بسم الله الرحمن الرحيم
امریکہ: بیرونی طاقت اور اندرونی انتشار کے درمیان
تحریر: استاد نبیل عبد الکریم
(ترجمہ )
قومیں ایسی اکائیاں نہیں ہوتیں جو کسی اچانک دھچکے سے زمین بوس ہو جائیں، اور نہ ہی وہ عموماً صرف اپنی سرحدوں پر گھات لگائے بیٹھے کسی دشمن کی وجہ سے گرتی ہیں۔ بلکہ، وہ تب بکھرتی ہیں جب ان کی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں، اور جب وہ اپنی دفاعی طاقت کھونے سے پہلے اپنی یکجہتی اور ہم آہنگی کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں۔ یہ حقیقت، جس کی تصدیق رومی سلطنت کے زوال سے لے کر سوویت یونین کے ٹوٹنے تک کے تاریخی تجربات سے ہوتی ہے، آج امریکہ کی حقیقت کا جائزہ لیتے وقت خود کو بڑی شدت سے منواتی ہے۔ وہ ملک جو آج بھی فوجی اور معاشی طاقت میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے، وہ بیک وقت گہری داخلی دراڑوں کا اکھاڑا بنا ہوا نظر آتا ہے، جو اس کے سیاسی، سماجی اور معاشی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہیں۔
امریکہ کے لیے چیلنج اس کی بظاہر بیرونی طاقت میں کمی میں نہیں ہے، بلکہ اس طاقت اور اس کی داخلی حقیقت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج میں ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کوئی عالمی طاقت عالمی نظام کی قیادت جاری رکھ سکتی ہے جبکہ وہ بڑھتی ہوئی داخلی تھکن اور اپنی ہی اپنائی ہوئی ہر نظریاتی اساس کے گہرے تضاد کا شکار ہو؟
آئیے امریکہ کی بیرونی طاقت کے کچھ پہلوؤں کا جائزہ لیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اب بھی واضح عالمی اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اس کے قیام سے لے کر اب تک جمع کی گئی فوجی، معاشی اور ثقافتی بنیادوں کا نتیجہ ہے۔ ان میں شامل ہیں:
· عالمی فوجی بالادستی: یہ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین فوج کا حامل ہے، جس کا دفاعی بجٹ عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے، جس کا تخمینہ تقریباً 878.7 بلین ڈالر ہے۔
· بین الاقوامی فوجی موجودگی: یہ دنیا بھر میں فوجی اڈوں کا ایک وسیع نیٹ ورک برقرار رکھتا ہے، جو اسے کسی بھی خطے میں فوری مداخلت کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ سیکیورٹی اتحادوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جیسے کہ دنیا کے طاقتور ترین فوجی اتحاد ’نیٹو‘ (NATO) کی قیادت کرنا۔
· ڈالر کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام پر غلبہ، جو زیادہ تر بین الاقوامی تجارت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استعمال ہوتا ہے۔ مزید برآں، مرکزی بینک اور کثیر القومی کارپوریشنز ٹیکنالوجی کے زیادہ تر شعبوں پر حاوی ہیں۔
· اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں اور طاقت کے توازن پر کنٹرول: یہ عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت اور انہیں محفوظ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور عالمی توانائی کی حفاظت پر کنٹرول برقرار رکھتا ہے۔
چنانچہ، یہ مظاہر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکہ اب بھی تسلط اور بالادستی کے روایتی اور جدید دونوں ذرائع رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ طاقت فی الحال زوال پذیر ہے نہ کہ ترقی پذیر، پھر بھی یہ سب سے آگے ہے۔ تاہم، یہ بیرونی طاقت اندرونی طور پر جمع ہونے والے چیلنجوں پر پردہ ڈال سکتی ہے، جو اس مرکزی خیال کو تقویت دیتی ہے کہ: بیرونی طاقت کا مطلب لازمی طور پر داخلی استحکام نہیں ہوتا۔
لہٰذا، اب ہم امریکہ کے داخلی انتشار کے کچھ مظاہر پیش کریں گے: شدید سیاسی پولرائزیشن (تقسیم)، جہاں سیاسی نظام ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے درمیان ایک اَن دیکھی تقسیم کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ تقسیم روز بروز اس کی اسٹریٹجک تباہی کی گہرائی کو ظاہر کر رہی ہے، جس کا ثبوت قانون سازی کی گرتی ہوئی صلاحیت، بار بار کی حکومتی تالہ بندی (شٹ ڈاؤن)، تعمیری اشرافیہ کی عدم موجودگی، اور اداروں پر اعتماد میں کمی سے ملتا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Center) کے حالیہ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس پر اعتماد تاریخی طور پر نچلی ترین سطح پر آ گیا ہے۔
