بسم الله الرحمن الرحيم
کیا شنگھائی تعاون تنظیم اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کی گئی ایک تنظیم ہے؟
تحریر: استاد عقیل بیک اسحاقوف
(ترجمہ)
یکم ستمبر کو بشکیک شہر میں شنگھائی تعاون تنظیم کا معمول کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس کا بنیادی ایجنڈا آنے والے مرحلے میں تنظیم کی ترقی کے امکانات پر تبادلہ خیال کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ اجلاس کے اختتام پر، تنظیم کے سفر کا آغاز ہونے کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر "بشکیک اعلامیے" پر دستخط کیے گئے، اس کے ساتھ 28دیگر ایسی دستاویزات پر بھی دستخط کیے گئے جن کا مقصد کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینا اور اس کے کام کے طریقہ کار کو بہتر بنانا تھا۔
چونکہ یہ واقعہ عالمی رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اس لیے اس تنظیم کے حقیقی اہداف اور اس کی واقعی صورت حال سے واقف ہونا اور اسلامی نقطہ نظر سے اس کا جائزہ لینا نہایت ضروری ہے۔
اس تنظیم نے اپنے سفر کا آغاز 1996ء میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان کی شرکت سے "شنگھائی فائیو" کے نام سے کیا تھا، جہاں ان ممالک نے سرحدی علاقوں میں مسلح افواج کی تعداد کم کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پھر 2001ء میں ازبکستان بھی اس میں شامل ہو گیا، جس کے بعد تنظیم کا نام تبدیل کر کے موجودہ نام رکھ دیا گیا۔
2013ء میں چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے "بیلٹ اینڈ روڈ" (پٹی اور سڑک) کے منصوبے کا آغاز کیے جانے کے ساتھ ہی، چین نے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے اس تنظیم کو موثر انداز میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اور 2015ء سے اس اتحاد میں وسعت آنے لگی، جب بھارت، پاکستان، ایران اور بیلاروس بھی اس میں شامل ہو گئے، یہاں تک کہ موجودہ وقت میں اس کے ارکان کی تعداد دس ممالک تک پہنچ چکی ہے۔
تنظیم کے رکن ممالک عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 35فیصد (جو کہ 20کھرب ڈالر کے مساوی ہے) پر قابض ہیں، اور ان کا رقبہ یوریشیا کے دو تہائی حصے پر پھیلا ہوا ہے، علاوہ ازیں یہ ممالک تقریباً سالانہ بنیادوں پر مشترکہ فوجی مشقیں بھی کرتے ہیں۔
بشکیک میں منعقد ہونے والا یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین کا موقف مضبوط ہو رہا ہے، جبکہ یوکرین میں جنگ کی وجہ سے روس کمزور پڑ رہا ہے اور ایران جنگ کی صورت حال کی زد میں ہے۔ چنانچہ رواں سال 28فروری کو امریکہ اور یہودی وجود کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد سے، شنگھائی تعاون تنظیم محض ایک سرکاری بیان جاری کرنے سے آگے کچھ نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تنظیم کے رکن ممالک کسی ایک متفقہ موقف کو اپنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
مثال کے طور پر بھارت، مغرب اور یہودی وجود کے ساتھ گہرے اور قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ جبکہ پاکستان ایرانی بحران میں ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ کے مفادات کی تکمیل کے لیے جی توڑ کوشش کر رہا ہے۔ جب کہ روس، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کا مقصد صرف ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنا ہی ہے۔
اسی طرح یوکرینی بحران کے حوالے سے بھی رکن ممالک کے مواقف میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ کیونکہ ان میں سے اکثریت علاقائی سالمیت کے تحفظ اور پرامن حل کا مطالبہ کرتی ہے، اور یہ بات تنظیم کی سرگرمیوں کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور روس کے صدر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مودی کی جانب سے دی جانے والی دعوت میں واضح طور پر سامنے آئی۔ مزید برآں ایک طرف پاکستان اور بھارت کے درمیان اور دوسری طرف چین اور بھارت کے درمیان بار بار رونما ہونے والے سرحدی تنازعات بھی اس اختلاف کا حصہ ہیں۔
تاہم، ایک ایسا مقصد اور خطرہ ہے جو اس تنظیم کے تمام رکن ممالک کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے، اور وہ ہے روز بروز ابھرتی اور بڑھتی ہوئی امتِ مسلمہ، اور نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کی ریاست، جسے قائم کرنے کے لیے وہ کوشاں ہے۔ اور اسی بنیاد پر، یہ ممالک اپنی سرزمینوں پر مسلمانوں کی وحدت اور ان کے فہمِ اسلام کے خلاف ایک بے رحمانہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، چین نے مشرقی ترکستان کے علاقے کو ایغور، قازق اور کرغز نسل کے لاکھوں مسلمانوں کے لیے ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ وہاں نماز پڑھنے اور داڑھی رکھنے والے مردوں کو تعاقب اور ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ روزے رکھنے والی اور حجاب اوڑھنے والی مسلم خواتین کو "دوبارہ تربیت" کے کیمپوں میں قید کر کے رکھا جاتا ہے۔ نیز نئی نسل کو اسلام اور اپنی قومی ثقافت سے مکمل طور پر کاٹ کر الگ کرنے کی مہم بھی مسلسل جاری ہے۔ اور چین ان تمام اقدامات کا جواز یہ پیش کرتا ہے کہ یہ انتہا پسندی، علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی تدابیر ہیں۔
بھارت میں متعصب ہندوستانی بت پرست حکومت کی طرف سے مسلمانوں بالخصوص مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر کیا جانے والا ظلم و ستم، چینی حکومت اور یہودی وجود کے مظالم سے کسی طور کم نہیں ہے۔ اور اکثر ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن میں حکومت کی میڈیا جنگ سے متاثرہ مجرم عناصر مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کے دوران قتل کر دیتے ہیں یا ان پر تشدد کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستانی حکمرانوں کی خیانت اور ان کا کمزور موقف بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانے والے قوانین وضع کرنے اور انہیں نافذ کرنے پر شیر بناتا ہے۔
اسی طرح روس میں بھی مسلمانوں کو ایسی ہی مشکلات کا سامنا ہے جو اس سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ کیونکہ روس قفقاز کے مسلمانوں کو کچلنے کے لیے بنیادی طور پر دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرتا ہے۔ نیز اسلامی ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کو سیکورٹی اداروں کی سخت نگرانی اور تعاقب و ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ قرآن کریم کی بعض تفاسیر اور بعض علماء کی کتبِ حدیث کو بھی انتہا پسندانہ مواد کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔
جہاں تک وسطی ایشیائی ممالک کے حکمرانوں کا تعلق ہے، تو انہوں نے اپنے اقتدار کے تخت کو بچانے کے لیے چین اور روس کی تقلید شروع کر دی ہے، اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے بہانے جیلوں کو مسلمانوں سے بھر رہے ہیں۔ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے مطالبات کے مطابق، اس خطے کے حکومتی نظام اسلامی اقدار اور دعوتی سرگرمیوں کے خلاف قوانین کو سخت تر بنانے اور مسلمانوں کی نگرانی کے طریقہ کار وضع کرنے پر عمل پیرا ہیں۔
لہٰذا، اپنے متضاد سیاسی مواقف کے باوجود شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کو جو چیز آپس میں جوڑتی ہے وہ اسلام اور مسلمانوں سے ان کی دشمنی ہے۔ اس لیے، ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ ہم ان جیسی کافر قوتوں کو اپنے ممالک پر مسلط ہونے اور ہماری قیادت سنبھالنے کی ہرگز اجازت نہ دیں، اور نہ ہی ایجنٹ حکمرانوں کو ان قوتوں کے مفادات کی خدمت جاری رکھنے دیں؛ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
﴿وَلَن يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾
"اور اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے مومنوں پر (غلبے کا) ہرگز کوئی راستہ نہیں بنائے گا") [سورة النساء:آیت 141]
یعنی استعماری کافروں کو مسلمانوں کے ممالک پر تسلط قائم کرنے کا موقع دینا کسی صورت جائز نہیں، اور نہ ہی مسلمانوں کی معیشت، ان کی سلامتی یا ان کی خودمختاری کو ان کافروں کے حوالے کرنا جائز ہے۔
Latest from
- الرایہ کےمتفرقات - ( شمارہ نمبر 617)
- کیا جنگ عنقریب رک جائے گی اور امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جائے گا؟
- سوڈان میں سیاسی بحران اور حل کے امکانات
- جبل الشيخ کی چوٹی سے نتنياهو اور كاتس کے تکبر اور غرور کا خاتمہ صرف اسلام کے لشکروں کے ذریعے ہی ہو گا
- برطانیہ نیتن یاہو حکومت پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک یورپی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے




