الثلاثاء، 02 جمادى الأولى 1448| 2026/10/13
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

کیا فوجی بغاوت اسلام میں حکومت حاصل کرنے کا ایک  اسلوب ہے؟ (1)!

 

 

(عربی سے ترجمہ)

 

 

الوعي میگزین – شمارہ نمبر،483

اکتالیسواں سال، ربیع الثانی 1448ھ

بمطابق، ستمبر 2026ء

تحریر : بسّام فرحات – تیونس

 

رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مکہ کے دور سے لے کر ان تمام مراحل تک جب تک کہ آپ ﷺ نے اپنی ایک ریاست قائم کر لی اور ہر مرحلے میں انجام دی جانے والی نمایاں سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد، حزب التحریر نے اپنے اس منہج کو اخذ کیا ہے جو ان مخصوص مراحل اور اعمال پر مشتمل ہے جو رسول اللہ ﷺ نے مکی دور میں انجام دئیے۔ حزب نےاس منہج کو سید المرسلین ﷺ کے عمل کی تقلید کرتے ہوئے اخذ کیا ہے، کیونکہ یہ شرعی احکام ہیں جن کی اتباع سنتِ مطہرہ سے ثابت دیگر تمام احکام کی طرح واجب ہے۔

 

اسی بنیاد پر حزب نے اپنے طریقۂ کار کو تین مراحل میں متعین کیا ہے۔ پہلا مرحلہ، تثقیف (تربیت) کا مرحلہ ہے تاکہ ایسے افراد پیدا کیے جا سکیں جو جماعت کی فکر، منہج اور مقصد پر ایمان رکھتے ہوں اور حزب کا مرکزی كتلة بنیں۔ دوسرا مرحلہ، امت کے ساتھ تفاعل (فکری کشمکش و سیاسی جدوجہد) کا مرحلہ ہے تاکہ امت کو اسلام کا حامل بنایا جائے اور وہ اسے اپنا بنیادی قضیہ (مسئلہ) بنا لے اور اسلام کو حقیقت میں لانے کے لئے جدوجہد کرے۔ تیسرا مرحلہ، حکومت سنبھالنے، اسلام کو مکمل اور جامع انداز میں نافذ کرنے اور اس کے پیغام کو ساری دنیا تک پہنچانے کا مرحلہ ہے۔

 

طریقہ (الطّريقة )اور اسلوب (الأسلوب) کے درمیان فرق

 

سیرتِ نبوی کے واقعات کا گہرا مطالعہ کرنے سے حزب پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں وحشیانہ ظلم و تشدد اور جمود کی ایسی نازک صورتحال سے گزرے، تو آپ ﷺ نے دعوت کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ ایک نیا کام بھی شامل فرمایا، جو اہلِ قوت و طاقت لوگوں سے نصرۃ (عسکری مدد) طلب کرنے کی صورت میں تھا۔ آپ ﷺ شدید تکالیف اور رکاوٹوں کے باوجود اس کام پر ڈٹے رہے، یہاں تک کہ انصار (الأنصار-عسکری مدد فراہم کرنے والی جماعت) نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا۔ اصولِ فقہ کی رو سے یہ عمل، اس شرعی حکم کو،  مستقل کیفیت  یعنی "طریقہ" کے درجے تک پہنچاتا ہے۔

 

ریاست کے قیام کے دلائل کے تجزئیے  سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اسلامی ریاست تفاعل (فکری کشمکش و سیاسی جدوجہد) کے مرحلے کی انتہا پر ”نصرۃ“ طلب کرنے کے طریقے سے ایک ہی مرتبہ میں قائم کر لی گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود کہ رسول اللہ ﷺ نے نصرۃ خصوصاً اہل قوت اور طاقت ور لوگوں (أهل القوّة والمنعة والشّوكة) سے مانگی تھی اور ان پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ آپ ﷺ کی حفاظت بالکل اسی طرح کریں گے جس طرح اپنے معززین، عورتوں اور بچوں کی کرتے ہیں خواہ اس کے لئے انہیں جنگ ہی کیوں نہ کرنی پڑے، اور باوجود اس کے کہ انصار جنگ کے لئےمکمل تیار تھے اور انہوں نے 500 شہسواروں کا دستہ بھی تیار کر رکھا تھا، لیکن پھر بھی انہوں نے حکومت بغیر خون خرابا کئے نہایت پرامن طریقے سے آپ ﷺ کے حوالے کر دی۔

 

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلح کارروائی، جہاں ضرورت ہو تو،اختیار کیا جانے والا ایک اسلوب ہے، کوئی لازمی طریقہ  نہیں ہے؛ ورنہ رسول اللہ ﷺ تلوار سونتنے اور جنگ کیے بغیر حکومت سنبھالنے سے انکار فرما دیتے۔ لہٰذا ہمیں اہل قوت وطاقت پر انحصار کرنے اور ان کے ذریعے نصرۃ حاصل کرنے (یعنی ریاست کے قیام کے لئے طریقہ کے طور پر ان سے نصرۃ طلب کرنے) اور اہل قوت وطاقت کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے حکومت حاصل کرنے اور ریاست کو قائم کرنے کے اسلوب کے طور پر ملٹری ایکشن کا سہارا لینے کے درمیان واضح فرق کرنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں عسکری طاقت کے استعمال کی ضرورت ہی نہ پڑے، اور اس کا استعمال محض دھمکی یا طاقت کے مظاہرے تک ہی محدود رہے تاکہ کسی قسم کی مخالفت اور سرکشی کے ارادے کو ناکام بنایا جا سکے۔

 

چنانچہ حزب نے حکومت سنبھالنے کو ایک اسلوب اور ریاست کے قیام کو ایک طریقہ کے طور پر سمجھنے اور ان کے درمیان امتیاز کرنے کو جانچ لیا۔ اگرچہ حکومت سنبھالنے کے اسالیب کھلے اور دستیاب آپشنز  پر مبنی ہوتے ہیں جو کام کی نوعیت، حالات اور موقع محل سے متاثر ہوتے ہیں، لیکن ریاست کے قیام کا طریقہ ایک ہی ہے اور منفرد ہے جو صرف طلبِ نصرۃ پر منحصر ہے، اور یہ ایک متعین شرعی حکم ہے جس سے تجاوز کرنا ہمارے لئے جائز نہیں اور نہ ہی اس میں ہمیں کوئی دوسرا اختیار حاصل ہے۔ اسی بنیاد پر حزب التحریر نے 1961ء سے اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ امت میں اسلام کا عمومی شعور اور رائے عامہ ہموار کرنے کے کام کے ساتھ ساتھ نصرۃ طلب کرنے کا کام بھی شروع کیا۔ حزب نے نصرۃ کا مطالبہ بالفعل حکمران سے بھی کیا اور ان لوگوں سے بھی کیا جو حکومت پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، نیز ان لوگوں سے بھی کیا جو بالفعل حکمران یا اقتدار پر قابض ہونے کی صلاحیت رکھنے والوں کو اپنے ساتھ لا سکتے تھے، اور حزب 1965ء تک اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس راہ پر گامزن رہی۔ اس سال کے آغاز میں حزب نے یہ محسوس کیا کہ دعوت کے حاملین اور معاشرے کے درمیان زبردست ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے اور ریاست امت کے اندر تشکیل پا چکی ہے، بس اس کی عمارت کی تکمیل کے لئے صرف حکومت کا کنٹرول سنبھالنا باقی ہے، اور اس راہ میں صرف وہ غیر فطری بیرونی سہارا حائل ہے جس نے کٹھ پتلی حکمرانوں کو مسلط کر رکھا ہے اور ریاست کی ولادت کو مشکل بنا دیا ہے۔

 

سیزیرین آپریشن  (Caesarean Section )

 

چونکہ انتظار کرنا ولادت کے عمل کو مزید دشوار بنا رہا تھا اور اس قیمتی حمل کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا کر رہا تھا، اس لئے حزب نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ حکومت کو طاقت کے زور پر حاصل کرنے کے لئے ایک ”سیزیرین آپریشن“ سرانجام دے گی۔ اور نصرۃ (ملٹری سپورٹ) کی طلب میں ان لوگوں کی تلاش شروع کر دی جو اس سیزیرین آپریشن کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتے تھے، بشمول اس مادی عمل، عسکری طاقت اور جنگی صلاحیت کے جو اس میں درکار ہوتی ہے۔

 

چنانچہ جوں جوں ہم   نےعملی سفر طے کیا اور میدانی حقیقت سے  براہِ راست تعلق قائم ہوا، توحکومت کے حصول کے ممکنہ اسالیب کا دائرہ بھی بتدریج محدود ہوتا گیا، تاکہ اختیار کیا جانے والا اسلوب دستیاب کام کی نوعیت اور زمینی حالات سے ہم آہنگ ہو۔ چنانچہ شہری وعوامی ذرائع (سول نافرمانی، عام ہڑتالیں اور مظاہرے) اس دائرے سے خارج کر دیے گئے—اگرچہ پریشر ڈالنے اور حمایت حاصل کرنے میں ان اقدامات کی اہمیت برقرار  ہے—اور توجہ مکمل طور پر اہل طاقت اور عسکری قوت پر مرکوز کر دی گئی جو سیزیرین آپریشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس کی بنیاد یہ اصول تھا کہ اگرچہ نظریاتی اعتبار سے کسی کام کے اسالیب کی گنجائش وسیع ہو سکتی ہے، لیکن کسی خاص زمینی حقیقت میں اختیار کیا جانے والا اسلوب اسی کام کی نوعیت اور اس کے ’’نقطۂ ارتکاز“ کی حقیقت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اس میں خطے کے علاقائی و بین الاقوامی تعلقات، امان کی نوعیت (یعنی آیا امان مسلمانوں کے پاس ہے یا بیرونی قوتوں کے پاس ہے)،اقتدار کی نوعیت(یعنی آیا وہ حقیقی اور خودمختار ہے یا بیرونی استعمار کے سہارے قائم ہے) اور عسکری ادارے کی مجموعی کیفیت شامل ہے جیسے کہ اس کی عسکری قوت، مسلح افواج کی ساخت، مفادات، وفاداریاں، عسکری نظریہ، حکومت کے ساتھ تعلق اور عوام کے ساتھ اس کی ہم آہنگی کیسی ہے۔

 

چنانچہ کٹھ پتلی حکمرانی، غلامی، خودمختاری کے فقدان، بیرونی طاقتوں پر انحصار اورریاست اور اس کے وسائل پر شدید بین الاقوامی حریفوں کی موجودگی میں، اور اس کے ساتھ ساتھ عسکری ادارے کے حکومت کے ساتھ گہرے تعلق، جو کہ مفادات، مراعات اور وفاداریوں سے متعلق ہیں اور بڑی طاقتوں پر عسکری اداروں کے انحصار جو کہ اسلحہ، تربیت اور عسکری ڈاکٹرائن کے حوالے سے ہیں، ان سب کے تناظر میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت حاصل کرنے سے پہلے اسے چھینا جائے گا، اور حکومت سنبھالنے کے لئے سیزیرین آپریشن کا سہارا لینا اشد ضروری ہو گیا ہے۔ لہٰذا ضرورت کے مطابق  نصرۃ، ان مادی طاقت اور عسکری طاقت کے مالک لوگوں سے ہی مانگی جائے گی جو اس سیزیرین آپریشن کو سرانجام دینے کی بھرپور اور مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

موجودہ دور میں ان اہل طاقت کا سب سے نمایاں نمائندہ چونکہ عسکری ادارہ (فوج) ہے، اس لئے فوج کے ذریعے حکومت حاصل کرنے کو غلطی سے فوجی بغاوت (military coup) سمجھا جا سکتا ہے۔ تو کیا سیزیرین آپریشن سے مراد بعینہٖ فوجی بغاوت ہی ہے؟ یا فوجی بغاوت سیزیرین آپریشن کے مختلف اسالیب میں سے صرف ایک ممکنہ اسلوب اور احتمال ہے؟ یا پھر یہ دونوں بالکل مختلف اور متضاد فہم ہیں؟ اس مرکزی سوال کا جواب دینے کے لئے ہمارا پہلا قدم  یہ ہونا چاہیے کہ ہم فوجی بغاوت "military coup" کے اصطلاحی مفہوم کا تعین کریں، اس کے بنیادی عناصر کا استخراج کریں، اور پھر اسے دیگر تمام ملتے جلتے اور مفہوم میں خلط ملط ہونے والی اصطلاحات سے ممتاز کریں، تاکہ اسے نصرۃ اور سیزیرین آپریشن کی واقعیت پر منطبق کیا جا سکے۔ چنانچہ تحقیق کے لئے یہ انتہائی ضروری اور مفید ہے کہ ہم اصطلاحات کا باریک بینی سے تعین کریں اور اس فہم کے مناط (واقعیت) کی تحقیق کریں تاکہ ان کے درمیان بنیادی اور اصل فرق عیاں ہو سکیں۔

 

فوجی بغاوت (Military Coup) کیا ہوتی ہے؟

 

موضوع کے سب سے اہم تقاضوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم بنیادی طور پر اس مفہوم پر مکمل طور پر کاربند رہیں جس پر اس اصطلاح کے وضع کرنے والوں نے اتفاق کیا ہے، قطع نظر ہمارے موقف یا اعتقاد کے،کیونکہ اصطلاحات میں کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔ نیز یہ کہ پھر اس کے مخصوص معنی پر دلالت کے لئے اس اصطلاح کے درست استعمال کا اہتمام کریں تاکہ غلط فہمی کا سدِ باب ہو سکے اور فکر کی پاکیزگی برقرار رہے، بالخصوص اس معنوی فرق کا ادراک رکھتے ہوئے جو قریب ترین اصطلاحات کے درمیان پائے جاتے ہیں، خاص طور پر اس حساس میدان میں جہاں سیاست اور شرع کے مفاہیم ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

 

جہاں تک فوجی بغاوت کا تعلق ہے، تو اس کی متعدد علمی، سماجی اور سیاسی تعریفات کی گئی ہیں، ذیل میں ہم ان میں سے اہم ترین تعریفوں کا جائزہ لینے اور ان کے مشترکہ نکات کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

 

آکسفورڈ ڈکشنری آف سوشیالوجی کے مطابق، فوجی بغاوت سے مراد ”مسلح افواج کے ذریعے غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے سے ریاستی اقتدار پر فوری اور پرتشدد قبضہ کرنا“ ہے۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ ”کسی چھوٹے گروہ کی جانب سے عسکری ادارے یا اس کے ایک حصے کے محدود تشدد کے ذریعے موجودہ حکومت کا اچانک تختہ الٹنا ہے۔ کسی فوجی بغاوت کے لئے بنیادی اور اہم تقاضا یہ ہے کہ مسلح افواج پر، پولیس پر اور دیگر عسکری عناصر پر  مکمل یا جزوی کنٹرول ہو“۔ جبکہ وکیپیڈیا انسائیکلوپیڈیا اس کی تعریف یوں کرتا ہے کہ ”ریاستی اداروں (غالباً عسکری) کے اندر سے ایک محدود گروہ کے ذریعے حکومت کی اچانک بے دخلی تاکہ سیاسی قیادت  کو تبدیل کیا جا سکے“۔ فوجی بغاوت کی اصطلاح کی یہ تعریف تو علمی سطح پر تھی۔

 

اس کے علاوہ فوجی بغاوت کی کچھ سیاسی و توصیفی تعریفات بھی کی گئی ہیں جو اپنے مفہوم میں ایک دوسرے کے قریب ہیں:چنانچہ اس کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ ”عسکری تشدد یا اس کی دھمکی کا استعمال کرتے ہوئے کسی موجودہ حکومت کا غیر قانونی طور پر تختہ الٹنا“۔ اور یوں بھی تعریف کی گئی ہے کہ ”عسکری ادارے یا اس کے طاقتور حصے کی قیادت میں ایسا بغاوتی اقدام جو موجودہ حکومت کے خاتمے پر منتج ہو“۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”موجودہ حکومت کو غصب کرتے ہوئے عسکری قوت کے ذریعے نظامِ حکومت میں تبدیلی اور متبادل حکومت قائم کرنا“۔

 

عصر حاضر کی کچھ زندہ مثالوں کی مدد سے اس کی حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے: صحرائے اعظم کے جنوب میں مغربی افریقہ کے 'کو بیلٹ' Coup Belt (بغاوتوں کی پٹی) "(French: Ceinture de Coups d'État)" Arabic:- حزام الانقلابات" کے تجربات کا جائزہ لینے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ محرکات اور قوانین کے ایک مجموعے میں مشترک ہیں جو عسکری بغاوت کے مظہر کو ممتاز کرتے ہیں، جس سے ہمارا زاویہ نظر وسیع ہوتا ہے اور ہمیں اس کی ایک جامع مانع تعریف کرنے میں مدد ملتی ہے کہ: ”یہ عسکری ذریعے سے انجام دیا جانے والا ایک ایسا غیر آئینی وغیر قانونی سیاسی عمل ہے جو حکمران اتھارٹی اور اس کے کارندوں کو نشانہ بناتا ہے، اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک گروہی، خفیہ، مطالبات پر مبنی، اچانک اور فوری متحرک ہوتا ہے۔ اور عملی طور پر یہ مسلح تشدد یا اس کی دھمکی کا استعمال کرتے ہوئے قائمہ اقتدار کے خلاف عسکری ادارے یا اس کے ایک حصے کی بغاوت کی صورت میں سامنے آتا ہے، جس کے نتیجے میں سابقہ حکومت معزول ہو جاتی ہے اور دوسری حکومت (خواہ سویلین ہو یا عسکری، عارضی ہو یا مستقل) قائم کر دی جاتی ہے“۔

 

یہ ایک مجمل خلاصہ تھا۔ اب ہم ذیل میں فوجی بغاوت کے اجزاء کا تفصیلی تجزیہ کریں گے اور ان کے معانی و مقصود کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے، پھر ان کا تقابل سیزیرین آپریشن کے عناصر سے کریں گے اور ان دونوں کے مناط (واقعیت) کے درمیان موجود بنیادی فرق کو واضح کریں گے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ : تو کیا سیزیرین آپریشن کے ذریعے حکومت حاصل کرنا فوجی بغاوت شمار ہوتا ہے؟ بالفاظِ دیگر، یعنی کیا وہ عسکری عمل جس سے حکومت حاصل کی جائے اور جس کے ذریعے اسلامی ریاست جنم لے، فوجی بغاوت کہلائے گا؟

 

پہلا عنصر : غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل

 

فوجی بغاوت کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل ہوتا ہے، اور یہ بات بالکل واضح ہے: کیونکہ آئینی طور پر ایسا کوئی دستور موجود نہیں جو کی آئین کی شقوں  یا اس سے نکلنے والے قوانین میں حکومت کے امور میں فوج کی مداخلت کا اختیار دیتا ہو یا حکمرانوں کو ہٹانے، حکومتوں کو برطرف کرنے اور دوسروں کو حکومت قائم کرنے کے لئے عسکری قوت کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ عالمی اصول اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ عسکری ادارہ منتخب سویلین اقتدار کے تابع ہوتا ہے۔ اگرچہ جدید دساتیر یہ کہتی ہیں کہ فوج ایک قومی ادارہ ہے جو ریاست اور دستور کی حفاظت کرتا ہے، اس ادارے کی مداخلت قانون کے دائرے میں اور سویلین اقتدار کی نگرانی میں ہی ہونی چاہئے نہ کہ ان سے بالاتر ہو کر۔ چنانچہ کوئی بھی ایسا متن جو فوج کو طاقت کے زور پر حکومت برطرف کرنے کا اختیار دے، ایک استثنائی و غیر معمولی شق یا براہ راست ملٹری ڈکٹیٹرشپ کی دلیل سمجھا جاتا ہے، نہ کہ کوئی مستحکم آئینی اصول۔

 

دنیا بھر میں حکومتوں کی برطرفی کے لئے جو بھی عسکری مداخلتیں ہوتی ہیں وہ غالب طور پر آئینی مشروعیت کے دائرے سے باہر فوجی بغاوتیں ہی ہوتی ہیں، نہ کہ کسی واضح آئینی اصول کی بنیاد پر جو سویلین حکومت کے خلاف عسکری قوت کے استعمال کو جائز قرار دیتا ہو۔

 

جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے، تو جمہوریت اقتدار کی پرامن منتقلی کی تقدیس پر زور دیتی ہے، اکثریت کی رائے کو معتبر مانتی ہے، انتخابات کو حکومت تک پہنچنے کا طریقہ کار بناتی ہے، اور ان تمام باتوں کو ایک ریڈ لائن  قرار دیتی ہے جس سے تجاوز جائز نہیں۔ اسی لئے اس اقدام کو ”انقلاب/ بغاوت“ کا نام دیا جانا اور اس کے وقوع کے لئے مادی عسکری قوت کا محتاج ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، اور یہی چیز بغاوت کرنے والوں کو بین الاقوامی برادری کے استحقاقات اور بین الاقوامی قوانین و اعراف کے چیلنجز کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ بغاوت کرنے والے کبھی اس بات کا اعتراف نہیں کرتے کہ یہ ایک بغاوت—یعنی غیر آئینی وغیر قانونی عمل—ہے، بلکہ وہ جمہوری نعروں کے ذریعے اسے جائز و آئینی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی سیاسی تنہائی ختم کرنے اور اپنے اوپر عائد معاشی پابندیوں و قدغن کو ہٹانے کے لئے اتحاد، تعلقات اور داؤ پیچ میں مصروف ہو جاتے ہیں، جس کی بھاری قیمت غالب طور پر ان کی طرف سے مہلک سمجھوتوں اور رعایتوں کی صورت میں ادا کی جاتی ہے جو خودمختاری، اقتدار، وسائل اور حتیٰ کہ پہچان و تعلق کو متاثر کرتی ہے؛ اور اس کی جیتی جاگتی مثال ساحل - صحرا کے خطے میں جاری موجودہ اقدامات ہیں۔

 

یہ ایک نقلی و فقہی مبحث ہے، نہ کہ عقلی و جمہوری

 

جہاں تک سیزیرین آپریشن کا تعلق ہے، تو یہ ایک ایسا اسلوب ہے جس کا تعین موجدہ حقیقت کے تقاضے کرتے ہیں اور جسے ضرورت کے وقت اس شرعی قاعدے کے تحت اختیار کیا جاتا ہے کہ (ما لا يتمّ الواجب إلّا به فهو واجب) ”جس چیز کے بغیر واجب پورا نہ ہو سکے، وہ خود بھی واجب ہو جاتی ہے“۔چنانچہ سیزیرین آپریشن ایک عسکری ذریعے سے انجام پانے والا سیاسی عمل ہونے کے ساتھ ساتھ ایسا اسلوب بھی ہے جو نقطۂ ارتکاز کی حقیقت سے تعلق رکھتاہے؛ یعنی طاقت، اقتدار، امن، ہم آہنگی، وفاداریوں اور باہمی تعلقات کے اعتبار سے۔ اس لئے کہ طلبِ نصرۃ کے ذریعے جس کام کو انجام دینا مقصود ہو، اس کی نوعیت ہی یہ متعین کرتی ہے کہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کون سا اسلوب اختیار کیا جائے۔

 

عرب و اسلامی خطے کی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لینے اور اس کے سیاسی حالات کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ یہ خطہ مکمل طور پر مغربی تسلط کے زیرِ اثر ہے۔ یہاں قائم اقتدار و حکومت عوام کی قوت پر مبنی آزاد اور خودمختار اقتدار نہیں، بلکہ کافر استعمار کی جانب سے تفویض کردہ نیابتی اختیار ہے؛ اور یہاں قائم سکیورٹی بھی ایسی نہیں کہ جو مسلمانوں کی خدمت کے لئے مامور ہو۔اسی طرح عسکری ادارہ بھی حکومت کے ساتھ اندھی وفاداری میں بندھا ہوا ہے اور اس حکومت کے نظام میں پوری طرح پیوست ہے۔ عسکری ادارے کے اعلیٰ عہدیدار نہایت باریک بینی سے منتخب کیے جاتے ہیں، انہیں عوام سے کاٹ کر رکھا جاتا ہے اور کافر استعمار کی نگاہوں کے سامنے تربیت دی جاتی ہے۔ اسی استعمار نے ان کے عسکری نظریے کو اپنے معیار کے مطابق تشکیل دیا، انہیں ان کی اپنی ہی امت کے خلاف صف آرا کیا، اس ایجنٹ حکومت کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ کر دیا، اور ان کے مفادات و مراعات کو حکومت کے وجود کے ساتھ اس طرح جوڑ دیا کہ وہ اس کے استحکام و زوال، دونوں سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ نتیجتاً ان کے لئے حکومت سے کنارہ کش ہو کر امت کی طرف رجوع کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

 

ایسی صورتِ حال میں، جہاں غلامی، خودمختاری سے محرومی، امن و سلامتی کا فقدان، اور سیاسی، معاشی، عسکری و ثقافتی سطح پر غیروں پر انحصار نمایاں ہو، اور جہاں ملک اور اس کے وسائل پر شدید بین الاقوامی کشمکش جاری ہو، نیز عسکری ادارہ مفادات، مراعات اور وفاداری کے اعتبار سے حکومت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہو اور اسلحہ، تربیت اور عسکری نظریے کے حوالے سے بڑی طاقتوں پر انحصار کرتا ہو، یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اقتدار محض حاصل نہیں کیا جاتا بلکہ اسے چھیننا لازم ہے۔ چنانچہ حکومت سنبھالنے کے لئے سیزیرین آپریشن کا سہارا لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔لہٰذا ضرورت کےمطابق نصرۃ ایسے ہی لوگوں سے طلب کی جائے جو مادی و عسکری طاقت کے مالک ہوں اور اس سیزیرین آپریشن کو کامیابی سے انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہی لوگ نئی حکومت کے فطری مددگار اور اسے سہارا دینے والے ہیں اور بیرونی سہارے، جس کے بل پر کٹھ پتلی حکومتیں اقتدار پر قائم رہتی ہیں، کو ختم کرنے کا مؤثر اور کامیاب ذریعہ  ہیں۔

 

طلبِ نصرۃ کے مناط (شرعی حقیقت) کی تحقیق بھی اسی پہلو کی تائید کرتی ہے اور ہمارے سامنے یہ امر قطعی طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نصرۃ طلب فرمائی اور شدید تکالیف و رکاوٹوں کے باوجود اس عمل پر ثابت قدمی اختیار فرمائی۔ اصولی اعتبار سے یہ ثابت قدمی اس عمل کو ”طریقہ“ یعنی ایک مستقل اور دائمی شرعی کیفیت کے درجے تک پہنچا دیتی ہے۔آپ ﷺ جن لوگوں سے نصرۃ طلب فرماتے، ان کے بارے میں بنیادی طور پر ان کی قوت، طاقت اور حفاظت فراہم کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے نہایت باریک بینی سے پوری معلومات اکٹھی کرتے تھے، «كيف القوّة فيكم؟ كيف المنعة فيكم؟ كيف الحرب فيكم؟» ’’تم میں طاقت کیسی ہے؟ تم میں پناہ دینے کی صلاحیت کتنی ہے؟ اور تمہاری جنگی قوت کیسی ہے؟‘‘، آپ ﷺ اس قوت کو کبھی براہِ راست اس کے مراکز میں تلاش فرماتے، مثلاً طاقتور جنگجو قبائل یا محفوظ شہروں میں، اور کبھی بالواسطہ طور پر ان افراد کے ذریعے تلاش فرماتے جو اس قوت کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، جیسے قبائل کے سردار، بااثر لیڈران اور مادی و معنوی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات۔عسکری قوت کے حوالے سے یہ پہلو رسول اللہ ﷺ کے نزدیک حکومت کے قیام تک برقرار رہا۔ چنانچہ سیزیرین آپریشن کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کا امکان آپ ﷺ کے پیشِ نظر موجود تھا، اور آپ ﷺ نے حکومت کے حصول میں اس طریقے کو اختیار کرنے کو ہرگز بعید نہیں سمجھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ نے اس مقصد کے لئے پیشگی تدابیر اختیار فرمائیں اور ضروری تیاری بھی کی۔

 

چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے اور اپنے مقصد کے لئے مضبوط ضمانت حاصل فرمائی اور اوس و خزرج پر یہ شرط عائد فرمائی کہ وہ آپ ﷺ کی حفاظت اور دفاع اسی طرح کریں گے جس طرح اپنے معزز افراد، عورتوں اور بچوں کی حفاظت و دفاع کرتے ہیں، خواہ اس کے لئے انہیں جنگ لڑنا اور خون بہانا ہی کیوں نہ پڑے۔جب انصار نے حکومت آپ ﷺ کے سپرد کی تو انہوں نے غیر معمولی عسکری تیاری کا مظاہرہ کیا۔ وہ جنگ کے لئے پوری طرح آمادہ رہے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے اور ریاست کے قیام کے مرحلے میں پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے پانچ سو شہسواروں پر مشتمل ایک دستہ بھی تیار کیا۔لہٰذا حکومت حاصل کرنے کا اسلوب محض ایک عقلی بحث نہیں جس کا فیصلہ انسان کے بنائے ہوئے دساتیر و قوانین کے سپرد کرکے جمہوریت کے ذریعے کیا جائے، بلکہ یہ ایک نقلی و فقہی مبحث ہے، جس میں فیصلہ شرعی دلائل کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔

 

سیزیرین آپریشن اپنی مشروعیت اس سیکولر نظام سے اخذ نہیں کرتا جو مذہب کو زندگی سے جدا کرتا ہے، کہ اسے غیر آئینی، غیر قانونی یا غیر جمہوری عمل قرار دیا جائے؛ کیونکہ شرعی اعتبار سے وضعی اصطلاحات پر مبنی اس تثلیثِ شر—غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر جمہوری—کی کوئی شرعی حیثیت یا وزن نہیں۔بلکہ سیزیرین آپریشن اسلامی ریاست کے قیام کے مراحل میں انجام پانے والا ایک عملی اقدام ہے، اور ایسا اسلوب ہے جس کا تعین موجودہ حقیقت کے تقاضے کرتے ہیں۔ جب دستیاب راستے ختم ہو جائیں اور مطلوبہ واجب کی تکمیل اسی کے ذریعے ممکن ہو، تو اسے اس شرعی قاعدے کے تحت اختیار کیا جاتا ہے کہ، (ما لا يتمّ الواجب إلّا به فهو واجب) ’’جس چیز کے بغیر واجب پورا نہ ہو سکے، وہ خود بھی واجب ہو جاتی ہے‘‘۔

 

دوسرا عنصر : حکومت اور اس کے کارندوں کو ٹارگٹ بنانا

 

فوجی بغاوت کا دوسرا بنیادی عنصر یہ ہے کہ اس کا ہدف حکومت اور اس کے کارندے ہوتے ہیں۔ یعنی اس کا مقصد حکمرانوں کو مفلوج کرکے اقتدار پر زبردستی قبضہ کرنا ہوتا ہے، خواہ یہ قبضہ حکمرانوں کی گرفتاری، حراست اور ان کے خلاف مقدمات کے ذریعے ہو، یا ان کے قتل، جلاوطنی یا بے دخلی کے ذریعے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سربراہِ اقتدار کا اپنے حکومتی اہلکاروں سمیت آزاد رہنا فوجی بغاوت کی کامیابی، صورتِ حال کے استحکام اور باغیوں کی سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔فوجی بغاوت کے مقاصد میں یہ شامل نہیں ہوتا کہ حکومت کو کسی جامع نظریے کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ نہ ہی ان انقلابیوں کے پاس عموماً کوئی ایسا نظریاتی پیغام یا بنیادی مسئلہ ہوتا ہے جسے وہ امت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہوں اور اقتدار اس غرض سے حاصل کرنا چاہتے ہوں کہ اسے معاشرے میں اپنے افکار کے نفاذ کا ذریعہ بنائیں۔ بلکہ ان کا ہدف محض اقتدار کا ظاہری چہرہ، یعنی حکومت اور حکمران، ہوتے ہیں جبکہ وہ اس اصل محرک قوت کو کچھ نہیں کہتے جو اقتدار کو سہارا دیتی ہے اور اسے جواز اور خودمختار اقتدار کی صورت عطا کرتی ہے، یعنی  عوام، یا عوام کا سب سے طاقتور طبقہ۔

 

اسی بنا پر، اور چونکہ عوام کی جانب سے کوئی ضمانت موجود نہیں ہوتی، نہ وہ لازماً نئی تبدیلیوں کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں اور  مختلف امکانات کے لئے تیار ہوتے ہیں، اس لئے فوجی بغاوت کے ان عملی تقاضوں میں، جن کے بغیر بغاوت کی تکمیل ممکن نہیں ہوتی، یہ امر بھی شامل ہے کہ فوری طور پر ملک گیر ایمرجنسی  اور کرفیو نافذ کیا جائے، ملک کے مختلف حصوں میں فوج تعینات کرکے ملک اور عوام پر مکمل کنٹرول قائم کیا جائے، اور حساس مقامات، مثلاً ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، ریڈیو و ٹیلی ویژن اسٹیشنوں، ریاستی کمانڈ سینٹروں اور بعض غیر ملکی سفارت خانوں، بالخصوص دارالحکومت میں واقع سفارت خانوں، کو اپنے قبضے اور تحفظ میں لے لیا جائے۔اسی کے ساتھ بغاوتی اعلامیے، یعنی ’’اولین بیان‘‘، اور اس کے بعد جاری ہونے والے دیگر بیانات کی نشر و اشاعت کا بھی بھرپور انتظام کیا جاتا ہے، تاکہ رائے عامہ کو اپنے زیرِ اثر رکھنے، عوام کو اپنے موقف پر آمادہ کرنے، انہیں مطلوبہ سانچے میں ڈھالنے اور نئی صورتِ حال کو قبول کرنے پر مجبور کرنے کی ابتدائی راہ ہموار کی جا سکے۔

 

اصل اور حتمی مقصد حکومت حاصل کر لینانہیں ہے

 

جہاں تک سیزیرین آپریشن کا تعلق ہے، تو یہ محض حکومت پر غاصبانہ قبضہ کرنے یا اقتدار کے ظاہری مظہر، یعنی حکومت، کو اقتدار کے مراکز اور اس کے حقیقی و فطری سہارے سے کاٹ کر یک طرفہ طور پر معزول کرنے کا نام نہیں۔ اس لئے کہ حکومت کا حصول بذاتِ خود کوئی مقصود نہیں، اور نہ ہی محض اقتدار حاصل کرنا فی نفسہٖ مطلوب ہے؛ بلکہ اصل مقصد اسلامی زندگی کا ازسرِنو آغاز (استئناف الحیاۃ الاسلامیہ) اور اسلام کی دعوت کو پوری دنیا تک پہنچانا ہے۔

 

چنانچہ حزب التحریر حکومت اس لئے حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے کہ اسے اسلامی فکر کی بنیاد پر قائم کرے، اور اقتدار اس حیثیت سے حاصل کرنا چاہتی ہے کہ وہ معاشرے میں اپنے تبنی کردہ آراء و افکار کو نافذ کرنے کا طریقہ کار ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ محض مادی قوت کے ذریعے حکمرانوں کو ہٹانے یا ان کے اقتدار کا خاتمہ کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ اصل مقصود یہ ہے کہ معاشرے میں اسلامی افکار کو غالب حیثیت حاصل ہو اور عوام کی حمایت و قوت حاصل کی جائے، تاکہ حکمرانوں کی معنوی و سیاسی حیثیت کا خاتمہ ہو جائے اور ان کا مادی زوال محض ایک ضمنی اور لازمی نتیجے کے طور پر سامنے آئے۔

 

اس لئے اگر حکمران خود امت کی طرف مائل ہو جائیں، اس کے منصوبے کا حصہ بن جائیں اور حزب کے  افکار کو قبول کر لیں، تو انہیں تالیفِ قلوب کے تحت ان کے عہدوں پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن میں فارس کے گورنر باذان کے ساتھ معاملہ فرمایا، جب اس نے اسلام قبول کیا، رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور اسلامی ریاست کی اطاعت قبول کر لی۔چنانچہ ان حکمران طبقات کے ساتھ معاملے کا بنیادی اصول، جن کا اقتدار بیرونی طاقتوں کے سہارے قائم ہو، یہ ہے کہ اقتدار کی حقیقی قوت جس سمت میں مرکوز ہو، اسی کو نشانہ بنایا جائے اور اس کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کیا جائے۔ تاہم، جن عوام کے ذریعے یہ اقتدار خودمختار اتھارٹی کی شکل اختیار کرتا ہے، انہیں کٹھ پتلی حکومت سے الگ کرکے اقتدار کی تبدیلی کے عمل میں شریک کرنے اور اس مقصد کے لئے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی جائے۔یہ عمل محض عسکری بغاوت سے کہیں آگے کی نوعیت رکھتا ہے۔ اس کے لئے ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کے اندر، عوام کے ساتھ اور عوام کے ذریعے کام کرے؛ سیاسی جدوجہد  انجام دے؛ عمومی شعور سے پھوٹنے والی رائے عامہ تشکیل دے؛ عوامی بنیاد قائم کرے؛ اور معاشرے کو اپنے افکار و تصورات میں ڈھالنے کے عمل  میں مصروف رہے ...۔

[جاری ہے]

Last modified onمنگل, 13 اکتوبر 2026 06:58

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک