الجمعة، 02 شوال 1447| 2026/03/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

فلسطین تیسرے منصوبے کے انتظار میں ہے

 

 

تحریر: استاد عبد الرحمن اللداوی

 

 

(ترجمہ)

 

 

1967ء میں یہودیوں کے مغربی کنارے پر غاصبانہ قبضے کے بعد سے مسئلہ فلسطین دو منصوبوں یا دو پلانوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ پہلا امریکی منصوبہ ہے جس کا مقصد بین الاقوامی قوانین اور اداروں کے فریم ورک کے اندر ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جبکہ دوسرا یہودیوں کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد مغربی کنارے کی زمینوں پر مکمل قبضہ اور تسلط حاصل کرنا ہے۔

 

 

جبکہ پہلا منصوبہ دہائیوں سے صرف ہوا میں، میڈیا کی فضاؤں، سیاسی اقدامات اور کانفرنسوں کے ایوانوں تک محدود ہے اور ان سے آگے نہیں بڑھ سکا، اس کے برعکس یہودی وجود کا منصوبہ عملی طور پر زمین پر روزانہ کی بنیاد پر بلا تعطل جاری ہے۔ یہودی مغربی کنارے پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کی حقیقت کو "بین الاقوامی قوانین" کے مطابق ایک متنازعہ مقبوضہ زمین سے بدل کر اپنے جغرافیے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ فلسطین کی سرزمین سمندر سے لے کر دریا تک صرف ان کے لیے ایک "یہودی ریاست" بن جائے، جس میں کسی اور کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو، اور نام نہاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکی جا سکے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر اب یہودی وجود کی تمام قوتیں، سیاست دان اور ان کے عوام متفق ہو چکے ہیں۔

 

 

اس مقصد کے حصول کے لیے یہودی وجود نے شروع ہی سے مغربی کنارے کے جغرافیہ اور آبادیاتی تناسب (ڈیموگرافی) کو بدلنے کی کوشش کی ، جہاں اس نے آباد کاری (بستیوں کی تعمیر) کے ذریعے فلسطینیوں کے مقابلے میں ایک متوازی وجود کھڑا کرنے کا ارادہ کیا ۔ یعنی شہر اور رہائشی بستیاں تعمیر کر کے ایک متبادل قوم تیار کی جا رہی ہے جو ان آباد کاروں پر مشتمل ہے جن کی تعداد بڑھانے اور جن کے وجود کو مضبوط کرنے کے لیے وہ بھرپور تگ و دو کر رہے ہیں۔

 

 

دوسری طرف، چونکہ فلسطینی عوام اپنی موجودگی، ثابت قدمی اور اپنی زمین پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے یہودی وجود کے منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اور آبادی کے لحاظ سے ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں، اور چونکہ وہ یہ زمین اس کے باشندوں کے بغیر چاہتے ہیں، اس لیے ان کی پالیسیاں صرف آباد کاری کو مضبوط کرنے تک محدود نہیں رہیں۔ اس کا دوسرا رخ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش ہے، جس کے لیے ان کی زندگیوں کو انتہائی مشکل بنا کر انہیں ہجرت پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے تنگی، محاصرہ، گلا گھونٹنے، قتل و غارت، عدم تحفظ، تشدد اور گھروں و پناہ گزین کیمپوں کی مسماری جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ جبری بے دخلی تاریخی طور پر ان کے تمام منصوبوں کا ایک بنیادی حصہ رہی ہے، لیکن حال ہی میں اس کی شدت، رفتار اور جرائم میں اضافہ ہوا ہے، جس کی واضح عکاسی زمینوں کے حوالے سے "کابینہ" (کابینٹ) کے حالیہ فیصلوں میں ہوتی ہے۔

 

 

