الخميس، 14 ربيع الأول 1448| 2026/08/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    9 من ربيع الاول 1448هـ شمارہ نمبر: 1448/032
عیسوی تاریخ     ہفتہ, 22 اگست 2026 م

 

پریس ریلیز

 

امتِ مسلمہ کے خلاف جنگ میں لڑکھڑاتے ہوئے امریکہ کو ہمارے حکمران بیساکھیاں کیوں فراہم کر رہے ہیں؟!

 

امریکہ پابندیوں، اقتصادی محاصرے اور فوجی بازدارندگی کے طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایران کے مسلمانوں کی گردنوں پر شکنجہ کس رہا ہے۔ 20 اگست 2026ء کو امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان تھامس ”ٹامی“ پگوٹ نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا: ”دہائیوں سے ایرانی حکومت پورے مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے حزب اللہ کو استعمال کرتی رہی ہے۔ آج امریکی محکمۂ خزانہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی قدس فورس (IRGC-QF) کی حمایت میں اس کی کارروائیوں کے باعث حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کی تجدید کر رہا ہے۔“

 

حسبِ معمول، مسلمانوں کے حکمران ہی مسلمانوں پر امریکی حملوں میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ 7 اگست کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے حکمرانوں نے ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے“ پر دستخط کیے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاہدے پر بہت خوش ہیں۔ یہ معاہدہ ایران کے خلاف پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

 

15 اگست کو امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے کمانڈر نے مشرقِ وسطیٰ کا دس روزہ دورہ مکمل کیا، جس کا مقصد بحرین، عراق، اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی افواج کو ہدایات دینا تھا۔ 18 اگست کو جدہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے دوران ”کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد“ کو فعال کیا گیا۔ یہ مسلمانوں کی بحری افواج پر مشتمل ایک ایسا اتحاد ہے جس کا مقصد یمن میں ایران کو اس کے تابع گروہوں سے الگ کرنا ہے۔

 

مزید یہ کہ، عراقی حکمران انسدادِ بدعنوانی کی مہم کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو عراق میں اپنے پراکسیوں سے جدا کر رہے ہیں، جب کہ لبنانی حکمران ایران کو لبنان میں اس کی ”حزب“ سے الگ کرنے کے درپے ہیں۔ اب یہ محض وقت کی بات ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف مسلمانوں کی افواج کو متحرک کر دے۔ ساتھ ہی وہ اپنے ٹیکٹکل اور سٹریٹیجک، دونوں طرح کے جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے حوالے سے عالمی رائے عامہ کے ردِّعمل کو بھی جانچ رہا ہے۔

 

جو چیز دل کو رنجیدہ کرتی اور پھر اللہ ﷻ کی خاطر غضب ناک کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے یہ خائن حکمران نہ ہوتے تو امریکہ کبھی بھی کسی مسلم ریاست کو نقصان پہنچانے کے قابل نہ ہوتا؛ چہ جائیکہ وہ ایک کے بعد دوسری مسلم ریاست کو نشانہ بناتا رہے اور باقی ریاستیں اپنی باری کا انتظار کرتی رہیں۔

 

انڈونیشیا سے مراکش تک مسلم ریاستوں اور امریکہ کے درمیان سمندر حائل ہیں۔ کسی بھی مسلم ریاست پر حملہ کرنے کے لیے امریکی جنگی جہاز طویل اور انتہائی غیر محفوظ سمندری مواصلاتی راستوں (SLOCs) پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی طرح، اس کے فوجی اڈے، جن میں اس کا اگلا مورچہ، یہودی وجود (اسرائیل)، بھی شامل ہے، مسلمانوں کی سرزمینوں میں قائم ہیں اور پانی، خوراک، لباس، پناہ، سلامتی اور اسلحے کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر بے نقاب زمینی مواصلاتی راستوں (GLOCs) پر منحصر ہیں۔

 

مزید برآں، امریکہ اپنی طاقت کے عروج پر نہیں بلکہ زوال کے ایک نمایاں دور سے گزر رہا ہے۔ وہ صرف لڑکھڑاتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے اور مسلمانوں میں موجود اپنے ایجنٹوں اور پیروکاروں کی فراہم کردہ سہاروں پر انحصار کر رہا ہے۔ امریکہ کا معاشی زوال اس کے آسمان سے باتیں کرتے قرضوں کے بحران سے ظاہر ہے، جہاں سرمایہ دارانہ بینک اور کارپوریشنیں سود (ربا) سے اپنے پیٹ بھرنے کے لیے عام امریکی شہری کا خون چوس رہی ہیں۔ اس کا فوجی زوال اس بات سے عیاں ہے کہ وہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے اس دھڑے پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکا جس نے امریکہ کی اطاعت سے انکار کیا۔ مزید برآں، اس کے بزدل فوجی دستے ایران کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے زمینی کارروائی شروع کرنے سے بھی قاصر رہے ہیں۔

 

اس کا سیاسی زوال اس کی ”ڈیپ اسٹیٹ“ میں پڑنے والی گہری دراڑوں سے واضح ہے، جہاں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن ایک دوسرے کی آنکھیں نوچنے میں مصروف ہیں اور اس کے عالمی اتحادی بھی اس کے تکبر اور انہیں تنہا چھوڑ دینے کی پالیسی پر غم و غصے سے تلملا رہے ہیں۔

 

اے امتِ اسلام اور اس کی افواج!

 

دل کو جس غم نے گھیر رکھا ہے، وہ یہ ہے کہ کاش ہماری افواج کے مخلص افسران اس موقع سے فائدہ اٹھاتے، بیمار امریکہ کے سہاروں کا تختہ الٹ دیتے اور تمام مسلم ریاستوں کو ایک واحد خلافتِ راشدہ کے تحت متحد کر دیتے۔ ایسی صورت میں امریکہ اپنے اڈوں پر حملوں اور مسلمانوں کے سمندروں میں اپنے جنگی جہازوں کے غرق کیے جانے کے بعد اس خطے سے فرار ہونے پر مجبور ہو چکا ہوتا۔

 

اگر صرف ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کا مزاحمتی دھڑا حزب التحریر کی پکار پر لبیک کہتا اور خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرتا، تو ایران مسلم ریاستوں کو متحد کرنے کا ایک مضبوط مرکز بن سکتا تھا۔

 

تاہم، بعید نہیں کہ خلافت کی عدم موجودگی میں امریکہ، اسلامی امت کی طاقت کو خود امت کے خلاف استعمال کرتے ہوئے، بالآخر ایران کو جلد یا بدیر امریکہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔

 

جب تک خلافت اس کے ظلم کا راستہ نہیں روکتی، امریکہ مسلمانوں کے حکمرانوں کی مدد سے ایران سے آگے بڑھ کر تمام مسلم ریاستوں پر حملے جاری رکھے گا۔

 

لہٰذا مسلمانوں کی طاقتور ترین افواج، یعنی پاکستان، حجاز، ترکی اور مصر کی افواج کے مخلص افسران کو چاہیے کہ وہ فوراً حرکت میں آئیں، خائن حکمرانوں کو ہٹا دیں اور خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرت دیں جو کفار کے ساتھ اتحاد ختم کرے گی اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو متحد کرے گی۔ پس مسلمانوں کی کون سی فوج دین کی تمکین (سربلندی اور اقتدار) کے لیے سب سے پہلے نصرۃ (عسکری مدد) پیش کرنے کا شرف حاصل کرے گی؟

 

مرکزی میڈیا آفس، حزب التحریر

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
http://www.hizb-ut-tahrir.info
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizb-ut-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک