بسم الله الرحمن الرحيم
امریکہ اور یہودی وجود کی ایران کے خلاف جنگ اور ہرمجدون کی راہ!
تحریر: انجینئر حسب اللہ النور - ولایہ سوڈان
(ترجمہ)
امریکیوں کے نزدیک یہ ایک مقدس صلیبی جنگ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ خدا "کفار" کے خاتمے کے لیے اس جنگ میں ان کی مدد کر رہا ہے تاکہ یومِ قیامت کی راہ ہموار ہو سکے، جس سے پہلے ہرمجدون (Armageddon) کی عظیم جنگ کا ہونا لازمی ہے۔ فوجی کمانڈروں نے فوجی بیرکوں میں جمع اپنے سپاہیوں سے اسی انداز میں خطاب کیا اور ان آیات کی تلاوت کی جنہیں وہ بائبل (انجیل) کہتے ہیں۔ امریکہ کی پچاس سے زائد فوجی بیرکوں میں یہی واقعات دہرائے گئے، جہاں انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ جنگ "مکمل طور پر خدا کے الہی منصوبے کا حصہ" اور "مکاشفہ کی کتاب" (Book of Revelation) کی پیشین گوئیوں کی تکمیل ہے، اور یہ کہ "صدر ٹرمپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایران میں ہرمجدون کی آگ بھڑکانے اور زمین پر ان کی واپسی کی نشاندہی کے لیے منتخب کیا ہے"۔ امریکی ملٹری ریلیجئس فریڈم فاؤنڈیشن (MRFF) نے درجنوں فوجیوں اور افسران کی گواہیوں کو دستاویزی شکل دی ہے جنہوں نے اپنے یونٹس میں انتہا پسندانہ مذہبی گفتگو کی شکایت کی ہے۔
یہ رجحان کوئی الگ تھلگ نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کسی محدود گروہ یا گمنام افراد تک محدود ہے۔ اس کے بجائے، یہ امریکی معاشرے کے کئی طبقات میں بڑے پیمانے پر جڑیں پکڑ رہا ہے۔ امریکی محکمہ محنت کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جہاں سیکرٹری لوری شاویز-ڈی ریمر، ہیگستھ سے متاثر ہو کر ماہانہ دعائیہ اجتماعات منعقد کرتی ہیں۔ اسی طرح، امریکی سیاستدان اور رکن کانگریس لنڈسے گراہم نے 28 فروری 2026 کو، جب ایران پر حملہ شروع ہوا، ایکس (ٹویٹر) پر پوسٹ کیا: "میں نے ابھی صدر ٹرمپ کی 8 منٹ کی تقریر دوبارہ سنی ہے، جس میں وہ موجودہ صورتحال کی منظر کشی کر رہے ہیں اور ایرانی عوام پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں"۔ ان کا کہنا تھا کہ "ان کی یہ تقریر تاریخ میں مشرق وسطیٰ میں ایک ہزار سال کی سب سے تاریخی تبدیلی کے محرک کے طور پر یاد رکھی جائے گی،" جو کہ جی اٹھنے کے بعد مسیح کی واپسی کی طرف اشارہ ہے۔
جمعہ 20 فروری کو نشر ہونے والے قدامت پسند امریکی صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں، یہودی وجود کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی نے دعویٰ کیا کہ یہودیوں کا دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلی ہوئی زمین پر بائبلی حق ہے، اور عہد نامہ قدیم کی "کتاب پیدائش" (Book of Genesis) میں موجود اصل دستاویز کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ "اگر وہ یہ سب لے لیں تو یہ بالکل ٹھیک ہوگا"۔ مشہور ناول سیریز "لیفٹ بیہائنڈ" (Left Behind) کا اثر، جس کی 6 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں، یہودی وجود، جنگ اور دنیا کے خاتمے کے بارے میں امریکی ایونجلیکل تصورات کو تشکیل دینے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
نومبر 2022 میں پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ 39 فیصد امریکی بالغوں کا خیال ہے کہ انسانیت آخری ایام (End Times) میں جی رہی ہے، اور یہ تعداد سفید فام ایونجلیکل پروٹسٹنٹ کے درمیان 63 فیصد تک پہنچ جاتی ہے (الجزیرہ، 4 مارچ 2026)۔ ریپبلکن رکن کانگریس اینڈی اوگلز نے 9 مارچ 2026 کو پوسٹ کیا: "مسلمانوں کا امریکی معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کثرت پسندی (Pluralism) ایک جھوٹ ہے"۔ نیتن یاہو نے بھی ہفتہ کی شام 14 مارچ 2026 کو ایک پریس کانفرنس میں بیان دیا کہ، "میرا خیال ہے کہ ہم سب کو احساس ہے کہ بالآخر ہم آسمانی بادشاہت تک پہنچ جائیں گے، اور ہم مسیح کی واپسی کی تیاری کے مرحلے تک پہنچیں گے، اور ہم اس عظیم روحانی اور مادی طاقت کی بدولت اپنا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں،" جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ موجودہ تصادم "قیامت کی ایک ایسی جنگ ہے جو مشرق وسطیٰ کا نقشہ دوبارہ ترتیب دے گی"۔
اسلام کے خلاف اس مہم کی قیادت کرنے والا کوئی صحافی، سٹریٹیجک مفکر یا کوئی گمنام سیاست دان نہیں ہے، بلکہ وہ امریکی وزیرِ جنگ ہے، جس کا پورا جسم صلیبی علامات کے نقش و نگار (ٹیٹوز) سے بھرا ہوا ہے، اور جس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تحریریں لکھی اور باتیں کی ہیں۔ ہم اس کی تحریروں اور بیانات سے کچھ ایسے اقتباسات پیش کریں گے جو اس دشمنی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اپنی کتاب "امریکن کروسیڈ: ہماری آزادی کی بقا کی جنگ" (American Crusade: Our Fight to Stay Free) میں ہیگستھ نے کہا ہے کہ، "'اسلام کا مطلب امن ہے' کا بیانیہ ایک سادہ لوح اور بزدلانہ عالمی نظریہ ہے"۔ اس نے مزید کہا کہ "اسلام پسندی دنیا میں آزادی کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ نہ تو مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، نہ اس کے ساتھ مل کر رہا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے سمجھا جا سکتا ہے، بلکہ اسے بے نقاب کرنا، حاشیے پر دھکیلنا اور کچلنا ضروری ہے"۔ اس کا کہنا ہے کہ "جس طرح بارہویں صدی میں عیسائی صلیبیوں نے مسلمان لشکروں کو پیچھے دھکیلا تھا، آج کے امریکی صلیبیوں کو بھی اسلام پسندوں کے خلاف اسی جرأت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہو گی"۔ اسی کتاب کے ایک اور اقتباس میں ہیگستھ نے اسلام کے خلاف سخت گیر موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ، "امریکی جتنی دیر تک اس خوش فہمی میں رہیں گے کہ اسلام ایک امن کا مذہب ہے، خاص طور پر جب یورپ اور امریکہ کی آبادیاتی صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، ہمارا کام اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا"۔ اس کے مطابق "اسلام اپنی بنیاد سے ہی اپنے دشمنوں، یعنی تمام 'کفار'، کے ساتھ برسرِ پیکار ہے، اور یہ کبھی نہیں رکے گا"۔
2 مارچ 2026 کو ایک بیان میں ہیگستھ نے کہا کہ، "ایران جیسی جنونی حکومتیں جو نبوی اسلام پسندی کے وہم میں مبتلا ہیں، ان کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہو سکتے"۔ 19 مارچ 2026 کو چیئرمین جوائنٹ چیفس ایئر فورس جنرل ڈین کین کے ساتھ ایک پریس بریفنگ میں ہیگستھ نے اعلان کیا کہ، "اسلام پسند دشمن کی نشاندہی کریں، چاہے وہ سنی ہوں یا شیعہ"۔ اور یہ تو محض شروعات ہے۔ خود صدر ٹرمپ بھی اس رجحان سے محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے وزیرِ جنگ کا تقرر کیا ہے جس کی اسلام کے خلاف دشمنی جانی پہچانی اور انتہا درجے کی ہے۔ 9 مارچ 2016 کو سی این این (CNN) پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ، "میرا خیال ہے کہ اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے۔ وہاں کچھ ایسا ہے کہ، وہاں ایک زبردست نفرت پائی جاتی ہے۔ وہاں ایک شدید نفرت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اس کی جڑ تک پہنچنا ہو گا۔ ہمارے خلاف وہاں ناقابلِ یقین حد تک نفرت موجود ہے"۔
ہرمجدون (Armageddon) کی جنگ، یا قیامت کی جنگ—ان کے عقیدے کے مطابق، ایک ایسی جنگ ہے جو یہودیوں کے خلاف لڑی جائے گی، جس میں 'کفار'، جس سے مراد یقیناً ہم ہیں، قتل کر دیے جائیں گے، مسجد اقصیٰ کو شہید کر دیا جائے گا اور اس کے کھنڈرات پر ہیکل تعمیر کیا جائے گا، تاکہ مسیح کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکے جو ایک ہزار سال تک مکمل انصاف کے ساتھ دنیا پر حکومت کریں گے۔ امریکہ کے اندر اور باہر اس طرزِ عمل کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں، اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے کر خود اس جنگ کی مخالفت کے باوجود، کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ جنگ بدستور پوری شدت سے جاری ہے اور وجودی خطرہ برقرار ہے۔
جی ہاں، اس جنگ کے بین الاقوامی اور علاقائی، دونوں طرح کے سیاسی مقاصد ہیں۔ اس کا مقصد ایران کی طاقت کو ختم کرنا اور اسے مکمل طور پر امریکی اثر و رسوخ کے تحت لانا ہے، تاکہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے غلبے کو مضبوط کیا جا سکے اور اسے خطے کے تیل پر کنٹرول حاصل ہو جائے، جو دنیا پر حکمرانی کے اس کے منصوبے کو آسان بنا دے گا۔ اس کا مقصد یہودی وجود کو اس قابل بنانا بھی ہے کہ وہ امریکہ کے پولیس مین کے طور پر خطے پر اپنی بالادستی قائم کر سکے۔ یہ بذات خود ایک استعماری خطرہ ہے جس کا مقابلہ کرنا لازم ہے۔ تاہم، جو چیز بے مثال ہے وہ اس جنگ کی ایک بنیادی خصوصیت کے طور پر مذہبی عقائد (تھیولوجی) کا علم بلند کرنا ہے، جسے بعض تجزیہ کاروں نے صلیبی جنگ قرار دیا ہے۔
اسلام کے خلاف اس کھلی دشمنی نے، جو اس جنگ کا طرہ امتیاز رہی ہے، مسلمانوں میں یہ احساس پختہ کر دیا ہے کہ ان کے دین پر حملہ کیا جا رہا ہے، جس کے دفاع کے لیے ایک متحدہ محاذ بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ ان موجودہ حکمرانوں کے پیچھے چھپنے سے نہ تو حملہ آور پیچھے ہٹے گا اور نہ ہی کوئی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکے گا۔
اس لیے، فوجی کمانڈروں پر، بالخصوص جو اس خطے میں اور اس کے قرب و جوار میں موجود ہیں، اس امت اور اس کے عقیدے کے دفاع کی پہلی ڈھال کے طور پر یہ شرعی فریضہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ان موجودہ نظاموں کو ایک ایسے نظام سے بدل دیں جو امت کو ایک کر دے، اس کی کوششوں کو یکجا کرے، اور اس کے عقیدے اور مقدسات کی حفاظت کے لیے اس کی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے، تاکہ ہرمجدون (Armageddon) کے نظریے کو باطل کیا جا سکے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ﴾
"ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے" (سورۃ الصافات: 61)۔