جہاں تک فلسطینی اتھارٹی کا تعلق ہے، جس نے فلسطینی ریاست کے امریکی منصوبے کا دامن تھام رکھا ہے اور اسے اپنے "قومی منصوبے" کے طور پر پیش کر کے عوام کو وہم و گمان فروخت کیے ہیں، تو یہودی وجود نے اسے اور اس کی خالق "اوسلو معاہدہ" کو کبھی بھی ایک "فنکشنل" (خدماتی) حیثیت سے بڑھ کر نہیں دیکھا اور اس کے ساتھ ہمیشہ اسی بنیاد پر معاملہ کیا ہے۔ چنانچہ اتھارٹی کو یہودی وجود کی حفاظت کے لیے بطور ایک بنیادی وظیفہ استعمال کیا گیا اور خود اتھارٹی نے بھی اپنی تمام تر توانائیاں اسی کام میں لگا دیں۔ اسی طرح غاصب یہودی وجود نے اسے اپنی جگہ فلسطینیوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے استعمال کیا، اسے ایک طرف دفاعی ڈھال اور قابو پانے کے آلے کے طور پر رکھا اور دوسری طرف عوام پر اپنے دباؤ کو منتقل کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اس اتھارٹی کے قوانین، اقدامات اور وہ غدارانہ رویے جو اپنے ہی لوگوں کے قتل تک جا پہنچے، اسی تناظر میں تھے۔ یہاں تک کہ یہ اتھارٹی خود فلسطینی عوام کے لیے ایک ایسا بوجھ بن گئی ہے جس تلے وہ دبے ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے قبضے کے بوجھ انہیں ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔ جبکہ اتھارٹی اپنا وجود اور بقا اسی ذلیل وظیفے سے وابستہ سمجھتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اس گندی ڈیوٹی کو ایک ذہنی تضاد  کی حالت میں جاری رکھے ہوئے ہے، باوجود اس کے کہ یہودی روزانہ فلسطینیوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھاتے ہیں، بلکہ ان تبدیلیوں کے باوجود جو یہودیوں نے گزشتہ تیس سالوں میں اتھارٹی ہی کے فراہم کردہ پردے تلے زمین پر برپا کی ہیں۔

 

 

دنیا جس بدلتے ہوئے حالات سے گزر رہی ہے، اس میں اب تعلقات میں کچھ بھی پائیدار نہیں رہا۔ بین الاقوامی نظام کی ٹوٹ پھوٹ، اور نام نہاد بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈالنے بلکہ ان کی کھلی توہین اور ان کی جگہ طاقت کے زور اور گٹھ جوڑ کے منطق کے رواج نے فلسطینی ریاست کے منصوبے کو، اگرچہ ختم تو نہیں کیا، لیکن اسے غیر یقینی ضرور بنا دیا ہے۔ کم از کم اس ریاست کی حقیقت، اس کی نوعیت، اس کے جغرافیے بلکہ اس کے قیام کی جگہ کے حوالے سے اب کچھ بھی یقینی نہیں رہا، خاص طور پر ان زمینی حقائق کے بعد جو یہودی وجود نے اس کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے پیدا کیے ہیں، اور جس طرح وہ اس کے ساتھ معاملہ کر رہی ہے جہاں اس کے اختیارات کو چھین کر اسے محض ادنیٰ اور ذلیل کرداروں تک محدود اور مسخ کر دیا گیا ہے۔

 

 

شاید ابھی تک فلسطین کے مسئلے کو ختم کرنے کے لیے میز پر موجود مغربی منصوبے (جس کی شکل ایک چھوٹی سی فلسطینی ریاست ہے) کا ایک مقصد یہودی وجود کو خود اس کے اپنے ہی شر سے بچانا ہے۔ کیونکہ جب وہ انتہائی ڈھٹائی اور تکبر کے ساتھ پوری زمین کو ہڑپ کرنے اور مسئلہ فلسطین کے وجود کو ہی مٹانے پر تلا ہوا ہے، تو یہ اس کے لیے کوئی آسان لقمہ نہیں ہے، اور یہی چیز اس کے گلے کا پھندا بن سکتی ہے۔

 

 

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطین اور اس کے رہنے والوں کے لیے آنے والے دن مشکل ہیں، جب تک کہ ان کا مقدمہ اپنے دشمنوں کے دانتوں میں دبا ہوا ہے، اور جب تک کہ امت کا اپنا منصوبہ یہودی وجود اور امریکہ کے منصوبوں کے ملبے پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے سامنے نہیں آتا۔ امت کا یہ منصوبہ پورے فلسطین کی آزادی اور اس ناجائز ریاست کے خاتمے پر مبنی ہے، کیونکہ یہی وہ حل ہے جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے اور جس کے احکامات امت پر اسے لازم کرتے ہیں اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ فلسطین پوری امت کا مسئلہ ہے، یہ صرف اہل فلسطین کا اکیلا مسئلہ نہیں ہے۔

 

 

