بسم الله الرحمن الرحيم
سقوطِ خلافت کی 105 ویں برسی کے موقع پر
حزب التحریر کےامیر، جلیل القدر عالم عطا ءبن خلیل ابو رَشتہ (حفظہ اللہ) کا خطاب
(ترجمہ )
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو اس کے رسولﷺ پر، آپ ﷺ کی آل و اصحاب (رضوان اللہ علیہم )پر اور ان لوگوں پر جنہو ں نے آپ ﷺ کی پیروی کی۔
امتِ مسلمہ کے نام، جو اللہ کے اذن سے جہاد، عدل اور احسان والی امت ہے، وہ بہترین امت جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے، اللہ اسے فتح و نصرت اور غلبہ عطا فرمائے۔
خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کے از سر نو آغاز کے لیے کام کرنے والے دعوت کے علمبرداروں کے نام جنہیں ہم اللہ کےاذن سے متقی، پاکباز، معزز اور امانت دار تصور کرتے ہیں۔
آج سے 105سال قبل، رجب 1342ھ کے آخر میں، یعنی مارچ 1924ء کے آغاز میں، اُس وقت کےاستعماری کفار ، برطانیہ کی قیادت میں، عرب اور ترک غداروں کی مدد سے خلافت کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ مجرمِ زمانہ مصطفیٰ کمال نے خلافت کا خاتمہ کر کے، استنبول میں خلیفہ کا محاصرہ کر کے اور اسی روز بوقتِ فجر اُنہیں جلاوطن کر کے، اپنے کفر کا کھلم کھلا اعلان (کفرِ بواح)کیا۔ یوں خلافت کے سقوط سے ، جو مسلمانوں کی عزت کا باعث اور ان کے رب کی خوشنودی کا ذریعہ تھی، مسلمانوں کے علاقوں میں ایک ہولناک زلزلہ آگیا۔ امتِ مسلمہ پر فرض تھا کہ وہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ ہتھیار وں سے قتال کرتی ، جیسا کہ عبادہ بن صامتؓ سے مروی متفق علیہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْراً بَوَاحاً عِنْدَكُمْ مِنْ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ» "اور ہم اربابِ اختیار سے اقتدار کے معاملے میں تنازع نہیں کریں گے، الا یہ کہ تم ان سے کھلا کفر (کفرِبواح)دیکھو جس کے بارے میں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہو"۔ تاہم امت اس فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کر گئی اور مجرم مصطفیٰ کمال اور اس کے حواریوں کو روکنے کے لیےایسے ناگزیر اقدام نہ کیے کہ جس کے نتیجے میں وہ اور اس کے حامی شکست خوردہ اور ناکام ہو جاتے۔ یوں خلافت کے خاتمے سے برپا ہونے والا زلزلہ جاری رہا... اور پھر کافر استعمار کا اثر و رسوخ مسلمانوں کی سرزمینوں پر مستحکم ہو گیا، انہوں نے مسلمانوں کی سرزمین کو تقسیم کر دیا اور اسے تقریباً 55 ٹکڑوں میں بانٹ دیا!
پھر مسلم ممالک کے رُوَیبِضَۃ(کم ظرف اورنااہل)حکمرانوں نے اس میں ایک اور زلزلے کا اضافہ کر دیا، انہوں نے یہودیوں کو ارضِ مقدس فلسطین پر قبضہ کرنے سے نہ روکا، جو نبی کریم ﷺ کے اسراءاور معراج کی سرزمین ہے، اور پھر وہ اس سے بھی زیادہ گر گئے... وہ یہوی وجود کے ساتھ تعلقات کی بحالکی (نارملائزیشن )کی طرف لپکے، اس کے بغیرکہ یہودی وجود کسی بھی چیز سے دستبردار ہو!! ان میں سے بعض نے پسِ پردہ یہ جرم کیا، اور بعض نے رات دن علانیہ اس جرم کا ارتکاب کیا! یوں سب کے سب اس جرم میں سبقت لے جانےکی کوشش کر رہے ہیں، اور اس ذلت کی کوئی پروا نہیں کرتے جو ان کو سر سے پاؤں تک ڈھانپے ہوئے ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،
﴿سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ﴾
"عنقریب ان مجرموں کو اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب پہنچے گا، اُس مَکر کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے" (سورۃ الانعام: آیت 124)۔
اے مسلمانو! جب آپ کے سر سے سے خلافت کا تاج چھین لیا گیا تو آج آپ کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ آپ پر 'رُوَیبِضَۃ' (کم ظرف اور نااہل) حکمرانوں مسلط ہیں جو جابر ٹرمپ سے احکامات لیتے ہیں، یہاں تک کہ غزۂ ہاشم اور تمام ارضِ مقدس فلسطین کے معاملے میں بھی۔ستمبر 2025 ءمیں ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان شامل تھے، اور اسے اہم ترین نشست قرار دیا۔ پھر اس نے ان پر ایک 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا، بلکہ مسلط کیا۔اس منصوبے کے نکات غزہ کےسقوط، اسے زیرِ نگیں کرنے اور اسے ٹرمپ اور یہودی وجود کے لیے کھیل کا میدان بنانے کی غرض سے نوآبادی میں تبدیل کرنے، کی طرف اشارہ کر رہے تھے! اس کے بعد سیسی نے مصر میں ٹرمپ اور اس کے مکروہ منصوبے کے لیے ایک تقریب منعقد کی۔ یہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی تمہید تھی، جو غزہ کے انتظام کے لیے ایک ٹرسٹی شپ یا استعماری بورڈ مسلط کرنے کی بات کرتی ہے، جسے ٹرمپ 'امن بورڈ' (Board of Peace) کہتا ہے! پھر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ 2026 کے آغاز میں غزہ کے لیے اس بورڈ کے اراکین کا اعلان کرے گا جس کی سربراہی وہ خود کرے گا۔ الجزیرہ نے اس حوالے سے نقل کیا : "غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی استحکام فورس کی قیادت کے لیے ٹرمپ کی طرف سے ایک امریکی جنرل کو مقرر کرنے کا امکان ہے"(الجزیرہ عربی 11/12/2025)۔ جس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ غزہ میں گورننگ بورڈ اور استحکام فورس کو براہِ راست کنٹرول کرے گا! پھر ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف(Steve Witkoff) نے 19 دسمبر 2025 کو میامی میں "ثالث" ممالک، ترکی، مصر اور قطر،سے ملاقات کی تاکہ استحکام فورسز کی تعیناتی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے بارے میں بات چیت کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھایا جائے، اور اس پر عمل درآمد کے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے! پھر ٹرمپ فلوریڈا میں نیتن یاہو سےملا اور کہا کہ "اس کی ملاقات بہت نتیجہ خیز رہی"۔اس نے صحافیوں سے مزید کہا کہ "اگر وہ (حماس) غیر مسلح نہیں ہوتے، جیسا کہ انہوں نے اتفاق کیا تھا، تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہیں قلیل وقت میں غیر مسلح ہونا پڑے گا"۔ ٹرمپ یہ اس وقت کہہ رہا ہے جب وہ غزہ پرمسلط ایک وحشیانہ جنگ میں یہودی وجود کو ہر قسم کے بھاری اور مہلک ترین ہتھیار فراہم کر رہا ہے جو انسانوں، درختوں اور پتھروں کو تباہ کررہے ہیں۔ ٹرمپ یہ سب کچھ مسلم ممالک کے حکمرانوں کے مکمل علم سےاور ان کی ملی بھگت سے کہہ رہا ہے اور کر رہا ہے ۔ یہ وہی مسلم حکمران ہیں جنہوں نے ارضِ مقدس فلسطین کی آزادی پر چُپ سادھ کر اس کے ساتھ غداری کی، اور ٹرمپ کے 20 نکات پر تالیاں بھی بجائیں!
پھر یہ محض فلسطین نہیں ہے کہ جس کے ساتھ ان حکمرانوں نے غداری کی ہے، بلکہ ان ممالک کے ساتھ بھی ان حکمرانوں نے غداری کی جن پر وہ کافر استعمار، خاص طور پر امریکہ کے مفاد کے مطابق حکومت کر رہے ہیں۔ جنوبی سوڈان کو شمال سے الگ کر دیا گیا، اور دارفور بھی اب اسی راستے پر ہے۔ لیبیا بھی تنازعہ میں گھرا ہوا ہے اور دو ریاستوں میں تقسیم ہے۔ یمن شمالی اور جنوبی حصوں میں بٹا ہوا ہے، اور جنوب بھی مزید بکھر رہا ہے! جدیدشام امریکہ کی آغوش میں جا رہا ہے،جس کا حکمران سابقہ ظالم حکومتی کارندوں اور غنڈوں کو رہا کر رہا ہے جبکہ حزب التحریر کے ارکان کو، جو خلافت کی پکار بلند کرتے ہیں، پابندِ سلاسل رکھا ہوا ہے اور انہیں دس دس سال تک کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ یہ 'رویبضہ' نااہل حکمران صرف اسی پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے سرزمینِ اسلام کے دیگر حصوں کو بھی دشمن کے حوالے کر دیا یا ان سے دستبردار ہو گئے۔ کشمیر پر ہندو مشرکوں نے قبضہ کر لیا،روس نے چیچنیا اور وسطی ایشیا کے دیگر مسلم علاقوں کو ہتھیا لیا۔ مشرقی تیمورکوانڈونیشیا سے الگ کر دیا گیا۔قبرص، جو برسوں تک مسلمانوں کا قلعہ رہا، اب زیادہ تر یونان کے کنٹرول میں ہے۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے، اور اگر وہ بنگلہ دیش میں پناہ لیتے ہیں، تو وہاں کی حکومت اِن مسلمانوں پر ظلم کرتی ہے اور ان کے دشمن کے خلاف لڑ کر ان کی حمایت کرنے میں ناکام رہتی ہے!پھر مشرقی ترکستان ہے، جس پر چین ایسے وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے جن سے جنگل کے درندے بھی پناہ مانگیں۔ جبکہ مسلم ممالک کی موجودہ ریاستیں قبروں کی مانند خاموش ہیں، اور اگر وہ بولتی بھی ہیں تو کہتی ہیں کہ مسلمانوں پر چِین کا ظلم و جبر چین کااندرونی معاملہ ہے!
﴿كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِباً﴾
"کتنی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے، وہ محض جھوٹ بولتے ہیں"( الکہف: آیت 5)۔
اے مسلم افواج کے سپاہیو! کیا آپ اس بات پر قادر نہیں کہ آپ اُن اسلام کے سپاہیوں کے نقشِ قدم پر چلیں جو آپ کے پیش رو تھے، اوراللہ کی راہ میں جہاد کے ذریعے فلسطین اور غزہ کو آزاد کرائیں ، جسے اللہ غالب و قادرِ مطلق نے فرض کیا ہے اور جو اسلام کی بلند ترین چوٹی ہے ۔ اور پھر مسلم سر زمین کے ایک ایک انچ کو واگزار کروائیں جسے اس کی اساس سے کاٹ دیا گیا ہے، یا جسے مشرق و مغرب میں کافر استعمار نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے، اور استعماری کفار کا ان کے ٹھکانوں تک پیچھا کریں؟ کیا آپ اس قابل نہیں ہیں؟ جی ہاں، اللہ کے اذن سے، آپ یقیناً قابل ہیں۔
آپ امتِ اسلام کے بیٹے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی امت، مہاجرین و انصار کی امت، خلفائے راشدین اور ان کے پیروی کرنے والے خلفاء کی امت ۔ آپ ہارون الرشید کی اولاد ہیں، جس نے بازنطینی (رومی )شہنشاہ کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ توڑنے اور مسلمانوں کے خلاف جارحیت کے جواب میں کہا تھا: (الجواب ما تراه دون ما تسمعه) "میرا جواب تم سنو گے نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھو گے " اور ایسا ہی ہوا۔ آپ مُعتصم کی اولاد ہیں، جس نے ایک مسلمان عورت کی پکار پر لشکر کی قیادت کی،جب (بازنطینی رومیوں نے اس پر ظلم کیا اور اس نے صدا لگائی ، وا معتصماہ)"ہائے اے معتصم!"۔ مزید یہ کہ، آپ صلاح الدین کی اولاد ہیں، جنہوں نے صلیبیوں کو شکست دی اور 27 رجب 583ھ (2 اکتوبر 1187ء) کو مسجدِ اقصیٰ کو ان کی نجاست سے پاک کر کے آزاد کرایا۔
آپ محمد الفاتح کی اولاد ہیں، وہ نوجوان سپہ سالار جسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے رسولِ اللہ ﷺ کی اُس بشارت سے شرف یاب کیا، جو آپ ﷺ نے (بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت )قسطنطنیہ کے فاتح کے بارے دی تھی:«فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا، وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ» "کیا ہی اعلیٰ وہ امیر ہوگا ، اورکیا ہی بہترین وہ لشکر ہوگا!"۔ انہوں نے 857 ہجری (1453ء) میں قسطنطنیہ (موجودہ استنبول)کوفتح کیا تھا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور ان پراپنا انعام کرے۔ آپ سلطان سلیم ثالث کی اولاد ہیں، جن کے الجزائر کے گورنر کو امریکہ نے 642,000 ڈالرکا سونا خراج کے طور پر سالانہ ادا کیا،علاوہ ازیں الجزائر میں اپنے قیدیوں کی رہائی اور عثمانی بحریہ کی مداخلت کے بغیر بحرِ اوقیانوس و بحیرہ روم سے گزرنے کی اجازت کے عوض 12,000 عثمانی طلائی لیرے ادا کرنے کا معاہدہ کیا۔ اور تاریخ میں پہلی بارامریکہ ایک ایسا معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا جو اس کی اپنی زبان کے بجائے ریاستِ عثمانیہ کی زبان میں تھا،جو مورخہ 21 صفر 1210ھ (5 ستمبر 1795ء) کوہوا تھا۔
آپ خلیفہ عبدالحمید کی اولاد ہیں، جنہوں نے استنبول میں فرانسیسی سفیر کو طلب کیا اور جان بوجھ کر اس سے فوجی وردی میں ملاقات کی اور اسے دھمکی دی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی ڈرامے کو روکے ،اور کہا: "میں مسلمانوں کا خلیفہ ہوں... اگر تم نے اس ڈرامے کو نہ روکا تو میں تمہاری دنیا کو تہہ و بالا کر دوں گا"۔ فرانس نے ان کی بات مان لی اور 1307ھ (1890ء) میں اس کی نمائش پر پابندی لگا دی۔ آپ اسی خلیفہ عبدالحمید کی اولاد ہیں جو نہ تو یہودیوں کی طرف سے سرکاری خزانے میں پیش کیے گئے کروڑوں سونے کے سکوں کے لالچ میں آئے، اور نہ ہی اس بین الاقوامی دباؤ سے خوفزدہ ہوئے جو یہودیوں نے فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت کے لیے اُن پر ڈالا تھا۔ انہوں نے یہ مشہور جملہ کہا: "میرے لیے یہ زیادہ آسان ہے کہ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں اس کے بجائے کہ میں فلسطین کو ریاستِ خلافت سے کٹتا ہوا دیکھوں"۔ وہ دُور اندیش تھے، جب انہوں نے مزید کہا: "…یہودی اپنی دولت اپنے پاس رکھیں… اگر کبھی خلافت پارہ پارہ کر دی گئی ، تو وہ فلسطین مفت میں لے لیں " اور بالکل ایسا ہی ہوا!
اے مسلمانو! اے مسلم سرزمینوں کی افواج!اگر خلافتِ راشدہ کا احیاء ہوتا ہے، تو تم اپنے اسلاف کی کھوئی ہوئی عزت دوبارہ حاصل کر لو گے، کہ جن کے کارنامے، ان کی قوت اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے خلافت کو قائم کیا اور اس کی حفاظت کی، چنانچہ وہ معزز ہوئے اور غالب رہے اور اپنے رب کی خوشنودی حاصل کی۔ آپ انہی کی اولاد ہیں، لہٰذا اس حق کی طرف آئیں جس کی انہوں نے پیروی کی اور اس حق کی پیروی کریں، اور اس عظمت کی طرف آئیں جو انہوں نے حاصل کی تھی اور اسے دوبارہ حاصل کریں۔ خلافت کو بحال کرو اور اس کی حفاظت کرو۔ آپ کے درمیان حزب التحریر موجود ہے، اس کی حمایت کرو، کیونکہ یہ اسلامی طرزِ زندگی کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ یہ امت کی رہبری کر تی ہے اور اس عظیم مشن کی طرف آگے بڑھاتی ہے، اور اپنی خلافت کی پکار سے کافر استعمار کی نیندیں حرام کر رہی ہے۔ تو پھر کیا ہوگا جب خلافت قائم ہو جائے گی اور بحرِ الکاہل کے کناروں سے، جہاں انڈونیشیا اور ملائیشیا واقع ہیں، بحرِ اوقیانوس کے ساحلوں تک، جہاں مراکش اور اندلس واقع ہیں، کافر استعمار کی کھینچی ہوئی سرحدوں اور رکاوٹوں کو پاش پاش کر دے گی؟! تب مسلمان اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ آئیں گے، ایک ریاست کے سائے تلے واحدامت ، خلافتِ راشدہ، جو اسلام اور مسلمانوں کو عزت دے گی، اور کفر اور کافروں کو ذلیل کرے گی۔ یہ کافر استعمار کے ہاتھوں سے سرزمینِ اسلام اور مسلمانوں کے کنٹرول کو واپس لے گی اور ان کی سرزمینوں کے اندر تک ان کا پیچھا کرے گی اور دنیا کو نئے سرے سے روشن کرے گی۔ اور اس دن حق غالب آئے گا اور باطل مٹ جائے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،
﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً﴾
"اور کہو، حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے"(سورۃ بنی اسرائیل: آیت 81)۔
ممکن ہے کوئی یہ کہےکہ "کیا خلافت یہ سب کچھ کر سکتی ہے؟ کیا یہ فتح حاصل کر سکتی ہے اور شکست کی صورتِ حال کو دورکر سکتی ہے؟ کیا یہ مسلم علاقوں کو کافر استعمار سے آزاد کرا سکتی ہے اور یہاں تک کہ ان کے اپنے ٹھکانوں تک ان کا پیچھا کر سکتی ہے؟"۔ ہم کہتے ہیں، "جی ہاں! ہمارا رب، جو بلند و برتر ہے، یہ فرماتا ہے،
﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾
"اگر تم اللہ کی مدد کرو گے، وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا"(سورۃمحمد ،آیت 7)۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے نصرت کا حصول اُس اسلامی ریاست کے قیام سے مشروط ہے جو اس کے شرعی قوانین کو نافذ کرے۔ جب یہ قائم ہو جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے فتح عطا فرماتا ہے۔ یہ مضبوطی سے قائم اور طاقتور ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کے دوست اس کا احترام کرتے ہیں اور اس کے دشمن اس سے ڈرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» "امام(خلیفہ) ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے اور جس کے ذریعے تحفظ حاصل ہوتا ہے"(بخاری)۔ خلیفہ اور خلافت ایک ڈھال ہے، ایک تحفظ ہے۔ اور جس کے پاس ڈھال ہوگی، وہ اللہ کے حکم سے فتح یاب ہوگا؛ اس کی علاقے ضائع نہیں ہوں گے، اور اس کے دشمن اس کے قریب نہیں آئیں گے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی گواہی خلافت کی تاریخ دیتی ہے۔آج بازنطینی سلطنت اور اس کا جاہ و جلال کہاں ہے ؟ اور وہ شہر اور شہنشاہ کہاں ہیں؟ پھر ان وسیع خطوں میں کس نے تکبیر کی صدا بلند کی ، جو مشرق سے مغرب تک،ایک سمندر سے دوسرے سمندر تک پھیلے ہوئے تھے،سوائے اسلامی ریاست، اسلام کے سپاہیوں اور اسلام کے عدل کے؟ اور اگر خلافت کو اس وقت مشرق و مغرب میں دو سمندروں کے پار کسی زمین کا علم ہوتا، تو وہ اللہ وحدہ لاشریک کی پکار بلند کرتے ہوئے اس کی گہرائیوں میں اتر جاتی۔
اور ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ کہے کہ حزب التحریر کے پاس خلافت کے سوا کوئی اور سرمایہ نہیں ہے؛ وہ جہاں بھی جاتی ہے، صرف خلافت کی بات کرتی ہے، اس کے سوا اس کی کوئی پہچان نہیں، اور نہ ہی اسے کسی اور چیز سے لگاؤ ہے۔ ہم کہتے ہیں، ہاں، خلافت ہی درحقیقت سرمایہ اور دولت ہے؛ یہ عزت اور طاقت ہے؛ یہ دین اور دنیا دونوں کی محافظ ہے؛ یہی اساس اور جوہر ہے۔اسی کے ذریعے شرعی احکام نافذ ہو پاتے ہیں، حدود اللہ کا نفاذ ہوتا ہے، فتوحات کی راہیں کھلتی ہیں، اور حق کی سربلندی ہوتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جسے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تدفین سے قبل سرانجام دیا، باوجود یہ کہ نبی ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کی عظمت و مقام کس قدر تھا۔ یہ سب خلافت کی اہمیت اور عظمیت کی بنا پر تھا، کیونکہ جلیل القدر صحابہؓ نے ادراک کر لیا تھا کہ اس فرض کی ادائیگی نبی کریم ﷺ کے جسمِ اطہر کی تدفین کی تیاری کے عظیم فرض پر بھی مقدم ہے۔
اے مسلمانو! اے مسلم سرزمینوں کی افواج! خلافت کا قیام مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ہمیں وثوق اوراطمینان ہے کہ اللہ کی نصرت حاصل ہوگی، اسلام اور مسلمانوں کو عزت ملے گی، جہاد والی خلافتِ راشدہ واپس لوٹے گی، فلسطین پر قابض یہودی وجود کا خاتمہ ہو گا، اور روم فتح ہو گا،بالکل اسی طرح جیسے قسطنطنیہ فتح ہوا تھا اور استنبول اسلام کا گھر بن گیا تھا۔ ہمیں اطمینان ہے چاہے کافر اور منافق کہیں،
﴿إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ غَرَّ هَؤُلَاءِ دِينُهُمْ﴾
"جب منافقوں اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے کہا، 'ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے"(سورۃ الانفال: آیت 49)
کیونکہ اہل ایمان کے لیے یہ فتح اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وعدے کا حصہ ہے:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ﴾
"اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت (اقتدار) عطا فرمائے گا"(سورۃ النور"آیت 55)۔
اور اس جابرانہ دورِ حکومت کے بعدکہ جس میں ہم جی رہے ہیں، اللہ کے رسول ﷺ کی بشارت ہے، «ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَت» "پھر جبر کی حکومت ہوگی، اور وہ تب تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر جب وہ اسے ختم کرنا چاہے گا تو ختم کر دے گا۔ پھر نبوت کےنقشِ قدم پر خلافت ہوگی۔" پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے (مسند احمد)۔ لہٰذا خلافت، اللہ کے اذن سے، ضرورواپس آئے گی۔ لیکن اس کے قیام کے لیے سنجیدہ اور انتھک محنت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اللہ قادرِ مطلق کی سنت یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے خلافت کوقائم کرنے اوراپنے وعدے اور اپنے رسول ﷺ کی بشارت کو پورا کرنے کے لیے آسمان سے فرشتے نہیں بھیجے گا جبکہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ بلکہ وہ ہماری مدد کے لیے فرشتے تب بھیجے گا جب ہم مستعدی، سنجیدگی، سچائی اور اخلاص کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لیے کام کریں گے۔ تب اللہ ہمیں دونوں جہانوں میں فتح اور کامیابی عطا فرمائے گا، اور یہی عظیم کامیابی ہے۔ حزب التحریر اس مقصد کے لیے کام کر رہی ہے، دل سے اس کی خواہش مند ہے اور اس کے جلد قیام کی منتظر ہے۔ پس اے مسلمانو! جلدی کرو۔ اے اہلِ قوت ! جلدی کرو اور دعوت اور نُصرۃ (عسکری مدد) میں شامل ہو جاؤ، اور حزب کے ساتھ مل کر خلافت کے قیام کے لیے جلدی کرو،محض تماشائی نہ بنو۔ کیونکہ اللہ کے اِذن سے فتح قریب ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،
﴿إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً﴾
"بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے"(سورۃ الطلاق:آیت 3)۔
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،
﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾
"اور اس دن مومن اللہ کی مدد پر خوش ہوں گے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہی غالب اور رحم کرنے والا ہے"(سورۃ الروم:آیت 4،5)۔
اور ہمارے آخری الفاظ یہ ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہی ہیں۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آپ کا محبت کرنے والابھائی،
عطا بن خلیل ابو رَشتہ۔
رجب 1447ھ، بمطابق جنوری 2026ء۔






