الخميس، 23 رمضان 1447| 2026/03/12
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

مصری نظام: حقیقت اور ڈراموں کے وہم و بہتان کے درمیان

 

تحریر: استاذ محمود اللیثی

 

(ترجمہ)

 

اب یہ بات کسی پر چھپی نہیں رہی کہ مصری نظام لوگوں پر صرف سیکیورٹی کے جبر کے ذریعے حکومت نہیں کر رہا، بلکہ وہ ایک مخصوص ڈرامہ انڈسٹری کے ذریعے ان کے شعور کو بھی ڈھال رہا ہے۔ یہ انڈسٹری واقعات کا ایک سرکاری بیانیہ تیار کرتی ہے، تصورات کی نئی شکل بناتی ہے، اور ذہنوں میں اسلام اور اس کے علمبرداروں کی ایک مسخ شدہ تصویر بٹھاتی ہے۔ ڈرامہ محض کوئی فنکارانہ تفریح نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بہترین سیاسی ہتھیار ہے جس کا استعمال آمریت کو چمکانے، آہنی گرفت کا جواز پیش کرنے، اور ہر اس شخص کو معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا کر پیش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جو اسلامی منصوبہ رکھتا ہو۔

 

آج کی یہ جنگ صرف دو وقت کی روٹی، قیمتوں یا قرضوں کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ نظریات اور مفاہیم کی جنگ ہے۔ نظام کی کوشش ہے کہ وہ "قومی ریاست" کے تصور کو پختہ کرے، استعمار کی بنائی ہوئی سرحدوں سے وفاداری سکھائے، اور حکمران کی اطاعت کو ایک ایسی تقدیر بنا کر پیش کرے جسے ٹالا نہ جا سکے۔ دوسری طرف، اسلام کو استحکام کے لیے ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ حکومت، سیاست، عوامی معاملات اور لین دین میں مداخلت کرے۔ خطرہ یہیں چھپا ہے۔ کیونکہ اسلام کو زندگی کو منظم کرنے والے ایک جامع نظام کے طور پر جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ اسے محض انفرادی عبادات اور رسومات تک محدود کر دیا جائے جن کا حکومت، سیاست اور معیشت سے کوئی تعلق نہ ہو۔

 

ہر ڈرامائی سیزن میں وہی پرانی تصویر دہرائی جاتی ہے، جہاں ایک دیندار شخص کو یا تو ایک جاہل انتہا پسند، یا ایک جوڑ توڑ کرنے والا مفاد پرست، یا بیرونی قوتوں کے ہاتھ کا کھلونا بنا کر دکھایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، سیکیورٹی اداروں کو ایک نجات دہندہ اور محافظ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے جو وطن کی خاطر قربانیاں دیتے ہیں، چاہے اس کی قیمت انسانی حقوق اور خون کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس مصنوعی دوہرے پن کے ذریعے نئی نسلوں کے شعور کو دوبارہ تشکیل دیا جا رہا ہے، تاکہ ایک نوجوان یہ سمجھتے ہوئے بڑا ہو کہ اسلام کی پابندی اور اس کے نفاذ کے لیے کام کرنے کا مطلب صرف فتنہ اور تباہی ہے۔

 

لیکن مصر کے عوام ان واقعات سے دور کوئی تماشائی نہیں ہیں جنہیں اسکرین پر نظام کی خواہش کے مطابق دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان واقعات کو لمحہ بہ لمحہ جی کر دیکھا ہے، اور اس کی قیمت اپنے بچوں کے خون، اپنی عزت اور اپنے رزق سے ادا کی ہے۔ وہ ان تمام حقائق کے چشم دید گواہ ہیں، وہ تمام تفصیلات جانتے ہیں، اور وہ حقیقت اور ڈرامہ سیریلز میں دکھائے جانے والے ان منتخب واقعات کے درمیان فرق کو سمجھتے ہیں جو نظام کے بیانیے کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ انہیں اس بات کی ضرورت نہیں کہ کوئی آ کر ان کی یادداشتوں کی دوبارہ تشریح کرے یا انہیں وہ باتیں سکھائے جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھی ہیں۔ ان کا شعور اور ان کے براہِ راست تجربات اس مصنوعی بیانیے کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیتے ہیں، اور اس ہیرا پھیری کو ظاہر کرتے ہیں جس کا مقصد حقائق کو مٹانا اور سیاستدانوں کو ان کے نتائج سے بری الذمہ قرار دینا ہے۔

 

لیکن وہ حقیقت جسے نظام مٹانے کی کوشش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام نہ تو کوئی خفیہ گروہ ہے اور نہ ہی اندھا تشدد، بلکہ یہ ایک مکمل تہذیبی منصوبہ ہے، جس کا اپنا ایک تصورِ حکومت، معیشت، معاشرت اور بین الاقوامی تعلقات ہے۔ دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو ایجنٹ یا سازشی قرار دینا دراصل "سیاسی اسلام" کو جرم قرار دینے کی پالیسی کا تسلسل ہے، تاکہ اس کے فکری سوتے خشک کیے جائیں اور معاشرے کو فاسد نظام کے سامنے سر جھکانے کی ثقافت کا عادی بنایا جائے۔ یہ لوگ بالکل ویسے ہی ہیں جو سورج کی روشنی کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں! اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے، چاہے سیسی اور اس کے حواریوں کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔

 

ایک ایسے وقت میں جب ڈرامہ سیریلز پر اربوں روپے لٹائے جا رہے ہیں، ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے گروی رکھا جا رہا ہے، سٹریٹیجک اثاثے بیچے جا رہے ہیں اور مغربی غلبے کے لیے دروازے کھولے جا رہے ہیں۔ معاشی غلامی اب کوئی راز نہیں رہی۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدے ایسی کفایت شعاری کی پالیسیاں مسلط کرتے ہیں جو عوام کی کمر توڑ دیتی ہیں، اور مقامی معیشت کو مغربی مفادات کے ساتھ جکڑ دیتی ہیں۔ اس طرح سیاسی فیصلے یرغمال ہو کر رہ جاتے ہیں، اور ریاست کا کردار صرف مغرب کے احکامات پر عمل درآمد تک محدود ہو جاتا ہے۔

 

اس معاملے میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس غلامی کو لوگوں کے سامنے اس کی اصل حقیقت میں پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے "اصلاح اور نجات" کا لبادہ پہنایا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ عالمی سرمایہ داریت کے غلبے کو پختہ کرنا ہے۔ یہ سرمایہ داریت مصر کو ایک آزاد اور صاحبِ مقصد ریاست کے بجائے محض ایک منڈی، ایک گزرگاہ اور اپنے اثر و رسوخ کا علاقہ سمجھتی ہے۔ اسی چھتری تلے اسلامی تشخص کو پسِ پشت ڈالا جاتا ہے، اور اسلام کی ایسی نئی تعریف کی جاتی ہے جو مغربی نقطہ نظر کے مطابق ہو۔

 

رہی بات خارجہ پالیسی کی، تو اس کا راستہ بالکل واضح ہے: خطے میں امریکی پالیسیوں کی عملی حمایت، اور ایسے علاقائی انتظامات کے ساتھ ہم آہنگی جو غاصب یہودی وجود کی سلامتی کا تحفظ کریں، چاہے یہ امت کے بڑے بڑے مسائل کی قیمت پر ہی کیوں نہ ہو۔ عوام سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسے "سیاسی حقیقت پسندی" سمجھ کر یقین کر لیں، جبکہ حقیقت میں یہ امت کے مسلمہ اصولوں سے دستبرداری اور امت کے مفادات پر مغرب کے مفادات کو ترجیح دینا ہے۔

 

یہ نظام اپنی میڈیا مشینری کے ذریعے نہ صرف دینداری کے مظاہر کے خلاف لڑ رہا ہے، بلکہ وہ اس سوچ کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہے کہ اسلام کا حکومت میں کوئی کردار ہونا چاہیے۔ یہ چاہتے ہیں کہ اسلام صرف مساجد تک محدود رہے اور قانون سازی و سیاست سے دور رہے۔ اسی طرح یہ بھی چاہتے ہیں کہ دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو کردار کشی، جیل اور پابندیوں کے شکنجے میں جکڑ دیا جائے، تاکہ میدان میں صرف وہی سرکاری بیانیہ باقی رہ جائے جو موجودہ حالات کا جواز تو پیش کرے لیکن انہیں بدلنے کی کوشش نہ کرے۔

 

مگر یہ امت عاجز و بے بس نہیں ہے، کیونکہ اس کے ضمیر میں ایک گہرا نظریاتی سرمایہ موجود ہے، جو یہ جانتا ہے کہ اسلام محض ایک ثقافتی شناخت نہیں بلکہ ایک مبدأ(آیڈیالوجی)، ایک طرزِ زندگی اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ آج کی جنگ دو منصوبوں کے درمیان ہے: ایک استعماری منصوبہ جو ملک کو مغرب سے جوڑتا ہے اور اسے اس کے اثر و رسوخ کے دائرے میں رکھتا ہے، اور دوسرا صحیح بیداری کا منصوبہ جو شریعت کی سیادت اور امت کی حکمرانی کو بحال کرتا ہے، اور فیصلوں کو مغربی تسلط سے آزاد کراتا ہے۔

 

اے اہل مصر! اسکرینوں پر جو کچھ دکھایا جا رہا ہے وہ معصومانہ نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کے شعور کو دوبارہ ڈھالنے اور آپ کو اصل بیماری سے دور رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ مسئلہ دینداری کے مظاہر میں نہیں، اور نہ ہی ان لوگوں میں ہے جو اسلام کے نفاذ کی دعوت دیتے ہیں، بلکہ مسئلہ اس نظام میں ہے جو اسلام کے مطابق حکومت نہیں کرتا، جس نے ملک کو قرضوں میں جکڑ دیا، اثاثے بیچ دیے، اور مغرب کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، اور پھر وہ آپ کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اصل خطرہ آپ کی امت کی شناخت میں ہے۔ لہٰذا آپ ان کی چرب زبانی کے دھوکے میں نہ آئیں۔

 

اے کنانہ (مصر) کے سپاہیو! ہم آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ نظام جتنا بھی بلند ہو جائے، اللہ سب سے بلند ہے، اور یہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائے، اللہ ہی سب سے زیادہ قوت والا اور نہایت مضبوط ہے۔ اس کے پاس جتنی بھی تنگ جیلیں اور عقوبت خانے ہوں، وہ اس قبر سے زیادہ تنگ نہیں ہو سکتے جس کی طرف آپ سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اگر اس کے پاس ظلم و ستم کی وہ وحشیانہ مشینری ہے جو اس کے قبضے میں آنے والوں کو تڑپاتی ہے، تو وہ جہنم کے عذاب سے زیادہ سخت نہیں ہو سکتی۔ اس کے پاس آپ کو دینے یا اپنے قریب کرنے کے لیے جتنا بھی مال و دولت ہو، وہ اس جنت کے سامنے کچھ بھی نہیں جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے اور جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

 

فرشتے سب کچھ لکھ رہے ہیں، اور اللہ عزوجل آپ سے ضرور سوال کرے گا کہ آپ اس وقت کہاں تھے جب اسلام کا چہرہ مسخ کیا جا رہا تھا، اس کی دعوت کا محاصرہ کیا جا رہا تھا، اور ملک کو گروی رکھا جا رہا تھا؟ آپ اس وقت کہاں تھے جب آپ پر اہل حق اور دعوت کے علمبرداروں کی نصرت اور اس ریاست کا قیام واجب تھا جو اسلام کو نافذ کرے؟ امت کا ساتھ دینا استحکام کے خلاف بغاوت نہیں ہے، بلکہ یہ عدل اور شریعت کی سیادت کی بنیاد پر استحکام کی نئی اور اصل تعریف ہے، نہ کہ مغرب اور اس کی پالیسیوں کے سامنے جھکنے کا نام۔

 

یہ نظام شاید اسکرینوں کا مالک ہو، لیکن اگر دل بیدار ہو جائیں تو وہ دلوں کا مالک نہیں بن سکتا۔ اس کے پاس جبر کے آلات تو ہو سکتے ہیں، لیکن اگر امت شعور اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے منصوبے کو لے کر چلے، تو وہ مستقبل کا مالک نہیں بن سکتا۔ یہ وقت جھوٹ کو بے نقاب کرنے، دھوکے کو فاش کرنے، اور اسلام کو اس کے اصل مقام پر واپس لانے کے لیے کام کرنے کا تقاضا کرتا ہے: تاکہ وہ زندگی کا قائد بنے، نہ کہ محض اس کا تماشائی۔ اور یہ سب کچھ اسلام اور اس کی ریاست "خلافت راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ" کے سائے میں ہی ممکن ہے۔

 

ولایہ مصر میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

 

Last modified onبدھ, 11 مارچ 2026 20:33

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک