الجمعة، 02 شوال 1447| 2026/03/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ایران پر امریکہ اور یہودیوں کی جنگ کی تازہ ترین صورتحال

 

 

تحریر: استاد اسعد منصور

 

(ترجمہ)

 

جب امریکہ نے اپنی پروردہ صیہونی وجود کے ساتھ مل کر 28 فروری 2026 کو ایران پر جارحیت کا آغاز کیا، تو اس نے اس جنگ کے لیے چار دن کی مدت مقرر کی تھی۔ امریکہ کا گمان تھا کہ نظام کی چوٹی اور صفِ اول کے رہنماؤں کو نشانہ بناتے ہی دوسری صف کی قیادت ہتھیار ڈال دے گی اور اس کی شرائط کے سامنے سر تسلیم خم کر دے گی، بالکل ویسے ہی جیسے وینزویلا میں ہوا تھا جب وہاں کے صدر کو اغوا کیا گیا تو نائب صدر نے اس کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ لیکن ایسا نہ ہوا، بلکہ ایران ثابت قدم رہا اور اس جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ ٹرمپ کا تکبر اس حد تک بڑھ گیا کہ اس نے کہا کہ وہ (ایران کے) 'رہبر' کے تقرر میں شریک ہوگا اور وہ خامنہ ای کے بیٹے کو نہیں چاہتا، لیکن اس کی یہ امیدیں خاک میں مل گئیں۔

 

12 مارچ 2026 کو نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ "ٹرمپ اور ان کے مشیروں کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ اعلیٰ قیادت کے قتل کے نتیجے میں ایسے عملیت پسند (Pragmatic) رہنما سامنے آئیں گے جو جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے"۔ 10 مارچ 2026 کو امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیٹ نے بھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: "میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے ضروری طور پر ان کے اس ردعمل کی توقع کی تھی"۔

 

چار دن گزرنے کے بعد، ٹرمپ نے معرکے کا فیصلہ کرنے کے لیے دو ہفتوں، اور شاید چار ہفتوں کی بات کی۔ وہ اس جنگ کو اس سے پہلے ختم کرنا چاہتا ہے کہ حالات مزید بگڑ جائیں اور اس کے داخلی معاملات پر اثر پڑے، خاص طور پر جبکہ آئندہ خزاں میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔

 

سیاست میں ہر واقعے کو ایک ہی ترازو میں تولنا   غلط ہے، کیونکہ ہر ملک اور ہر واقعے کے اپنے مخصوص حالات اور پیچیدگیاں ہوتی ہیں، اسی طرح کسی واقعے کو اس کے پس منظر اور اصل حالات سے الگ کر کے دیکھنا بھی ایک غلطی ہے۔

 

لیکن تکبر اور رعونت نے ٹرمپ کو اسی طرح اندھا کر دیا جیسے اس کے ریپبلکن پیشرو بش جونیئر کو 2001 میں افغانستان اور 2003 میں عراق پر حملے کے وقت کیا تھا، اور جیسا کہ بش سینئر 1992 میں صومالیہ پر حملے کے وقت اندھے ہو چکا تھا۔ امریکہ اپنی فوجی طاقت، معاشی تسلط اور دوسرے ممالک کی خاموشی یا اس (ظلم) میں شرکت پر بھروسہ کرتا ہے۔ اسی لیے وہ ہر ملک کو تنہا پا کر اس پر حملہ کر دیتا ہے اور اب تو سوویت یونین کے دور کے برعکس کوئی بڑی طاقت ان کا راستہ بھی نہیں روکتی۔  امریکہ 1961 سے 1991 (سوویت یونین کے خاتمے) تک اسے اہمیت دیتا تھا اور اس کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کرتا تھا، لیکن اس کے بکھر جانے کے بعد امریکہ بین الاقوامی منظر نامے پر بلا شرکتِ غیرے حاوی ہو گیا۔

 

اب جبکہ جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، ٹرمپ نے اپنے اہداف سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے یا یہ دعویٰ کرنا شروع کیا ہے کہ اس نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور اب وہ جنگ روکنا چاہتا ہے۔ اس نے ان اہداف کو ایرانیوں کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری روکنے، اور ایرانی عوام کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی صورت میں گنوایا تھا۔

 

دوسری طرف ایران نے خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا جس سے تیل کی پیداوار متاثر ہوئی، اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جہاں سے دنیا کی توانائی کے تقریباً 20 فیصد ذرائع گزرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کا بحران پیدا ہو گیا، سپلائی کم ہو گئی اور امریکہ سمیت پوری دنیا میں قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔  تیل کے سٹریٹیجک ذخائر (Strategic Reserves) سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے سے بھی تیل کی قیمتوں پر لگام نہ ڈالی جا سکی، اور ایران کی جانب سے تیل کی تنصیبات پر حملوں میں تیزی کے ساتھ ہی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔

 

ٹرمپ نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر متضاد بیانات دینا شروع کر دیے، اور 11 مارچ 2026 کو کہا کہ "جنگ جلد ختم ہو جائے گی، کیونکہ ایران میں اب شاید ہی کوئی ایسی چیز باقی بچی ہو جسے نشانہ بنایا جا سکے"۔ یہ بیان جنگ کو روکنے کی جانب ایک قدم تھا۔ اس نے تیل کی سپلائی پر جنگ کے اثرات پر اپنی بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "تیل بردار بحری جہازوں کے عملے کو کچھ ہمت دکھانی چاہیے اور آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہیے"۔ وہ ان سے امریکہ کی خاطر اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی ہمت نہیں دکھا رہا۔ 14 مارچ 2026 کو اس نے دوسرے ممالک سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ وہ اس کی مدد کریں اور آبنائے ہرمز کو کھلوائیں۔ ڈیموکریٹک سینیٹر کرسٹوفر مرفی نے سوشل میڈیا پر ااسن کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا کہ "ٹرمپ انتظامیہ کے پاس آبنائے ہرمز کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اسے بحفاظت دوبارہ کیسے کھولا جائے"۔ یہ انکشاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کانگریس کے ایک بند کمرہ اجلاس میں اپنے منصوبے پیش کرنے کے بعد سامنے آیا۔

 

نیویارک ٹائمز نے بھی انہیں یہ کہہ کر بے نقاب کیا کہ "جب ٹرمپ اپنے مختلف آپشنز پر غور کر رہا تھا، جن میں ایران پر فوجی جارحیت کے ذریعے اسے اپنی شرائط پر معاہدے کے لیے مجبور کرنا بھی شامل تھا، تو 18 فروری 2026 کو امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا تھا کہ انہیں اس بات کی بالکل فکر نہیں ہے کہ آنے والی جنگ مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی میں خلل ڈالے گی یا توانائی کی منڈیوں میں افراتفری پیدا کرے گی"۔ یہ اندازہ جون 2025 میں ایران پر یہودی وجود اور امریکہ کی جارحیت، جسے '12 روزہ جنگ' کہا جاتا ہے، کی بنیاد پر لگایا گیا تھا۔ اس نے مزید کہا کہ "گزشتہ جون میں ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے دوران منڈیوں میں بہت کم اضطراب دیکھا گیا تھا۔ تیل کی قیمتیں تھوڑی بڑھیں اور پھر دوبارہ نیچے آ گئیں"۔

 

ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب پیوٹن سے رابطہ کرنے پر مجبور ہوا تاکہ شاید وہ اس کی مدد کر سکے۔ کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے بتایا کہ "پیوٹن نے ٹرمپ کو ایران جنگ کے فوری خاتمے کے لیے تجاویز پیش کیں"۔ یہ بات ان کے درمیان پیر 9 مارچ 2026 کو ہونے والی ایک ٹیلی فون کال کے دوران ہوئی، جو ٹرمپ کی درخواست پر کی گئی تھی اور تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ "اس نے پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی جو کہ مثبت رہی، اور یہ کہ امریکہ اب روسی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کر سکتا ہے"۔

 

ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید روانچی نے کہا کہ "ہم جنگ بندی کے لیے یہ شرط رکھتے ہیں کہ مزید جارحیت نہ کی جائے، اور چین، روس اور فرانس سمیت کئی ممالک نے جنگ بندی کے حوالے سے ہم سے رابطہ کیا ہے"۔

 

ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اب روس یا کسی اور کے ذریعے ایران سے مذاکرات کا راستہ کھولنے کی طرف بڑھ رہا ہے تاکہ جنگ کو اس طرح روکا جائے کہ وہ اپنی اس مشکل صورتحال سے نکل سکے اور بظاہر فاتح نظر آئے۔ لیکن شاید ایسا ممکن نہ ہو سکے، اور اس کا انجام بھی ویسا ہی ہو جیسا اس کے پیشرو بش جونیئر کا ہوا تھا، خاص طور پر اگر ایران نے خطے میں امریکی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور یہودی وجود کے اندر  اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔

 

یہودی وجود کی یہ خوش فہمی بھی دور ہو گئی کہ امریکہ کے ساتھ مل کر اس کی فوری جارحیت قیادت کو ختم کر کے نظام کو گرا دے گی اور معرکہ جلد ختم ہو جائے گا۔ وہ ان کی جارحیت پر ایران کے بھرپور ردعمل اور ایرانی میزائلوں سے ہونے والے بڑے نقصانات پر حیران رہ گئے۔

 

بظاہر لگتا ہے کہ ایران فلسطین کو آزاد کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس نے کبھی اسے اپنا حقیقی ہدف نہیں بنایا۔ اس کے پاس ایک بہترین موقع اس وقت تھا جب غزہ میں مجاہدین نے یہودی وجود پر حملہ کیا تھا، اور وہ خود بھی شام میں فرنٹ لائن پر موجود تھا۔ لیکن ایران نے جنگ کا دائرہ وسیع نہ کرنے کے امریکی پیغامات پر کان دھرے، یہاں تک کہ اسے شام سے نکال دیا گیا اور لبنان میں اس کی طاقتور جماعت کو ضرب لگائی گئی۔

ایران کا خیال تھا کہ امریکہ کے زیر اثر رہنا اور اس کے پیغامات پر عمل کرنا اس کے وجود کے تحفظ، اسے مضبوط بنانے، علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے، اور ایٹمی و میزائل سازی کی صلاحیت کو ترقی دینے کی ضمانت بنے گا۔ لیکن امریکہ دراصل ان چیزوں کو محدود کرنا اور اسے اپنا ایک تابع ملک بنانا چاہتا تھا۔

 

ہم ایران سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ اپنے مخلوط جمہوری نظام، محدود قوم پرستی اور مسلکی عصبیت کو چھوڑ کر خلافت کا اعلان کرے گا، اسلامی ممالک کو متحد کرنے کے لیے کام کرے گا، اور فلسطین کو آزاد کراتے ہوئے ہر جگہ مسلمانوں کی نصرت کرے گا۔ حالانکہ اگر وہ ایسا کرتا تو امریکہ خطے میں اپنے اڈے قائم نہ کر پاتا اور نہ ہی یہودی وجود کا وجود باقی رہتا۔ وہ یہودی وجود جس نے غزہ اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ جو ظلم کیا وہ سب کے سامنے ہے، جہاں کے لوگ ایران کی مدد کے منتظر رہے لیکن خطے کے دیگر ممالک کی طرح اس نے بھی انہیں مایوس کیا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو وہ خود بھی اس جارحیت کا شکار نہ ہوتا۔

 

یہ جنگ ثابت کرتی ہے کہ جب مسلمان  نبوت کے نقشِ قدم پر اپنی ریاست، یعنی ریاستِ خلافت قائم کریں گے، تو ان کے پاس امریکہ کو شکست دینے اور یہودی وجود کو ختم کرنے کی بھرپور صلاحیت ہو گی، لہذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اسے قائم کرنے والوں کی مدد کریں۔

Last modified onجمعرات, 19 مارچ 2026 20:49

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک