بسم الله الرحمن الرحيم
الرایہ کے متفرقات – شمارہ 586
صفحہ اول کی پیشانی پر:
بے شک امن، ایمان کے ثمرات میں سے ایک ثمر ہے۔ یہ ایمان کے ہونے سے موجود ہوتا ہے اور اس کے رخصت ہونے سے غائب ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ ہمیشہ ایمان سے جڑا رہتا ہے۔ اور نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ ، جو اللہ کے حکم سے عنقریب قائم ہونے والی ہے، ہی زمین پر وہ حقیقی اور مطلوبہ امن واپس لائے گی جو ایک صدی تک غائب رہنے کے بعد دوبارہ میسر آئے گا۔ جب وہ زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کو نافذ کرے گی تو امن، عدل اور خیر دنیا کے تمام کونوں میں پھیل جائے گا۔
===
صفحہ اول کے لیے:
غزہ اور اس کے باسیوں کے لیے یہ کیسی رسوا کن بے حسی ہے؟!
یہودی افواج غزہ میں منظم خلاف ورزیوں کے ایک واضح نقشے کے تحت مسلسل جرائم کا ارتکاب کر رہی ہیں، اور قتل و غارت گری اور تباہی کا جواز پیش کرنے کے لیے من گھڑت بہانے اور لغو واقعات تراشتی ہیں۔ وہ ایسے اقدامات کر رہی ہیں جو نسل کشی کے جرم کے زمرے میں آتے ہیں، جنہیں ایک مشکوک عالمی خاموشی، سزا سے مسلسل استثنیٰ، اور یہاں تک کہ قطاعِ غزہ کی صورتحال کے انتظام کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی کوئی پرواہ کیے بغیر انجام دیا جا رہا ہے۔
غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگ بندی کے معاہدے کی کمزوری کا واضح ثبوت ہے، حالانکہ یہ معاہدہ یہودیوں کے حق میں تھا تاکہ وہ اپنے زندہ اور مردہ قیدیوں کو واپس حاصل کر سکیں، خاص طور پر ان کے اہل خانہ کے اندرونی احتجاج میں شدت آنے کے بعد جنہوں نے نیتن یاہو سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ یہودیوں نے معاہدے کے پہلے مرحلے میں اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا، اور اس کی بجائے کہ دوسرا مرحلہ رفح کراسنگ کھولنے سے شروع ہوتا، اس کا آغاز مسلسل خونریزی، ماؤں کے آنسوؤں اور بچوں کی چیخ و پکار سے ہوا۔انسانوں، پتھروں اور درختوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دنیا کی مکمل غفلت اور بے حسی قائم ہے گویا جنگ بندی کامیاب ہو گئی ہو اور جنگ واقعی ختم ہو چکی ہو!۔
دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور مسلسل دکھ و تکلیف اپنے تمام تر طریقوں، صورتوں اور شکلوں کے ساتھ جاری ہے جبکہ ہر کوئی تماشائی بنا بیٹھا ہے، اور جو لوگ بہت زیادہ دلچسی دکھاتے ہیں وہ بھی محض ہمدردی اور ناراضگی کے چند الفاظ پر اکتفا کرتے ہیں!۔ گویا دنیا خون کے مناظر اور بیواؤں و بچوں کی چیخوں کی عادی ہو چکی ہے۔ حکمران غزہ اور اس کے عوام کی قیمت پر پاگل ٹرمپ اور اس کے چہیتے نیتن یاہو کی رضا حاصل کر کے اپنے تخت و تاج بچانے میں مگن ہیں۔
پس اے امتِ اسلام! اے بہترین امت جو لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے نکالی گئی ہے: افواج کہاں ہیں؟! علماء کہاں ہیں؟! سیاست دان کہاں ہیں؟! غزہ اور اس کے باسیوں کے ساتھ یہ کیسی رسوا کن بے حسی ہے؟! تم کٹھ پتلی اور ذلیل حکمرانوں کا تختہ الٹنے اور ان کی محکومی و غلامی سے چھٹکارا پانے کے لیے حرکت میں کیوں نہیں آتے؟! تم غزہ کے لوگوں کو ایک ظالم دشمن اور اس کی نہ ختم ہونے والی طمع کے سامنے اکیلا کیسے چھوڑ سکتے ہو؟! دن رات بہتا ہوا خون، نہ رکنے والی آہیں اور آنسو، اور کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی چیخیں تمہیں کیوں بے چین نہیں کرتیں؟!۔
===
صفحہ اول کے لیے یہ بھی:
اے جوانو! کیا تم اس نسل کے عادل اور ثقہ لوگ بننا چاہتے ہو؟
رسولِ کریم ﷺ کا فرمان ہے: «يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ» "اس علم (دین) کو ہر آنے والی نسل کے عادل (معتبر) لوگ اٹھائیں گے، وہ اس سے غلو کرنے والوں کی تحریف، باطل پرستوں کے جھوٹے دعووں اور جاہلوں کی غلط تاویلوں کو دور کریں گے۔"
کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اس نسل کے عادل اور ثقہ لوگ تم ہی بنو؟ اپنا دین اس کے حقیقی علماء سے سیکھو، اور اس کے حقیقی علماء کی اکثریت تمہیں نہ تو ٹی وی چینلوں پر ملے گی اور نہ ہی حکمرانوں کے شاہی دسترخوانوں پر۔ ہر اس پکار سے خبردار رہو جو تمہیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے، ناامیدی کا شکار ہونے یا ان مسلمہ اصولوں کو متزلزل کرنے کی دعوت دے جنہیں تمہارے اسلافِ فقہاء نے اپنے قلم کی روشنائی سے سینچا اور تمہارے خلفاء و امراء نے اپنے خون سے ان کا دفاع کیا۔
تمہارے رسول ﷺ فرماتے ہیں: «لَا تَفُتُّوا فِي أَعْضَادِ النَّاسِ» "لوگوں کے حوصلے پست نہ کرو"، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: «بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ، وَالدِّينِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ» "اس امت کو بلندی، رفعت، دین، نصرت اور زمین میں غلبے و اقتدار کی خوشخبری دے دو۔"
تم سمندر کا جھاگ یا کوڑا کرکٹ نہیں ہو، ورنہ مغرب اور اس کے آلہ کار تم سے جنگ کیوں چھیڑتے اور تمہارے اتحاد سے کیوں لرزتے؟ تم وہی ہو جس نے امریکہ کو شکست فاش دی اور بارہا افغانستان کی مٹی میں اس کی ناک رگڑی۔ تم وہی ہو جس نے ان چار نظاموں کو زمین بوس کر دیا جن کے بارے میں لوگ سمجھتے تھے کہ انہیں کبھی زوال نہیں آئے گا۔ تم وہی ہو جو فلسطین میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہو، اور جہاں کے مجاہدین نے غزہ کی مٹی میں یہودیوں کی ناک رگڑ دی ہے۔
تم کتنے عظیم ہو اور تمہاری امت کتنی عظیم ہے! یہ امت اپنے اس جامع، پرکشش اور دلائل سے بھرپور عقیدے کی بدولت کتنی عظیم ہے، جس کی محرومی کی وجہ سے دنیا کے رائج نظام بدبختی کا شکار ہیں اور اوندھے منہ گرے ہوئے ہیں۔
ہماری امت اپنے نوجوان بیٹوں کی وجہ سے کتنی عظیم ہے! وہ مغرب جس کے بوڑھوں کی کمریں جھک چکی ہیں، کتنی حسرت سے تمنا کرتا ہے کہ کاش اسے بھی وہی بھرپور جوانی، ہمت اور تابندگی نصیب ہوتی جو تمہارے پاس ہے۔
ہم اپنے رب کی اس شریعت کی بدولت کتنے عظیم ہیں جس نے ماضی میں انسانیت کی قیادت کی اور جو آج تنِ تنہا ہمیں، بلکہ امریکہ، یورپ اور روس کو بھی سرمایہ داریت (کیپٹل ازم) کی اس دلدل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں خود وہاں کے رہنے والے بھی اذیت جھیل رہے ہیں۔
اللہ کی قسم! تمہیں اب صرف ایک حقیقی ربانی قائد کی ضرورت ہے، جس کے گرد تم کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ پر بیعت کر کے اکٹھے ہو جاؤ، جو اس زمین کو نور اور انصاف سے بھر دے گا، بالکل ویسے ہی جیسے یہ ظلم و ستم سے بھر چکی ہے۔
===
مرکزی مضمون کے نیچے:
قرغیزستان کے نظام نے حزب التحریر سے وابستگی کے الزام میں پانچ خواتین کو گرفتار کر لیا
قرغیزستان کی قومی سلامتی کی سرکاری کمیٹی نے اطلاع دی ہے کہ جلال آباد صوبے کے ضلع 'نوکن' میں حزب التحریر سے وابستہ خواتین کے ایک سیل کی ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے حکام نے بتایا کہ پارٹی کے خواتین ونگ کی سرگرم ارکان سلائی کڑھائی کی عملی تربیت کی آڑ میں نوجوان لڑکیوں کو کام کی دعوت دیتی تھیں اور پھر آہستہ آہستہ اور غیر محسوس طریقے سے ان کے ذہنوں میں اسلامی افکار راسخ کرتی تھیں۔ یہ خواتین بند ٹیلی گرام چینلز میں سرگرمی سے حصہ لیتی تھیں، 'ممنوعہ' لٹریچر کی تقسیم میں شریک تھیں اور قرغیزستان میں خلافت کے قیام کے حوالے سے بات چیت کرتی تھیں۔
الرایہ کا تبصرہ: یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسلامی سرگرمیوں کی پاداش میں ان پانچ قرغیز خواتین کی حالیہ گرفتاریاں، روس میں اس طرح کی گرفتاریوں میں آنے والی شدت کے ساتھ ہی عمل میں آئی ہیں۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ قرغیزستان کا پورا اندرونی سیکیورٹی کا شعبہ خود وہاں کی اپنی قومی سلامتی کی کمیٹی کے مقابلے میں روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس (FSB) کے کنٹرول میں زیادہ ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيناً * وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَاناً وَإِثْماً مُّبِيناً﴾
"بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی قصور (کے محض ان کے ایمان کی وجہ) سے دکھ پہنچاتے ہیں، انہوں نے یقیناً ایک بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے"(سورۃ الاحزاب، آیات 58-57) ===
امت کے تمام طبقات مبارک سرزمین فلسطین اور اس کے باسیوں کے ساتھ برتی جانے والی اس بے حسی اور رسوائی کا کیا جواب دیں گے؟!
دیکھو! فلسطین پوری امت کے سامنے جل رہا ہے اور اس کے حکمران اس دھوکے کے ذریعے (عوام کے) غصے کی چنگاریوں کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عنقریب جنگ بندی ہونے والی ہے، جنگ ختم ہو چکی ہے، اور یہ کہ غزہ کو امداد کے لیے پوری طرح کھول دیا جائے گا، تاکہ امت اس حقیقت کو بھول جائے کہ فلسطین کا کوئی حل نہیں ہے سوائے اس کے کہ اسے یہودیوں کی ناپاکی سے پاک کیا جائے!
آج کا دن بھی گزرے ہوئے کل جیسا ہی ہے، فلسطین کی عفت مآب بیٹیوں کی 'وا معتصماہ' کی پکاریں اب بھی زمین کے ہر کونے میں گونج رہی ہیں! اس کے بچوں کے آنسو اب بھی امت اور اس کی افواج کی بے حسی پر حسرت کے ساتھ بہہ رہے ہیں، اور وہ اپنی مدد پر قادر ہر شخص کے کانوں میں اللہ سے اپنی فریاد پہنچا رہے ہیں کہ: اللہ کے ہاں ہی مقدمہ پیش ہوگا اور اللہ ہی سے شکایت ہے۔ مسجدِ اقصیٰ اب بھی یہودیوں کے نیزوں تلے سسک رہی ہے جو اسے اپنے قدموں سے ناپاک کر رہے ہیں، اس کی بنیادیں کھود رہے ہیں اور اللہ کے بندوں کو اس کے صحنوں تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔ پھر مبارک سرزمین فلسطین میں بسنے والا ہر فرد اور وہاں کی ہر چیز پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ دشمن اس حد تک کبھی نہ پہنچ پاتا اگر گزشتہ اسی (80)سال سے زائد عرصے سے یہ حکمران نظام سازشوں اور ملی بھگت میں مصروف نہ ہوتے۔
پس یہ امت اپنے سپاہیوں، مردوں، علماء، سیاستدانوں، پڑھے لکھے لوگوں اور عام آدمی کے ساتھ مبارک سرزمین فلسطین اور اس کے باسیوں کو تنہا چھوڑ دینے کی اس رسوائی کا بوجھ لے کر کہاں جائے گی، جبکہ پوری دنیا اس (مبارک سرزمین فلسطین) پر ٹوٹ پڑی ہے اور زمین اپنی وسعتوں کے باوجود اس کے رہنے والوں پر تنگ کر دی گئی ہے؟ یہ امت کہاں جائے گی جب اس نے دیکھ لیا کہ اس کے حکمرانوں نے اہل فلسطین کے ساتھ وہی ارادہ کر لیا ہے جو ایک دشمن اپنے دشمن سے رکھتا ہے؟ یہ امت کہاں جائے گی اگر اس کی آگ اب بھی نہ بھڑکی اور اس کے دلوں میں جہاد کی بھٹیاں روشن نہ ہوئیں؟ اور یہ کہاں جائے گی اگر اس نے ان لوگوں کو (اقتدار سے) نہ گرایا جنہوں نے مبارک سرزمین فلسطین کو بے یار و مددگار چھوڑا، اس کے باسیوں سے غداری کی اور انہیں ایسے دشمن کے حوالے کر دیا جو ان کے بارے میں کسی عہد و پیمان یا قرابت کا لحاظ نہیں رکھتا؟ ان سب باتوں کے بارے میں یہ امت اللہ کے سامنے کیا جواب دے گی؟!
===
ہماری امت اور افواج کے مخلص بیٹوں کے نام
اے مسلمانو! آج تم جس تنگی، گھٹن اور جبر کا شکار ہو، یہ کوئی اٹل تقدیر نہیں ہے، اور نہ ہی یہ ایسی آزمائش ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو، بلکہ یہ اس فاسد نظام کا کڑوا پھل ہے جو تم پر مسلط کیا گیا ہے، جس کا تمہارے اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ تمہاری حقیقی نجات چہروں اور شخصیتوں کو بدلنے سے حاصل نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس نظام کی پیوند کاری یا اصلاح سے ممکن ہے، بلکہ اس کا واحد راستہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کی طرف سچی واپسی میں ہے، اور حزب التحریر کے ساتھ مل کر ایک جامع اسلامی ریاست یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے بھرپور، مخلصانہ اور سنجیدہ جدوجہد کرنے میں ہے۔
اے اسلامی ممالک کی افواج کے مخلص سپاہیو! تم اس عظیم و قدیم امت کے بیٹے ہو، تم اس کی وہ تلواریں ہو جنہیں تمہارے غدار حکمرانوں اور کمانڈروں نے اپنے کافر مغربی آقاؤں کے حکم پر میانوں میں ڈال رکھا ہے، حالانکہ اصل میں تم ہی اس کے حقیقی محافظ ہو۔ یاد رکھو! تمہارا اعزاز سائیکس پیکو کی ان سرحدوں کی حفاظت میں نہیں ہے جو استعمار نے تمہارے ممالک کے درمیان کھینچی تھیں تاکہ تمہاری وحدت کو پارہ پارہ کر دے اور تمہارے شیرازے کو بکھیر دے، اور نہ ہی تمہارا وقار ان غدار نظاموں کی حفاظت میں ہے جو تمہارے دشمنوں کے ہاتھوں گروی رکھے ہوئے ہیں۔ بلکہ تمہارا اعزاز اللہ کے دین کی نصرت میں ہے، اور اپنی امت کے ساتھ کھڑے ہو کر اسلام کے اقتدارِ اعلیٰ کو دوبارہ بحال کرنے میں ہے۔ آج تاریخ اپنے صفحات ان لوگوں کے لیے کھولے ہوئے ہے جو اپنا نام حضرت عمر، صلاح الدین ایوبی، سیف الدین قطز اور سلطان عبد الحمید جیسے جلیل القدر فاتحین کے ساتھ عزت و شرف کے صفحات پر لکھوانا چاہتے ہیں، یا پھر ابورغال، ابن العلقمی اور جبری دور کے حکمرانوں کے ساتھ ذلت و رسوائی کے صفحات پر۔ آگاہ ہو جاؤ کہ خلافت کے خاتمے کی یاد جو اب بھی ہم پر سایہ فگن ہے، محض کھنڈرات پر رونے کے لیے نہیں ہے، بلکہ ہمتوں کو جوان کرنے، عزم کی تجدید اور انتھک محنت کرنے کے لیے ہے۔ خلافت اگر غائب ہوئی تھی تو صرف اس لیے کہ وہ دوبارہ واپس آئے، اور اللہ کے حکم سے وہ عنقریب نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کی صورت میں واپس آنے والی ہے۔
===
اے پاکستان کے سپاہیو! کسی صلیبی جنرل کی قیادت میں فلسطین مت جاؤ، بلکہ ایک خلیفہ راشد کے جھنڈے تلے وہاں کے لیے کوچ کرو
اے پاکستان کی فوج، اے پاکستان کے علماء، اے پاکستان کے میڈیا اور سیاست کے نمایاں چہرو! "امن کونسل" میں شرکت کرنے کا مطلب ارضِ مبارک فلسطین پر مستقل صہیونی اور صلیبی قبضے کو دوام بخشنا ہے، وہ بھی صلیبی مہم کے سرکردہ رہنماؤں کی سرپرستی میں، اور وہاں کے مسلمانوں کے خون کے ساتھ کھلواڑ کرنا ہے۔ ٹرمپ کی یہ کونسل محض جنگ اور قبضے کی ایک کونسل ہے۔ ٹرمپ کے داماد اور اس کونسل کے رکن جارڈ کشنر نے 15 فروری 2024 کو ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک انٹرویو کے دوران واضح کہا تھا کہ فلسطینی ریاست کا تصور ایک "انتہائی برا خیال" ہے کیونکہ اس سے ، بقول اس کے ، "دہشت گردی کو انعام" ملے گا۔ جبکہ اسلام کے خلاف جنگ کے ایک بڑے منصوبہ ساز ٹونی بلیئر نے 29 ستمبر 2025 کو کہا: "صدر ٹرمپ نے ایک دلیرانہ اور دانشمندانہ منصوبہ پیش کیا ہے جو" اسرائیل" کے لیے مکمل اور مستقل سیکورٹی کی ضمانت دیتا ہے"۔ جہاں تک 'انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس' کے فوجی کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کا تعلق ہے، تو اس نے اپنے طویل اور خونی فوجی کیریئر کے دوران عراق میں 'آپریشن عراقی فریڈم' اور افغانستان میں 'اینڈیورنگ فریڈم' اور 'ریزولیوٹ سپورٹ' میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ اب غزہ بھیجی جانے والی کوئی بھی مسلم فوج، خواہ وہ پاکستان سے ہو یا انڈونیشیا سے، اسی کی کمان کے ماتحت ہوگی۔ اس استعماری منصوبے میں شرکت کی یہی اصل حقیقت ہے، جسے ہمارے حکمران پاکستان کی "سفارتی فتح" قرار دے کر پیش کر رہے ہیں! کاش کہ بازاروں میں "حیا" نام کی بھی کوئی شے بکتی جسے خرید کر ان حکمرانوں کو پیش کیا جا سکتا!۔
اے پاکستان کی فوج! فلسطین کی آزادی کے لیے مسلمانوں کی افواج کے کندھوں پر عائد شرعی فریضہ 1948ء سے قائم ہے اور آج کے دن تک ساقط نہیں ہوا ہے۔ تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں جو پے در پے خیانتوں سے بھری ہوئی ہیں، جن میں سے ایک غزہ کیے ساتھ روا حالیہ خیانت بھی ہے۔ لہٰذا ارضِ مبارک فلسطین کی سرزمین پر کسی امریکی صلیبی جنرل کی قیادت میں قدم مت رکھنا، بلکہ وہاں اس خلیفہ راشد کے پرچم تلے پہنچو جس کے ذریعے مسلمان اپنی حفاظت کرتے ہیں اور جس کے پیچھے رہ کر لڑتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» "امام (خلیفہ) ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے (دشمن سے) بچا جاتا ہے"۔
===
مسلمانوں سے فوری اور بغیر کسی تاخیر کےمطلوبہ عمل
جب یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ بیماری کی اصل اور مصیبتوں کی جڑ یہی وہ نظام ہیں جو ہم پر مسلط ہیں، تو اب علاج بھی سب کے سامنے بالکل واضح اور ایک فرض بن کر سامنے آ چکا ہے۔ اور وہ ہے ان موجودہ نظاموں کا تختہ الٹنا اور ان کے کھنڈرات پرنبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کا قیام۔ اس مقصد کو ان دو نکات میں سمویا جا سکتا ہے:
پہلا نکتہ: خلافت کے منصوبے کو (کامل طور پر) اپنانا۔ امت کے تمام طبقات کے مخلص افراد، بشمول گروہوں، علماء، مشائخ، کاروباری حضرات اور معززین، پر یہ لازم ہے کہ وہ خلافت کے اس منصوبے کو اپنائیں جس کی دعوت حزب التحریر دے رہی ہے، اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کو اپنا بنیادی مطالبہ بنائیں، اور افواج سے مطالبہ کریں کہ وہ اس مقصد کے لیے حزب التحریر کو 'نصرۃ' (عسکری مدد) فراہم کریں۔
دوسرا نکتہ: اہل قوت و منعت کا حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرنا، تمام فاسد تخت و تاج کو الٹ دینا، ان کے درباریوں کا صفایا کرنا، ملک و ملت کو استعمار کے بازوؤں اور اس کے سامنے بچھے ہوئے آلہ کاروں سے نجات دلانا، اور جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے ہاتھ پر نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے زیرِ سایہ بطور خلیفہ راشد بیعت کرنا۔
بے شک کامیابی و نصرت صرف اللہ اکیلے کے ہاتھ میں ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اور وہ سبحانہ وتعالیٰ اسی کی مدد کرتا ہے جو اس (کے دین) کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾
"اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو استقامت بخشے گا"(سورۃ محمد، آیت 7)۔
اس دین کی نصرت کرنا اللہ پر کوئی احسان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم فریضہ ہے جو صرف اسے ہی نصیب ہوتا ہے جو اس کا اہل ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَأوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾
"اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین (کے برابر) ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے"(سورۃ آل عمران، آیت 133 )===
فکری کشمکش اور سیاسی جدوجہد: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مسلمانوں کو اس بات سے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی شکل میں موجود برائی (منکر) کو بدلنے میں سستی نہ کریں، اور انہیں حکم دیا ہے کہ وہ ظالموں اور فسادیوں کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں، ورنہ اللہ کا عذاب اور سزا ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، اور پھر اگر وہ اللہ سے اس عذاب کو دور کرنے کی دعا بھی کریں گے تو ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: «وَاَلَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنْ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِنْ عِنْدِهِ ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ» "اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! تم ضرور بالضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے، ورنہ قریب ہے کہ اللہ عزوجل تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے، پھر تم اسے پکارو گے مگر تمہاری دعا قبول نہیں کی جائے گی" (اسے امام ترمذی نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے)۔
اور اللہ کا شکر ہے کہ اس نے امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسے بیدار مغز اور مخلص گروہ کو میسر کیا جس نے رسول اللہ ﷺ کی اس جدوجہد کا مطالعہ کیا جو آپ ﷺ نے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے فرمائی تھی، اور ان تکالیف، خوف اور جان و مال کی قربانیوں کو سامنے رکھا جو آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام نے صبر و استقامت کے ساتھ پیش کیں، یہاں تک کہ وہ ایک مختصر اور کمزور گروہ سے ایک طاقتور اور معزز امت میں بدل گئے۔
اور اب یہی بیدار مغز گروہ زمین پر اللہ کے حکم کی دوبارہ بحالی کے لیے سرگرمِ عمل ہے، اور اسے زمین پر اللہ کی خلافت اور غلبہ و اقتدار کے وعدے پر کامل یقین ہے۔ اس گروہ نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا ہے اور وہ نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے اور مسلمانوں کو اس عظیم فریضے سے پیچھے نہ ہٹنے کی ترغیب دینے کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔ یہ کام 'فکری کشمکش' اور 'سیاسی جدوجہد' کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔ یہ گروہ تمام تر رکاوٹوں اور مخالفتوں کے باوجود ثابت قدم رہا، نہ اس نے کبھی باطل سے سمجھوتہ کیا اور نہ ہی چاپلوسی سے کام لیا۔ وہ نہ کبھی گھبرایا اور نہ ہی مایوسی و پسپائی کا شکار ہوا۔ بلکہ وہ آج بھی اپنے منہج پر صبرو استقامت کے ساتھ قائم ہے اور رہے گا، یہاں تک کہ وہ 'اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز' کے اپنے مقصد کو حاصل کر لے، تاکہ وہ خود بھی اور تمام مسلمان بھی خاموش رہنے اور بیٹھ رہنے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے وعید کردہ عذاب سے نجات پا جائیں۔
===
ان 'نقصان دہ ریاستوں' سے ہماری وابستگی: ہم اس کی قیمت خون، ذلت، غربت اور قبضے کی صورت میں چکا رہے ہیں
امت کا اصل مسئلہ وسائل یا مال و دولت کی کمی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ سیاسی فیصلے کی قوت کا فقدان اور ان مصنوعی و ناکام ریاستوں کا دوبارہ ایک ایسی واحد ریاست میں ضم ہونا ہے جو اپنے تمام وسائل اور مکمل خودمختاری کی مالک ہو، جہاں نہ غربت ہو، نہ ذلت، نہ دربدری، نہ کسی کا غصب شدہ قبضہ اور نہ ہی وہ غم و فکر جو دن رات لوگوں کے سینوں پر سوار رہتے ہیں۔
ان (مصنوعی) ریاستوں کی سرحدوں سے چمٹے رہنے کی قیمت ہم اپنے خون، ذلت، افلاس اور غلامی کی شکل میں ادا کر رہے ہیں، اور ان سرحدوں کو برقرار رکھنے کی کوئی بھی پکار درحقیقت نئی تقسیم کی تمہید اور مستقبل میں مزید بکھراؤ کی دعوت ہے۔ وطنیت، قومیت، فرقہ واریت یا مذہبیت کے نام پر اٹھنے والا ہر وہ منصوبہ جو استعمار کی کھینچی ہوئی ان سرحدوں پر مبنی ہو، وہ سیاسی خودکشی اور جان بوجھ کر یا نادانی میں مغرب کی غلامی کے مترادف ہے۔ امت کے لیے اس تباہ کن چکر سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ سرحدیں پہلے مسلمانوں کے دماغوں سے م ٹ جائیں اور پھر مسلمانوں کی زمین سے بھی ختم ہو جائیں۔ اور اپنے دین کی بدولت اس عظیم و کریم امت کی نشاۃِ ثانیہ ایک واحد ریاست کے بغیر ممکن نہیں، اور وہ ریاست 'نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ ' ہے جو امت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو یکجا کرے گی اور اسے بغیر کسی مصنوعی سرحد کے ایک ایسی واحد امت بنا دے گی جو پوری انسانیت کے لیے رحمت اور نور کا پیغام ہوگی۔
﴿مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعاً إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُولَٰئِكَ هُوَ يَبُورُ﴾
"جو کوئی عزت چاہتا ہے تو (اسے معلوم ہونا چاہیے کہ) تمام تر عزت اللہ ہی کے لیے ہے، اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل انہیں بلندی عطا کرتا ہے، اور جو لوگ بری چالیں چلتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر و فریب خود ہی غارت ہو جائے گا"(سورۃ فاطر، آیت 10 )
===




