الثلاثاء، 10 ربيع الثاني 1448| 2026/09/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

کیا جنگ عنقریب رک جائے گی اور امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جائے گا؟

 

تحریر: استاد اسعد منصور

(ترجمہ)

 

 

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (الحرس الثوری) کے ترجمان حسین محبی نے 9 ستمبر 2026ء کو بیان دیا: (اگر امریکہ اس صورتِ حال کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے جنگ کے مکمل خاتمے کے ساتھ ساتھ دھمکیوں کے تکرار سے باز رہنا ہوگا، اسرائیلی فوج کو لبنان سے واپس بلانا ہوگا، یمن کا محاصرہ ختم کرنا ہوگا، ایران کے منجمد شدہ 24 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرنے ہوں گے، اور ملک کی ایٹمی و میزائل صلاحیتوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے رکنا ہوگا)۔

 

یہ شرائط 14 نکات پر مشتمل اس مفاہمت نامے میں شامل تھیں، جس پر 18 جون 2026ء کو ایران کے صدر اور امریکہ کے صدر نے دستخط کیے تھے۔ ایٹمی صلاحیتوں کے موضوع پر بحث اس مفاہمت نامے کی شق نمبر 8 میں شامل ہے، جس میں "ایران کا یورینیم کی افزودگی میں کمی اور ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عزم، اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی طرف سے اس کی نگرانی" کی بات کہی گئی ہے۔ اسی طرح شق نمبر 12 میں "ایران اور امریکہ کا مفاہمت نامے کی کامیاب عملداری پر نظر رکھنے کے لیے ایک انتظامی میکانزم قائم کرنے پر اتفاق" شامل ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پاسدارانِ انقلاب کا مفاہمت نامے پر اعتراض خاص طور پر انہی دو شقوں کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب ایران میں امریکہ کی مداخلت ہوگا، جس کے تحت وہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایران کے ساتھ تعاون قائم رکھے گا اور اس کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھے گا تاکہ اسے اپنا ایک تابعدار اور باجگزار ملک بنا سکے۔  پاسدارانِ انقلاب خودمختاری چاہتے ہیں، جبکہ سیاست دانوں کا طرزِ عمل اور مفاہمت نامے کا پرزور دفاع یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی پرانی حیثیت پر واپس لوٹنے کے لیے تیار ہیں، یعنی ایک ایسی ریاست بننے پر جو امریکہ کے مدار میں گردش کرتی ہے۔

 

اسی وجہ سے معاملات منصوبے کے مطابق آگے نہ بڑھ سکے، اور یہ مفاہمت نامہ بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا تھا اور مختلف تعبیرات و تشریحات کا حامل تھا۔ چنانچہ امریکہ نے 25 جون 2026ء کو اعلان کیا کہ وہ ایران کو اس کی منجمد رقم نقد کی صورت میں نہیں دے گا، بلکہ یہ رقوم "ایرانی عوام کے لیے امریکی سویا بین، مکئی اور گندم کی خرید" کے لیے استعمال ہوں گی، جس کو ایران نے مسترد کر دیا۔ اس پر امریکہ نے 26 جون 2026ء کو مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد ایرانی ٹھکانوں پر اپنا پہلا حملہ کر دیا۔ جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے خلیجی علاقے میں امریکی ٹھکانوں پر حملے کیے۔ یوں دونوں فریقوں کے درمیان باہمی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آج تک نہیں رکا۔ اور حتمی معاہدے کے حصول کے لیے طے شدہ 60 دنوں کی مدت گزر گئی جیسا کہ مفاہمت نامے میں درج تھا، اگرچہ اس میں توسیع کی گنجائش کا بھی ذکر تھا۔ اور چونکہ دونوں فریقوں میں سے کسی نے بھی اس کی منسوخی کا اعلان نہیں کیا، اس لیے وہ برقرار ہے۔ اور امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کو تسلیم خم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے طاقت اور اقتصادی محاصرے کا استعمال کرے گا، جبکہ وہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہا ہے۔

اور امریکہ نے آبنائے ہرمز (مضیق ہرمز) پر کنٹرول کو ایک بنیادی اور اہم مسئلہ بنا دیا، تاکہ وہ یہ محسوس کر سکے کہ اس نے کوئی عظیم کامیابی حاصل کر لی ہے، کیونکہ وہ اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے لیے اس نے ایران کو ایک تابعدار ریاست بنانے کی خاطر جنگ چھیڑی تھی۔

 

روزنامہ 'وال اسٹریٹ' (وول ستريت) نے 10 ستمبر 2026ء کو باخبر امریکی ذرائع کے حوالے سے خبر دی کہ "ایران نے جدید بالسٹک میزائل استعمال کیے ہیں جو اسے پرواز کے دوران مانوورنگ اور متحرک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتے ہیں، اور ان کا نشانہ پچھلے میزائلوں سے زیادہ دقیق ہے۔ اور اردن میں واقع 'موفق السلطی' ایئر بیس پر لگنے والی ضربات کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا، جن میں 9 فوجی طیارے متاثر ہوئے۔ اگرچہ امریکہ نے ایران کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے 30 سے زائد پیٹریاٹ میزائل داغے تھے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیروں نے خفیہ طور پر یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ ایران پر جنگ ان کی صدارتی مدت کے باقی ماندہ حصے تک جاری رہ سکتی ہے"۔ اور ٹرمپ نے 12 ستمبر 2026ء کو اعلان کیا کہ "ان کا خیال ہے کہ جنگ غالباً اگلے نومبر میں متوقع کانگریس کے مڈٹرم انتخابات کے بعد رک جائے گی"۔

 

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے پاس جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت موجود ہے اور امریکہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے؛ اور ٹرمپ کو امید تھی کہ وہ ان انتخابات سے پہلے یہ مقصد حاصل کر لیں گے تاکہ اپنی پارٹی کے لیے ایک بڑی فتح درج کروا سکیں، لیکن اب وہ اسے روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ ان کی صدارتی مدت کے خاتمے تک جاری رہے۔ چنانچہ وال اسٹریٹ نے 10 ستمبر 2026ء کو خبر دی تھی کہ "ٹرمپ کے سینئر مشیروں نے خفیہ طور پر یہ احتمال ظاہر کیا تھا کہ ایران پر جنگ ان کی صدارتی مدت کے باقی حصے تک جاری رہ سکتی ہے"۔

 

ٹرمپ نے مذاکرات کے آغاز، مفاہمت نامے پر دستخط، اور اس دعوے کے ذریعے جنگ کو روکنے کی کوشش کی کہ انہوں نے ایران کی اکثر طاقت کو تباہ کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ لیکن زمینی حقائق ان کے دعوؤں کو جھٹلاتے ہیں، چنانچہ وہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور شاید وہ اسی دلدل اور بحران کا شکار ہو چکے ہیں جس میں ان کے پیشرو جارج ڈبلیو بش (جونیئر) 2001ء اور 2003ء کے درمیان افغانستان اور عراق پر دو جنگیں مسلط کرنے کے بعد پھنس گئے تھے، جہاں انہیں دونوں ممالک میں مسلمانوں کی شدید و سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، اور وہ وہاں سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے لگے، جو ان کے لیے، ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے اور امریکہ کے لیے شدید رسوائی کا باعث بنا۔ اور اگر ٹرمپ اپنی صدارتی مدت میں اس جنگ کو ختم کرنے میں ناکام رہے تو وہ اپنے جانشین کے لیے ایک بدترین میراث چھوڑ کر جائیں گے۔

 

اور یوں امریکہ جھوٹے دعوؤں کے سہارے جنگیں بھڑکاتا ہے، کھیتی اور نسل کو تباہ و برباد کرتا ہے اور فساد کو عام کرتا ہے۔ اور اسے سوائے اپنے مفادات اور دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کے کسی چیز کی پروا نہیں۔

اس جنگ نے یہ بات بے نقاب کر دی ہے کہ ایران میں مؤثر اور حقیقی طاقت پاسدارانِ انقلاب (الحرس الثوری) ہے، اور گویا وہی ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگرچہ سیاست دانوں نے حتمی فیصلہ کرنے والے رہبر (مرشد) کو مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کی درخواست کی منظوری کے لیے قائل کر لیا تھا، لیکن پاسدارانِ انقلاب نے رہبر کے احترام میں عارضی طور پر بادلِ نخواستہ خاموشی اختیار کی، جو  دونوں فریقوں،سیاست دانوں اور پاسدارانِ انقلاب،کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

 

پس سیاست دان امریکہ کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہتے ہیں اور اسی پرانی پالیسی پر چلنا چاہتے ہیں جو امریکہ کے مدار میں گردش کرنے پر مبنی تھی، جبکہ پاسدارانِ انقلاب خودمختاری چاہتے ہیں۔ اور جب امریکہ نے دیکھا کہ پاسدارانِ انقلاب ہی غالب قوت ہیں، تو اس نے ان کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی، اور اس مقصد کے لیے اپنے پسندیدہ جنرل، پاکستان کے حقیقی حکمران عاصم منیر کو متحرک کیا، لیکن وہ اس میں ناکام رہا۔ اسی وجہ سے وہ اس اعلان کے بغیر دوبارہ حملے کرنے پر اتر آیا کہ اس نے ایران کے خلاف اس جنگ کو دوبارہ شروع کر دیا ہے جس کا اعلان اس نے 28 فروری 2026ء کو کیا تھا اور 40 دن کے بعد اسے روک دیا تھا۔

 

اور اس جنگ نے امریکہ کے سیاسی اندازِ کار کو بھی ننگا کر دیا ہے، کیونکہ وہ جان بوجھ کر دھوکہ دہی، اور مفاہمتوں و معاہدوں کی وعدہ خلافی و عہد شکنی پر اتر آتا ہے، اور انہیں اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے وقت حاصل کرنے کے حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے نہ کہ ان کا پابند رہنے کے لیے، اور اگر وہ دیکھے کہ اس میں اس کا کوئی مفاد نہیں تو ان پر عمل درآمد میں ہیر پھیر کرتا ہے اور ان سے مکر جاتا ہے۔ چنانچہ اس نے ایران کے ساتھ سابقہ ایٹمی معاہدے، روس کے ساتھ معاہدات، اور بین الاقوامی معاہدوں جیسے ماحولیاتی معاہدے (کلائمیٹ ایگریمنٹ) اور کھلی فضائی حدود کی پروازوں کا معاہدہ (اوپن اسکائز ٹریٹی) کو توڑ دیا، اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں سے باہر نکل گیا۔ اس طرح وہ اپنی اعتبار اور ساکھ کھو دیتا ہے اور خود کو ایک سرکش اور ناقابلِ اعتماد ریاست بنا دیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی معاہدے پر کوئی بھی اطمینان نہیں کر سکتا۔

 

پس وہ اپنے مفادات کی خاطر نہ کسی دوست کو پہچانتا ہے اور نہ دشمن کو؛ چنانچہ وہ اپنے دوستوں پر بھی معاشی اور سیاسی جنگ مسلط کر سکتا ہے جیسا کہ اس نے کینیڈا اور یورپ کے ساتھ کیا، ڈنمارک کے زیرِ انتظام گرین لینڈ جزیرے پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی، اور کینیڈا کو ضم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور وہ اپنی جارحیت کو جواز فراہم کرنے کے لیے جھوٹے کہانیاں گڑھتا ہے جیسا کہ اس نے افغانستان اور عراق کے ساتھ کیا اور اب ایران کے ساتھ کر رہا ہے۔

 

اور وہ ان لوگوں پر بھی الٹ سکتا ہے جو اس سے وفاداری کرتے ہیں، یعنی جو اس کے مدار میں گھومتے ہیں اور اس کے ایجنٹ ہیں؛ چنانچہ اس نے حسنی مبارک، بشار اسد، پرویز مشرف، سہارٹو اور دیگر جیسے اپنے ایجنٹوں کا ساتھ اس وقت چھوڑ دیا اور ان کے خلاف ہو گیا جب ان کے عوام نے ان کے امریکی احکامات کی تعمیل کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف بغاوت کر دی۔ اور اس نے ایران پر بھی دھاوا بول دیا جو اس کے مدار میں گھوم رہا تھا اور خطے میں اس کی خدمت کر رہا تھا۔

 

اسی لیے، عنقریب قائم ہونے والی ریاستِ خلافت امریکہ کے ساتھ اسی طرح نمٹے گی جس طرح رسول اللہ ﷺ نے رومی سلطنت  کے ساتھ معاملہ فرمایا تھا اور آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین نے ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان سے مقابلہ کیا، یہاں تک کہ انہوں نے ان کو شکست فاش دی اور اس علاقے سے باہر نکال پھینکا جسے آج 'مشرقِ وسطیٰ' کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے بعد آنے والے خلفاء نے ان کا ان کے مرکزی دارالحکومت استنبول تک تعاقب کیا اور وہ روم کو فتح کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے، جس کو عنقریب قائم ہونے والی دوسری خلافتِ راشدہ، اللہ کے حکم سے، فتح کرے گی۔

 

 

 

Last modified onمنگل, 22 ستمبر 2026 05:44

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک