المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان
| ہجری تاریخ | 28 من شوال 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/37 |
| عیسوی تاریخ | منگل, 14 اپریل 2026 م |
پریس ریلیز
مکہ اور اسلام آباد کے درمیان: سیاسی اور فوجی قیادت کی غداری اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم کرنے کا موقع!
سعودی وزارتِ دفاع نے ہفتہ 11 اپریل 2026 کو کہا کہ پاکستان نے "مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے لڑاکا طیارے اور دیگر فوجی دستے سعودی عرب بھیجے ہیں، یہ اقدام اس وقت لیے گئے جب اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر رہا تھا۔" پاکستان نے کئی ہزار فوجی اور F-16 طیارے سعودی عرب میں تعینات کیے۔ اسی روز سعودی وزیرِ خزانہ محمد الجدعان اسلام آباد پہنچے اور پاکستان کے لیے 5 ارب ڈالر کے سعودی-قطری مالی تعاون کی تصدیق کی۔
پاکستان کی ایجنٹ سیاسی و فوجی قیادت نے ٹرمپ کی ڈکٹیشن پر اسلام آباد میں امریکہ ایران کے درمیان طویل میرا تھن مذاکرات کا انتظام کیا۔ طویل شب بیداری کے بعد بھی بالآخر ان کا یہ داؤ فوری کارگر ثابت نہیں ہوا جس میں پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی صلیبی اتحاد کے لیے وہ فتح حاصل کرنے کی کوشش کی جو امریکہ میدانِ جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ تو اب ان حکمرانوں نے پاکستان کی مجاہد افواج کو 'صلیبی محاذ' پر بھیج دیا ہے تاکہ وہ امریکہ کیلئے فتح عسکری طاقت کے ذریعے حاصل کریں، وہ یوں کہ مسلمان افواج کو امام مسلم اور امام بخاری کی نسلوں کے خلاف لڑا کر ان کی خون کی قیمت پر امریکہ کے لیے فتح کو حاصل کیا جائے۔
آخر یہ کیسا مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے؟ کیا یہ معاہدہ حرمین کے تحفظ کیلئے ہے، یا حرمین پر قابض غدار حکمرانوں کے تحفظ کے لئے؟! حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ کے مفادات اور اس کے آلِ سعود جیسے ایجنٹوں کے دفاع کے لیے ہے، چاہے اس کے لیے مسلمانوں کے خون کی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے! کیا خود حجاز آلِ سعود کے خاندان سے پاک کرنے کا محتاج نہیں، جو امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور جنہوں نے ملک کو امریکی صلیبی افواج کے لیے کھول دیا تاکہ وہ فوجی اڈے قائم کریں جہاں سے مسلمانوں پر بمباری کی جاتی ہے؟! کیا آلِ سعود وہی نہیں جنہوں نے خلافتِ عثمانیہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپا اور برطانیہ کے ساتھ مل کر اسے گرا دیا؟! تو کیا ایسے لوگوں کا دفاع باعثِ عزت ہے یا باعثِ ذلت و رسوائی؟
اے پاکستان کے مسلمانوں اور اس کی مسلح افواج کے مخلص افراد! تمہارے سیاسی اور عسکری حکمرانوں نے تمہاری اسلامی فوج کو، جو اسلام اور جہاد کی محبت پر قائم ہوئی تھی، ایک کرائے کی فوج میں تبدیل کر دیا ہے جو معاشی رشوت کے عوض صلیبیوں کے ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑتیں ہیں۔ اور اب یہ حکمران اس حد تک جا پہنچے ہیں کہ کسی بھی کلمہ گو مسلمان کے لیے، چاہے وہ عام فرد ہو یا فوجی، ایک لمحے کے لیے بھی خاموش رہنا جائز نہیں۔ جب پاکستانی فوج سمندروں اور صحراؤں کو عبور کر سکتی ہے تو پھر وہ فلسطین کی مقدس سرزمین کی طرف کیوں نہیں بڑھتی، مسجدِ اقصیٰ کو آزاد کیوں نہیں کرواتی اور اپنی کوتاہی کا کفارہ کیوں نہیں ادا کرتی؟! کیا تم سمجھتے ہو کہ یہودی ریاست کو ختم کرنے کے لیے یہ مجاہد فوجی دستے کافی نہیں، جبکہ فلسطین کے چند سو مجاہدین نے یہودی ریاست کو روکے رکھا، جن کے پاس اسلحہ پاکستان کے مقابلے میں عشرِ عشیر بھی نہیں تھا! یہ تمہارے حکمرانوں کی خیانت اور تمہارے فوجی قائدین کی کمزوری ہے کہ یہودی وجود اور امریکہ مسلم سرزمینوں پر دندناتے پھر رہے ہیں، لہٰذا تم اس خیانت اور کمزوری میں ان کے شریک نہ بنو، جبکہ تم اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان جانتے ہو:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
"اے ایمان والو! اللہ اور رسول ﷺ سے خیانت نہ کرو، اور نہ ہی اپنی امانتوں میں خیانت کرو، جبکہ تم جانتے ہو۔" (سورۃ الانفال:27)
اے پاکستانی فوج کے مخلص افسران! اگر تمہارے پاس محمد بن قاسمؒ یا صلاح الدینؒ جیسا قائد ہوتا تو وہ تمہارے ان فوجی دستوں کو حرمین کی سرزمین کو آلِ سعود سے پاک کرنے کے لیے استعمال کرتا، سرزمینِ نبوت کو امریکی اڈوں اور بحری بیڑوں سے صاف کرتا، اور حزب التحریر کو نصرۃ دیتا تاکہ وہ حرمین شریفین کی سرزمین سے خلافتِ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کا اعلان کرے۔ وہ خراسان کے لوگوں کو متحد کر کے خلافت کے ساتھ جڑنے کا موقع فراہم کرتا، جو انہیں موجودہ ظلم و ستم سے نکالتی، اور یوں خلیفہ حجاز، خراسان اور پاکستان کو متحد کر دیتا، اور ایک عظیم ریاست وجود میں آ جاتی۔
لہٰذا اے مخلصین! پاکستان اور حجاز کی سرزمین میں اٹھ کھڑے ہو، دونوں ملکوں میں خائن حکمرانوں کے تخت الٹ دو، اور اپنی نصرۃ اس حقیقی قائد کو دو جو تمہاری نمائندگی کرتا ہے اور تمہارے عقیدے اور نظریے کا ترجمان ہے۔ جان لو کہ یہ مغربی غلامی سے آزادی اور اپنی اور اپنی امت کی نجات کا ایک سنہری موقع ہے، خلافتِ علیٰ منہاج النبوۃ کے سائے میں، جس کی بشارت تمہارے نبی کریم ﷺ نے دی تھی۔ خبردار! اس موقع کو ضائع نہ کرنا، ورنہ بعد میں اس وقت پچھتاؤ گے جب پچھتاوا فائدہ نہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ، أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ﴾
"اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں نکلو تو تم زمین سے چمٹ کر بیٹھ جاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ تو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا فائدہ تو بہت ہی تھوڑا ہے۔" (سورۃ توبہ:38)
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ پاکستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: https://bit.ly/3hNz70q |
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com |




