بسم الله الرحمن الرحيم
ڈیموکریسی (جمہوریت): وہم اور حقیقت کے درمیان
تحریر: پروفیسر محمود اللیثی
(ترجمہ)
عالمی سیاسی بیانیے کے پُرجوش ماحول میں، جمہوریت کو انسانی عقل کے اس عروج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں وہ نظامِ حکومت کی ترتیب میں پہنچی ہے، اور اس کی تشہیر آزادی، انصاف اور انسانی حقوق کے واحد ضامن کے طور پر کی جاتی ہے۔ تاہم، سنجیدہ غور و فکر اور چھان بین یہ انکشاف کرتی ہے کہ یہ تصویر محض ایک اشتہاری غلاف ہے جو ایک بالکل مختلف حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے: جمہوریت نہ تو کوئی نافذ شدہ حقیقت ہے اور نہ ہی ایسا نظام جسے تشہیر کے مطابق عملی جامہ پہنایا جا سکے، بلکہ یہ اپنے جوہر میں ایک متضاد تصور ہے، جس کا عملی حصول ناممکن ہے، اور یہ "عوام کی حکمرانی" کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے پر مبنی ہے جبکہ حقیقت سرمائے اور قابض اشرافیہ کی حکمرانی کی گواہی دیتی ہے۔
جمہوریت کی حقیقت: ایک بے حقیقت تصور
جمہوریت کی عام تعریف یہ ہے کہ "عوام کی حکمرانی، عوام کے ذریعے اور عوام ہی کے لیے"۔ مگر یہ تعریف خود اپنے پہلے ہی عملی امتحان میں ڈھیر ہو جاتی ہے۔ کیونکہ عوام مجموعی طور پر نہ تو حکومت کرتے ہیں، نہ قانون سازی کرتے ہیں اور نہ ہی ریاست کے معاملات چلاتے ہیں، بلکہ جو طبقہ حقیقت میں حکمرانی کرتا ہے وہ ایک مخصوص اشرافیہ ہے، جو اقتدار کو اپنے درمیان ایسے انتخابی میکانزم کے ذریعے گردش میں رکھتی ہے جو پہلے سے قوانین، مالیاتی فنڈنگ اور میڈیا کے اثر و رسوخ کے ذریعے کنٹرول شدہ ہوتے ہیں۔ جہاں تک "عوامی مرضی" کی بات ہے، تو یہ محض ایک نعرہ ہے جسے ضرورت کے وقت پکارا جاتا ہے اور طاقتوروں کے مفادات سے ٹکرانے کی صورت میں اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
وہ پارلیمان، جن کے بارے میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہ عوام کی نمائندگی کرتی ہیں، حقیقت میں پریشر گروپس (مفاداتی گروہ)، کثیر القومی کمپنیوں اور مالیاتی اثر و رسوخ کے مراکز سے کوئی حقیقی آزادی نہیں رکھتیں۔ اور جو قانون سازی اکثریت کے نام پر کی جاتی ہے، وہ اکثر ان کے براہ راست مفادات کے برعکس ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں حکمرانوں اور عوام کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے جنہیں پرانی اور مستحکم جمہوریتیں کہا جاتا ہے۔
آزادی اور انصاف کے دعووں کا فریب
جمہوریت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آزادیوں کی ضمانت دیتی ہے، لیکن حقیقت یہ دکھاتی ہے کہ یہ آزادیاں "انتخابی" ہیں، یعنی یہ اس وقت دی جاتی ہیں جب سرمایہ دار اشرافیہ کے مفادات کو کوئی آنچ نہ آئے، اور جیسے ہی ان مفادات کو خطرہ لاحق ہو، یہ آزادیاں سلب کر لی جاتی ہیں۔
رہی بات انصاف کی، تو اسے قانون کے سامنے محض ایک رسمی برابری تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ طبقاتی فرق کو بغیر کسی روک ٹوک کے وحشیانہ حد تک بڑھنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ جمہوریت نہ تو چند ہاتھوں میں دولت کے انبار لگنے کو روک سکی، نہ ہی کروڑوں لوگوں کو مفلسی کی دلدل سے نکال پائی، اور نہ ہی ان استعماری جنگوں کو روک سکی جو خود جمہوریت پھیلانے کے نام پر لڑی جاتی ہیں۔
اصولی طور پر جمہوریت کا ناممکن ہونا
جمہوریت کا حصول اس لیے ناممکن ہے کیونکہ یہ ایک ساختی تضاد پر کھڑی ہے: یہ دعویٰ تو کرتی ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ (حاکمیت) عوام کا حق ہے، لیکن ساتھ ہی ان عوام کو ایک ایسے دستور اور قوانین کے تابع کر دیتی ہے جو ان کی مرضی سے بالاتر ہوتے ہیں، اور ان کے انتخاب کو ایک ایسی حد میں مقید کر دیتی ہے جس سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہوتا۔ اسی طرح، یہ فرض کر لیتی ہے کہ تمام لوگوں میں سیاسی شعور مساوی ہے، جبکہ حقیقت علم اور اثر و رسوخ میں بہت بڑے تفاوت کی گواہی دیتی ہے، جس کی بنا پر حتمی فیصلہ ان کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے جو دولت اور میڈیا کے مالک ہیں۔
مزید برآں، قانون سازی کا اختیار انسانوں کے ہاتھ میں دینا، خواہ وہ اکثریت ہو یا اقلیت، تبدیلیوں، عدم استحکام اور انتشار کا دروازہ کھول دیتا ہے؛ چنانچہ جو چیز کل تک حق تھی وہ آج جرم بن جاتی ہے، اور اس کے برعکس، یہ سب محض مفادات اور حالات کے تابع ہوتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اقدار کو اضافی (Relative) بنا دیتا ہے، جن کا نہ تو کوئی مستقل حوالہ ہوتا ہے اور نہ ہی انصاف کا کوئی مطلق معیار۔
مغرب خود اب متبادل کی تلاش میں ہے: جمہوریت پر تنقید اب محض مغرب کے دشمنوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ خود مغرب کے فکری مراکز (تھنک ٹینکس) کے اندرونی مباحثوں کا حصہ بن چکی ہے۔ ایسی تحریروں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو 'جمہوریت کے بحران'، 'مابعد جمہوریت' (post-democracy) اور اداروں پر اعتماد کے خاتمے کی بات کرتی ہیں۔ اس کے حل کے لیے ماہرین کی حکمرانی (حکمِ ماہرین)، ٹیکنوکریٹک ماڈلز، یا انتظامی معاملات میں بڑی کمپنیوں کے کردار کو بڑھانے جیسے جزوی متبادل پیش کیے جا رہے ہیں، اور یہ سب کچھ دراصل اس نظریے کی اصل ناکامی کا ایک بالواسطہ اعتراف ہے۔
مگر یہ متبادل مسئلے کی اصل بنیاد کا علاج نہیں کرتے، کیونکہ یہ اسی سرمایہ دارانہ فریم ورک کے قیدی ہیں، اور حاکمیت (اقتدارِ اعلیٰ) خالق کے بجائے دوسروں کے ہاتھ میں ہی رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کو چھوڑ کر انسان کو قانون ساز بناتے ہیں، جس کے نتیجے میں بحران محض ایک شکل سے دوسری شکل میں منتقل ہو جاتا ہے مگر اس کا کوئی جڑ سے خاتمہ نہیں ہوتا۔
سرمایہ داری کا حقیقی متبادل: اس کے برعکس، اسلام نظامِ حکومت کا ایک مکمل اور جامع ڈھانچہ پیش کرتا ہے جو ایک واضح اصول پر قائم ہے: 'حاکمیت شریعت کی اور اقتدار امت کا'۔ قانون سازی کا اختیار انسانوں کے پاس نہیں بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾
"حکم صرف اللہ ہی کا ہے"(سورۃ یوسف: آیت 40)۔
اس سے مرجع (مرکزی حوالے) کا مسئلہ قطعی طور پر حل ہو جاتا ہے اور اقدار و احکام کے ساتھ کھلواڑ کا ہر راستہ بند ہو جاتا ہے۔
رہی بات امت کی، تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس شخص کا انتخاب کرے جو اس شریعت کو نافذ کرے اور اس کے معاملات کی دیکھ بھال کرے، اور اگر وہ اس کی مخالفت کرے تو اس کا محاسبہ کرے اور اسے (عہدے سے) معزول کر دے۔ یہ عمل عادلانہ احکام کے ایک مستقل ڈھانچے کے اندر حقیقی سیاسی شرکت کو یقینی بناتا ہے، جو محض دکھاوے کی نہیں ہوتی۔
ریاستِ خلافتِ راشدہ، ایک عملی نمونہ ہے نہ کہ محض خیالی: خلافت کوئی ناممکن تصور یا پہنچ سے دور کوئی خیالی خواب نہیں ہے، بلکہ یہ وہ نظامِ حکومت ہے جو تاریخ میں عملاً نافذ رہا اور جس کے عدل اور بہترین نگہبانی کی گواہی تاریخ نے خود دی ہے۔ اس نظام میں حکمران امت کا خادم اور اسلام کی تنفیذ میں اس کا نمائندہ ہوتا تھا، وہ قانون کے تابع ہوتا تھا اور برسرِ عام اس کا محاسبہ کیا جاتا تھا۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے خطبے میں فرمایا تھا: (أطيعوني ما أطعتُ الله فيكم، فإن عصيتُه فلا طاعة لي عليكم) "جب تک میں اللہ کی اطاعت کروں، تم میری اطاعت کرنا، اور اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو تم پر میری کوئی اطاعت لازم نہیں"۔ اس نظام میں حقوق اس لیے محفوظ ہیں کیونکہ وہ ریاست کی طرف سے کوئی "عطیہ" یا "خیرات" نہیں بلکہ ایسے شرعی احکام ہیں جن کا نفاذ فرض ہے۔ یہاں انسان کی حفاظت اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ ایک صاحبِ تکریم مخلوق ہے، باری تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾
"اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی ہے" (سورۃ بنی اسرائیل:آیت 70)
دونوں متبادلوں کے درمیان بنیادی فرق: جمہوریت اور اسلام کے درمیان فرق صرف طریقہ کار کا نہیں بلکہ فلسفے اور بنیاد کا ہے۔ جمہوریت انسان کو قانون ساز بناتی ہے، جبکہ اسلام اسے اللہ کا بندہ اور زمین پر اس کا خلیفہ (نائب) بناتا ہے۔ جمہوریت حکومت کو بدلتے ہوئے مفادات سے جوڑتی ہے، جبکہ اسلام اسے اٹل اور دائمی حق کے ساتھ باندھتا ہے۔ جمہوریت اقتدار کے لیے دائمی کشمکش پیدا کرتی ہے، جبکہ اسلام اقتدار کو ایسے احکام اور ذمہ داریوں کے ذریعے منظم کرتا ہے جو آمریت اور لاقانونیت دونوں کا راستہ روکتی ہیں۔
صدیوں کے تجربے کے بعد جمہوریت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک ایسا وہم ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا، اور ایک ایسا نعرہ ہے جو ظلم اور تضادات کی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ خود مغرب اب اس کے بند گلی میں پھنس جانے کو محسوس کر رہا ہے، لیکن وہ اس بحران سے نکلنے میں ناکام ہے کیونکہ وہ خدائی رہنمائی (مرجعیتِ ربانی) کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، وہ کسی تجریدی نظریے کے طور پر نہیں بلکہ نظامِ حکومت کے ایک مکمل اور عملی ڈھانچے کے طور پر حقیقی متبادل پیش کرتا ہے، جو ہر زمانے اور ہر جگہ کے لیے موزوں ہے۔ اسلام کی طرف واپسی میں ہی انسانیت کی اس بھٹکاو سے نجات ہے اور اسی عدل کا حصول ممکن ہے جس سے انسانوں کے بنائے ہوئے نظام قاصر رہے۔
اے امتِ مسلمہ! مشرق سے لے کر مغرب تک: اب وقت آ گیا ہے کہ تم اس حقیقت کو جان لو کہ تم پر جو نظامِ ہائے حکومت مسلط کیے گئے ہیں وہ ان زنجیروں کے سوا کچھ نہیں جنہوں نے تمہاری توانائیوں کو جکڑ رکھا ہے، تمہاری وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے اور تمہاری دولت کو دشمنوں کے لیے تر نوالہ بنا دیا ہے۔ وہ جمہوریت جسے تمہارے سامنے نجات کے راستے کے طور پر پیش کیا گیا، وہ غلامی کو برقرار رکھنے اور تمہیں تمہارے اصل تہذیبی منصوبے سے دور کرنے کے ایک ہتھیار کے سوا کچھ نہ تھی۔ تمہارا اتحاد صرف ایک جھنڈے کے نیچے، تمہاری قیادت صرف ایک شریعت کے ذریعے، اور تمہاری وہ ریاست جو اقوامِ عالم میں تمہارا مقام بحال کرے گی، وہ صرف 'خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ' ہی ہے؛ وہ خلافت جو جوڑتی ہے توڑتی نہیں، جو عدل کرتی ہے ظلم نہیں، اور جو قیادت کرتی ہے کسی کی محکوم نہیں ہوتی۔
اے کنانہ (مصر) کے سپاہیو! اے وہ جن کے ہاتھوں میں قوت اور طاقت ہے، اے وہ جو پوری تاریخ میں امت کی ڈھال اور اس کی تلوار رہے ہو، تمہاری ذمہ داری بہت بڑی اور تمہاری امانت بہت بھاری ہے۔ تم اسی امت کے قلب اور اس کی رگ و پے سے ہو، اور آج تم سے جو کام لیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ تم ناکام نظاموں کی ڈھال بنو اور ان مفادات کے چوکیدار بنو جن کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی مصر سے۔ تمہاری حقیقی نصرت کسی انسان کے بنائے ہوئے نظام یا دستور کی حفاظت میں نہیں، بلکہ اپنی امت کا ساتھ دینے میں ہے، تاکہ وہ اپنا اقتدار اور فیصلہ سازی کا حق واپس لے سکے اور اسلام کا وہ نظام قائم کر سکے جو ظلم کو مٹاتا ہے، ملکوں کو آزاد کراتا ہے اور امت کو حق پر اکٹھا کرتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾
"اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے"(سورۃ الانفال: آیت 24)
ولایہ مصر میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن




