

حاکمیت کب محض ایک نعرے کے بجائے ایک حقیقت بن کر سامنے آئے گی؟!

 

آج مسلم ممالک جس شدید بے روزگاری، مہنگائی، کرنسیوں کی گراوٹ اور وسیع طبقاتی فرق کا شکار ہیں، یہ براہِ راست اس سرمایہ دارانہ نظام کے نفاذ کا نتیجہ ہے جو نہ تو امت کے عقیدے سے میل کھاتا ہے اور نہ ہی اس کے مفادات سے۔ جب عوامی وسائل کو بیچ دیا جاتا ہے، بنیادی سہولیات کی نجکاری کر دی جاتی ہے اور اسلامی احکامات سے انحراف کرتے ہوئے بغیر کسی حفاظتی تدبیر کے منڈیوں کو کھول دیا جاتا ہے، تو معیشت انتہائی کمزور ہو جاتی ہے اور سیاسی فیصلے غیروں کے مرہونِ منت ہو جاتے ہیں۔

 

حقیقت یہ ہے کہ معاشی آزادی کو نبوت کے طریقے پر خلافتِ راشدہ کے قیام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی معاشی نظام کا مکمل نفاذ صرف اسی ریاست میں ممکن ہے جو اسے ایک جامع اصول کے طور پر اپنائے، اور جہاں حاکمیت شریعت کی ہو اور اقتدار امت کے سپرد ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہ کر کی جانے والی جزوی اصلاحات بے اثر رہتی ہیں، کیونکہ اس نظام کی بنیاد ہی فاسد ہے۔

 

آج کی یہ لڑائی صرف اعداد و شمار اور بجٹ کی نہیں بلکہ بنیادی تصورات کی لڑائی ہے۔ کیا مال اللہ کی شریعت کے مطابق عدل و انصاف کے قیام کا ذریعہ ہے، یا محض غریبوں کے استحصال سے منافع کمانے کا ایک آلہ؟ کیا ریاست لوگوں کے معاملات کی حقیقی نگہبان (راعی) ہے یا محض ایک آزاد منڈی کی منتظم؟ ان سوالات کے جواب ہی پورے نظام کی بنیاد طے کرتے ہیں۔

 

امت جب اپنا اسلامی معاشی نظام بحال کر لے گی، تو وہ اپنے سیاسی فیصلے کرنے میں بھی آزاد ہو جائے گی۔ اور جب اس کے فیصلے قرضوں کے بوجھ اور قرض دینے والوں کی کڑی شرائط سے آزاد ہوں گے، تب ہی اس کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ حقیقی خارجہ پالیسیاں بنائے، اسٹریٹجک منصوبوں پر کام کرے اور تمام تر توانائیوں کو ایک واحد اور طاقتور ریاست کے پرچم تلے متحد کر سکے۔ تبھی حاکمیت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت بن کر سامنے آئے گی۔

===

 

امت محض جذبات سے نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی منصوبے سے فتح یاب ہو گی جو اسلام کی حکمرانی قائم کرے اور تمام توانائیوں کو متحد کر دے

 

 

امت کی آج کی حقیقت ایک افسوسناک صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔ متعدد قومی ریاستیں، مختلف پالیسیاں اور متضاد اتحاد۔ اگر اس کے کسی ایک ملک پر حملہ ہو جائے تو معاملہ صرف اسی تک محدود رہتا ہے، گویا کہ امت کا رشتہ مصنوعی حدود اور نام نہاد قومی خود مختاری کے مزعومہ تصورات کے سامنے پیچھے ہٹ گیا ہو۔ ایسی صورتحال میں، امت اور اس کے مقدسات کی آزادی کی بات محض ایک نظریاتی گفتگو بن کر رہ جاتی ہے، کیونکہ سیاسی فیصلہ سازی بکھری ہوئی ہے۔

 

یقیناً امت محض جذبات کے سہارے فتح یاب نہیں ہو سکتی، بلکہ اسے ایک ایسے جامع سیاسی منصوبے کی ضرورت ہے جو اسلام کا حکم نافذ کرے، تمام توانائیوں کو یکجا کرے اور عقیدے کو سیاست کی بنیاد بنائے۔ کیونکہ عقیدہ عمل کا جذبہ عطا کرتا ہے اور ریاست اس کے نفاذ کی مادی قدرت فراہم کرتی ہے۔ جب تک امت اپنی وحدت بحال نہیں کر لیتی، اس کی کوششیں بکھری رہیں گی، چاہے آوازیں کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں یا اقدامات کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ اور جب امت آج یہ ادراک کر لے گی کہ آزادی کا راستہ اپنے جامع سیاسی وجود کی بحالی سے ہو کر گزرتا ہے، تب وہ اقوامِ عالم کے درمیان اپنا مقام اور کردار دوبارہ حاصل کرنے کی جانب صحیح راستے پر پہلا قدم رکھ دے گی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ * وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ * إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

 

"اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو جبکہ تم (احکامات) سن رہے ہو۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے۔ بے شک اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے" (سورۃ الانفال: 20-22)

===

 

مسلمان علماء ایک تاریخی ذمہ داری کے سامنے

 

 

تاریخ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ جب امت اپنی فکری سمت کھو دیتی ہے تو وہ سیاسی طور پر بھی بھٹک جاتی ہے، اور جب علماء کی آواز خاموش ہو جائے یا وہ حکمرانوں کے تابع ہو جائیں، تو موجودہ نظام دین پر حملہ آور ہونے کی جرات کرتے ہیں اور حکمران اس کے احکامات معطل کرنے میں حد سے گزر جاتے ہیں۔ لیکن اگر علماء حق کا اعلان کریں اور لوگوں کو جس طرح نماز سے جوڑتے ہیں ویسے ہی نظامِ حکومت میں بھی اسلام کے احکامات سے جوڑ دیں، تو وہ ایسا شعور بیدار کرتے ہیں جو حقیقی تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔

 

امت آج جس مرحلے سے گزر رہی ہے، وہ علماء سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اسلامی طرزِ زندگی کی بحالی کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں، نہ کہ صرف بگاڑ کے اثرات کو کم کرنے پر اکتفا کریں۔ یہاں صرف ایک فاسد نظام کے اندر جزوی اصلاحات کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ایسی بنیادی تبدیلی مطلوب ہے جو اسلامی عقیدے کی بنیاد پر سیاسی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کرے، اور ایک ایسی ریاست قائم کرے جو مکمل اسلام نافذ کرے اور دعوت و جہاد کے ذریعے پوری دنیا تک اس کا پیغام پہنچائے۔

 

امت کے علماء ایک تاریخی ذمہ داری کے سامنے کھڑے ہیں۔ یا تو وہ حقیقی معنوں میں انبیاء کے وارث بنیں، اسلام کا پیغام بغیر کسی کمی بیشی کے مکمل طور پر پہنچائیں اور خلافت کے سائے میں امت کی وحدت کی قیادت کریں، یا پھر یہ ان کے نصیب میں لکھ دیا جائے گا کہ انہوں نے تبدیلی کے ایک انتہائی خطرناک مرحلے کا مشاہدہ کیا لیکن اس میں حق کے بیان اور محاسبے کا واجب فریضہ ادا نہیں کیا۔ وہ امت جس نے عز بن عبد السلام اور ابن تیمیہ جیسے جلیل القدر علماء پیدا کیے، وہ اللہ کے حکم سے ایسے علماء پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو اپنے فرض کو پہچانیں، علم کا وقار بحال کریں، شریعت کی حاکمیت قائم کریں اور امت کی وحدت اور اس کے جامع سیاسی وجود کو دوبارہ لوٹائیں۔

===

 

 

وہ خلافت جس کے لیے ہم کام کر رہے ہیں نہ فرقہ وارانہ ہے اور نہ ہی مسلکی

 

 

وہ خلافت جس کے قیام کے لیے ہم آج کوشاں ہیں، وہ کسی ایک فرقے کی نمائندگی نہیں کرتی، خواہ وہ سنی ہو یا شیعہ، بلکہ وہ ایک واحد امتِ مسلمہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ جو کہ پوری روئے زمین پر تمام مسلمانوں کی ایک عمومی قیادت (ریاست) ہو گی۔ یہ وہ خلافت ہے جو امریکہ اور اسلام کے دشمنوں کو شیطان کے وسوسے بھلا دے گی، بالکل اسی طرح جیسے مسلمانوں کے خلیفہ نے خالد بن ولیدؓ کے ذریعے رومیوں کو شیطان کے وسوسے بھلا دیے تھے۔

 

اے بہترین امت جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے! جس مقصد کی طرف ہم تمہیں بلا رہے ہیں وہ اللہ کی رضا کی طلب، اس کی جنت کی تمنّا، اور عزت، خیر و خوشحالی کی اس زندگی کا حصول ہے جس کا ذائقہ ہم اللہ کے احکامات کی مکمل تعمیل اور اس کی منہیات سے رک کر ہی چکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم اہل قوت و تحفظ (اہلِ قوت و منعت) کو ابھاریں تاکہ وہ دین کی نصرت اور اسے مقتدر بنانے کا اپنا فرض ادا کریں، اور اس مقدس یلغار میں شامل ہوں جو ہمارے ممالک سے امریکی اڈوں اور اس کے اثر و رسوخ کو نکال باہر کرے، یہودی وجود کا خاتمہ کرے اور اسراء و معراج کی سرزمین کو یہودیوں کی ناپاکی سے پاک کر دے۔

 

﴿وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ

 

"اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔" (سورۃ التوبہ: 36)

 

یہ امت کے لیے ایک پیغام، حکمرانوں کے لیے ایک انتباہ اور افواج کے لیے ایک پکار ہے۔ پس جس نے آج اللہ کے دین کی مدد کی اور اسے ایک ایسی ریاستِ راشدہ میں مقتدر بنانے کے لیے کام کیا جو امت کے تمام مسائل کی ذمہ داری اٹھائے، تو اللہ یقیناً ان کی مدد کرے گا اور ان کے قدم جما دے گا۔ اور جو پیچھے رہ گیا وہ کسی اور کو نہیں بلکہ خود کو ملامت کرے جب کافروں کی مکاریاں اسے گھیر لیں گی۔

 

﴿هَذَا بَلَاغٌ لِلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ

 

"یہ (قرآن) لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے ڈرائے جائیں اور تاکہ وہ جان لیں کہ معبود تو بس وہی ایک ہے اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔" (سورۃ ابراہیم: 52)

===

 

 

اے سرزمینِ کنانہ (مصر) کے باسیو! مصری نظام تمہارا اور تمہاری امت کا دشمن ہے

 

 

 

اے اہل مصرِ کنانہ! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ مصری نظام خلافت کے خاتمے کے وقت سے ہی صلیبی اتحاد میں بھرتی ہو چکا ہے۔ فلسطین میں مسخ شدہ یہودی وجود کے ہاتھوں ہونے والے قتلِ عام پر اس کا بزدلانہ رویہ، اور امام مسلم و بخاری کی سرزمین ایران میں امریکہ کے قتلِ عام پر اس کی تماشائی بنے رہنے کی روش، اور امریکی بحری بیڑے کے لیے نہرِ سوئز کو کھول دینا۔ یہ سب اس بات کی گواہی ہیں کہ وہ آپ کی امت کا دشمن ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

 

﴿وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ

 

"اور جب تو انہیں دیکھتا ہے تو ان کے جثے تجھے بھلے معلوم ہوتے ہیں، اور اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات (توجہ سے) سنتا ہے، گویا وہ دیوار کے ساتھ لگی ہوئی لکڑیاں ہیں، وہ ہر زور کی آواز کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں، وہی دشمن ہیں سو ان سے بچتے رہو، اللہ انہیں غارت کرے یہ کہاں سے الٹے پھرے جا رہے ہیں۔" (سورۃ المنافقون: 4)

 

پس اس ناپسندیدہ فرعونی نظام کے ہاتھوں کو روک دیں، اور حقیقی نشاۃِ ثانیہ کے علمبردار 'حزب التحریر' کا ساتھ دیں تاکہ نبوت کے طریقہ کار پر دوسری خلافتِ راشدہ قائم ہو سکے۔ تب اس کے قیام کا شرف آپ کو حاصل ہوگا، آپ دوسروں پر سبقت لے جائیں گے اور نیکیوں میں آگے بڑھیں گے۔ اس طرح آپ دنیا کی عزت، آخرت کی نعمتیں اور اللہ کی وہ رضا پائیں گے جو سب سے بڑی ہے۔ جان لیں کہ آپ اس کے اہل ہیں اور اللہ کے اذن سے اس پر قادر بھی ہیں، چاہے یہ نظام آپ کو کچلنے اور آپ کی آواز دبانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دے، لیکن وہ اپنے دادا فرعون سے زیادہ طاقتور اور جابر نہیں ہو سکتا، جسے اللہ نے سمندر میں غرق کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

 

﴿وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ

 

"اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر پھاڑ دیا پھر تمہیں بچا لیا اور فرعون والوں کو تمہارے دیکھتے دیکھتے غرق کر دیا۔" (سورۃ البقرہ: 50)

Last modified onپیر, 06 اپریل 2026 08:23

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک