الثلاثاء، 24 ربيع الثاني 1448| 2026/10/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)

 

05/10/2026

 

استعماری تسلط سے آزادی (التحریر) کے لیے اللہ تعالیٰ کے شرعی قانون کا نفاذ ناگزیر ہے

 

"امریکی سینٹرل کمانڈ نے 30 ستمبر کو اربیل ایئر بیس سے امریکی افواج اور سازوسامان کی منظم واپسی مکمل کر لی، جس کے ساتھ ہی عراق میں 'آپریشن انہیرنٹ ریزولو' مشن کا اختتام ہو گیا۔"

https://www.centcom.mil/MEDIA/PUBLIC-RELEASES/Article/4614532/us-forces-end-operation-inherent-resolve-mission-in-iraq/

 

کیا امریکی فوجیوں کے انخلاء سے عراق نے اپنی آزادی دوبارہ حاصل کر لی ہے؟ نہیں! امریکہ نے وہاں ایک تابع فرمان حکومت قائم کرنے کے بعد ہی اپنی افواج کو واپس بلایا۔

 

امت میں پاکستان، ترکی اور مصر جیسی طاقتور ریاستیں موجود ہونے کے باوجود کیا کسی بھی مسلم ریاست نے حقیقی آزادی حاصل کر لی ہے؟ نہیں! دہائیاں قبل جب برطانوی اور فرانسیسی فوجیں ہماری سرزمینوں سے واپس گئیں تو لوگوں کو آزادی کی امید تھی۔ لیکن حقیقت میں وہ فوجیں کنٹرول کی ایک نئی شکل، یعنی 'نو استعماری نظام' کی ایسی فیکٹری قائم کرنے کے بعد ہی گئیں جو ہر آنے والی نسل میں مغربی ریاستوں کے ایجنٹ اور پیروکار تیار کرتی ہے۔

 

عوامی شعور میں اضافے کے بعد دہائیوں پر محیط اس سفر میں لوگوں پر یہ بات آشکار ہوئی کہ آزادی کا وجود ہی نہیں ہے۔ انہیں احساس ہوا کہ ان کی ریاستیں برطانوی اور فرانسیسی استعماری نظام کے زیرِ اثر رہیں، اور پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے میدان میں آ کر نو استعماری نظام کی اپنی ایک نئی قسم متعارف کروا دی۔

 

حقیقی آزادی (التحریر) کا آغاز مغربی ثقافت، ایجنڈوں، پالیسیوں، قوانین، ان کے آلہ کاروں اور کرپٹ حکومتوں کو مسترد کرنے سے ہوتا ہے اور پھر ان کے ملبے پر امت کے عقیدے پر مبنی شرعی حکمرانی کے نظام کو قائم کرنے سے ہوتا ہے۔

 

مسلم دنیا میں تبدیلی کے لیے چلائی جانے والی کوئی بھی ایسی تحریک جو غیر ملکی پالیسیوں اور قوانین سے آزادی کو ترجیح نہیں دیتی، وہ حقیقی آزادی (التحریر) حاصل نہیں کر سکتی۔

 

آزادی (التحریر) کے لیے کوشاں کسی بھی تحریک کے پاس شرعی حکمرانی کا ایک جامع خاکہ تیار ہونا چاہیے جس کا دائرہ کار حکمرانی، معیشت، خارجہ تعلقات، سماجی نظام، صحت کی دیکھ بھال، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام، تعلیمی پالیسی اور خارجہ پالیسی تک پھیلا ہوا ہو۔  استقلال اور آزادی کے لیے کوشاں کسی بھی تحریک کو محض استعمار کے منصوبوں کو بے نقاب کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے شرعی احکام کو امت کے معاملات سے مربوط کرنا چاہیے اور ان احکام کی دلیل کے طور پر قرآنِ کریم، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع اور شرعی قیاس کا حوالہ دینا چاہیے۔

 

استعمار سے آزادی کی یہ تحریک 'حزب التحریر' ہے۔ لہٰذا آئیے ہم سب اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد کے طلبگار ہو کر حزب التحریر کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں۔

 

افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ عاصم منیر کی مدد سے بالواسطہ طور پر دوبارہ افغانستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے

 

28 ستمبر 2026ء کو پاکستان کی مسلح افواج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) نے تصدیق کی کہ: ’’امریکہ کے افغانستان وار کمیشن کے شریک سربراہان، محترمہ شمیلہ این. چودھری اور ڈاکٹر کولن ایف. جیکسن کی قیادت میں ایک وفد نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔‘‘

https://www.ispr.gov.pk/press-release-detail?id=7804

 

تبصرہ:

 

یہ ملاقات پاکستان اور افغانستان، دونوں کی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہے اور امریکی فوجی منصوبہ سازوں کے سامنے اہم راز افشا کرنے کے مترادف ہے۔

 

امریکی کانگریس نے 2021ء میں افغانستان وار کمیشن قائم کیا تھا، تاکہ ’’غیر خفیہ اور عوامی طور پر دستیاب حتمی رپورٹ کی صورت میں ایسے اسباق اور قابلِ عمل سفارشات اخذ کی جاسکیں جو مؤثر تزویراتی فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہوں۔‘‘

 

جہاں تک ڈاکٹر کولن ایف. جیکسن کا تعلق ہے، ان کے امریکی محکمۂ دفاع اور امریکی فوج کے ساتھ مضبوط روابط رہے ہیں۔ 2011ء میں وہ فوجی وردی میں افغانستان تعینات ہوئے، جہاں انہوں نے یو ایس فورسز-افغانستان (USFOR-A) کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف، آپریشنز کے لیے پالیسی منصوبہ بندی کے ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2017ء سے 2019ء کے دوران جیکسن نے افغانستان، پاکستان اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی نائب معاون وزیرِ دفاع کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے خطے میں امریکی پُرتشدد مداخلت کی نگرانی کی۔ بعد ازاں انہوں نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں محکمۂ دفاع کے سینئر عہدیدار کے طور پر بھی کردار ادا کیا، جہاں ان کا مقصد امریکہ کے لیے محفوظ انخلا کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اب لیفٹیننٹ کرنل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے، جیکسن افغانستان میں امریکی خطرے کی بالواسطہ طور پر دوبارہ واپسی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

 

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ’’ٹرمپ کے پسندیدہ مارشل‘‘ عاصم منیر کی مدد سے افغانستان میں دوبارہ داخل ہونے کے لیے بے چین ہے۔ امریکہ انتہائی تزویراتی اہمیت کے حامل بگرام ایئرفیلڈ (BAF) اور افغانستان میں موجود Rare Earth Elements (REEs) کے وسیع ذخائر پر کنٹرول چاہتا ہے۔ 2010ء میں امریکی محکمۂ دفاع کی ایک داخلی یادداشت میں افغانستان کو ’’لیتھیم کا سعودی عرب‘‘ قرار دیا گیا تھا، جس کی مالیت کم از کم ایک ٹریلین ڈالر بتائی گئی تھی۔ 18 ستمبر 2025ء کو ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکی حکومت ’’بگرام کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

 

اے پاکستان اور افغانستان کے مسلمانو! تمہارے دشمن ٹرمپ کے ایجنٹوں کی مدد سے تم سب کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اس بات کا مطالبہ کرو کہ مسلمانوں کی طرف اٹھنے والے ہر ہتھیار کو توڑ دیا جائے۔ خلافتِ راشدہ کے قیام کا مطالبہ کرو، جو امت مسلمہ کو کفار کے مقابلے میں ایک متحد قوت بنا دے گی۔

 

صرف اللہ ﷻ کا شریعت کا قانون ہی بنگلہ دیش کو سودی قرضوں سے نجات دلا سکتا ہے

 

27 ستمبر 2026ء کو Prothom Alo نے رپورٹ کیا: ’’اقتصادی تعلقات ڈویژن (ERD) نے آج، اتوار کو جولائی اور اگست کے لیے بیرونی قرضوں کی صورتِ حال سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں قرضوں کی صورتِ حال سے متعلق یہ تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔‘‘

https://en.prothomalo.com/bangladesh/zflugel5hb

 

تبصرہ

اس رپورٹ کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اور استعماریت کے تحت بنگلہ دیش کے لیے سودی قرضوں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔ سودی قرضوں کا نظام بنگلہ دیش کو رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست میں 294.5 ملین امریکی ڈالر کے قرضے فراہم کرچکا ہے۔ لیکن اسی عرصے کے دوران بنگلہ دیش کو پہلے لیے گئے قرضوں کی اصل رقم اور سود کی مد میں تقریباً 700 ملین امریکی ڈالر واپس کرنا پڑے۔

 

سود کا گناہ ریاستی خزانے اور عوام پر بوجھ میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ 11 جون 2026ء کو اپنی بجٹ تقریر میں وزیرِ خزانہ و منصوبہ بندی امیر خسرو محمود چودھری نے بتایا: ’’جیسے جیسے قرضوں کی سطح میں اضافہ ہوا، سود کی ادائیگی کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ قومی قرضوں پر سود کی ادائیگی، جو مالی سال 2005-06ء میں 8 ہزار 500 کروڑ ٹکا تھی، بڑھ کر مالی سال 2023-24ء میں 1 لاکھ 14 ہزار 700 کروڑ ٹکا ہوگئی۔ یہ بجٹ پر قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور ترقیاتی اخراجات پر اس کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

 

اللہ ﷻ کی شریعت کے نفاذ کے سوا سودی قرضوں سے نجات کی کوئی راہ نہیں۔ اسلام سود لینے اور دینے دونوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ اسلام مال میں خیانت اور ناجائز تصرف، یعنی غلول، سے بھی منع کرتا ہے۔

 

اللہ ﷻ فرماتا ہے:

 

﴿وَمَنۡ يَّغۡلُلۡ يَاۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾

 

 

’’اور جو کوئی مال میں خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن وہ مال لے کر حاضر ہوگا جس میں اس نے خیانت کی تھی‘‘ [سورۃ آلِ عمران: 161]۔

 

رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل مقرر کرکے بھیجتے وقت فرمایا: «لا تصيبنّ شيئاً بغير إذني، فإنه غلول، ومن يغلل يأت بما غلّ يوم القيامة» ’’میری اجازت کے بغیر کسی چیز پر قبضہ نہ کرنا، کیونکہ یہ غلول ہے، اور جو غلول کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر حاضر ہوگا جس میں اس نے خیانت کی تھی۔‘‘ حکمرانوں اور سرکاری عہدیداروں کی جانب سے غصب یا خیانت کے ذریعے حاصل کیے گئے تمام اموال اور جائیدادیں ان سے واپس لے کر ریاستی خزانے، یعنی بیت المال میں جمع کی جاتی ہیں۔

 

اس طرح شریعت ان مالی وسائل کو متحرک کرتی ہے جنہیں واجب اخراجات پر صرف کیا جاسکتا ہے، جن میں قرضوں کی باقی ماندہ اصل رقم کی ادائیگی بھی شامل ہے۔

 

امریکی پالیسی یہ ہے کہ حکمتِ عملی پر مبنی شہری جوہری تعاون کے ذریعے مسلم ریاستوں کو جوہری بازداریت (Nuclear Deterrence) کی صلاحیت سے محروم رکھا جائے

 

26 ستمبر 2026 کو پرُتھوم آلو نے رپورٹ کیا، ’’بنگلہ دیش اور امریکہ نے شہری جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے مقصد سے حکمتِ عملی پر مبنی ایک شہری جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ وزیرِ اعظم کے سائنس و ٹیکنالوجی کے مشیر ریحان اسد نے بنگلہ دیش کی جانب سے، جبکہ امریکی انڈر سیکریٹری برائے اقتصادی امور جیکب ہیلبرگ نے امریکہ کی جانب سے اس معاہدے پر دستخط کیے۔‘‘

https://en.prothomalo.com/bangladesh/393bm2fwoh

 

امریکہ پوری دنیا پر جوہری بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ ماضی میں وہ جاپان کے شہریوں پر جوہری ہتھیار استعمال کر چکا ہے، اور حال ہی میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں منفی بیانات دینے کے بعد ایران کے مسلمانوں کو جوہری تباہی کی دھمکیاں بھی دے چکا ہے۔ امریکہ حکمتِ عملی پر مبنی شہری جوہری تعاون کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے کہ مسلم ریاستوں کو جوہری دفاعی صلاحیت حاصل کرنے سے روکا جائے، یا پاکستان کے منفرد معاملے میں مسلمانوں کو امریکہ اور اس کے سرپرستی یافتہ حامیوں، یعنی ہندو ریاست اور یہودی وجود، کے ساتھ مقابلہ کرنے سے روکا جائے۔

 

رسول اللہ ﷻ کی سنت یہ اصول قائم کرتی ہے کہ فوجی صلاحیتیں اس حد تک تعمیر کی جائیں کہ برتری، بلکہ اگر ممکن ہو تو بالادستی، حاصل ہو۔ غزوۂ بدر میں تلواروں اور ڈھالوں کی کمی کے ساتھ جنگ لڑنے کے بعد، نبی ﷺ نے مقامی سطح پر اسلحہ سازی کی خاطر خاطر خواہ صلاحیت قائم کی۔ آپ ﷺ نے منجنیقوں اور محاصرے کے لیے استعمال ہونے والے ٹینکوں کی فوجی جدت کی نگرانی بھی فرمائی۔ اس مبارک سنت کو اختیار کرتے ہوئے، صدیوں کے دوران اسلامی ریاست نے دنیا کے ظالم حکمرانوں کے خلاف فوجی اسلحے کی بالادستی قائم کی۔ ٹیپو سلطان کے میسوری راکٹ، محمد الفاتح کی دیوہیکل توپ، اور عثمانی بحریہ کے تارپیڈو نے سب اپنے دشمنوں کے دلوں میں دہشت بٹھا دی تھی۔

 

بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو چاہیے کہ امریکہ اور استعمار پسندوں کے ساتھ تمام ایسے ٹیکنالوجی معاہدوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کریں جو کفار کی فوجی برتری کو مستحکم کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس باصلاحیت بیٹوں اور بیٹیوں کی کوئی کمی نہیں، جو اس وقت دنیا کی بہترین جامعات اور تحقیقی اداروں میں موجود ہیں۔ انہیں چاہیے کہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت قائم کریں، جو دشمنوں کے دلوں میں دہشت پیدا کرنے کی نبوی سنت کو زندہ کرےگی، تاکہ دشمنوں کو ان کی شکست سے پہلے ہی باز رکھا جا سکے۔

 

 

عاصم منیر نے ڈرونز کا ایسا معاہدہ کیا جو یہودی وجود کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے

 

23 ستمبر 2026ء کو الجزیرہ نے لکھا: "پاکستان نے ٹرمپ پر اپنی تازہ شرط ایک ایسی ڈرون کمپنی پر لگائی ہے جو پہلے ہی بھارت کو ڈرون فروخت کر رہی ہے۔ اس کمپنی کا شریکِ بانی اسرائیلی فوج کا سابق اہلکار بھی ہے، جبکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔"

https://www.aljazeera.com/amp/news/2026/9/23/pakistans-new-drone-deal-is-with-trump-backed-firm-also-selling-to-india

 

عاصم منیر نے ڈرونز کا آرڈر حاصل کرنے کے لیے Powerus سے ذاتی طور پر ملاقات کی۔ 18 ستمبر کو Aureus Greenway Holdings Inc. نے اعلان کیا کہ اس نے Autonomous Power Corporation، جو Powerus کے نام سے کاروبار کرتی ہے، کے ساتھ مل کر یہ اعلان کیا ہے کہ اسے "اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارتِ دفاع کی جانب سے بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (Unmanned Aerial Systems) اور متعلقہ معاونت کے لیے محدود پیمانے پر خریداری کا آرڈر موصول ہوا ہے۔"

 

عاصم منیر نے یہ آرڈر ایسے وقت میں حاصل کیا جب Powerus کے یہودی وجود کی انٹیلی جنس سے روابط ہیں۔ Powerus کی ویب سائٹ پر Ziv Marom کو کمپنی کا شریک بانی اور Chief Vision Officer قرار دیا گیا ہے۔ Marom اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کا سابق فوجی ہے، جہاں اس نے Intelligence Corps میں خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں اس نے Kaizen Aerospace قائم کی، جو بعد میں Powerus کا حصہ بن گئی۔

 

عاصم منیر نے یہ آرڈر اس حقیقت کے باوجود حاصل کیا کہ Powerus نے بھارت کو ڈرون شکن ٹیکنالوجی فراہم کی، جس کی تصدیق Paras Defence and Space Technologies کی جانب سے بھارتی اسٹاک ایکسچینجز کو 30 جون کو جمع کرائی گئی فائلنگ سے ہوتی ہے۔

 

عاصم منیر نے یہ آرڈر اس حقیقت کے باوجود حاصل کیا کہ ٹرمپ کے دو بڑے بیٹے American Ventures نامی ایک سرمایہ کاری کے ذریعے Powerus میں سرمایہ کار ہیں۔

 

عاصم منیر نے یہ آرڈر اس حقیقت کے باوجود حاصل کیا کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی بہترین ڈرونز موجود ہیں، جو ترکیہ کی Baykar اور پاکستان کے National Aerospace Science & Technology Park (NASTP) نے مشترکہ طور پر تیار کیے ہیں۔

 

چنانچہ عاصم منیر نے ایسا آرڈر حاصل کیا ہے جو پاکستان کے فوجی انفراسٹرکچر کو امریکی صلیبیوں، یہودی وجود اور ہندو ریاست کے سامنے کمزور اور انحصار کا شکار بناتا ہے۔

 

مزید برآں، عاصم منیر کا یہ آرڈر ان سکیورٹی اتحادوں کے وسیع جال کا حصہ ہے جسے ٹرمپ پاکستان جیسے مضبوط ترین مسلم ملک کو یہودی وجود پر منحصر کرنے کے لیے بُن رہا ہے، تاکہ اس کی جانب سے یہودی وجود کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانوں! اس کھلی غداری کے خلاف اپنی آواز بلند کرو اور اسے روکنے کا مطالبہ کرو۔ نبوت کے نقش قدم پر خلافت کے قیام کا مطالبہ کرو، جو اللہ تعالیٰ کے اذن سے فلسطین کو دریا سے سمندر تک آزاد کرائے گی۔

Last modified onپیر, 05 اکتوبر 2026 20:02

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک