بسم الله الرحمن الرحيم
اخبار الرایہ اشاعت نمبر 595
متفرق مضامین
(ترجمہ )
صفحہ اول کی سرخی
اے مسلمانو: بے شک تمہاری عزت اور وقار خلافت کے سائے میں پوشیدہ ہے، جسے قائم کرنے کے لیے حزب التحریر جدوجہد کر رہی ہے۔ اس نے خود کو اس عظیم مشن کے لیے وقف کر دیا ہے، اور اس کے شباب تمہارے درمیان موجود ہیں، جو تمہیں اپنی حمایت اور اپنے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ تو کیا کوئی ہے جو اس دنیا کی عزت اور آخرت کی کامیابی کے لیے، بیعتِ عقبہ ثانیہ جیسی بیعت کے ذریعے، نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ ثانیہ کے قیام کے لیے کوشش کرنے کے لیے تیار ہو؟! اس وقت سرمایہ دارانہ نظام کے حامل کفر کے علمبردار مغرب اور اس کی ناجائز اولاد، یہودی وجود کا خاتمہ ہو جائے گا، اور اسلام کا جھنڈا (رایۃ) بلندیوں پر لہرائے گا۔
===
صفحہ اول کے لیے
آزادی ایک حقیقت ہے، نعرہ نہیں
آج عالمِ اسلام جن مسائل کا شکار ہے، جیسے کہ بے روزگاری کی بلند شرح، مہنگائی، گرتی ہوئی کرنسی کی قدر اور دولت کی شدید غیر مساوی تقسیم، یہ سب اس سرمایہ دارانہ نظام کے نفاذ کا براہِ راست نتیجہ ہے، جو نہ تو امت کے عقائد سے میل کھاتا ہے اور نہ ہی اس کے مفادات سے۔ جب عوامی املاک کو فروخت کیا جاتا ہے، بنیادی ضرورت کی اشیاء کی نجکاری کر دی جاتی ہے، اور شرعی احکام کے فریم ورک کے اندر مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر منڈیوں کو کھول دیا جاتا ہے، تو معیشت کمزور ہو جاتی ہے اور سیاسی فیصلے بیرونی طاقتوں کے غلام بن جاتے ہیں۔
معاشی آزادی کو نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی معاشی نظام تب تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے ایک ایسی ریاست کے تحت نافذ نہ کیا جائے جو اسے ایک جامع نظریے کے طور پر اپنائے، جہاں قانون سازی کی حاکمیت صرف شریعت کی ہو اور اقتدار امت کا ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہ کر جزوی اصلاحات کا اثر محدود ہی رہتا ہے، کیونکہ اس نظام کی بنیاد ہی ناقص ہے۔
اسلام کے نفاذ والی ریاست کے قیام کا مطلب معیشت کے کردار کی از سرِ نو تعریف کرنا ہے۔ اسے محض تجریدی اعداد و شمار کی بنیاد پر مجموعی قومی آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بنانے کے بجائے، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ بنانا ہے، تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔
اسلام میں، ریاست ہر فرد کی بنیادی ضروریات: خوراک، لباس، رہائش اور سلامتی کی ضمانت دینے کی ذمہ دار ہے۔ یہ محض نعروں سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ عوامی املاک کی صحیح پاسبانی، اجارہ داریوں کی روک تھام اور سرمایہ کاری کو ایسے انداز میں چلانے سے ہوتا ہے جو سٹہ بازوں (Speculators) کے بجائے معاشرے کی خدمت کرے۔
آج کی جنگ محض اعداد و شمار اور بجٹ کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ تصورات کی جنگ ہے۔ کیا دولت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کے مطابق انصاف حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، یا غریبوں کے استحصال کے ذریعے منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا ایک آلہ؟ کیا ریاست لوگوں کے معاملات کی ذمہ دار نگہبان ہے، یا محض آزاد منڈی (Free Market) کو ریگولیٹ کرنے والا ایک ادارہ؟ ان سوالات کے جوابات ہی پورے نظام کی اصل نوعیت کا تعین کرتے ہیں۔
جب امت اپنے اسلامی معاشی نظام کو بحال کر لیتی ہے، تو وہ اپنی سیاسی آزادی بھی دوبارہ حاصل کر لیتی ہے۔ جب اس کی فیصلہ سازی قرضوں کے دباؤ اور قرض دہندگان کی عائد کردہ شرائط سے آزاد ہو جاتی ہے، تو وہ حقیقی خارجہ پالیسیاں بنانے، اسٹریٹجک منصوبوں کی مالی معاونت کرنے اور ایک ہی مضبوط ریاست کے فریم ورک کے اندر اپنے تمام وسائل کو متحد کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ تب ہی آزادی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بنتی ہے۔
===
ڈنمارک کے انتخابات: جمہوریت کا ایک اسکینڈل
ڈنمارک میں حالیہ پارلیمانی انتخابات اختتام پذیر ہو چکے ہیں، اور حسبِ معمول، مسلمان میڈیا کی بحثوں اور مباحثوں کا مرکز بنے رہے۔ گزشتہ مہینوں کے دوران انتخابی مہمات میں یہ بات واضح طور پر نظر آئی کہ مسلم ممالک کے پناہ گزینوں اور عام طور پر مسلمانوں کے خلاف توجہ اور منظم پروپیگنڈے میں اضافہ ہوا ہے۔ عوامی گفتگو میں "اپنے وطن واپسی" اور "الٹی ہجرت" (reverse migration) جیسی اصطلاحات عام ہو گئیں۔
اخبار الرایہ: انتخابات کے دوران، ڈینش سیاست دانوں کو کئی اسکینڈلز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں ایک بڑی لبرل جماعت، لبرل الائنس پارٹی کے سربراہ کی جانب سے کوکین کے استعمال کا اعتراف بھی شامل تھا۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک اور سیاست دان، جس نے عام طور پر تارکینِ وطن اور خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ہزاروں ذاتی ووٹ حاصل کیے، وہ خود منشیات کی اسمگلنگ اور اس کے استعمال میں ملوث تھا۔
یہ سب اس کے علاوہ ہے جو مغرب میں عوامی مقبولیت (populist) کی انتخابی مہمات کی ایک امتیازی پہچان بن چکا ہے: یعنی جھوٹ، مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نسل پرستی۔ جہاں یہ سیاست دان ملک سے نام نہاد "مجرموں" کی بے دخلی پر بحث کرتے ہیں، وہیں یہ امر انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ خود بہت سے امیدوار مجرمانہ سرگرمیوں اور دھوکہ دہی میں ملوث ہیں۔
سیکولر مغربی اقدار اور نظام ناکام ہو چکے ہیں، اور وہ اپنے معاشروں کو کسی بامعنی سمت میں رہنمائی فراہم کرنے کے بھی اہل نہیں ہیں۔ اس کا واحد قابلِ عمل متبادل اسلام کا نظام ہے، جسے امتِ مسلمہ کو پوری دنیا میں ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر اپنانا چاہیے، ان تمام لوگوں کے لیے جو خلوصِ دل سے ایک نئی راہ کے متلاشی ہیں۔
===
یہودی وجود کے ساتھ ہمارا معرکہ ایک وجودی معرکہ ہے، مفادات یا قوم پرستانہ حدود کا جھگڑا نہیں
اے مسلمانو! یہودی وجود کے ساتھ ہمارا معرکہ نہ تو مفادات کا ٹکراؤ ہے اور نہ ہی قوم پرستانہ سرحدوں کا جھگڑا، بلکہ یہ ایک وجودی معرکہ ہے جو تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا وعدہ پورا نہ ہو جائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوءُوا وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيراً﴾
"پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا) تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اسی طرح داخل ہو جائیں جس طرح پہلی بار داخل ہوئے تھے، اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے پوری طرح تباہ کر دیں۔" (سورۃ الاسراء: 7)
یہ معرکہ تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک رسول اللہ ﷺ کی یہ خوشخبری پوری نہ ہو جائے:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمْ الْمُسْلِمُونَ، حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرُ: يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ»
"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہ کریں، پس مسلمان انہیں قتل کریں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپے گا تو پتھر یا درخت پکارے گا: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ میرے پیچھے یہودی ہے، آؤ اور اسے قتل کر دو، سوائے 'غرقد' کے کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔" (صحیح مسلم)
حکمران اس معرکے کی ناگزیریت کو نظر انداز کرنے کی جتنی بھی کوشش کریں، یہودی وجود کے ساتھ سیکیورٹی معاہدوں اور دیگر سودے بازیوں میں جتنی بھی جلدی دکھائیں، یا اہل فلسطین کی مدد و نصرت سے غفلت برتیں، یا مسلم سرزمینوں (جیسے شام) پر بار بار ہونے والی جارحیت سے چشم پوشی کریں، اس سے اس معرکے کی وجودی نوعیت یا اس کے حتمی ہونے کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔
جہاں تک یہودی وجود کا تعلق ہے، وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی جدوجہد کو ایک وجودی جنگ کے طور پر ہی لڑ رہا ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کی قوت کے ذرائع کو ختم کرنا اور ان کے علاقوں پر اپنا غلبہ مسلط کرنا ہے۔ وہ دریائے فرات سے نیل تک اپنے توسیعی عزائم کا کھلم کھلا اعلان کرتا ہے، مسجدِ اقصیٰ کو شہید کر کے اس کے ملبے پر اپنی خود ساختہ ہیکل (ٹیمپل) تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور ان مختلف گروہوں اور دھڑوں کی حمایت کرتا ہے جو مسلم سرزمین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ ان تمام حقائق کے بعد، کیا اس معرکے کی حقیقت اور اس کے یقینی ہونے سے غافل رہنا دانش مندی ہے؟
یہودی وجود ایک انتہائی کمزور ڈھانچہ ہے جو مسلمانوں کی افواج کے سامنے ایک سچی اور مخلصانہ مقابلے کی تاب نہیں لا سکے گا۔ "آپریشن طوفانِ اقصیٰ" نے اس کی اپنی کمزوری کو پہلے ہی ثابت کر دیا ہے، جیسا کہ امریکہ نے اسے فراہم کردہ اپنی بھرپور حمایت کی حد سے اس کی کمزوری کو ظاہر کیا ہے، اور یہ وجود کسی ایسی نظریاتی ریاست کے سامنے ہرگز نہیں ٹک سکے گا جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرے، اس کے دین کی سربلندی کے لیے جنگ لڑے، اور جس کے عوام اللہ کی راہ میں جہاد اور شہادت سے محبت کرتے ہوں۔
===
مسلمانوں کی جنگ ایک ہے اور ان کی صلح بھی ایک ہے
مسلمانوں کی جنگ ایک ہے اور ان کی صلح (امن) بھی ایک ہے۔ ان کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بھی کافر کو اپنی سرزمین کے کسی بھی حصے پر حملہ کرنے کی اجازت دیں۔ اس کے بجائے، انہیں ایک جسم کی مانند کھڑا ہونا چاہیے تاکہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا راستہ روکیں۔ رہا اپنی زمینوں، فضائی حدود اور پانیوں کو اپنے (مسلمان) بھائیوں کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے دینا، تو اللہ کی قسم، یہ سنگین ترین گناہوں میں سے ایک ہے۔
مسلم مقبوضات کو ایک ہی ریاست یعنی نبوت کے نقشِ قدم پرقائم خلافت میں متحد کرنا ہی مسلمانوں کو درپیش تمام مسائل کا واحد حل ہے۔ ان کا خلیفہ وہ (ڈھال) ہے جس کے ذریعے وہ تحفظ پاتے ہیں اور جس کے پیچھے رہ کر وہ جنگ لڑتے ہیں۔ خلافت کا وجود استعماری کافروں کو کسی بھی مسلم سرزمین پر جارحیت کا سوچنے سے بھی باز رکھتا ہے۔ اگر مسلمانوں کا خلیفہ ہوتا، تو نہ تو امریکہ اور نہ ہی اس کی پروردہ، مسخ شدہ یہودی ریاست، مسلمانوں پر حملہ کرنے کی جرات کر پاتی۔
اگر یہ مسلمانوں کے 'رویبضہ' یعنی احمق اور ناہل حکمران نہ ہوتے، تو امریکہ نہ تو ایران کے خلاف جارحیت کر پاتا اور نہ ہی اس سے پہلے عراق اور افغانستان پر قبضہ کر پاتا۔ چنانچہ، ہم مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان 'رویبضہ' حکمرانوں کو ہٹانے، اور ان کمزور ریاستوں کے خاتمے کے بعد ان کی جگہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ ثانیہ قائم کرنے کے لیے حزب التحریر کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں اور اس کی مدد کریں۔ اس کا مقصد اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق نظامِ حکومت کا نفاذ، اپنی زمینوں کو کافروں کے حملوں سے محفوظ بنانا اور اسلام کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانا ہے۔
===
استعماری مغرب کو خلافت سے کس بات کا خوف ہے
امریکہ کے لیے اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا اس لیے آسان ہے کیونکہ اس کے پاس وہ طاقت موجود ہے جو اسے کسی حقیقی حریف کے بغیر اپنی حکمت عملیاں ترتیب دینے کے قابل بناتی ہے۔ آج عالمی سیاست کی بساط پر کوئی مخالف قوت موجود نہیں ہے۔ چین ایک تجارتی دیو ہے جس سے آسانی سے نمٹا جا سکتا ہے، اور وہ ابھی تک کسی واضح طور پر متعین طاقت کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اس کے پاس ایسا کوئی نظریہ نہیں ہے جس کے لیے وہ خود کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو۔ اس کے بجائے، وہ خالصتاً تجارتی اور تکنیکی ذہنیت کے ساتھ کام کرتا ہے۔
صرف اسلامی ریاست ہی اس حقیقت کو بدلنے کی صلاحیت رکھے گی، اور یہی وہ چیز ہے جو انہیں خوفزدہ کرتی ہے، اور انہیں مسلم سرزمینوں پر تمام تنازعات کو کنٹرول کرنے، ہمارے ممالک میں فوجی اور اقتصادی ڈھانچے کو تباہ کرنے، اور یہاں تک کہ پہلے سے تقسیم شدہ کو مزید تقسیم کرنے اور اس خطے کو یہودی وجود کا یرغمال بنانے پر مجبور کرتی ہے، تاکہ اسے اس خطے کے اندر ایک 'اسٹرائیک فورس' (Strike Force) بنایا جا سکے، حالانکہ یہ خطہ اسے لگام ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ﴾
"وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر فرما رہا تھا، اور اللہ بہترین تدبیر فرمانے والا ہے" [سورۃ الانفال: 30]۔
اسلامی ریاست اللہ کے حکم سے یقیناً قائم ہو کر رہے گی، کیونکہ یہ ہم سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ ایک ایسی 'حزب' (جماعت) اس کے لیے کام کر رہی ہے، جس نے اس مقصد کو اپنا رکھا ہے اور اسے مسلسل اپنی نظروں کے سامنے رکھا ہوا ہے۔ یہ حزب التحریر ہے جس کا عزم کمزور نہیں پڑتا اور جس کا ارادہ متزلزل نہیں ہوتا، اور جو یہ جانتی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ضرور کامیابی عطا فرمائے گا، چاہے وہ کچھ وقت کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ اللّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ﴾
"بے شک جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے مال اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکیں، سو وہ اسے خرچ کرتے رہیں گے پھر وہ (مال) ان کے لیے باعثِ حسرت بن جائے گا پھر وہ مغلوب کر دیے جائیں گے، اور کفر کرنے والے جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے" [سورۃ الانفال: 36]۔
===
اسلامی امت، انتشار اور بیداری کے درمیان
ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ امت کی حالت تب تک نہیں بدلے گی جب تک وہ محض انتظار کی کیفیت میں رہے گی۔ یہ امت نعروں، تقریروں، جمعہ کے خطبات، یا قرآنِ مجید کے احکامات کو نافذ کیے بغیر محض قرآنی تعلیم کے مراکز کھولنے، یا صرف معجزات کی تمنا کرنے سے اپنا کھویا ہوا وقار حاصل نہیں کر سکتی۔ اس کے بجائے، جس چیز کی ضرورت ہے وہ حقیقی شعور، منظم جدوجہد (نیک اعمال) اور مخلصانہ صف بندی ہے۔ بیداری کا راستہ آسائشوں سے مزین نہیں ہے، بلکہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔
تاہم، وہ سوال جو ایمانداری سے پوچھا جانا چاہیے وہ یہ ہے: کیا ہم بغیر کسی سمت کے ایک امت کے طور پر رہنا قبول کرتے ہیں، یا ہم اس کی بحالی کے راستے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر ہم 'تمکین' (اقتدار و غلبہ) والی نسل نہیں ہیں، تو کم از کم ہمیں وہ نسل بننا چاہیے جو اس کے لیے راستہ ہموار کرے۔ آئیے ان لوگوں کے ساتھ مل کر کام کریں جنہوں نے نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے ذریعے امت کو اس کے حقیقی رخ پر واپس لانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں، یعنی حزب التحریر۔
لہٰذا، اے ہماری افواج، اے ہماری عسکری قوت کے منبع، اس امت کے مددگار بنو اور خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کی تیاری کرو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾
"اور مدد (و نصرت) تو اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو غالب اور حکمت والا ہے" (سورۃ آل عمران: 126)
===
آج ہم جس تقسیم کا سامنا کر رہے ہیں وہ ہماری تقدیر نہیں، بلکہ ایک عارضی صورتحال ہے جسے ختم کیا جا سکتا ہے
مسلمانوں کی ریاست کی بحالی کی پکار کا آغاز مسلمانوں کے ذہنوں سے قوم پرستانہ سرحدوں اور نقشوں کو مٹانے سے ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی موجود اس کا بھائی اس کا اپنا ہی حصہ ہے، اور ان کا مقصد ایک اور تقدیر مشترک ہے، تو امت کے حقیقی خدوخال ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب عقیدے کے سامنے قوم پرستی پیچھے ہٹ جاتی ہے، اور محدود قومی شناختیں ایک وسیع تر اسلامی شناخت میں ضم ہو جاتی ہیں، تو امت کو دوبارہ اس شکل میں تعمیر کرنا ممکن ہو جاتا ہے جو محض ایک خواب نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی حقیقت تھی جسے امت نے ایک طویل عرصے تک جیا ہے۔
سوال یہ نہیں ہے کہ: کیا وہ اتحاد واپس آ سکتا ہے؟۔ اس کے بجائے سوال یہ ہے کہ: جب ہم جانتے ہیں کہ ہماری تاریخ نے اس سے کہیں بہتر اور عظیم تر منظر دیکھے ہیں، تو پھر ہم اس (تقسیم والے) متبادل کو کیوں قبول کرتے ہیں؟۔ وہ امت جو کبھی ایک جسم کی مانند تھی، اسے ٹکڑوں میں بٹے رہنے کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے، چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے۔ آج امت تقسیم اور کمزوری کی جس صورتحال سے گزر رہی ہے وہ تقدیر نہیں، بلکہ ایک عارضی حالت ہے جسے ختم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ مسلمان اپنی حقیقی شناخت اور اجتماعی وحدت کا شعور دوبارہ حاصل کر لیں۔
وہ امت جس نے انہیں متحد کیا تھا کوئی افسانہ نہیں تھی، بلکہ ایک زندہ حقیقت تھی جسے اس عقیدے نے ڈھالا تھا جب وہ اعلیٰ ترین حوالہ (Reference point) تھا، اور جب امت خود کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتی تھی، جسے نہ تو قوم پرستانہ سرحدیں تقسیم کر سکتی تھیں اور نہ ہی جھنڈے جدا کر سکتے تھے۔ اس عظمت کی بحالی محض ماضی کی یادوں میں کھوئے رہنے یا موجودہ حالات پر صرف ماتم کرنے سے نہیں آئے گی۔ بلکہ یہ لوگوں کے دلوں میں 'امت' کے معنی کو زندہ کرنے کے لیے سنجیدہ اور وقف شدہ جدوجہد کرنے، اور تمام دیگر وابستگیوں سے بالاتر ہو کر عقیدے کی بنیاد پر شناخت قائم کرنے سے حاصل ہوگی۔
یہ پیشرو رہنما، جس کی سچائی سب پر عیاں ہے اور جس نے خود کو اس مقدس مشن کے لیے وقف کر دیا ہے، آپ کو اس ریاست کی تعمیرِ نو کے لیے سنجیدہ اقدام اور مخلصانہ کوشش کی دعوت دیتا ہے جو مسلمانوں کو ایک ہی 'رایۃ' (جھنڈے) کے سائے تلے متحد کر دے۔ آئیے اس دعوت کو ایک ایسی پکار بنا دیں جو مٹتے ہوئے نقوش کو زندہ کرے، کھوئے ہوئے وقار کو واپس لائے، اور ایک ایسی ریاست کے قیام کے لیے کام کرے جو امت کے بکھرے ہوئے حصوں کو اکٹھا کرے، اس کی وحدت اور طاقت کو بحال کرے، تاکہ یہ دوبارہ 'بہترین امت' کے طور پر ابھرے، اپنا پیغامِ رسالت ایک بار پھر دنیا تک پہنچائے، اور اس تہذیب کو زندہ کرے جو دنیا کو فاسد سرمایہ دارانہ نظام کی گراوٹ سے نجات دلا سکے۔
===
مسلمانوں اور انسانیت کو جہالت، ظلم اور تشدد سے بچانے کا واحد راستہ
خالق، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا نازل کردہ اسلام کا نظام وہ واحد راستہ ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کو جہالت، ناانصافی اور تشدد کے ساتھ ساتھ معاشی تباہی اور اخلاقی زوال سے نجات دلا سکتا ہے، اور انہیں دائمی خوشی اور حقیقی و پائیدار فلاح و بہبود عطا کر سکتا ہے۔ اس نظام کو ایجاد کرنے یا تخلیق کرنے کی انسانیت کو ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ چودہ صدیوں سے زیادہ عرصے سے بغیر کسی تحریف یا خرابی کے موجود ہے، اور اپنی اصل و پاکیزہ شکل میں ویسا ہی محفوظ ہے جیسا کہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی میں نازل ہوا تھا۔
پوری انسانیت اور خاص طور پر امتِ مسلمہ کو ایسے صالح اور باصلاحیت قائدین کی ضرورت ہے جو اس نظام کو کسی بھی دوسری چیز کی آمیزش کے بغیر اس کی اصل روح کے مطابق سمجھ سکیں، اسے صحیح طریقے سے دوسروں تک پہنچا سکیں اور اسے مناسب طریقے سے نافذ کر سکیں۔ کیا امت میں کوئی ایسا ہے جو ان صفات کا حامل ہو؟ جی ہاں، وہ آپ کے درمیان، آپ کے اندر اور 1953 سے آپ کے ساتھ موجود ہیں۔
اے مسلمانو! ان کی بات سچے دل سے سنو اور سچی بصیرت کے ساتھ ان کا مشاہدہ کرو، تاکہ تم سچائی کو اس کی اصل شکل میں پہچان سکو۔ ان کی بات سنو، ان سے مضبوطی سے وابستہ ہو جاؤ، ان کی پیروی کرو، ان کی حمایت کرو اور ان کی نیک باتوں پر پورے شعور اور مخلصانہ لگن کے ساتھ عمل کرو، تاکہ تمہارے قدم حق اور ہدایت کے راستے پر استوار ہو سکیں۔ آج پوری دنیا اور خاص طور پر آپ مسلمانوں کو اس کی شدید ضرورت ہے۔ یہی نجات، ہدایت اور حقیقی خوشحالی کا واحد راستہ ہے۔