معاشی خلیج کے بڑھنے کا تو ذکر ہی الگ ہے۔ فیڈرل ریزرو کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ دولت کا ایک بڑا حصہ صرف 1 فیصد آبادی کے ہاتھوں میں مرکوز ہو کر رہ گیا ہے۔ اس سے متوسط طبقہ کمزور ہو رہا ہے جس کی قوتِ خرید مسلسل ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس طبقے کا معاشی استحکام ختم ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ رہائش، تعلیم اور صحت سمیت زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے مقابلے میں حقیقی اجرتیں منجمد ہو کر رہ گئی ہیں۔ حال ہی میں مسلح تشدد اور جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ یہ ملک بیک وقت قومی قرضوں، بلند افراطِ زر، بیرونِ ملک فوجی و سیاسی پھیلاؤ اور جدوجہد کرتی ہوئی امریکی عوام کی آنکھوں کے سامنے خطیر رقم کے بے دریغ اخراجات جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ یہ صورتحال ان جنگوں کے نتائج کی وجہ سے مزید ابتر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں زندگی گزارنے کی قیمتوں میں اضافہ اور بھاری ٹیکس عائد ہوئے ہیں۔ امریکی عوام ان مسائل پر پیسہ خرچ کرنے کو مسترد کرتے ہیں جنہیں وہ غیر متعلقہ سمجھتے ہیں؛ جب بات بھوک اور اپنی خوشحالی کے بڑے حصے کے ختم ہونے کی آتی ہے، تو انہیں امریکہ کی عظمت سے کوئی سروکار نہیں رہتا۔
جو چیز اس رجحان کو مزید خطرناک بناتی ہے وہ اس کا بیک وقت بیرونِ ملک ایک زبردست طاقت کے طور پر ابھرنا ہے، جو ریاست کے ظاہری ڈھانچے اور اس کی اصل حالت کے درمیان ایک خلیج پیدا کر رہا ہے۔ بالآخر، بڑی طاقتوں کو محض ان کی ظاہری طاقت کی نمائش سے نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ ان کے داخلی ڈھانچے کے تجزیے اور خود کفالت کی صلاحیت کے جائزے سے سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ کا موجودہ تجربہ اس تضاد کی واضح طور پر عکاسی کرتا ہے: ایک ایسی بیرونی طاقت جو اب بھی بین الاقوامی نظام کی کنجیوں پر قابض ہے، جبکہ داخلی طور پر وہ انتشار اور اعتماد کے مکمل خاتمے کے بوجھ تلے سسک رہا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں ہے کہ: کیا امریکہ آج مضبوط ہے؟ اس کے بجائے سوال یہ ہے کہ: کیا یہ داخلی تجدید کی صلاحیت رکھتا ہے؟ درحقیقت، یہ اپنے آپ کو اندر سے بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جس کی وجہ اس کے سرمایہ دارانہ نظریے کی فطری ناکامی ہے، جو اپنے اندر خود اپنی تباہی کے بیج چھپائے ہوئے ہے، اور ساتھ ہی تعمیری اشرافیہ کی عدم موجودگی اور تباہ کن گروہوں کا ظہور ہے۔ لہٰذا، آج کی دنیا اس حکمران سرمایہ دارانہ نظام کو قابلِ عمل تسلیم نہیں کرتی۔
آج دنیا کو ایک ایسے درست نظریے کی ضرورت ہے جو عدل و انصاف، مساوات اور ہمدردی کی بنیادوں پر استوار ہو، جس کی سرمایہ دارانہ نظام میں مکمل کمی ہے۔ اسلام ایک آئیڈیالوجی (نظریہ) کے طور پر پوری دنیا کا نظام چلانے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے؛ یہ سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، انصاف کے قیام، ہر حق دار کو اس کا حق دینے، روشنی اور رحمت پھیلانے، اور انسانیت کو اس کا وہ کھویا ہوا وقار واپس دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو افادیت پسندی اور سرمایہ دارانہ ہتھکنڈوں نے اس سے چھین لیا ہے۔
اسلامی نظریہ ایک مکمل ضابطہ ہے جو نفاذ کے لیے بالکل تیار ہے، لیکن اسے عملی شکل دینے کے لیے ایک مخلص قیادت درکار ہے۔ حزب التحریر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔ اس جماعت نے اپنے مخلص مردوں اور عورتوں کو تیار کیا ہے، جبکہ اس کا طریقہ کار براہِ راست کتاب اللہ اور سنتِ نبوی ﷺ سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ جماعت ہمارے عظیم المرتبت رسول ﷺ کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے اور آپ ﷺ کی دی ہوئی اس خوشخبری کے پورا ہونے پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ:
«ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» ترجمہ: "پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہو گی"۔ (مسند احمد)
اسی طرح حزب التحریر کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اپنے رسول ﷺ سے کیے گئے اس وعدے کی تکمیل پر بھی کامل بھروسہ ہے کہ اسلام پوری دنیا پر حکمرانی کرے گا۔ حضرت تمیم داریؓ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
«لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ هَذَا الدِّينَ، بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزّاً يُعِزُّ اللهُ بِهِ الإِسْلَامَ، وَذُلّاً يُذِلُّ اللهُ بِهِ الكُفْرَ» ترجمہ: "یہ معاملہ (دین) وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں، اور اللہ مٹی کا کوئی گھر یا بالوں کا بنا ہوا کوئی خیمہ (شہر یا دیہات) ایسا نہیں چھوڑے گا جس میں وہ اس دین کو داخل نہ کر دے، کسی کو عزت دے کر یا کسی کو ذلیل کر کے؛ ایک ایسی عزت جس کے ذریعے اللہ اسلام کو غلبہ عطا فرمائے گا، اور ایسی ذلت جس کے ذریعے اللہ کفر کو رسوا کرے گا"۔ (مسند احمد)