بسم الله الرحمن الرحيم
ولایۂ سوڈان: ستمبر 2026ء کے دوران تقریبات اور سرگرمیاں
حزب التحریر/ ولایۂ سوڈان نے ستمبر 2026ء کے دوران سوڈان میں اپنی کارروائیوں اور سرگرمیوں کو تیز کیا۔ اس نے قبائلی عمائدین، قبیلوں کے سربراہوں اور معاشرتی قیادتوں کے پاس وفود بھیجے اور انہیں دین کی نصرت کی دعوت دی۔ ان قائدین کی طرف دستِ تعاون بڑھاتے ہوئے ان سے اس مقصد کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کیا جس کے لیے حزب التحریر سرگرم ہے، یعنی منہجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ ثانیہ قائم کرکے اسلامی زندگی کا ازسرِنو آغاز؛ نہ کہ قبائلی تنازعات اور مصنوعی کشمکش کے پیچھے چلنا۔ وفود نے مسلم ممالک میں کافر استعمار کی سازشوں، بالخصوص سوڈان میں شیطانی تثلیث (جنگ، دارفور کی علیحدگی اور یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے) کو بے نقاب کیا۔
حزب نے بازاروں، عوامی مقامات، مساجد کے سامنے اور راستوں میں سیاسی خطابات بھی کیے، جن میں امت کو دین کے قیام کے لیے سنجیدگی سے کام کرنے اور اس مقصد کے لیے کام کرنے والوں کی نصرت کی دعوت دی گئی۔ اس کے علاوہ سیاسی فورمز، ماہانہ سیاسی سیلون اور ترجمان کی پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سیاسی منظرنامے کے اہم اور فوری مسائل پر گفتگو کی گئی۔ ترجمان نے پریس بیانات اور خبریں بھی جاری کیں جن میں سوڈان میں مغربی سازشوں کا مقابلہ کیا گیا۔
چند نمایاں سرگرمیاں درج ذیل ہیں:
اول: سوڈانی دارالحکومت اور پورٹ سوڈان میں رہنماؤں سے حزب التحریر کے وفود کی ملاقاتیں:
حزب التحریر کے وفود نے ان شخصیات سے ملاقاتیں کیں: استاد مکی محمد عبد الرحمن، حزبِ دولت القانون والتنمیہ میں فکر و تأصیل کے امین، ان کے ام درمان میں واقع گھر پر؛ بحرِ احمر ریاست میں ہاؤسا قبیلے کے امیر استاد صالح عبد الرحمن، جن کے ہمراہ عمدہ حسن ایوب اور استاد مختار حمز تھے؛ استاد عبد الحی صافی الدین ناجح، دار حمر قبائل کی مجلسِ شوریٰ کے سربراہ، ان کی خرطوم بحری کے علاقے کوبر میں قیام گاہ پر؛ خرطوم میں کواہلہ قبیلے کے امیر استاد محمد الزین فضل المولى ابو حفص، ان کے ام درمان شہر کے علاقے الثورہ میں واقع گھر پر؛ امیر عوض الجید محمد عبد اللہ النعیمہ، کواہلہ الوالیہ قبیلے کے امیر، ان کے ام درمان کے شہر الصالحہ میں واقع گھر پر؛ شیخ عبد الرحیم عیسیٰ، مقامی انتظامیہ اور اسلامی تحریک کے رہنما اور سابق رکنِ پارلیمان، ان کے ام درمان کے مدینۃ النیل میں واقع گھر پر؛ اور جموعیہ قبیلے کے مکِ عموم، مک غانم الطیب محمد ناصر، ان کے ام درمان شہر میں واقع گھر پر۔
یہ ملاقاتیں سوڈانی دارالحکومت کے شہروں خرطوم، ام درمان اور بحری میں ہوئیں۔ حزب التحریر کے وفود نے سوڈان کے لیے بنائے گئے امریکی منصوبے—ملک کو تقسیم اور سیکولر بنانا—کے بارے میں حزب کا موقف واضح کیا اور بتایا کہ امریکہ اس منصوبے پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے قائدین اور سربراہوں کو اس سازش کے نفاذ میں شریک کیے جانے کے خطرے سے آگاہ کیا، اور بتایا کہ امریکہ کی بھڑکائی ہوئی اس جنگ، قبائل کو مسلح کرنے اور ملیشیائیں قائم کرنے کے ذریعے دارفور کو الگ کرنے کا کام جاری ہے، تاکہ نسلی عصبیتیں بھڑکا کر حالات مسلسل خراب رکھے جائیں۔ انہوں نے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ اسلامی عقیدے کو مضبوطی سے تھام کر اس منصوبے کو ناکام بنائیں، اور قبائل اپنے افراد سمیت منہجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ کے منصوبے کے ساتھ کھڑے ہوں؛ یہی اسلام کے نفاذ کا ربانی راستہ ہے، تاکہ کافر استعمار سے پہلے اقدام کرکے مسلم ممالک، خصوصاً سوڈان، میں مغربی منصوبے کا راستہ روکا جاسکے۔
امرا، رہنماؤں اور مکوں کا ردِعمل یکساں تھا۔ انہوں نے حزب التحریر کے وفود کے دوروں کو سراہا، سوڈان کی وحدت کا دفاع کیا اور اس کی تقسیم کی اجازت نہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خلافت کے سائے میں مسلمانوں کی وحدت اور اسلام کی حکمرانی کے ساتھ ہیں، اور ملکی مسائل کے حل کے لیے کافروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہی ان مسائل کا سبب ہیں۔ انہوں نے مسلم ممالک کے خلاف کافر استعماری مغرب کے منصوبوں سے امت کو آگاہ کرنے اور خلافت کے تحت مسلمانوں کی وحدت کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کو متحد کرنے والی ریاست، یعنی خلافت، کے ساتھ ہیں، جسے افسوس کہ بہت سی اسلامی جماعتیں اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتیں۔ بعض نے کہا: جب تک آپ اسلام کے ساتھ ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے باہمی رابطہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس اسلامی منصوبے پر حزب کا شکریہ ادا کیا۔
دوم: سیاسی خطابات:
سیاسی خطابات میں مختلف موضوعات زیرِبحث آئے، جن میں سوڈانی-سوڈانی مذاکرات اور ان کے پیچھے امریکہ کا کردار، اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے البرہان کو داخلے کا ویزا دینے سے امریکہ کے انکار کے اثرات، اور حکمرانوں کا بین الاقوامی کفریہ تنظیموں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا اور یہ گمان کرکے ان کی پناہ لینا کہ وہ ان کی ریاستوں کے مسائل حل کرنے میں ساتھ دیں گی، شامل تھے۔ ام درمان میں امام مالک فقہی سوسائٹی کی مسجد کے سامنے ایک بڑے عوامی خطاب میں شیخ عبد نے ملک بھر کے لوگوں کو جھلسا دینے والی مہنگائی پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کی وجہ ریاست کی جانب سے سرمایہ دارانہ نظام سے ماخوذ اقتصادی اقدامات ہیں، جن میں حرام محصولات وصول کرنا، کرنسی کو ڈالر سے منسلک کرنا، سوڈانی پاؤنڈ کو آزاد چھوڑنا اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ یہ پالیسیاں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے احکامات کا نفاذ ہیں، جنہوں نے لوگوں کو غریب اور ان کی تکالیف کو کئی گنا بڑھا دیا۔ اسی طرح پورٹ سوڈان کے بڑے بازار میں بھی خطابات کیے گئے۔
سوم: فورم ’’امت کے مسائل‘‘—کیا سوڈانی مذاکرات سوڈان کے بحران سے نکلنے کا راستہ بنیں گے؟
پورٹ سوڈان میں حزب کے دفتر میں منعقد ہونے والے ماہانہ فورم ’’امت کے مسائل‘‘ میں سوڈان میں ہونے والے مذاکرات کی تاریخ پر گفتگو ہوئی؛ 1965ء کی گول میز کانفرنس سے لے کر مسلح تحریکوں کے ساتھ طے پانے والے تمام معاہدوں تک، جو بالآخر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے اور ملک کو تقسیم کرنے کا باعث بنے۔ ولایۂ سوڈان میں حزب التحریر کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ استاد ناصر رضا نے کہا کہ البرہان کی جانب سے مذاکرات کی یہ دعوت امریکہ کے زیرِاثر ہے، ایک سازش سے زیادہ کچھ نہیں، سوڈانی بحران کو حل نہیں کرے گی اور اس کے خدوخال بھی واضح نہیں ہیں۔
دوسرے مقالے میں حزب التحریر کے رکن استاد عادل ابراہیم نے واضح کیا کہ اسلام کا نظامِ حکومت منہجِ نبوت پر خلافت ہے، اور حاکم کے انتخاب کا شرعی طریقہ بیعت ہے؛ اسی کے ذریعے رسول اللہ ﷺ ریاست کے سربراہ بنے اور آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین نے بھی اسی کے ذریعے حکومت سنبھالی۔ انہوں نے اپنی گفتگو اس بات پر ختم کی کہ حزب التحریر نے ریاستِ خلافت کے لیے ایک مجوزہ دستور تیار کر رکھا ہے۔
چہارم: سیاسی سیلون—دارفور کی علیحدگی کی سازش میں سوڈان کے ہمسایہ ممالک اور علاقائی تنظیموں کا کردار
ولایۂ سوڈان میں حزب التحریر کے میڈیا دفتر کے زیرِاہتمام سیاسی سیلون میں پورٹ سوڈان کے حزب دفتر سے حزب التحریر کے رکن استاد حسین الہادی کو مدعو کیا گیا۔ مقرر نے واضح کیا کہ امریکہ نے دارفور کو الگ کرنے کی سازش میں سوڈان کے ہمسایہ ممالک کو سیاسی اور فوجی کردار ادا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کینیا، سعودی عرب، مصر، چاڈ، لیبیا، ایتھوپیا اور دیگر ہمسایہ ممالک کے سیاسی اور فوجی اقدامات بیان کیے۔ پھر انہوں نے علاقائی تنظیموں، خصوصاً افریقی یونین، ایگاد اور عرب لیگ کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کس طرح امریکہ کے ترجمان ہیں، اسی کی زبان بولتے ہیں اور دارفور کی علیحدگی کے معاملے میں اس کی مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے گفتگو اس بات پر ختم کی کہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ اسلام، یعنی منہجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ کے قیام میں ہے۔
پنجم: پریس کانفرنس—باطل نظام اور ناکام پالیسیاں؛ نتیجہ بھوک اور بدحالی
ایسے وقت میں جب سوڈان میں بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، بازاروں میں شدید مہنگائی ہے، مقامی کرنسی غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں گرتی جا رہی ہے اور حکومت تاجروں سمیت دیگر لوگوں پر بھاری ٹیکس عائد کرکے، درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا کر اور بازاروں کے فروشوں کو تنگ کرکے مصائب پیدا کر رہی ہے، یہاں تک کہ زندگی ناقابلِ برداشت جہنم بن گئی ہے؛ میڈیا دفتر نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔ اس میں ولایۂ سوڈان میں حزب التحریر کے سرکاری ترجمان استاد ابراہیم عثمان ابو خلیل نے گفتگو کی اور ’’باطل نظام اور ناکام پالیسیاں؛ نتیجہ بھوک اور بدحالی‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے سنگین اقتصادی صورتحال کی وضاحت کی اور اسلامی عقیدے سے ماخوذ حل پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان بلکہ پوری دنیا کے اقتصادی بحران کا بنیادی حل ایسے اقتصادی نظام میں ہے جو صحیح عقیدے پر قائم ہو۔ اس نظام میں کرنسی سونے پر مبنی ہوگی، جو محفوظ اور مستحکم ہونے کے ساتھ اسلام کے بہت سے احکام کی بنیاد بھی ہے، مثلاً دیت، چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے مقررہ نصاب، نقدی کی زکوٰۃ اور دیگر احکام۔ انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور دیگر سودی فنڈز سے تعلق مکمل طور پر ختم کرنے، اور دولت کے حصول، اس کی افزائش اور خرچ کرنے سے متعلق اسلامی احکام نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
ترجمان نے ان عنوانات کے تحت پریس بیانات بھی جاری کیے: ’’اسلام میں ریاست نہ سول ہوتی ہے نہ فوجی، بلکہ منہجِ نبوت پر خلافت ہوتی ہے‘‘ اور ’’استعمار کی بنائی ہوئی ریاستوں کو خودمختاری حاصل نہیں؛ حقیقی خودمختاری تب ہوتی ہے جب ریاست اسلام کی بنیاد پر قائم ہو‘‘۔ ان کے علاوہ دیگر پریس بیانات اور سوڈان میں حزب التحریر کے دفاتر کی سرگرمیوں سے متعلق تقریباً روزانہ خبریں بھی جاری کی گئیں۔
ششم: دیگر سرگرمیاں
ولایۂ سوڈان میں حزب التحریر کے نوجوان سوڈان کے مختلف شہروں کی مساجد اور کلبوں میں دروس اور لیکچرز دیتے ہیں۔ نمازوں کے بعد روزانہ کی گفتگو بھی ہوتی ہے۔ خرطوم، ام درمان، پورٹ سوڈان، القضارف، الابیض اور سوڈان کے دیگر شہروں میں جمعے کے مستقل منبر بھی قائم ہیں، جہاں نوجوان خطبا امتِ مسلمہ کے بنیادی اور فیصلہ کن مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں۔
https://www.hizb-ut-tahrir.info/ur/index.php/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA%DB%8C-%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/4819.html?print=1&tmpl=component#sigProId60930501ca
Latest from
- حزب التحرير ولايہ ترکیہ نے استنبول میں “غزہ نسل کشی، سازشوں اور غداری کی گرفت میں” کے عنوان سے کانفرنس منعقد کی
- مسلمانوں کی افواج کو 'فتنہ' کی طویل جنگوں میں جھونکنے کے امریکی منصوبے کو روکیں
- ہندوستان کی اصلاح جمہوریت کے ’طاغوت‘ میں شرکت سے نہیں، اسلام کی دعوت سے ممکن ہے
- الرایہ اخبار: شمارہ 620 کی نمایاں سرخیاں
- متفرقات الرایہ – شمارہ 619