مگر امت کا یہ منصوبہ اگرچہ نظریاتی طور پر موجود ہے اور اس کے بیٹوں کے دلوں میں پوشیدہ ہے، لیکن عملی طور پر اب تک غائب ہے، اور اس کی وجہ وہ انتظامی قوت کی غیر موجودگی ہے جو اس کی سربراہی کرے اور اس کے لیے حرکت میں آئے، اور اس 'اسلامی ریاست'  کی غیر موجودگی ہے جو اس منصوبے کو حقیقت میں بدل دے۔ درحقیقت، خلافت کا قیام امت کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس سے تمام مسائل اور ان کے حل وابستہ ہیں، بشمول فلسطین کی آزادی۔ اگرچہ امت کے پاس موجود طاقت کے بل بوتے پر فلسطین کی آزادی ممکن ہے، لیکن فلسطین کے حالیہ واقعات نے ان سازشی اور استعمار کے غلام حکمرانوں کے سائے میں امت کی بے بسی، مفلوج حالت اور غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان حالات نے امت کے اس سب سے بڑے منصوبے یعنی 'اسلامی ریاست' کی ضرورت کو مزید پختہ کر دیا ہے جو امت کو استعمار کے تسلط سے چھڑائے، اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرے، اس کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی فوجوں کو رہا کرے اور اس کے چھینے ہوئے ارادے کو واپس دلائے۔ اس کے بغیر امت اسی طرح ذلت اور بے بسی کی چکی میں پستی رہے گی، ایک مصیبت میں جیے گی اور اگلی مصیبت کا انتظار کرے گی!

 

 

حالیہ واقعات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ یہ حل،یعنی پورے فلسطین کی آزادی اور غاصب ریاست کا خاتمہ، دہائیوں سے پیش کیے جانے والے ان مغربی منصوبوں (جیسے دو ریاستی حل) کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریب ہے جو بے سود رہے اور جن پر عمل درآمد تک نہ ہو سکا۔ کیونکہ اس غاصب ریاست کی کمزوری، بزدلی اور اس کی طاقت کا کھوکھلا پن اب ظاہر ہو چکا ہے۔ جبکہ ان دونوں سے زیادہ قریب حکمران ایجنٹوں اور جابر نظاموں کا خاتمہ ہے، بشرطیکہ امت اور اس کی قوتیں ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے صحیح سمت میں حرکت کریں۔ ان لوگوں کی امت میں کوئی جڑیں نہیں ہیں، ان کے تخت اب خالی ہو چکے ہیں اور ان کی کرسیاں گرنے والی ہیں۔ ظالم چاہے کیسی ہی تصویر کشی کریں، امت کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنے پیشِ نظر رکھنا چاہیے:

 

﴿أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ

 

"آگاہ رہو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے"(سورۃ البقرۃ: آیت 214)

 

 

فلسطین تیسرے منصوبے کے انتظار میں ہے

تحریر: استاد عبد الرحمن اللداوی

(ترجمہ)

1967ء میں یہودیوں کے مغربی کنارے پر غاصبانہ قبضے کے بعد سے مسئلہ فلسطین دو منصوبوں یا دو پلانوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ پہلا امریکی منصوبہ ہے جس کا مقصد بین الاقوامی قوانین اور اداروں کے فریم ورک کے اندر ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جبکہ دوسرا یہودیوں کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد مغربی کنارے کی زمینوں پر مکمل قبضہ اور تسلط حاصل کرنا ہے۔

جبکہ پہلا منصوبہ دہائیوں سے صرف ہوا میں، میڈیا کی فضاؤں، سیاسی اقدامات اور کانفرنسوں کے ایوانوں تک محدود ہے اور ان سے آگے نہیں بڑھ سکا، اس کے برعکس یہودی وجود کا منصوبہ عملی طور پر زمین پر روزانہ کی بنیاد پر بلا تعطل جاری ہے۔ یہودی مغربی کنارے پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کی حقیقت کو "بین الاقوامی قوانین" کے مطابق ایک متنازعہ مقبوضہ زمین سے بدل کر اپنے جغرافیے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ فلسطین کی سرزمین سمندر سے لے کر دریا تک صرف ان کے لیے ایک "یہودی ریاست" بن جائے، جس میں کسی اور کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو، اور نام نہاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکی جا سکے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر اب یہودی وجود کی تمام قوتیں، سیاست دان اور ان کے عوام متفق ہو چکے ہیں۔

اس مقصد کے حصول کے لیے یہودی وجود نے شروع ہی سے مغربی کنارے کے جغرافیہ اور آبادیاتی تناسب (ڈیموگرافی) کو بدلنے کی کوشش کی ، جہاں اس نے آباد کاری (بستیوں کی تعمیر) کے ذریعے فلسطینیوں کے مقابلے میں ایک متوازی وجود کھڑا کرنے کا ارادہ کیا ۔ یعنی شہر اور رہائشی بستیاں تعمیر کر کے ایک متبادل قوم تیار کی جا رہی ہے جو ان آباد کاروں پر مشتمل ہے جن کی تعداد بڑھانے اور جن کے وجود کو مضبوط کرنے کے لیے وہ بھرپور تگ و دو کر رہے ہیں۔

دوسری طرف، چونکہ فلسطینی عوام اپنی موجودگی، ثابت قدمی اور اپنی زمین پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے یہودی وجود کے منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اور آبادی کے لحاظ سے ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں، اور چونکہ وہ یہ زمین اس کے باشندوں کے بغیر چاہتے ہیں، اس لیے ان کی پالیسیاں صرف آباد کاری کو مضبوط کرنے تک محدود نہیں رہیں۔ اس کا دوسرا رخ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش ہے، جس کے لیے ان کی زندگیوں کو انتہائی مشکل بنا کر انہیں ہجرت پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے تنگی، محاصرہ، گلا گھونٹنے، قتل و غارت، عدم تحفظ، تشدد اور گھروں و پناہ گزین کیمپوں کی مسماری جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ جبری بے دخلی تاریخی طور پر ان کے تمام منصوبوں کا ایک بنیادی حصہ رہی ہے، لیکن حال ہی میں اس کی شدت، رفتار اور جرائم میں اضافہ ہوا ہے، جس کی واضح عکاسی زمینوں کے حوالے سے "کابینہ" (کابینٹ) کے حالیہ فیصلوں میں ہوتی ہے۔

جہاں تک فلسطینی اتھارٹی کا تعلق ہے، جس نے فلسطینی ریاست کے امریکی منصوبے کا دامن تھام رکھا ہے اور اسے اپنے "قومی منصوبے" کے طور پر پیش کر کے عوام کو وہم و گمان فروخت کیے ہیں، تو یہودی وجود نے اسے اور اس کی خالق "اوسلو معاہدہ" کو کبھی بھی ایک "فنکشنل" (خدماتی) حیثیت سے بڑھ کر نہیں دیکھا اور اس کے ساتھ ہمیشہ اسی بنیاد پر معاملہ کیا ہے۔ چنانچہ اتھارٹی کو یہودی وجود کی حفاظت کے لیے بطور ایک بنیادی وظیفہ استعمال کیا گیا اور خود اتھارٹی نے بھی اپنی تمام تر توانائیاں اسی کام میں لگا دیں۔ اسی طرح غاصب یہودی وجود نے اسے اپنی جگہ فلسطینیوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے استعمال کیا، اسے ایک طرف دفاعی ڈھال اور قابو پانے کے آلے کے طور پر رکھا اور دوسری طرف عوام پر اپنے دباؤ کو منتقل کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اس اتھارٹی کے قوانین، اقدامات اور وہ غدارانہ رویے جو اپنے ہی لوگوں کے قتل تک جا پہنچے، اسی تناظر میں تھے۔ یہاں تک کہ یہ اتھارٹی خود فلسطینی عوام کے لیے ایک ایسا بوجھ بن گئی ہے جس تلے وہ دبے ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے قبضے کے بوجھ انہیں ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔ جبکہ اتھارٹی اپنا وجود اور بقا اسی ذلیل وظیفے سے وابستہ سمجھتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اس گندی ڈیوٹی کو ایک ذہنی تضاد  کی حالت میں جاری رکھے ہوئے ہے، باوجود اس کے کہ یہودی روزانہ فلسطینیوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھاتے ہیں، بلکہ ان تبدیلیوں کے باوجود جو یہودیوں نے گزشتہ تیس سالوں میں اتھارٹی ہی کے فراہم کردہ پردے تلے زمین پر برپا کی ہیں۔

دنیا جس بدلتے ہوئے حالات سے گزر رہی ہے، اس میں اب تعلقات میں کچھ بھی پائیدار نہیں رہا۔ بین الاقوامی نظام کی ٹوٹ پھوٹ، اور نام نہاد بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈالنے بلکہ ان کی کھلی توہین اور ان کی جگہ طاقت کے زور اور گٹھ جوڑ کے منطق کے رواج نے فلسطینی ریاست کے منصوبے کو، اگرچہ ختم تو نہیں کیا، لیکن اسے غیر یقینی ضرور بنا دیا ہے۔ کم از کم اس ریاست کی حقیقت، اس کی نوعیت، اس کے جغرافیے بلکہ اس کے قیام کی جگہ کے حوالے سے اب کچھ بھی یقینی نہیں رہا، خاص طور پر ان زمینی حقائق کے بعد جو یہودی وجود نے اس کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے پیدا کیے ہیں، اور جس طرح وہ اس کے ساتھ معاملہ کر رہی ہے جہاں اس کے اختیارات کو چھین کر اسے محض ادنیٰ اور ذلیل کرداروں تک محدود اور مسخ کر دیا گیا ہے۔

شاید ابھی تک فلسطین کے مسئلے کو ختم کرنے کے لیے میز پر موجود مغربی منصوبے (جس کی شکل ایک چھوٹی سی فلسطینی ریاست ہے) کا ایک مقصد یہودی وجود کو خود اس کے اپنے ہی شر سے بچانا ہے۔ کیونکہ جب وہ انتہائی ڈھٹائی اور تکبر کے ساتھ پوری زمین کو ہڑپ کرنے اور مسئلہ فلسطین کے وجود کو ہی مٹانے پر تلا ہوا ہے، تو یہ اس کے لیے کوئی آسان لقمہ نہیں ہے، اور یہی چیز اس کے گلے کا پھندا بن سکتی ہے۔

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ فلسطین اور اس کے رہنے والوں کے لیے آنے والے دن مشکل ہیں، جب تک کہ ان کا مقدمہ اپنے دشمنوں کے دانتوں میں دبا ہوا ہے، اور جب تک کہ امت کا اپنا منصوبہ یہودی وجود اور امریکہ کے منصوبوں کے ملبے پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے سامنے نہیں آتا۔ امت کا یہ منصوبہ پورے فلسطین کی آزادی اور اس ناجائز ریاست کے خاتمے پر مبنی ہے، کیونکہ یہی وہ حل ہے جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے اور جس کے احکامات امت پر اسے لازم کرتے ہیں اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ فلسطین پوری امت کا مسئلہ ہے، یہ صرف اہل فلسطین کا اکیلا مسئلہ نہیں ہے۔

مگر امت کا یہ منصوبہ اگرچہ نظریاتی طور پر موجود ہے اور اس کے بیٹوں کے دلوں میں پوشیدہ ہے، لیکن عملی طور پر اب تک غائب ہے، اور اس کی وجہ وہ انتظامی قوت کی غیر موجودگی ہے جو اس کی سربراہی کرے اور اس کے لیے حرکت میں آئے، اور اس 'اسلامی ریاست'  کی غیر موجودگی ہے جو اس منصوبے کو حقیقت میں بدل دے۔ درحقیقت، خلافت کا قیام امت کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس سے تمام مسائل اور ان کے حل وابستہ ہیں، بشمول فلسطین کی آزادی۔ اگرچہ امت کے پاس موجود طاقت کے بل بوتے پر فلسطین کی آزادی ممکن ہے، لیکن فلسطین کے حالیہ واقعات نے ان سازشی اور استعمار کے غلام حکمرانوں کے سائے میں امت کی بے بسی، مفلوج حالت اور غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان حالات نے امت کے اس سب سے بڑے منصوبے یعنی 'اسلامی ریاست' کی ضرورت کو مزید پختہ کر دیا ہے جو امت کو استعمار کے تسلط سے چھڑائے، اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرے، اس کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی فوجوں کو رہا کرے اور اس کے چھینے ہوئے ارادے کو واپس دلائے۔ اس کے بغیر امت اسی طرح ذلت اور بے بسی کی چکی میں پستی رہے گی، ایک مصیبت میں جیے گی اور اگلی مصیبت کا انتظار کرے گی!

حالیہ واقعات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ یہ حل،یعنی پورے فلسطین کی آزادی اور غاصب ریاست کا خاتمہ، دہائیوں سے پیش کیے جانے والے ان مغربی منصوبوں (جیسے دو ریاستی حل) کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریب ہے جو بے سود رہے اور جن پر عمل درآمد تک نہ ہو سکا۔ کیونکہ اس غاصب ریاست کی کمزوری، بزدلی اور اس کی طاقت کا کھوکھلا پن اب ظاہر ہو چکا ہے۔ جبکہ ان دونوں سے زیادہ قریب حکمران ایجنٹوں اور جابر نظاموں کا خاتمہ ہے، بشرطیکہ امت اور اس کی قوتیں ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے صحیح سمت میں حرکت کریں۔ ان لوگوں کی امت میں کوئی جڑیں نہیں ہیں، ان کے تخت اب خالی ہو چکے ہیں اور ان کی کرسیاں گرنے والی ہیں۔ ظالم چاہے کیسی ہی تصویر کشی کریں، امت کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنے پیشِ نظر رکھنا چاہیے: ﴿أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴾ "آگاہ رہو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے"(سورۃ البقرۃ: آیت 214)

Last modified onجمعرات, 19 مارچ 2026 21:08

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک