الجمعة، 02 شوال 1447| 2026/03/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سیاسی فیصلے کی خود مختاری، طاقت کی بنیاد ہے

 

تحریر: استاد نبیل عبد الکریم

 

(ترجمہ)

 

معاشی مفادات، فوجی اتحادوں اور میڈیا کے توازن کے پیچیدہ جالوں میں گھری اس دنیا میں، سیاسی فیصلہ اب ماضی کی طرح محض ایک داخلی اور نجی معاملہ نہیں رہا۔ آج ایک ریاست ایک ایسے وسیع بین الاقوامی نظام کے اندر حرکت کرتی ہے جو کبھی اس پر دباؤ ڈالتا ہے اور کبھی اسے اپنے اندر سمو لینے کی کوشش کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عصری بین الاقوامی تعلقات میں سیاسی فیصلے کی خود مختاری سب سے زیادہ بحث طلب تصورات میں سے ایک بن گئی ہے۔

 

فیصلے کی خود مختاری کا مطلب دنیا سے کٹ جانا یا تعلقات منقطع کر لینا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست اپنی داخلی اور خارجی پالیسیاں کسی براہ راست یا بالواسطہ بیرونی حکم کے بجائے، اپنے وژن اور ذاتی مفادات کے مطابق طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہ بات اس سے قطع نظر ہے کہ آیا ریاست کوئی خاص نقطہ نظر رکھتی ہے یا نہیں، اہم بات یہ ہے کہ  وہ کسی ایک بین الاقوامی محور کی تابعداری کے بغیر اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرتی ہے، عالمی مالیاتی دباؤ کے باوجود معاشی فیصلے لیتی ہے، اور اپنی مخصوص سیاسی و ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتی ہے یا نہیں۔

 

لیکن یہ خود مختاری ہمیشہ ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے: کیا اسے کسی قیمت کی ادائیگی کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے؟

 

عصری عالمی نظام بڑی حد تک معاشی اور ادارہ جاتی باہمی ربط پر مبنی ہے، اور جب کوئی ریاست ایک مختلف راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو بسا اوقات اسے موجودہ اثر و رسوخ کے توازن کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

 

یقیناً بڑی طاقتوں کے لیے، خاص طور پر امریکہ کے معاملے میں جو خود کو عالمی اثر و رسوخ میں واحد طاقت  پاتا ہے، کوئی بھی ایسا سیاسی ماڈل جو مکمل طور پر خود مختار ہو، تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنی سرحدوں سے باہر اثر انداز ہونے یا دوسرے ممالک کو کوئی فکری یا اسٹریٹجک متبادل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اسی لیے یہ ٹکراؤ اکثر بالواسطہ ہوتا ہے، جو کھلی فوجی لڑائی کے بجائے پابندیوں یا سفارتی دباؤ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

 

فیصلے کی خود مختاری محض ایک سیاسی اعلان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طویل منصوبہ ہے جس کے لیے اندرونی عوامی قبولیت اور تنہائی کو کم کرنے کے لیے کثیر جہتی تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ ایک باہم مربوط دنیا میں مطلق خود مختاری ایک بوجھ بن سکتی ہے اگر اس کے ساتھ سفارتی لچک موجود نہ ہو، جبکہ دوسری طرف مکمل تابعداری ریاست کو اپنے مفادات کے تحفظ کی صلاحیت سے محروم کر دیتی ہے۔ چونکہ دنیا معاشی، سکیورٹی اور میڈیا کے لحاظ سے ایک باہم جڑا ہوا جال بن چکی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ ایک ریاست سیاسی طور پر تو خود مختار ہو لیکن وہ عالمی منڈیوں، ٹیکنالوجی یا فوجی اتحادوں سے جڑی ہوئی ہو۔

 

سوال: ریاستیں بین الاقوامی نظام کے خلاف بغاوت کیوں نہیں کرتیں؟

 

مکمل بغاوت کا عملی مطلب عالمی تجارتی قوانین سے دستبرداری، بین الاقوامی اداروں کو مسترد کرنا اور تقریباً مکمل بینکنگ تنہائی کا سامنا کرنا ہے، جس کے نتیجے میں شدید مہنگائی پیدا ہوتی ہے اور ٹیکنالوجی، ادویات اور بعض اشیائے خوردونوش کی درآمد میں مشکلات پیش آتی ہیں، اور یوں ایک بڑا داخلی معاشی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ریاستیں جو ایک مضبوط خود مختار بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں، وہ بھی معاشی تباہی سے بچنے کے لیے اکثر بین الاقوامی نظام کے ساتھ رابطے کی کوئی نہ کوئی کھڑکی کھلی رکھتی ہیں۔

 

ریاستیں اس قسم کا (خود مختار) فیصلہ لینے کے قابل اس وقت ہوتی ہیں جب ان کے پاس ایک خود کفیل معیشت ہو، مقامی صنعت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی بنیادیں موجود ہوں، اور محاصرے کی صورتحال سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے طویل مدتی داخلی عوامی آمادگی موجود ہو۔ مزید برآں، اتحاد کے ایسے نیٹ ورکس یا پھیلاؤ کے راستے کھلے ہوں جو کسی ایک فریق پر منحصر نہ ہوں، اور ایک ایسی آیڈیالوجی  موجود ہو جو رائج بین الاقوامی نظام کے خلاف ہو اور اپنی ساخت کی خوبصورتی، وسعت اور انصاف کی بدولت پہلے ہی لمحے سے موجودہ عالمی نظام کی ناکامی کو آشکار کر دے۔

 

اگر مسلمان حکمرانوں کی خیانت نہ ہوتی تو بہت سی ایسی ریاستیں ہوتیں جو سیاسی خود مختاری کی صلاحیت رکھتیں، کیونکہ مسلم ممالک کے پاس حقیقی صلاحیت موجود ہے۔ اگر انہیں یہ موقع ملے کہ وہ اسلامی آیڈیالوجی کو اپنے نظامِ زندگی (منہج) کے طور پر اپنائیں اور مغرب اور اس کے نظام سے اپنے تعلقات مکمل طور پر منقطع کر لیں، تو ان کی سیاسی خود مختاری ایک ناگزیر حقیقت بن جائے گی۔ ہم یہاں صرف مثال کے طور پر دو ممالک کا ذکر کرتے ہیں:

 

ترکی: اس کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو اسے دنیا کی قیادت کے قابل بنا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اسلامی آیڈیالوجی کو اپنائے، امریکہ کو للکارے اور اپنے گرد مسلمانوں کو اکٹھا کر لے۔ تو وہ اپنے ابتدائی دنوں ہی میں امتِ مسلمہ کی رہبر اور دنیا کی صفِ اول کی طاقت بن جائے گا۔ لیکن بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ عوام پر مسلط یہ حکمران جو انہیں مغرب کی خدمت اور اس کے منصوبوں کے لیے ہانک رہے ہیں، وہ خائن ہیں اور اپنے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

 

ایران: یہ ملک طویل عرصے سے محاصرے میں ہے اور اس نے سیاسی خود مختاری حاصل کیے بغیر اس کی قیمت بھی ادا کی ہے۔ اگر مسلمان ایرانی عوام اس خائن نظام کا تختہ الٹ دیں، جو بظاہر تو طاقت دکھاتا ہے لیکن اندر سے خیانت اور کمزوری میں گھرا ہوا ہے، تو امریکہ کبھی اپنے بحری بیڑے یہاں لانے کی جرات نہ کرتا، اگر اسے یہ یقین نہ ہوتا کہ ایران (دشمنی کے باوجود) ان جنگی جہازوں کا محافظ ہے۔ ایران امریکہ پر کاری ضرب لگانے کا فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ وہ خائن ہے۔

 

لیکن اگر مسلمان عوام حرکت میں آئیں، اپنے صحیح عقیدے سے گرد و غبار جھاڑیں، اپنے نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم (منہج) کی طرف لوٹیں، اس نظام کو اکھاڑ پھینکیں اور ایک (اسلامی) آیڈیالوجی اپنا لیں، تو ہم دیکھیں گے کہ امریکہ کس طرح اپنے حساب کتاب تبدیل کرتا ہے اور اپنے بحری بیڑے واپس نکال لے جاتا ہے۔ یہ صرف خوف کی وجہ سے نہیں ہوگا، بلکہ اس لیے ہوگا کہ اب نئی ریاست کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں نہیں ہوگا، اور وہ خود کو ایک طویل عرصے کے بعد ایک ہاری ہوئی جنگ میں پائے گا۔ افسوس کہ یہی مسلمان حکمرانوں کا حال ہے، نہ کسی کے پاس اپنا فیصلہ ہے اور نہ ہی کسی کو حقیقی اقتدار  حاصل ہے۔

 

اور یہ قدم سوائے 'ریاستِ اسلام' کے کوئی نہیں اٹھا سکتا، کیونکہ یہ ایک ربانی نظریے کی حامل ہے جو فیصلے کی خود مختاری پر اصرار کرتی ہے، اور اس بات پربھی کہ  یہ فیصلہ ایک مخصوص نقطہ نظر یعنی اسلام کی بنیاد پر ہو۔ عالمِ اسلام کے تمام مسلمان اس ریاست کو زوال سے بچانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو تیار ہیں، جب اللہ اس کے ظہور کا اذن دے گا۔ کیونکہ یہی وہ واحد ریاست ہے جو نہ صرف موجودہ بین الاقوامی نظام کی مخالفت کرے گی، بلکہ صرف وہی اس نظام کی طرف واپسی کی ہولناکیوں کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ریاست وہ انصاف اور رحمت عام کرے گی جو انسان کے شایانِ شان ہے، حقداروں کو ان کے حقوق لوٹائے گی اور اجارہ داری کا خاتمہ کرے گی۔ یہ وہ واحد ریاست ہے جو تمام سمتوں میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے وسائل، تجربات، زمینیں اور عوام ابتدائی مرحلے میں ثابت قدمی کے لیے کافی ہیں۔

 

اور یقیناً جب تک اللہ اس ریاست کے ظہور کا اذن نہیں دیتا، اس کے لیے ایسے مردِ کار ہونے چاہئیں جنہوں نے اس کے نظریے کو اپنے وجود کا حصہ بنا لیا ہو اور اسے اپنے درمیان نافذ کرنے کے لیے کام کیا ہو، اپنے تعلقات کی بنیاد اسی کو بنایا ہو، اور اس کام کے لیے وہ تمام تیاریاں کر لی ہوں جو مطلوب ہیں۔ وہ ان شاء اللہ تیار ہیں اور حالات سے فائدہ اٹھانے اور اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز  کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر رہے ہیں۔

 

چنانچہ حزب التحریر کے نوجوان دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، اور وہ اس اسلامی کشتی کی قیادت سنبھالنے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں تاکہ یہ عالمی سطح پر اپنا مقام دوبارہ حاصل کر لے اور دوبارہ دنیا پر اللہ کے احکامات کے مطابق حکمرانی کرے، اور ان شاء اللہ بین الاقوامی سیاست کی قیادت سنبھال لے۔ یوں رسول اللہ ﷺ کی یہ بشارت پوری ہو جائے گی: «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» "پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہو گی"

Last modified onجمعرات, 19 مارچ 2026 20:56

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک