الأربعاء، 14 ربيع الأول 1443| 2021/10/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

جبری زنا کی وجہ- تشدد، طاقت کا اظہاریا بھٹکی ہوئی جنسیت؟

علی نواز- پاکستان

 

جبری زنا کے واقعات میں اضافہ ایک سلگتاہوا معاشرتی مسئلہ ہے ، جس کی روک تھام  کےمتعلق  وقتاً فوقتاً میڈیا پر بحث اُس وقت جنم لیتی ہے جب ایساافسوسناک واقعہ میڈیا میں رپورٹ ہوتا ہے ۔ پھرجب سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر اس مسئلے حل کے متعلق آراء کےمابین بحث بہت شدت اختیار کرلیتی ہے تو حکمران کچھ بیانات جاری کرتے ہیں اور پھر حکومتی عہدیدار اور حکمران اس سنگین مسئلے سے یوں غافل ہو جاتے ہیں کہ گویا کوئی مسئلہ موجود ہی نہ تھا ۔ جبری زنا کے واقعات کی سنگینی صرف پاکستان میں دکھائی نہیں دیتی بلکہ مشرق و مغرب بھی اس کی لپیٹ میں ہیں ، اس مسئلے کی گھمبیر صورتحال کا اندازہ درج ذیل اعداوشمار سے لگایا جاسکتا ہے:

 

  1. WHO کے مطابق،2014 میں برطانیہ میں کل آبادی کا 7 فیصد جنسی تشدد کا شکار ہوااور اس میں اکثریت خواتین کی ہے۔ اور یہ شرح ہر سال بڑھ رہی ہے۔
  2. امریکہ میں جنسی تشدد کے خلاف کام کرنے والی سب سے بڑی تنظیم ،جو امریکی حکومت کو بھی اپنی خدمات فراہم کرتی ہے،کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ کی ہر 6 میں سے 1 لڑکی جبری زنا کے حملے یا زیادتی کا شکار ہوتی ہے اور یہ صورتحال مزید گھمبیر ہورہی ہے۔ جبکہ ہر 33 میں سے 1 لڑکا جبری زنا کا شکار ہوتا ہے۔
  3. پاکستان میں 2014ءسے 2017ءتک 10 ہزارجبری زنا کے کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ مزید بڑھ رہے ہیں (جیو رپورٹ)۔
  4. انٹرنیشنل دی نیوز کے مطابق بڑے شہروں میں جبری زنا کے کیسز میں 2014ء سے 2020ءکے دوران تیزی سے اضافہ واقع ہوا ہے۔

 

پاکستان کے ایک مختصر مگر اثر رسوخ رکھنے والے گروہ کے مطابق جبری زنا کی وجہ معاشرے میں مردوں کی بالادستی اور عورتوں کو معاشرے میں برابری کا مقام حاصل نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے جنسی بھوک کے حامل مرد اپنی بالادستی ،زبردستی اور طاقت کے بل بوتے پر عورتوں سے جنسی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ٍ اس گروہ کے نزدیک جبری زنا کا تعلق عریانی یا کسی مخصوص تصورات  سے بالکل نہیں ہے، بلکہ یہ ٹولہ اس بات میں کو ئی حرج نہیں سمجھتا کہ مرد و عورت اپنی رضامندی و اختیار سے  نکاح کے بغیر تعلق قائم کریں۔ لہذا جب کوئی عریانی کی روک تھام یا مغرب زدہ عورتوں کے لباس کی بات کرتا ہے تو وہ اس شخص کو جبری زناکار کا ہمدرد کہہ کر مجرم کے ساتھ کھڑا کردیتے ہیں۔

 

جب ہم اس بیانیے کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یہ بیانیہ نہ صرف سطحیت پر مبنی ہے بلکہ اس میں حقیقت کو مسخ اور اس کا نامکمل احاطہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بیانیہ مغربی نقطۂ نظر سے متاثر ہے جوانسانی فطرت اور  معاشرے کو لبرل ازم کے گمراہ کن تصورات کی عینک سے دیکھتا ہے۔

 

اگر ہم جبری زنا سمیت معاشرے میں رونما ہونے والے جرائم اور ان کے سدباب کے متعلق درست فہم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انسانی فطرت اور معاشرے کی تشکیل کے متعلق درست سمجھ حاصل کرنا ہو گی ، وہ فطرت کہ جس  پر انسانوں کے خالق نے انہیں تخلیق کیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو، چاہے مرد ہو یا عورت ،ایک متعین فطرت پر پیدا کیا ہے اور نسلِ انسانی کی بقا کا دارومدار ان دونوں کے ملاپ پر رکھا ہے۔ مردوعورت دونوں میں انسان ہونے کی تمام تر خصوصیات اور زندگی کے لوازمات موجود ہیں۔ وہ خصوصیات یہ ہیں کہ ہر انسان مردوعورت صاحب ِعقل ہے  اور اس کی سوچ اس کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ اسی طرح یہ بھی انسان کی فطرت میں سے ہے کہ ہر انسان میں کچھ ایسی حاجات ہیں کہ جنہیں پورانہ کیا جائے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا جیسا کہ کوئی بھی انسان پیٹ کی بھوک مٹائے بغیر، رفع حاجت کے بغیر اور سانس لیے بغیر زندگی نہیں گزارسکتا۔   ان لازمی حاجات کے علاوہ اللہ نے انسان میں کچھ ایسی جبلتیں بھی رکھی ہیں کہ جن کے پورا نہ ہونے سے انسان مرتا تو نہیں مگر بے چین رہتا ہے۔ جنسی جبلت ان جبلتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کی فطرت کے یہ حقائق قطعی ہیں اور کوئی ایک انسان بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔

 

  یہ اللہ ہی ہے کہ جس نے انسان میں جنسی جبلت رکھی ہے اور اس کے پورا کرنے کے اسباب بھی پیدا کیے ہیں ۔ ایسا نہیں کہ اللہ نے یہ جبلت تو پیدا کی ہے مگر اسے پورا کرنے کے لوازمات نہیں رکھے۔  اور اللہ تعالیٰ نے اِس امر کے متعلق بھی رہنمائی فرما دی ہے کہ انسانی جبلتوں کو پورا کرنے کا درست طریقہ کیا ہے، خواہ وہ جبلتِ بقا ہو یا جنسی جبلت یا پھر جبلتِ تدَیُّن۔ کسی بھی جبلت کی تسکین کا کوئی بھی طریقہ بذاتِ خود یہ طے نہیں کرتا کہ وہ طریقہ کار لازماً درست ہے۔ مثال کے طور پر ہر انسان میں بقا کی جبلت موجود ہے ۔ اور یہ انسان کو ابھارتی ہے کہ وہ اپنےلیے آرام اور آسائشیں حاصل کرے،جس کےحصول کے لیے ایک شخص دولت کماتا ہے اور پھر اس دولت سے آسائشیں خریدتا ہے۔ مگر کیا دولت کو کسی بھی طریقے سے حاصل کرنے مثلاً چوری ، ذخیرہ اندازی، منشیات فروشی  کومحض اس وجہ سے درست قرار دیا جا سکتا ہے کہ ایسا اس شخص نے اپنی جبلت کی تسکین کے لیے ہی کیا ہے۔ تو پھر جنسی جبلت کے معاملے میں کیوں یہ طرزعمل اختیار کیا جائے کہ ایک انسان جیسے چاہے اسے پورا کر لے، خواہ وہ اس کا خونی رشتہ ہو یا کوئی جانور ہو  یا کسی پر جنسی حملہ ہو۔ 

 

            پس وہ کیا معیار یا پیمانہ ہو گا جو یہ طے کرے گا کہ کسی جبلت کو فلاں طریقے سے پورا کرنا درست ہے۔ کیا وہ پیمانہ یہ ہے کہ اگر دو انسان باہمی رضامندی سے اپنی جبلت کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں تو انہیں اس کی اجازت ہونی چاہئے، مثال کے طور پر اگر دو مرد ہم جنس پرستی کے ذریعے یا ایک مرد اور ایک عورت نکاح کے بغیر ایک اجرت طے کر کے یا بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے طور پر اپنی جنسی جبلت کو پورا کرنا چاہیں تو کیا انہیں اس کی اجازت ہونی چاہئے؟   لبرل ازم کا تصور یہ کہتا ہے کہ اس پر کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہئے۔ تاہم اگر یہ مفروضہ درست تسلیم کر لیا جائے تو کیا اسی بنا پر ایک شخص کو دوسرے انسان کو بھاری قیمت کے بدلے غلام بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے ، جبکہ غلام اپنے فروخت کی یہ قیمت  اپنی اولاد کے حوالے کرنا چاہتا ہوتاکہ وہ بہتر معیار زندگی گزار سکیں؟ یا پھر دو مختلف ممالک کے افراداپنی مرضی و رضامندی سے ملکی رازوں کا ایک دوسرے سے تبادلہ کرنا چاہتے ہوں تو کیااس کی آزادی ہو سکتی ہے؟

 

            اگر معاشرے کے لیے کچھ معیار اور پیمانے ہی اس بات کو طے کریں گے کہ انسان کا درست اور غلط طرزعمل کیا ہے تو  پھر یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان پیمانوں اور معیارات کو کیسے اور کون طے کرے گا؟ اور اگراس کائنات کا کوئی خالق ہے تو کیا اس کا بھی ان معیارات اور پیمانوں کو طے کرنے میں کوئی عمل دخل حاصل ہے یا نہیں ؟!!

 

            جبلتوں اور انسانی حاجات کا بغور جائزہ لینے سے ہمیں انسانی فطرت کے متعلق یہ بات بھی پتہ  چلتی ہے کہ عضویاتی حاجات جیسا کہ بھوک پیاس وغیرہ کی صفت یہ ہے کہ یہ کسی بیرونی محرک کی محتاج نہیں ہوتیں۔ پس ایک شخص کو لازماً بھوک لگتی ہے خواہ اس کے سامنے اچھا کھانا موجود ہو یا نہ ہو جبکہ انسانی جبلتوں کی نوعیت یہ ہے کہ یہ اس وقت بھڑکتی ہیں اور اپنی تسکین چاہتی ہیں جب کوئی بیرونی محرک  انہیں ابھارتا ہے اور اس وقت سرد پڑ جاتی ہیں جب یہ بیرونی محرک موجود نہیں ہوتا، تاہم جب تک ان جبلتوں کو پورا نہ کیا جائے تو انسان بے چین  اور غیر مطمئن رہتا ہے۔چنانچہ جب ایک  بے اولاد  شخص کسی ماں کو اپنے بچے سے پیار کرتا دیکھتا ہے تو اس کے اندرجذبات اُبھرتےہیں مگر جب یہ منظر سامنے نہ ہو تو ان جذبات کی شدت کم ہو جاتی ہے،لیکن ایک بے اولاد شخص مستقل طور پر غیر مطمئن رہتا ہے اور اپنے زندگی میں ایک کمی محسوس کرتا رہتا ہے۔  جنسی جبلت سے اٹھنے والے جنسی جذبات کی بھی یہی حقیقت ہے کہ یہ اس وقت بھڑک اٹھتے ہیں جب ایک شخص کو جنسی محرک کا سامنا ہوتا ہے خواہ یہ محرک ایک  جنسی تخیل ہی کیوں نہ ہو۔

 

            انسانی فطرت کی دوسری اہم حقیقت یہ ہے  انسان کے تصورات اس کے میلانات و رجحانات پر لازماًاثرانداز ہوتے ہیں اور اس کی جبلتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان اپنی بہن یا والدہ کے متعلق کسی قسم کا کوئی جنسی میلان نہیں رکھتا کیونکہ والدہ اور بہن کے متعلق دین اور معاشرہ   اسے خاص تصورات سے روشناس کراتا ہے، جو ان خونی رشتوں کی حرمت سے متعلق اسلام نے دیے ہیں۔ گویامعاشرے کے اندر مرد و عورت کے تعلق کے متعلق درست تصورات کو پروان چڑھانا اور انہیں پختہ کرنا درست جنسی رویوں کو تشکیل دیتا ہے جبکہ  معاشرے میں اس سوچ کو ترویج دینا  کہ ہر انسان آزاد ہے اور اس کی زندگی کا ہدف اپنی خواہشوں کو زیادہ سے زیادہ پورا کرنا ہونا چاہئے، ایک شخص کو اس چیز پر مائل کرتا ہے کہ وہ  جس طرح چاہے بَن پڑے جنسی تسکین حاصل کرے۔

اس تمام افکار کو سمجھنے کرنے کے بعد اب ہم جبری زنا کے مسئلے کا جائزہ لیتے  ہیں۔ جہاں تک جبری زنا کا تعلق ہے تو جبری زنا تین عوامل کا نتیجہ ہے۔

 

1) جنسی جبلت کو پورا کرنے کی بھڑکی ہوئی خواہش ۔

2) اس جبلت کو پورا کرنے اور مرد و عورت کے تعلقات کے   متعلق درست  تصورات  کا فقدان یا ایک انسان کا ان تصورات کو پسِ پشت ڈال کر اپنی خواہش کو مقدم رکھنا۔

3) طاقت کے لحاظ سے اس شخص کا اس قابل ہونا کہ وہ اس مرد  یا عورت پر قابو حاصل کرسکے جس کے ذریعے وہ اپنی جنسی تسکین حاصل کر سکے، اس امر کے بعد کہ victimاس کی دسترس میں ہو۔

 

ان تینوں عوامل کے اکٹھے ہونے سے ایک شخص جبری زنا کا قبیح فعل سرانجام دیتا ہے۔ لبرل ازم کی سوچ ان تمام عوامل کو فروغ دیتی ہے جبکہ معاشرتی زندگی کے متعلق اسلام کے تصورات اوراحکامات جبری زنا کے عوامل کی مؤثر روک تھام کرتے ہیں ، پس ایک ایسا معاشرہ جہاں اسلام کے احکامات جامع اور ہمہ گیرانداز میں نافذ ہوں ، وہاں یہ واقعات اجنبی اور غیر معمولی ہوتے ہیں۔

جہاں تک پہلے عاملfactor کا تعلق ہے، تواسلام کے احکامات جنسی جبلت کے بھڑکنے کے محرکات کو کم سے کم کرتے ہیں۔ پس ایک اسلامی معاشرےمیں نہ تو فحش لٹریچر کا فروغ ہوتا ہے ، نہ ہی نسوانیت کو کارباری شے کے طور پر استعمال کرنے والے بِل بورڈز ہوتے ہیں، نہ پورنوگرافک موادتک آسان رسائی ہوتی ہے اور نہ ہی ہم سٹائل ایوارڈ جیسی تقریبوں میں نیم برہنہ عورتوں کی پریڈ۔ مردو عورت پبلک مقامات، جیسا کہ آفس اور کام کی جگہوں پر شرعی لباس کی پاسداری کرتے ہیں اور شرعی احکامات اور حدود و قیود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے میل جول کرتے ہیں۔ یہ سب معاشرے کو اس جنسی ہیجان سے محفوظ رکھتا ہے کہ جو ہمیں آج مشرقی ومغربی معاشروں میں دِکھنے میں آتا ہے۔

 

اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام جنسی جبلت کو دباتا ہے اور اسے پوراکرنے کا اہتمام نہیں کرتا۔ بلکہ اسلام تو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ جونہی مرد و عورت بلوغت کی عمر کو پہنچیں، نکاح کے ذریعے  ان کی جنسی جبلت کی تسکین کا جلد ازجلد بندوبست کیا جائے۔ تا کہ وہ زنا یا ہم جنس پرستی کے ذریعے اپنی جبلت کو پورا کرنے کا رُخ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:

﴿وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾

''اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے پیدا کیں تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی بیویاں تاکہ تم سکون حاصل کرو اُن کے پاس۔  اور اس نے پیدا کردی تمہارے درمیان محبت اور رحمت"۔ ( سورۃالروم:21)۔

 

اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

( يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء (

''اے جوانو! تم میں سے جو عورت کے حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو اسے ضرور نکاح کرنا چاہئے کیونکہ یہ نگاہ کو جھکاتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے،اور جو کوئی عورت کے حقوق ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے، یہ اُس کیلئے حفاظت ہے"۔

 

            جہاں تک دوسرے عامل کا تعلق ہے ،تو ایک اسلامی معاشرےمیں نظامِ تعلیم، میڈیا اور معاشرے کا عرفِ عام جبلتوں اور عضویاتی حاجات کو پورا کرنے کے متعلق درست تصورات کو مردو عورت کے اذہان میں مضبوطی سے  پیوست  کرتے ہیں ۔  پس اسلامی معاشرے میں عورت ایک عزت و احترام کی ہستی ہے ، اور ایک آبرو ہے جس کی حفاظت کے لیے جان کو قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ عورت ایک ماں ، بیوی ، بیٹی اور بہن کی حیثیت سے تکریم کے لائق ہے نہ کہ ایک کاروبار کی چیز کہ جس کی جنسیت کو کاروبار کو دلکش بنانے کے لیے استعمال کیا جائے یا بذاتِ خود جنسیت کو ہی کاروبار بنا دیا جائے ۔ اسی طرح اسلام میں ہم جنس پرستی انتہائی سنگین اور قبیح فعل ہے جس کی سزا موت ہے اور یہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے والاعمل ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے پوری بستی  پر اپنا عذاب نازل کر کے اسے فنا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

  يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ

"اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈر و، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کرتم ایک دوسرے کے سامنے اپنے مطالبات رکھتے ہو"(سورۃ النساء آیت :1)۔

اور رسول اللہﷺ نے فرمایا:

(خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي)

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کیلئے بہتر ہواور میں تم سب سے  زیادہ اپنی بیویوں کیلئے بہتر ہوں"۔

 

            جہاں تک تیسرے نکتے کا تعلق ہے کہ  طاقت کے زور پر  victim کو قابو کر لینا اور اس تک دسترس حاصل ہونا ، تو اسلام ایسے مواقعوں کو کم سےکم کردیتا ہے جہاں ایک ایسا شخص جس میں  کرپٹ سوچ پل رہی ہو اسےVictim تک دسترس حاصل ہو۔ اسلام غیر محرم مردو عورت کے ایسی جگہ پر موجود ہونے سے منع کرتا ہےجہاں کسی اور کی رسائی نہ ہو سکتی ہو، خواہ یہ بیابان علاقے میں سفر کے دوران ہو یا ایک گھر میں محرم رشتوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے ہو، تعلیم و تعلم کے دوران ہو یا کسی دفتر میں کاروباری سرگرمی کے دوران ہو۔مسلم میں عبداللہ بن عباسؓ سے نقل ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو خطبہ دیتے سنا:

(لا يخلون رجل بامرأة إلا ومعها محرم)

کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ رہے سوائے اس کے کہ عورت کا محرم ساتھ ہو"۔

اسی طرح رسول اللہﷺ نے فرمایا:

(لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة يوم وليلة إلا ومعها ذو محرم لها)

''وہ عورت جو اللہ اورروزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، اُس کے لئے جائز نہیں کہ وہ ایک دن اور ایک رات کا سفر کسی محرم کے بغیر کرے''(مسلم)۔  

 

اسی طرح اسلام کسی شرعی سبب کے بغیر مردو عورت کی مخلوط محفلوں کو بھی منع کرتا ہے۔ پس تعلیم اور لین دین کے لیے تو ایک عورت اور مرد ایک دوسرے سے (خلوت کے بغیر)بات چیت اور معاملہ کر سکتے ہیں مگر غیر محرم مرد و عورت کا مزہ و تفریح  اور ایک دوسرے کی صحبت سے لطف اٹھانے کے لیے اکٹھا ہونا جائز نہیں ۔

 

مغرب کے لبرل تصورات سے متاثر گروہ مذکورہ بالا پہلے دونوں انتہائی اہم عوامل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے تیسرے عامل کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ گویا یہی جبری زنا کی بنیادی وجہ ہے اور اس کا ایک ایسا حل تجویز کرتا ہے جو اسلام کے خاندان کے تصور پر کاری ضرب لگاتا ہے۔ اس ٹولے کے بقول مسئلے کا حل یہ ہے کہ عورت کو خود مختار بنایا جائےاور اس خود مختاری کو  قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ یہ گروہ عورتوں کی بحیثیت عورت تنظیم سازی کا علمبردار ہے ، ایسی تنظیمیں جو عورتوں کی لبرل آزادیوں کی آواز کو مضبوط بنائیں اور اسلام کے طے کردہ حقوق و فرائض پر مبنی معاشرتی نظام سے بغاوت کریں۔ یوں یہ ٹولہ معاشرے کی آدھی آبادی کودوسری آدھی آبادی کے سامنے کھڑا کر کے معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو اسی تباہی سے دوچار کرنا چاہتا ہے کہ جس سے مغرب کا معاشرہ دوچار ہو چکا ہے اور معاشرتی مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اور ان تمام تر فیمنسٹ تحریکوں کے باوجود مغربی معاشرے جبری زنا کے واقعات کی آماجگاہ ہیں۔ اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ گذشتہ چند دہائیوں میں پاکستان میں نام نہاد  مردانہ بالادستی میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود جبری زنا کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔

 

جبری زنا کوئی ذہنی بیماری نہیں ہے کہ جس کے لیے ادویات کے ذریعے علاج کی ضرورت ہو اور نہ ہی یہ بنیادی طور پر  تشدد کی قسم ہے،بلکہ یہ اس بیمار ذہنیت کا  نتیجہ ہے جو  کرپٹ تصورات، کرپٹ معاشرتی ماحول، نظام کی طرف سے اسلامی  شخصیت سازی سے غفلت برتنے اور ایک شخص میں تقویٰ کے فقدان سے جنم لیتی ہے۔ اور جب ایک ایسا شخص اپنی جنسی جبلت کو غلط طور پر سیراب کرتا ہے توپھر  اس کا میلان اسی غلط طریقے سے منسلک ومربوط ہو جاتا ہے ، اور وہ ایسے عمل میں ہی لذت و آسودگی محسوس کرنے لگتا ہے۔

 

اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ چونکہ جبری زنا کا شکار باپردہ خواتین بھی ہوئی ہیں لہٰذا بے پردگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ عورتوں کو شرعی لباس کا پابند نہ کرنا اُن اَن گنت محرکات میں سے ایک ہے  جو پاکستان کے لبرل سرمایہ دارانہ نظام نے جا بجا مہیا کر رکھے ہیں۔ مگر وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے ستروحجاب کے متعلق اسلام کے واضح احکامات کو نشانہ بنانے کے لیے جبری زنا کے کچھ ایسے واقعات کو پیش کرتے ہیں کہ جس میں نشانہ باپردہ خواتین تھیں۔ درحقیقت اسلام کے احکامات باہم مربوط ہیں اور ان کا جامع اور ہمہ گیرنفاذ ہی مطلوبہ نتائج پیدا کرتا ہے۔  پس  اسلام کے باقی تمام احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض عورتوں کو شرعی لباس کا پابند بنادینا جبری زنا کے مسئلے کو حل نہیں کرے گا۔ اسی طرح محض شرعی سزاؤں کا نفاذ اور ایسے مجرموں کو سرعام سخت سزائیں دینا بھی مکمل حل نہیں ہے۔ بلکہ موجودہ نظام کے اندر ہی کچھ شرعی سزاؤں کا نفاذ یہ تاثر پیدا کر سکتا ہے کہ شرعی سزائیں بے نتیجہ اور بے فائدہ ہیں ، کیونکہ شرعی سزائیں ان تمام ترعوامل کو ختم نہیں کرتیں جو جبری زنا کے پسِ پردہ کارفرما ہیں اور جن کے لیے اسلام نے الگ سے احکامات دیے ہیں۔  چنانچہ شرعی سزاؤں کے نفاذ کا مطالبہ ادھورا مطالبہ ہے ۔  یہ مسئلہ اسی وقت حل ہو گا جب  پاکستان میں رائج مغربی سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ کر اس کی جگہ "اسلام کا نظامِ خلافت "قائم کیا جائے گا، جو ستر و حجاب سمیت اسلام کے تمام ترمعاشرتی قوانین اور اسلامی حدود کو یکبارگی نافذ کرے گا۔ یوں ایسے پاکیزہ معاشرے کی تشکیل ممکن ہو گی جو پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہو گا۔

 

Last modified onاتوار, 22 اگست 2021 17:36

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک