الخميس، 24 شعبان 1447| 2026/02/12
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ایبسٹین فائلیں اور مغربی تہذیب کا زوال

 

تحریر: استاد احمد الخطوانی

(ترجمہ)

 

امریکی کانگریس کی جانب سے امریکی حکومت کو مجبور کرنا اور اس کی وزارتِ انصاف کو ایبسٹین کی بعض فائلوں کو عام کرنے پر آمادہ کرنا اس اکیسویں صدی عیسوی میں مغربی ممالک کا سب سے بڑا تہذیبی اسکینڈل تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ محض کسی صدر، لیڈر یا عہدیدار سے متعلق کوئی ذاتی یا نجی سیاسی اسکینڈل نہیں ہے جیسا کہ 'واٹر گیٹ' یا 'ایران کونٹرا' اسکینڈل تھے، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر سماجی، سیاسی، اخلاقی اور قدروں کا اسکینڈل ہے۔

 

یہ مغرب جو طویل عرصے سے انسانی حقوق، حقوقِ نسواں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کا جھوٹا دعویٰ کرتا رہا ہے، اس ہنگامہ خیز اسکینڈل نے اس کے جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا ہے جس نے انسان کے بارے میں اس کے بہیمانہ، پست اور مادی نظریات کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

 

مغرب انسان کو صرف ایک بے جان مادے کی حیثیت سے دیکھتا ہے جو جذبات اور اخلاقیات سے عاری ہو، اسی لیے وہ چند جنسی بے راہ روی کے شکار، منحرف اور اذیت پسند افراد کی خدمت کے لیے انسانوں پر جانوروں کی طرح تجربات کرتے ہیں۔ وہ عورت کو محض ایک سستی شے سمجھتا ہے جو انسانی اسمگلنگ کی منڈیوں اور جنونی جنسی ہوس کے اڈوں میں خریدی اور بیچی جاتی ہے۔ وہ بچوں کو صرف اس زاویے سے دیکھتا ہے کہ انہیں وحشیانہ طریقے اور سنگدلی سے اذیت دے کر ان سے 'اڈرینوکروم' (Adrenochrome) نامی مادہ حاصل کر کے لطف اندوز ہوا جائے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کے ڈھلتے ہوئے بڑھاپے کو ہمیشہ رہنے والی جوانی کی توانائی اور زندگی کا وہ ابدی نسخہ فراہم کرتا ہے جو انہیں دنیا میں لافانی ہونے کے قریب کر دیتا ہے۔

 

اس عوامی اسکینڈل میں ٹرمپ اور کلنٹن جیسے صدور، برطانیہ، سویڈن اور ناروے کے شہزادے اور شہزادیاں، بل گیٹس اور ایلون مسک جیسے ارب پتی، اسٹیفن ہاکنگ جیسے سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے سیاست دان، اداکار، گلوکار، ماہرینِ تعلیم، کاروباری شخصیات اور مشہور شخصیات شامل ہیں۔

 

یہ مغرب کے وہ اعلیٰ طبقے کے لوگ ہیں جو اپنی خواہشات اور گمراہیوں کے پیچھے چل پڑے اور دوڑتے ہوئے جیفری ایبسٹین کے 'شیطانی جزیرے' پر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنی انسانیت اور فطرت کو بیچ کر وہ چیز خریدی جسے وہ اپنی آسائش اور خوشی سمجھتے تھے، چنانچہ انہوں نے بے حیائی اور سنگین برائیوں کا ارتکاب کیا اور جرائم و گناہ کیے۔

 

یہ اسکینڈل صرف عصمت دری، کم عمر لڑکیوں کی فروخت اور بچوں پر تشدد، ان کے قتل اور ان کی معصومیت کو کچلنے تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس میں انصاف اور عدلیہ کو مفلوج کرنا، عدالتوں اور قوانین کو کرپٹ کرنا، اور پچھلے پچیس سال یا اس سے زائد عرصے تک دھوکہ دہی اور مشکوک قانونی سودے بازیوں کے ذریعے ان جرائم پر پردہ ڈالنا بھی شامل تھا۔

 

امریکی ریاست نے اپنے تمام اداروں اور جماعتوں کے ساتھ ان گھناؤنے جرائم کے واضح حقائق کو چھپانے اور اس میں ملوث افراد کو ہر ممکن طریقے سے بری کرنے کی کوشش کی ہے اور اب بھی کر رہی ہے۔ یہ اسکینڈل اور اس سے پیدا ہونے والے جرائم 2005 میں سامنے آئے تھے، لیکن اس وقت سے جیفری ایبسٹین کے ساتھ مشکوک قانونی سودوں کے ذریعے اسے دبایا جاتا رہا، یہاں تک کہ یہ پہلی بار 2019 میں منظرِ عام پر آیا جب ایبسٹین کو گرفتار کیا گیا۔ پھر اسے جیل کے اندر ہی قتل کر دیا گیا تاکہ اس کی موت کے ساتھ ہی اس اسکینڈل سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر کے اسے بند کر دیا جائے، لیکن اس کے پھیلے ہوئے اثرات کی وجہ سے یہ دوبارہ پھٹ پڑا، جس پر حکومت کو عوامی رائے عامہ کے دباؤ میں آ کر اپنی 60 لاکھ دستاویزات میں سے کچھ کو شائع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اب تک میڈیا میں ان میں سے 30 لاکھ دستاویزات شائع ہو چکی ہیں، جبکہ ان 30 لاکھ میں سے جن کی اشاعت کی اجازت دی گئی تھی، ڈھائی لاکھ دستاویزات کو سیکورٹی کے کمزور اور بے بنیاد بہانوں کے تحت شائع ہونے سے روک دیا گیا تاکہ اصل مجرموں پر پردہ ڈالا جا سکے۔

 

اس اسکینڈل کی وسعت کے باوجود اب تک کوئی بھی ملزم سامنے نہیں آیا، کیونکہ اس میں ملوث افراد اب بھی وسیع اختیارات کے مالک ہیں جن کی بنیاد پر وہ قوانین میں ہیرا پھیری کر سکتے ہیں، خود کو مجرم ٹھہرانے والی دستاویزات کی اشاعت روک سکتے ہیں اور لوگوں کو الجھانے اور حقائق تک پہنچنے سے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں دوسری دستاویزات پھیلا سکتے ہیں۔ حقیقت میں یہ ایک دوسرا اسکینڈل ہے جو امریکہ میں عدالتوں، عدلیہ، میڈیا اور حکومت کی کرپشن کی تصدیق کرتا ہے اور نام نہاد عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی علیحدگی کے جھوٹ کو واضح کرتا ہے۔

 

ٹرمپ نے سیاست دانوں، عدالتوں اور میڈیا کے نمائندوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایبسٹین فائلز کی وجہ سے انہیں مجرم ٹھہرایا گیا تو وہ پرانے اسکینڈلز اور ان کے مرکزی کرداروں کو بے نقاب کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان پر کوئی مقدمہ چلایا گیا تو وہ کینیڈی اور مارٹن لوتھر کے قتل کے راز اور گیارہ ستمبر کے واقعات کے حقائق ظاہر کرنے کے لیے تیار ہیں، یعنی وہ 'میں تو ڈوبوں گا ہی تمہیں بھی ساتھ لے ڈوبوں گا' کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جس سے ڈر کر وہ لوگ ان کے ساتھ ساز باز کر چکے ہیں۔

 

یوں محسوس ہوتا ہے کہ لاکھوں دستاویزات کی اشاعت کے باوجود یہ کسی ملوث فرد کی گرفتاری کا باعث نہیں بنے گی کیونکہ وہی لوگ اصل حکمران اور ریاست میں بااثر ہیں۔

 

اور اس اسکینڈل میں جو بات سب سے زیادہ قابلِ شرم اور پیشانی پر پسینہ لانے والی ہے، وہ عربوں اور مسلمانوں سے متعلق ہے، بالخصوص متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک سعودی کاروباری خاتون 'عزیزہ الاحمدی' کی جانب سے جیفری ایبسٹین کو خانہ کعبہ کے غلاف (کسوہ) کے تین ٹکڑے بطور تحفہ پیش کرنا، جنہیں سعودی عرب سے برطانوی طیاروں کے ذریعے امریکی ریاست فلوریڈا میں ایبسٹین کے گھر بھیجا گیا تھا۔

 

اگرچہ اس عورت کا یہ فعل انتہائی گھناؤنا، شرمناک اور قابلِ نفرت ہے، لیکن اس کے باوجود سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس پر ذرہ برابر بھی توجہ نہیں دی اور نہ ہی کوئی تبصرہ کیا، حتیٰ کہ اس حوالے سے ضروری تحقیقات تک نہیں کی گئیں۔ انہوں نے اس معاملے کے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے یہ کوئی معمولی اور جائز بات ہو، حالانکہ یہ ایک ایسا لرزہ خیز اقدام تھا جس نے ان لاکھوں مسلمانوں میں شدید اشتعال پیدا کیا جنہیں اس کا علم ہوا، لیکن یہ ریاستیں حقیقت میں اسلام اور مسلمانوں کی دشمن ریاستیں ہی ہیں، جنہیں نہ تو مسلمانوں کے جذبات کا کوئی پاس ہے اور نہ ہی ان کے مقدسات کی کوئی اہمیت۔

 

ایبسٹین فائلوں کے بے شمار اسکینڈلز میں ایک اور ذیلی اسکینڈل بھی شامل ہے جس کا تعلق امریکی خفیہ اداروں اور موساد سے ہے، جہاں ان تمام جرائم کو ویڈیوز، ریکارڈنگز اور تحریری شکل میں محفوظ کیا جاتا تھا۔ ان ویڈیوز کی تعداد 2 لاکھ اور تصاویر کی تعداد 1 لاکھ 80 ہزار تک تھی، جبکہ لاکھوں کی تعداد میں تحریری دستاویزات اس کے علاوہ تھیں۔ یہ سب کچھ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جو جرائم بھی ہو رہے تھے وہ ان ریاستوں کے خفیہ اداروں کے علم میں تھے، جن کا بنیادی مقصد ان جرائم کو روکنا یا مجرموں کو پکڑنا ہرگز نہیں تھا، بلکہ ان کا واحد ہدف ملوث شخصیات کو بلیک میل کرنا تھا۔ اور یہی وہ طریقہ ہے جو یہ ادارے عام طور پر مسلم ممالک کے بہت سے سیاست دانوں کے ساتھ اپنا مطلوبہ سیاسی ایجنڈا پورا کروانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

 

چنانچہ ریکارڈنگ، فلم بندی اور جاسوسی وہ معمول کے ہتھکنڈے ہیں جو مغربی انٹیلی جنس ادارے غیر ملکی سیاست دانوں کو بلیک میل کرنے اور انہیں مغربی ممالک کے آلہ کار اور کرائے کے ایجنٹ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

 

مغرب کا یہ ہولناک تہذیبی زوال، جسے اکیسویں صدی کے پہلے پچیس سالوں میں ایبسٹین فائلوں نے بے نقاب کیا ہے، درحقیقت مغربی تہذیب کے جلد خاتمے اور اسلامی تہذیب کی واپسی کا پتا دے رہا ہے، کیونکہ صرف اسلامی تہذیب ہی قدروں کے اس خلا کو پُر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے جو انسانی فطرت اور اس کی جبلت کے عین مطابق نظام کی تلاش میں ہے۔

 

 

Last modified onبدھ, 11 فروری 2026 20:19

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک