الخميس، 16 رمضان 1447| 2026/03/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ظالم ٹرمپ اور اس کے چیلے،قابض یہودی وجود نے ایران پر ایک وحشیانہ حملہ برپا کر دیا ! 

(ترجمہ)

 

 

 

 

ہفتہ کے روز امریکہ اور یہودی وجود نے ایران کے خلاف باہمی اشتراک کے ساتھ ایک وسیع حملے کا آغازکر دیا، جس کے نتیجے میں دارالحکومت تہران سمیت قم، أصفهان، كرمانشاه اور کرج جیسے شہرزوردار دھماکوں سے گونج اٹھے۔ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ہم نے ایران میں بڑی جنگی کارروائیوں کی باقاعدہ شروعات کردی ہے۔ 'اسرائیلی' چینل-12 نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے ایرانی حکومت کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے (الجزیرہ، 28 فروری، 2026ء)۔ ٹرمپ نے اپنی متکبرانہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اس کی افواج دنیا کی سب سے طاقتور اور مضبوط عسکری قوت ہیں، اور یہ کہ وہ ہرگز اس امر کی اجازت نہیں دے گا کہ ایران کے پاس ایٹمی اسلحہ اور میزائل موجود رہیں۔ ٹرمپ کے چیلے، نیتن یاہو نے بھی انہی بیانات کا اعادہ کیا اور ٹرمپ کی زبان کو دُہرایا۔ جبکہ ایران کی وضاحت کو الجزیرہ چینل نے ان الفاظ میں رپورٹ کیا ، ایران کے وزیر خارجہ، عباس عراقجي نے بیان دیا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کے بنیادی اور قانونی حق ،کے دائرے میں رہتے ہوئے ملکی دفاع کے لیے اپنی عسکری صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا ( 28 فروری، 2026ء)۔ پس ایران نے بھی قابض یہودی وجود اور خلیج میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل داغنے کا آغاز کر دیا۔

 

یہودی وجود کے طیاروں اور امریکی فضائیہ نے مل کر خشکی سے، سمندر سے اور فضا سے آج ایران کے فوجی اڈوں اور سرکاری مراکز پر حملے کا آغاز کیا ، جن میں سے زیادہ تر حملے ایران کے دارالحکومت میں واقع سرکاری ہیڈکوارٹرز، ایرانی سپریم لیڈر اور ایرانی صدر کے دفتر پر مرکوز رہے۔ ابتدائی بیانات یہ اشارہ دیتے  ہیں کہ یہ حملے چار سے دس دن تک جاری رہ سکتے ہیں، اور غیر معینہ مدت تک کے لئے بھی جاری رہ سکتے ہیں جب تک کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام مکمل طور پر ختم نہ کر دیے جائیں۔ اسرائیلی ذرائع نے اشارہ دیا کہ حملوں کا پہلا مرحلہ ممکنہ طور پر چار دن تک جاری رہ سکتا ہے، اور اسے جولائی 2025ء کے موسمِ گرما کے دوران شروع کی گئی بارہ روزہ جنگ کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ دریں اثناء، خبر رساں ادارے، سی بی ایس (CBS) کے مطابق، ایک امریکی ذرائع نے بتایا کہ حالیہ امریکی ملٹری کاروائی تقریباً دس دن تک جاری رہ سکتی ہے"(العربیہ، 28 فروری، 2026ء)۔

 

اے مسلمانو !

 

ایران کے خلاف یہ وحشیانہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے کہ جب اس کی خارجہ پالیسی امریکہ کے مدار میں ہی گردش کر رہی تھی اوروہ خطے میں عراق، افغانستان اور دیگر بہت سے علاقوں میں امریکہ کی برپا کی گئی جنگوں میں امریکہ کوخدمات فراہم کر رہا تھا۔ اُس وقت  امریکہ نے ایران کے خلاف میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کا معاملہ نہیں اٹھایا تھا۔ بلکہ اوباما نے یورپی ممالک کے اشتراک سےایران کے ساتھ 2015ء کا معاہدہ طے کیا تھا، جس کے تحت ایران کو 3.67 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان تمام برسوں کے دوران ایران کی خارجہ پالیسی امریکہ کے مدار میں گردش کرتی رہی ، تقریباً اسی طرح جیساکہ ترکی کا معاملہ تھا۔ پھر جب جابر ٹرمپ برسرِ اقتدار آیا تو اس نے چاہا کہ ایران  امریکہ کے دائرہ اثر میں چلتے رہنے  سے بڑھ کر اب ایک اطاعت گزارایجنٹ ریاست بن کر رہے، وہ وہی کچھ بولے جو ٹرمپ کہے اور وہی کچھ کرے جو ٹرمپ چاہے۔ پس ایران ابتدا میں امریکہ کے پرفریب مذاکرات میں داخل ہوا، جو مسقط میں ہوئے ، اور اس کے تقریباً پانچ راونڈز ہوئے ۔ بعد ازاں ٹرمپ اور یہود نے ایران پر حملوں کا آغاز کر دیا، جنہیں بارہ روزہ جنگ کا نام دیا گیا، اور یہ واقعات بعینہٖ اسی ترتیب سے ہوئے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اس نے تین ایرانی ایٹمی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بناکر تباہ کر دیا ہے۔ اس نے اشارہ دیا کہ فردو، نطنز اور أصفہان کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ امن قائم کرے اور جنگ کا خاتمہ کرے۔ امریکی وزیرِ دفاع، پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) نے بھی اس امر کی توثیق کی کہ امریکی حملوں نے ایران کے جوہری عزائم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے (بی بی سی، 22 جون، 2025ء)۔

 

بہرحال وہ حملے ایران کو ایک عالمی طاقت کے مدار میں گردش کرنے والی ریاست کی حیثیت سے نکال کر ایک ایجنٹ ریاست میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بلکہ ایران میں چند آوازیں اٹھیں  کہ ہمیں امریکی خارجہ پالیسی کے دائرے  میں گردش کرنے سے مکمل طور پر نکل جانا چاہئے ۔ چنانچہ امریکہ نے ایک بار پھر مذاکرات کا حربہ استعمال کیا ، اور اسی پرانے ایجنڈے کو موضوعِ بحث بنایا، یعنی ایران کے میزائل اور جوہری پروگراموں اور اسلحہ سازی کا خاتمہ ۔ اور جس طرح ماضی میں پانچ راؤنڈز کے مذاکرات کے بعد حملہ کیا گیا تھا، وہی منظرنامہ ہوبہو اس مرتبہ بھی دہرایا گیا ہے؛ اوراس بار تومذاکرات کے تین ادوار کے بعد ہی حملے کا راستہ اختیار کر لیا گیا !

 

اے مسلمانو !

 

مسلم ممالک کے حکمران اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ کفار کا حلیف بننا کس قدر سنگین ہے، اور ایسا کرنا نہ صرف دنیا میں رسوائی کا باعث ہے بلکہ اس کے لئے آخرت میں بھی دردناک عذاب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

 

﴿الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً

 

 

جو لوگ مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں، تو کیا وہ ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں؟ بے شک عزت تو ساری اللہ ہی کے لئے ہے (النساء؛ 4:139)۔

 

مسلم علاقوں کے حکمران اس بات کا ادراک نہیں کرتے کہ کافر اقوام کا اولین مقصد اپنے مفادات کی حفاظت کرنا ہے اور وہ مسلمانوں کے خلاف بغض رکھتے ہیں اور دن رات ان سے دشمنی کرتے ہیں۔ اگر یہ کفار ایک ایسے ملک سے کسی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں جو ان کے دائرۂ اثر میں گردش کر رہا ہو، حتی کی کوئی  حکمران  ان کا مکمل ایجنٹ ہی ہو؛ تو ان کفارکی طرف سے رضامندی کا یہ اظہاراس لئے نہیں ہوتا کہ وہ اس ملک کا بھلا چاہتےہیں، بلکہ اس کے ذریعےوہ اپنے اصل جذبات کو چھپاتے ہیں اور اپنے شر پر پردہ ڈالتے ہیں۔ اگر مسلم دنیا کے حکمران-خواہ وہ ان کے دائرۂ اثر میں گردش کر رہے ہوں یا ہر پہلو میں ان  ایجنٹ ہوں- یہ بات سمجھ لیتے کہ جب امریکہ کے مفادات ان حکمرانوں کو ہٹانے کا تقاضا کرتے ہیں تو امریکہ انہیں قطعاً کوئی اہمیت نہیں دیتا، تو یہ حکمران شاید تاریخ کے اسباق سے کوئی سبق سیکھ لیتے۔ کتنے ہی ایجنٹ ایسے ہیں جنہیں امریکہ نے ان کا کردار ختم ہو جانے کے بعد تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا؟ اگر ان حکمرانوں میں ذرہ برابر بھی کوئی عقل و شعور ہوتا، تو وہ کفار کو رائی کی طرح ٹھکرا دیتے، لیکن وہ بہرے ہیں، گونگے ہیں اور اندھے ہیں، اور اپنے اس طرزعمل سے رجوع نہیں کرتے۔ کافر استعمار کے ساتھ ان کی وفاداری اس نہج تک جا پہنچی ہے کہ جب ان کے کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے، تو باقی اس کی مدد کے لئے آگے نہیں بڑھتے۔ زیادہ سے زیادہ جو یہ کر تے ہیں،وہ ہلاک شدگان اور زخمیوں کو شمار کر نا ہے! جیسا کہ ایران پر حملے کے معاملے میں ہوا ۔

 

اے مسلمانو !

 

آپ کی شان و عظمت اسی میں ہی پنہاں ہے کہ خلافتِ راشدہ کا احیاء ہو۔ باشعور اور رہنما جماعت، حزب التحریر، جو اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولتی، اس نے اپنے آپ کواخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ اس کام کے لئے وقف کر رکھا ہے، تاکہ اللہ کے حکم سے خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کا ازسرنو آغاز کیاجا سکے۔ حزب التحریر ہی حقیقتاً وہ رہنما اور پیش رَو جماعت ہے جو اپنے لوگوں کو کبھی دھوکہ نہیں دیتی، ایک ایسی جماعت جس کی  خیر و بھلائی نمایاں اور روشن ہے، اور خیر کی اس دمک سے وہ سب لوگ دور ہوتے جاتے ہیں جو اس بھلائی کا سامنا نہیں کر سکتے ۔ ہم اس معاملے کو اسی انداز سے دیکھتے ہیں، اور ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ حزب کے ساتھ کام کرنے والے سب اراکین مخلص، محنتی اور سنجیدہ لوگ ہیں، جو اللہ کے حکم سے آخرت کو دنیا سے بھی زیادہ مقدم جان کر ایک انتھک جدوجہد میں سرگرمِ عمل ہیں۔ وہ دن رات جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں، اللہ کی رحمت سے پر امید کہ اللہ کا وعدہ اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت ان کے ذریعے پوری ہو ۔ اور ایسا ہونا اللہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔

 

خلافت کا قیام ہی وہ امر ہے جو امت کو بچائے گا، اس کی شان کو بحال کرے گا، اس کی طاقت کو اس قدر مضبوط کر دے گا، کہ اس کے دشمن اس پر حملہ کرنے کی جرأت کرنے سے قبل ہزار بار سوچیں گے۔ اور یہ صرف اس امت کی ریاستِ خلافت کی واپسی سے ہی ہو سکے گا اور پھرزمین خیر و بھلائی اور عدل و انصاف سے منور ہو جائے گی۔جس طرح خلافت نے روم کے قیصر اور فارس کے خسرو اور ان کے عوام کے گھمنڈ اور تکبر کو خاک میں ملا دیا تھا، اسی طرح دوبارا قائم ہونے والی خلافت ان  کے پیروکاروں  - جابر ٹرمپ اور استعماری کفار میں موجود اس جیسے دیگر لوگوں -کے تکبر کو بھی روند ڈالے گی۔

 

اور جہاں تک یہودی وجود کا تعلق ہے، تو یہ تو اس قدر بے وقعت اور حقیر ہے کہ اس کا کوئی وزن  نہیں ،جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرما دیا ہے،

 

﴿لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ

 

وہ معمولی ستانے کے سوا تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا (آل عمران؛ 3:111)۔

یہود تو اپنے بل بوتے پر مضبوطی سے کھڑے ہونے کے بھی قابل نہیں ؛ یہ تو صرف لوگوں کے آسرے سے ہی لڑنے کی ہمت کر پاتے ہیں، جیسا کہ القوي العزيز نے ارشاد فرمایا ہے،

 

﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ

 

یہ جہاں کہیں بھی جائیں، ان پر ذلت مسلط کر دی گئی ہے، سوائے اس کے کہ اللہ کا کوئی سہارا حاصل ہو جائے یا لوگوں کی طرف سے کوئی سہارا مل جائے (آل عمران؛ 3:112)  ۔

 

انہوں نے اللہ کے سہارے کو تو کاٹ ڈالا ہے اور اب ان کے لیے صرف لوگوں کا سہارا ہی بچاہے، یعنی امریکہ، یورپ اور ان کے ایجنٹ، یعنی مسلمان علاقوں میں موجود غدار حکمران، جو یہود کی وحشیانہ جارحیت کے باوجود بے حس و حرکت پڑے رہتے ہیں۔ آج موجودہ مسلمان علاقوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے حکمران اُن استعماری کفار کے حواری ہیں، کہ جواسلام اور مسلمانوں کے شدید دشمن ہیں۔ پس مسلمانوں کا وبال ان کے حکمران اور ان کاکافر استعمار کی تابعداری کرناہے۔ یہ حکمران بھاگ بھاگ کر ان کفار کے احکامات کی بجا آوری کرتے ہیں اور ان کاموں سے رُکے رہتے ہیں جنہیں یہ کفار منع کر دیں، حالانکہ ان کی وفاداری اللہ کے ساتھ ہونی چاہئے تھی، کہ اللہ کے احکام کی پابندی کرتے، اللہ کی راہ میں جہاد کرتے، اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کی پیروی اختیار کرتے۔ اگر اب بھی وہ ایسا کر لیں گے، تو اسلام اور مسلمانوں کا وقار بحال ہوجائے، اور کفر و کفار ذلیل و خوار ہو جائیں ۔

 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے،

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

اور اس دن مؤمنین خوش ہو جائیں گے، اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، مدد دیتا ہے اور وہ غالب و مہربان ہے ] الروم، 4-5 [

 

 


      

 

 

ہجری تاریخ :11 من رمــضان المبارك 1447هـ
عیسوی تاریخ : ہفتہ, 28 فروری 2026م

حزب التحرير

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک