الثلاثاء، 10 ربيع الثاني 1448| 2026/09/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

برطانیہ نیتن یاہو حکومت پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک یورپی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے

 

تحریر: استاد احمد الخطوانی

(ترجمہ)

 

 

دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد یہ شاید ہی پہلا موقع ہے کہ برطانیہ نے یہودی وجود پر علانیہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے یورپی ممالک کے ایک گروہ کی قیادت کی ہو، خواہ یہ پابندیاں محض علامتی ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ یہودی وجود کے ساتھ اس قدر واضح اور کھلے تصادم کی راہ اختیار کرنا برطانیہ کی عادت نہیں رہی، اور وہ عموماً یہودی وجود کے (اپنے نزدیک نا قابلِ قبول) اقدامات کو سفارتی ذرائع اور اسالیب ہی کے ذریعے سنبھالا کرتا تھا، نیز ان دونوں کے درمیان کبھی کوئی علانیہ تصادم سامنے نہیں آیا تھا۔

 

لیکن اس بار ایسا لگتا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کے اقدامات شدت پسندی کے اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جو برطانیہ کے لیے نا قابلِ برداشت ہو چکا ہے،وہ برطانیہ جو خود کو اب بھی تاریخی طور پر فلسطین کا ذمہ دار گردانتا ہے،اور جس نے یہ محسوس کیا ہے کہ یہودی وجود میں موجود انتہائی دائیں بازو کے گروہ نے برطانیہ کے نقطہ نظر کے مطابق سرخ لکیروں کو عبور کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وہ بات ہے جس نے برطانیہ کو یہودی دائیں بازو کے اس بڑھتے ہوئی سرکشی کو روکنے اور اسے فلسطین میں بنیادی سیاسی حقائق کو جوہر کے اعتبار سے تبدیل کرنے سے باز رکھنے کے لیے ایک حتمی اور علانیہ موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

 

برطانیہ کو اپنے ضبط اور روایتی سفارت کاری کے دائرے سے باہر لانے والی بنیادی وجہ نیتن یاہو حکومت کی طرف سے نام نہاد (E1) منصوبے کے عمل درآمد کا آغاز ہے، جس کی تعمیل سے یہودی وجود کی سابقہ حکومتیں برطانیہ اور یورپ کے دباؤ کی وجہ سے کتراتی رہی تھیں۔ لیکن اس بار نیتن یاہو حکومت نے اپنے شدت پسند کابینہ ارکان کے دباؤ میں آ کر جرأت کا مظاہرہ کیا اور پہلی بار عملی قدم اٹھاتے ہوئے اس منصوبے پر کام شروع کر دیا، چنانچہ اس نے (E1) کے علاقے میں 1200 رہائشی اکائیوں کی تعمیر کا ٹینڈر جاری کر دیا۔ اس بات نے برطانیہ کو شدید برہم کیا اور اسے یہودی وجود کے خلاف علانیہ پابندیاں لگانے پر ابھارا، نیز اس نے فرانس، اسپین، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، آئرلینڈ، آئس لینڈ، پرتگال اور پولینڈ سمیت 12 یورپی ممالک کو کینیڈا کے ساتھ اپنے ساتھ ملا لیا۔ ان پابندیوں کی نوعیت یوں ہے: بستیوں کی تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی، اور بستیوں کی تعمیر کی مالی اعانت سے مربوط کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں۔ ان ممالک نے ان پابندیوں کے نفاذ کو تعمیراتی ٹینڈر سے مربوط کیا، اس کے علاوہ پابندیاں عائد کرنے کی دیگر وجوہات بھی بیان کیں جو (E1) کے مقابلے میں کم اہمیت رکھتی تھیں، جیسے اہل فلسطین کے خلاف آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ، اور آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کی نیتن یاہو حکومت کے ذریعے براہِ راست سرپرستی۔

 

یہ پابندیاں،اگرچہ بظاہر ہلکی نظر آتی ہیں،لیکن ان کی علامتی اہمیت نہایت بلند ہے، اور یہ یہودی وجود کو سنگین پیغام دیتی ہیں کہ وہ طے شدہ حدود کو عبور کرنے سے باز رہے، نیز اس سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ مغربی کنارے کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے اقدامات کو آگے نہ بڑھائے، اور اسے ایسے علاقوں میں تقسیم کرنے سے گریز کرے جن کی موجودگی میں ایک پیوستہ اور جڑا ہوا فلسطینی وجود قائم کرنا مشکل ہو جائے۔ اس کا مقصد فلسطینیوں کے لیے ایک زندہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کے تصور کو باقی رکھنا ہے، یا جیسا کہ وہ اسے "دو ریاستی حل" کا نفاذ کہتے ہیں، اور ایسے خود مختار علاقے کی صلاحیت کو برقرار رکھنا ہے جو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی ادنیٰ ترین حد کو مجسم کر سکے۔

 

برطانیہ نے یہودی وجود کے خلاف اپنے لہجے کو نمایاں طور پر سخت کیا، چنانچہ اس کے وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا: "اسرائیلی حکومت آبادکاروں کے ذریعے انجام دی جانے والی نسل کشی سے چشم پوشی کر رہی ہے"، انہوں نے آبادکاروں کے افعال کو "نسل کشی" سے تعبیر کیا، اور کہا: "ہم محض تماشائی بنے رہنے کو مسترد کرتے ہیں۔"

برطانیہ کے ان تند و تیز بیانات کے نتیجے میں یہودی وجود کا ردِ عمل برطانیہ کے خلاف نہایت شدید تھا، چنانچہ اس نے مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے اور تیس دنوں کے اندر برطانوی سفارت کاروں کی سفارتی اسناد واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔

 

جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، تو برطانیہ نے اسے نیتن یاہو حکومت کے خلاف پابندیوں کے فیصلے سے پہلے ہی مطلع کر دیا تھا؛ یہودی وجود کے چینل 12 نے اپنے ایک صحافی براک رافید کے حوالے سے امریکی حکام کا یہ قول نقل کیا کہ: "ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کے برطانوی قدم کی مخالفت نہیں کی، اور اگرچہ ہم پابندیوں کے اس قدم سے اتفاق نہیں کرتے، لیکن ہم مغربی کنارے میں نیتن یاہو کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی مایوسی کے احساس میں آپ کے ساتھ شریک ہیں"، جبکہ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارک روبیو نے کہا: "ہم علاقے میں استحکام کو نقصان پہنچانے والی کوئی چیز نہیں چاہتے۔"

 

برطانیہ اور یورپی ممالک کی جانب سے یہودی وجود پر لگائی جانے والی پابندیوں کا مقصد یقیناً اہل فلسطین کو انصاف فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد مشرقِ وسطیٰ میں برطانیہ کا اثر و رسوخ باقی رکھنا، امریکہ کے شانہ بشانہ خطے میں اس کے کردار کو محفوظ بنانا، اور برطانوی پالیسی کو عمومی طور پر خطے میں مغربی حکمتِ عملی کے لیے حفاظتی ضامن بنانا ہے۔ اسی وجہ سے وہ ان پابندیوں کے نفاذ کے ذریعے اس مفروضے پر داؤ لگا رہا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کو گرا دیا جائے اور یہودی وجود کے آنے والے انتخابات میں نئے سیاست دانوں کو کامیاب کرایا جائے تاکہ آبادکاروں کی ان پالیسیوں سے واپسی ممکن ہو سکے جو ریپبلکن پارٹی کے ایوینجلیکلز (انجیلیوں) کے ہاں تو مقبول ہیں مگر باقی دنیا کے ممالک میں نا قابلِ قبول ہیں۔

 

رہا یہ سوال کہ اسلامی ممالک میں قائم حکومتیں، ان کے سر پر منڈلا رہے  خطرات اور اپنے خلاف یہودی وجود کی سرکشی اور تکبر کے مقابلے میں کیا کر رہی ہیں؟ تو وہ اپنی پرانی عادت یعنی مذمت و تنقید، یا بااثر ممالک کے فیصلوں پر خوشی و خیرمقدم کے روایتی رویے سے آگے نہیں بڑھ سکی ہیں۔ چنانچہ ترکیہ، پاکستان، مصر، سعودی عرب، قطر، اردن اور امارات سمیت آٹھ اہم ممالک نے برطانوی اور یورپی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے، کیونکہ یہ ممالک صرف بیانات جاری کرنے کے علاوہ کسی چیز پر قادر نہیں ہیں۔ پس بجائے اس کے کہ ان کی پالیسیاں مؤثر ہوتیں اور وہ اپنی عظیم عسکری اور معاشی طاقت کو کم از کم خود یہودی وجود پر پابندیاں لگانے میں استعمال کرتے، وہ دیگر ممالک کی پابندیوں کو اس طرح سراہ رہے ہیں گویا یہ معاملہ ان سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا!

 

استعماری ممالک کی پابندیوں پر انحصار اور بھروسہ مسلمانوں کو امریکہ اور یہودی وجود کے ہتھوڑے کے نیچے مسلسل پسنے سے نہیں بچا سکتا، اور نہ ہی برطانیہ اور سازشی یورپی ممالک کے خبیث جالوں سے نجات دلا سکتا ہے۔

یقیناً امتِ مسلمہ پر فرض ہے کہ وہ خطرات کو دور کرنے اور اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود پر انحصار کرے، اور وہ ایسا اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنی تمام طاقتوں کو ایک ہی ریاست میں متحد نہ کر لے جو اس کے وجود کی حفاظت کرے اور اس سے بیرونی و اندرونی خطرات کو دور کرے۔

 

 

 

Last modified onمنگل, 22 ستمبر 2026 05:48

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک