الأربعاء، 14 ربيع الأول 1443| 2021/10/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال کا جواب

تیونس کے صدر کا پارلیمنٹ کو معطل اور وزیر اعظم کو برطرف کرنے کاا قدام!

سوال:

30 جولائی 2021 کو الجزیرہ نے خبر دی کہ رضا غرسلاوی نے مشیر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر  قیس سعیدسے وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں لینے کے لیے حلف  اٹھایا۔ 25 جولائی 2021  بروز اتوار کو تیونس کے صدر قیس سعید نے فوجی اور سیکورٹی عہدیداروں سے ہنگامی ملاقات کے بعد ریاست کے ٹیلی وژن پر پارلیمنٹ کی کارروائیوں کو معطل اور وزیر اعظم  ہشام المشیشی کو برطرف   کردیا۔  صدر نے یہ اقدام  تیونس کےآئین کے آرٹیکل 80 کے تحت کیے۔ اس آرٹیکل کے تحت ہی انہوں نے اراکین پارلیمنٹ کے استثنا کو ختم، اپنے دفاع اور انصاف کے وزیروں کو برطرف، اور خود کو ہی وزیر اعظم نامزد کر کے ایگزیکٹو پاور اپنے ہاتھوں میں لے لی۔۔۔تیونس کے صدر نے یہ اقدامات کیوں اٹھائے؟ بین الاقوامی ردّعمل کیا ہے؟  کیا بین الاقوامی تنازعہ تیونس کی جانب منتقل ہوگیا ہے؟

 

جواب:

ان مسائل پر رائے کو واضح کرنے کے لیے ہم مندرجہ ذیل امور کا جائزہ لیں گے:

تیونس کے صدر قیس سعید اور حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان بحران اس سال کے آغاز میں شروع ہوا ، جب وزیر اعظم ہشام المشیشی نے 16 جنوری 2021 کو کابینہ میں ردوبدل کا اعلان کیا جس کے تحت 25 محکموں کی وزارتوں میں سے 11 وزارتی قلمدان تبدیل کیے گئےتھے۔ تیونس کے صدر نے ان وزارتی تبدیلیوں کو مسترد کردیا ، جس میں وہ وزیر بھی برطرف کیے گئے تھے جو صدر سے قریب ہیں۔ سعید نے 25 جنوری 2021 کو کہا تھا: "وزیر اعظم ہشام المشیشی کی جانب سے حکومت میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں نے آئین میں بتائے گئے طریقہ کار کا احترام نہیں کیا ، خاص طور پر باب 92 میں جو کچھ مقرر کیا گیا تھا ، جس کے تحت اگر حکومتی ڈھانچے  اور اس کی دیگر شاخوں (کون سی شاخیں ؟ صدر نے ان کا ذکر نہیں کیا)میں کسی کو متعارف کرانے کی بات آتی ہے تو وزراء کونسل میں غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔" صدر نے کہا، "آئینی ترمیم میں تجویز کردہ کچھ لوگوں کے خلاف مقدمات ہیں یا اُن پر مفادات کے تصادم(conflict of interest) کی فائلیں ہیں۔ جو بھی کسی معاملے میں ملوث ہے وہ حلف نہیں اٹھا سکتا ، اور حلف لینا کوئی باقاعدہ طریقہ کار نہیں ہے ، بلکہ ایک بنیادی طریقہ کار ہے۔ اور صدر نے"تجویز کردہ وزراء میں کسی خاتوں کے نامزد نہ ہونے پر"  اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔۔۔۔(اے ایف پی، 25 جنوری 2021)۔

 

                  صدر کے فیصلے اس وقت سامنے آئے جب تیونس سخت معاشی بحران سے دوچار ہے ، جو کورونا وائرس وباکی وجہ سے بدتر ہو گیا ہے ، اور ملک کو سخت متاثر کر رہا ہے ، اور صحت کے نظام کے فوری گرنے کے انتباہ بھی  سامنےآرہے ہیں جس کی وجہ سےدیگر ممالک سے فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ تیونس کے ادارہ شماریات نے شائع کیا ہے کہ تیونس کی معیشت 2020 میں 8.8 فیصد سکڑ گئی۔ تیونس کی معیشت ، جو زیادہ تر سیاحت پر انحصار کرتی ہے ، کورونا وائرس کی وبا کے اثرات سے شدید متاثر ہوئی۔۔۔ ادارہ شماریات نے کہا کہ 2020 کی چوتھی سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 17.4 فیصد ہو گئی جبکہ اسی سال کی تیسری سہ ماہی میں 16.2 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔۔۔۔(الأناضول ایجنسی، 15 فروری 2021)۔

 

25 جولائی 2021 کو تیونس  کے صدارتی آفس نے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر ایک بیان جاری کیا کہ، "وزیر اعظم اور عوامی نمائندوں کی اسمبلی کے اسپیکر سے مشورہ کرنے کے بعد ، اور آئین کے آرٹیکل 80 کے مطابق ، جمہوریہ کے صدر ، قیس سعید نے آج ،25 جولائی2021 کو ملک کی سالمیت اور ملکی سلامتی اور آزادی ، اور ریاست کے اداروں کے معمول کے کام کو یقینی بنانے کے لیے مندرجہ ذیل فیصلے کیے : وزیر اعظم جناب ہشام المشیشی کو برطرف کرنا ، پارلیمنٹ کے کام اور اختیارات کو 30 دنوں کے لیے معطل کرنا؛ عوامی نمائندوں کی اسمبلی کے تمام اراکین کے پارلیمانی استثنیٰ کو ختم کرنا۔ جمہوریہ کے صدر نے  حکومت کی مدد سے ، جس کی سربراہی وزیر اعظم کررہے اور جنہیں جمہوریہ کے صدر نے تعینات کیا ہے، ایگزیکٹو اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔"  اس بیان میں مزید کہا گیا کہ، "اور آنے والے گھنٹوں میں ، ان غیر معمولی اقدامات کو صحیح کرنے کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا جائے گا جو حالات کے مطابق ضروری تھے ، اور جب ان کی وجوہات ختم ہو جائیں گی تو اسے ختم کر دیا جائے گا۔۔۔ایوان صدر تیونس کے لوگوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انتشار کی وکالت کرنے والوں کے پیچھے نہ پھنسیں۔"( دبئی سی این این ، 26 جولائی 2021)۔ سعید نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے اقدامات "آئین کی معطلی ، اور آئینی جواز سے دستبرداری نہیں ہے"(الجزیرہ نیٹ، 26 جولائی 2021)۔ اور تیونس کے صدر قیس سعید نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ آمر نہیں بنیں گے ، اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ "وہ آئینی تحریروں کو اچھی طرح جانتا ہے ، وہ ان کا احترام کرتا ہے اور ان کا مطالعہ کرتا ہے۔" اس سے قبل ، سرکاری خبر رساں ایجنسی نے عندیہ دیا کہ عدلیہ نے پارلیمنٹ کے سامنے تشدد کی کارروائیاں کرنے کی کوشش کے الزام میں ، غنوشی کے ذاتی محافظ سمیت ، النھضہ جماعت کے چار ارکین اور تیونس کی پارلیمنٹ میں نمائندے ، یاسین العیاری ،کے ساتھ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔"(فرانس 24، اے ایف پی، رائٹرز، 30 جولائی 2021)۔ 

 

26 جولائی2021 کو اپنے آفیشل فیس بک پیج پر تیونس کی پارلیمنٹ کے اسپیکر راشد الغنوشی نے اس سے انکار کیا کہ صدر جمہوریہ نے ان سے مشورہ کیا تھا۔ انہوں نے لکھا: "عوامی نمائندوں کی اسمبلی کے اسپیکر نے اس بات سے انکار کیا کہ آئین کے باب 80 کو فعال کرنے کے لیے ان سے مشورہ کیا گیا تھا۔آئین کے آرٹیکل 80 کو فعال کرنے کے متعلق جمہوریہ کے صدر قیس سعید سے ان سے کبھی مشورہ نہیں کیا تھا۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ جھوٹا دعویٰ ہے۔"پیر کی صبح فوج نے اسپیکر اور ایوان نمائندگان کے اراکین کو پارلیمنٹ کے صدر دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا اور انہیں بتایا کہ ان کے پاس پارلیمنٹ بند کرنے کی ہدایات ہیں۔ غنوشی نے کہا ، "میں اس کونسل کا اسپیکر ہوں جس ادارے کے سامنے میں کھڑا ہوں اور فوج مجھے اس میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔"انہوں نے قیس سعید پر "انقلاب کے خلاف بغاوت" کرنے کا الزام لگایا(الجزیرہ، 27 جولائی 2021)، لیکن سعید نے کہا: "اس کے حالیہ فیصلے آئین کے خلاف بغاوت کی کوشش نہیں ہیں اور یہ کہ وہ ملک میں آئین اور قانونی حیثیت کے خلاف بغاوت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ، اور یہ کہ حالیہ فیصلے مکمل طور پر قانونی ہیں اور جیسے ہی ملک پر منڈلانے والے خطرے کا خاتمہ ہوا، ان اقدامات کو واپس لے لیا جائے گا۔"(تیونس کے صدارتی آفس کا فیس بک پیج، 27 جولائی 2021)۔ پھر ،30 جولائی 2021 کو ، رضا غرسلاوی کو مشیر بنانے کے بعد نے صدر قیس سعید نے اُن سے وزارت داخلہ چلانے کے لیے آئینی حلف لیا ،جیسا کہ الجزیرہ نے 30 جولائی2021 کو شائع کیا۔

 

4۔ جہاں تک تیونس میں متحرک و فعال اہم ممالک کے ردّعمل کا تعلق ہے ، تو مندرجہ ذیل ہیں:

 

ا۔ امریکا: امریکا کا تیونس میں کوئی موثر سیاسی اثرورسوخ نہیں ہے۔  موجودہ سیاسی طبقہ اصل میں برطانیہ سے وابستہ ہے ، پھر فرانس بھی اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ داخل ہونے میں کامیاب رہا ، اور اس طرح سیاست دان یورپی اثر و رسوخ کے زیر اثر ہیں، یعنی برطانیہ اور فرانس۔  امریکہ نے فوجی امداد اور سول سوسائٹی امداد کے ذریعے کسی حد تک مداخلت کی کوشش کی ہے۔ جہاں تک فوجی امداد کا تعلق ہے ، توامریکہ نے تیونس میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے یہ طریقہ آزمایا ہے۔ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے بہانے امریکہ تیونسی فوج کو مسلح کررہا ہے ، انہیں تربیت فراہم کررہا ہے اور ان کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ امریکہ نے بین الاقوامی عسکری تعلیم اور تربیت (IMET) کے فریم ورک کے تحت تیونس کی فوج کو مالی اعانت فراہم کی اور انسداد دہشت گردی فیلوشپ پروگرام کے ذریعے 2012 اور 2016 کے درمیان امریکی امداد تقریباً 2.7ارب ڈالر تھی۔ تیونس کو 2015 میں غیر نیٹو اتحادی قرار دیا گیا۔یکم اکتوبر2020 کو امریکی سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے تیونس کے ساتھ 10 سالہ فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے۔ ایسپر نے صدر قیس سعید سے ملاقات کے بعد ایک تقریر میں وضاحت کی ، "ہم اس تعلق کو بڑھانے کے منتظر ہیں تاکہ تیونس کو اس کی بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں کی حفاظت ، دہشت گردی کو روکنے اور آمرانہ حکومتوں کی تباہ کن کوششوں کو اپنے ملک سے دور رکھنے میں مدد ملے۔"(افریقہ نیوز، یکم اکتوبر 2021)۔

 

                  جہاں تک سول سوسائٹی کی مدد کا طریقہ کار ہے ، اس پر کام یہ تیونس میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے تیونس میں گڈ گورننس اور اینٹی کرپشن سپورٹ پروگرام کے فریم ورک کے اندر 5.6 ملین ڈالر کی مالیت سے کیا گیا ہے۔

 

                  نیشنل سینٹر فار اسٹیٹ کورٹس (این سی ایس سی) نے سول سوسائٹی تنظیموں کے لیے الیکٹرانک پلیٹ فارم تیار کرنے کے لیے آئینی اداروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ وزارت تعلقات کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ تنظیم کی مالی اور ادبی رپورٹیں تیار کرنے کے ساتھ ساتھ کارکردگی اور احتساب کے طریقہ کار کو بڑھانے کے لیے یہ پلیٹ فارم سول سوسائٹی تنظیموں کو دور دراز مقامات سے رجسٹر کرنے کے قابل بنائے گا ۔۔۔"(تیونس میں امریکی سفارت خانہ، 20 دسمبر 2020)۔

 

                  لیکن یہ طریقے کسی ملک میں اثر و رسوخ کے لیے انٹری پوائنٹ کے طور پر کام کر سکتے ہیں اگر وہاں پر کوئی سیاسی خلا ہو اور یورپی یونین کے علاوہ برطانیہ جیسی تجربہ کار ریاست کا اثر و رسوخ نہ ہو ، خاص طور پر فرانس اور جرمنی ، جو برطانیہ کو پکڑنے کے لیے بڑھ رہے ہیں۔۔۔لہٰذا، یہ امریکی اقدامات فی الحال تیونس میں برطانوی یا یورپی اثر و رسوخ کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں۔ فوج بہت چھوٹی ہے اور ملکی سیاست میں ثانوی کردار ادا کرتی ہے۔ لہٰذا، اس کے لیے وفادار ایجنٹ تلاش کرنے اور تیونس میں ایک بااثر کردار ادا کرنے کے لیے فوج کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے ، اور اس میں وقت لگ سکتا ہے، بلکہ یہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے مطالبے کے بہانے ایک عام کردار ہے! تاہم ، امریکہ تیونس میں گھسنے کی اپنی کوششیں نہیں چھوڑے گا۔

 

                  ب۔ برطانیہ: انقلاب سے پہلے معاملات پر اس کا مکمل طور پر کنٹرول تھا۔ اس نے اپنے ایجنٹ زین العابدین اور اس سے پہلے بورقيبة کے ذریعے ملک کو پردے کے پیچھے سےچلایا ، اور اس کا تیونس کے منظر پر حقیقی معنوں میں کوئی بین الاقوامی مدمقابل نہیں تھا ، بلکہ اپوزیشن جماعتوں کو کھلے عام اسپانسر کیا ، جیسے النھضہ تحریک کے رہنما راشد غنوشی ،تاکہ "اسلامی" اپوزیشن کو جذب اور ضرورت پڑنے پر اس اہم کارڈ کو استعمال کرسکے۔۔۔برطانیہ تیونس میں بغیر کسی خوف اور مقابلے کے چھایا ہوا تھا ۔2015 میں ، تیونس میں برطانوی سفارت خانے نے ایڈم اسمتھ انٹرنیشنل کنسلٹنگ کمپنی کو مدعو کیا کہ وہ تیونس میں حکومت کو مشورے دے ، سینئر افسران کو تربیت دے اور پالیسیاں بنائے اور نئے قوانین متعارف کروائے۔ اسی طرح ، اکٹیس اسٹریٹیجی لمیٹڈ کو تیونس لایا گیا ، جو ایک تعمیراتی ٹھیکیدار ہے جو برطانوی خارجہ اور دولت مشترکہ دفتر کے کئی ملین پاؤنڈز کے معاہدوں کا انتظام کرتا ہے۔ مزید برآں ، حبیب بورقيبة سے بن علی ، اور بن علی سے لے کر بیجی ایسسیبی تک ،سیاسی طبقہ برطانیہ کے کنٹرول میں تھا ۔ بیجی ایسسیبی نے 2012 میں ندا ٹونز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔  وہ حبیب بورقيبة کے ساتھیوں میں سے ایک اور بن علی کا حلیف تھا ، اس لیے اس نے تمام پرانی سیکولر قوتوں کو اکٹھا کیا جن کے ساتھ انگریز تعاون کرتے تھے اور اس طرح برطانیہ نے سیاسی طبقے کو کنٹرول کرکے ملک میں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ تاہم ، تیونس میں صدارت سے زین العابدین کی رخصتی کے ساتھ ، اس نے اپنا مضبوط ایجنٹ کھو دیا ہے لیکن حکومت نہیں ہاری ، کیونکہ اس کے تیونس میں ریاست کے ساتھ ساتھ ریاست سے باہر بھی بہت سے ایجنٹ ہیں۔

 

                  لیکن برطانیہ کا سیاسی اثر و رسوخ پہلے سے کمزور ہو چکا ہے ، اس کا کنٹرول غنوشی کی برطانیہ سے واپسی سے مضبوط نہیں ہوا ، جو اس کا وفادار ہے، کیونکہ انھضہ پارٹی کے اراکین اور رہنما غنوشی کی قیادت پر متحد نہیں ہیں ، خاص طور پر جب سے وہ سیکولر ہو گیا ہے۔ انھضہ میں ایسے مخلص لوگ ہیں جو ترکی اور اس کے صدر اردگان پر اعتماد رکھتے ہیں ، لہٰذااس (اردگان)نے برطانیہ کے پیروکاروں  کو اکٹھا ہونے میں رکاوٹ پیدا کی ، اور یہاں تک کہ امریکہ سے منسلک ترکی کے لیے انھضہ پارٹی کو اندر سے متاثر کرنے کا راستہ کھول دیا اور تحریک کے اندر سے غنوشی کی قیادت کو دھمکی دی۔ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ، النحضہ تحریک نے اپنے "اسلام ازم" کو کم کرنا شروع کیا تاکہ اس میں سیکولروں کی قبولیت کو بڑھایا جا سکے ، اس لیے اس نے "دعوت" کو "سیاست" سے الگ کر دیا اور 2014 میں ندا ٹونز پارٹی کے ساتھ مل کر ایک وسیع پارلیمانی محاذ تشکیل دیا جس نے برطانوی ایجنٹ بیجی ایسبسی کی حمایت کی ، لیکن ان کی جماعت اپنی طاقت جاری نہیں رکھ سکی بلکہ اس میں دراڑ پڑ گئی۔ برطانیہ کی پوزیشن کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تیونس میں ہونے والے واقعات نے اسے چونکا دیا ہے۔ الجزیرہ نیٹ کے مطابق برطانوی اخبار دی گارڈین نے27 جولائی2021 کو ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا "تیونس میں بغاوت پر گارڈین کا نظریہ: موسم بہار موسم سرما میں بدل رہا ہے" اور کہا کہ تیونس ایک انقلاب کا مشاہدہ کر رہا ہے، جب اس بات کو سامنے رکھا جائے کہ"سکیورٹی کا ٹیلی ویژن اسٹیشنوں پر حملہ آور ہونا کوئی اچھی علامت نہیں ہے" اور کہا کہ "شہری بے حسی سے کام لیتے ہیں اور عدم رواداری پر مبنی تصورات کو قبول کرتے ہیں کیونکہ آزادی اور جمہوریت نے سیاسی استحکام اور خوشحال معیشت نہیں دی۔   اس کے بجائے، بدعنوانی ، افراط زر اور بے روزگاری برقرار رہی ، تیونس میں ایک تہائی خاندانوں کو خدشہ تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد پچھلے سال ان کے پاس خوراک ختم ہو گئی تھی ، اور یہ کہ حکومت ، لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق ، آئی ایم ایف کے ساتھ 4 ارب ڈالر کے قرض کے لیے ہونے والے مذاکرات میں روٹی پر سبسڈی منسوخ کرنے کے لیے تیار تھی، جو 10 سالوں میں چوتھا ہے ، اور حکومت کی طرف سے وبا سے نمٹنے پر غصہ صرف قومی قرض کی سطح کی وجہ سے مزید خراب ہوا ، کیونکہ قرض کی ادائیگیاں اب ملک کے صحت کے بجٹ سے چھ گنا زیادہ ہے۔" یعنی حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ذریعے امریکی دباؤ میں تھی۔ امریکہ ان دباؤ کے ذریعے تیونس میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

 

                  ان سب کے ساتھ ، یہ واضح ہے کہ تیونس میں برطانیہ کا اثر و رسوخ دراصل کمزور ہوچکا ہے ، اور حالات مسلسل اسے کمزور کررہے ہیں ، اور اس صورتحال میں فرانس کو تیونس میں مضبوطی سے داخل ہونے کے لیے ایک دروازہ مل گیا ہے۔برطانیہ کا خیال تھا کہ فرانسیسی اثر و رسوخ خطرناک نہیں ہے کیونکہ اس نے ہمیشہ فرانس کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ معاملات چلائیں ہیں ، خاص طور پر دونوں ممالک نے امریکی اثر و رسوخ کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم ، برطانیہ کے بریگزٹ (یورپی یونین سے نکلنے)نے ان کے مابین ایک بڑی دراڑ پیدا کردی ، اور ان دونوں میں سے کسی نے بھی اس کو ختم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ درحقیقت ، یورپی یونین کے کئی ممالک بالخصوص جرمنی کا فرانس جیسا موقف ہے ، جیسا کہ انہوں نے تیونس میں جو کچھ ہوا اسے برطانوی میڈیا کی طرح بغاوت کے طور پر بیان نہیں کیا۔ پیر کو ، جرمنی کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا ایڈمبھر نے کہا کہ برلن تیونس میں بڑھتی ہوئی سیاسی ہنگاموں کے بارے میں فکر مند ہے اور ملک کو آئینی قانونی حکم کی حالت میں واپس لانے کا مطالبہ کرتا ہے ، تاہم ، اس کا خیال ہے کہ جو کچھ ہوا وہ "بغاوت" نہیں ہے۔(سپوٹنک، 26 جولائی 2021)۔

 

                  ج ۔ فرانس: جہاں تک فرانس کا موقف ہے تو وہ سب سے حیران کن ہے:

                  نیا صدر ، قیس سعید ، ایک بہت استعمار مخالف رہنما تھا ، اور اس کی انقلابی تجاویز تیونس کے لوگوں کے لیے قابل قبول تھیں جنہوں نے اسے اُن پرانے محافظوں کو ختم کرنے کی امید میں منتخب کیا جو انقلاب کے بعد کے دور میں کبھی ایک صورت میں تو کبھی دوسری صورت میں ریاست کی قیادت کر رہے تھے۔  نومبر 2019 میں جب سعید نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تو تیونس کے صدر پہلے تو خود مختار ہو گئے ، لیکن چونکہ ان کی ذہنیت اور ان کی سوچ اس میں بسی ہوئی تھی کہ انہیں ایک بین الاقوامی قوت پر بھروسہ کرنا چاہیے ، تو اُس نے دیکھا کہ فرانس کے بازو اس کے لیے کھلے ہیں ، جبکہ فرانس نے یہ خواب دیکھا کہ تیونس ایک بار پھر فرانکوفون سسٹم کا ایک فعال رکن بن جائے گا۔  فرانس واقعی قیس سعید کو اپنا ایجنٹ بنانے میں کامیاب ہوا ہے ، اس کےثبوت درج ذیل ہیں:

 

تیونس کی پارلیمنٹ دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے؛ صدر قیس سعید کے حامی ، اور جو ان کے خلاف ہیں اور یہ بڑا حصہ ہے۔ دیگنیٹی کولیشن (کاراما) نے پارلیمنٹ کے اندر صدر قیس سعید کے خلاف انھضہ تحریک کے ساتھ اتحاد کیا اورتیونس کی پارلیمنٹ میں فرانس کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والی جماعت نے تیونس کے ساتھ فرانسیسی تعلقات میں خلل ڈالنے کے لیے کام شروع کر دیا ، اس لیے اس نےتیونس کو کالونی  بنانےپر "فرانس کی معافی" کا خیال پیش کیا، اور اس پر عمل کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کروانے کی کوشش کی۔ یہ معاملہ اسسیبسی یا مارزوکی کی صدارت کے دوران نہیں اٹھایا گیا تھا ، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صدر سعید کے مخالفین صدر کو شرمندہ کرنا چاہتے ہیں اور فرانس کو تیونس کے ساتھ اپنی استعماری دشمنی پر شرمندہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن تیونس کے صدر نے ایک ایسی پوزیشن اختیار کی ہے جس میں وہ اپنی انتخابی مہم کے برعکس فرانس کا دفاع کرتا ہے، سعید نے کہا: "جو معافی مانگتا ہے وہ اپنے آپ کی مذمت کرتا ہے ،" اُس نے نے مزید کہا ، "آئیے مستقبل کی طرف دیکھیں۔" فرانس نے تیونس میں جرائم کا ارتکاب کیا ، لیکن محافظ نظام کے تحت ، براہ راست نوآبادیات کے نظام کے تحت نہیں ، جیسا کہ الجیریا کا معاملہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیونس کے باشندوں نے اپنی آزادی کی بڑی قیمت ادا کی اور وہ معافی کے مستحق ہیں ، لیکن معافی کا اعلان کرنا کافی نہیں ہے۔ اس نے بات جاری رکھی اور کہا ، "شاید نئے منصوبوں کے ساتھ ایک اور معافی مانگی جائے اور ایک نیا تعاون شروع کیا جائے"، یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ پہلے مانگی گئی معافیوں کی فہرست میں کوئی بھی معافی مخلص نہ تھی۔اور سوچ رہا تھا ، "60 سال بعد ہم معافی کا مطالبہ کیوں کررہے ہیں؟"(الٹرا تیونیسیا ویب سائٹ، 23 جون 2021)۔

 

جون 2020 میں ، سعید نے اپنے فرائض سنبھالنے کے بعد فرانس کو اپنی پہلی یورپی منزل کے طور پر منتخب کیا ، اس طرح پیرس کے ساتھ تعلقات کے استحکام کو مستحکم کیا(اناطولیہ، 4 جون 2021)۔  اور تیونس کے صدر کے پیرس کے دورے سے قبل ، سینئر فرانسیسی عہدیدار تیونس پہنچے جو کہ قیس سعید کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خصوصی تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس زاویے سے ، صدر کی فرانس کے دورے کی دعوت دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے منصوبوں کی پیشکش ہو سکتی ہے ، خاص طور پر اس دورے سے قبل فرانسیسی وزیر دفاع نے مئی 2020 میں تیونس کا دورہ کیا ، اور اس سے بھی پہلے فرانسیسی زمینی افواج کےچیف آف سٹاف نے تیونس کا دورہ کیا تھا ۔ ان دونوں کے دوروں کے مواد کے بارے میں عام مفادات کے مسائل کے بارے میں معمول کے بیانات کے علاوہ کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔(الجزیرہ، 16 جون 2020)

 

                  فرانس نے اپنے سینئر عہدیداروں کو تیونس بھیجنا جاری رکھا جب بھی تیونس میں بحران شدت اختیار کرتے ہیں اور فرانس کی مدد کی ضرورت اس کے ساتھ شدت اختیار کرتی ہے۔"" فرانسیسی وزیر اعظم جین کاسٹیکس بدھ کی شام چھ وزراء کے ہمراہ تیونس پہنچے اور یہ دورہ جمعرات تک جاری رہے گا ، جس کا مقصد افریقی ملک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے، جو کئی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور کورونا وائرس وبائی مرض سے دوچار ہے۔۔۔مذاکرات "معاشی شراکت" ، "سپورٹ" اور "صحت کے بحران" کی فائلوں سے نمٹیں گے ، اور اس دورے میں معاہدوں پر دستخط ہوں گے جس میں تیونس میں تیز رفتار ٹرینوں کے نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے ایک ورکشاپ کا دورہ ، اور تیونسی اور فرانسیسی تاجروں کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میدان پر ایک میٹنگ شامل ہے۔""(فرانس 24، 2 جون 2021)

 

                  تیونس کے صدر نے پیرس میں فرانس کے زیر اہتمام افریقی اقتصادی سمٹ میں شرکت کی (روسی سپوٹنک ، 22/5/2021) اور انہوں نے تیونس کے لیے کسی بھی بیرونی نتائج کا اعلان نہیں کیا ، سوائے کچھ کورونا ویکسین کے وعدے کے ، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دورے کا مقصد صدر میکرون کے ساتھ تیونس کی اندرونی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا تھا ، جہاں سعید نے فرانسیسی میڈیا میں تیونس کی اندرونی صورت حال کے بارے میں طویل گفتگو کی۔ شاید یہ دورہ غنوشی کے قطر کے دوروں کے جواب میں تھا ، جسے انہوں نے "پارلیمانی سفارتکاری" کہا تھا، مطلب یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو اس کے آقاؤں اور ساتھی ایجنٹوں نے مضبوط کیا ہے۔

 

                  5۔  فرانس نے 2022 تک امداد اور قرضوں کی صورت میں تیونس کی مدد کے لیے 1.7 ارب یورو کا وعدہ کیا ، تا کہ صحت کے شعبے میں منصوبوں کی مالی اعانت اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ فرانسیسی صدر میکرون نے تیونس کے صدر قیس سعید کے 2020 کے وسط میں پیرس کے دورے کے دوران 350 ملین یورو قرض دینے کا اعلان کیا۔۔۔(دی نیو عرب، 2 نومبر 2020)۔

 

                  الجزیرہ چینل نے28 جولائی2021 کو فرانس کی طرف سے جاری کردہ واضح سرکاری بیان رپورٹ کیا ، فرانسیسی وزیر خارجہ لی ڈرین نے کہا: "فرانس تیونس میں ہونے والی پیش رفتوں کی انتہائی دلچسپی کے ساتھ پیروی کر رہا ہے۔" رشین ٹی وی (آر ٹی) نے 28 جولائی 2021 کو بتایا  کہ، "بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق ،  لی ڈرین نے آج اپنے تیونسی ہم منصب عثمان الجارندی کے ساتھ فون پر بات کی۔ بیان کے مطابق ، لی ڈرین نے زور دیا ، "ملک جس بحران سے گزر رہا ہے اس میں جتنی جلدی ممکن ہو ، ایک وزرائے اعظم کی تقرری کی اہمیت ، اور ایک ایسی حکومت کی تشکیل ضروری ہےجو تیونسی عوام کی خواہشات کو پورا کر سکے۔"

 

                  آخر میں: تیونس میں بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تنازعے کے تمام اشارے بتاتے ہیں کہ یہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان ہے جس میں برطانیہ پرانا اور عظیم اثرورسوخ کا حامل فریق ہے جبکہ فرانس تیونس میں نیا کھلاڑی ہے  اور ابھی اس کا اثرورسوخ غیر مستحکم ہے۔ امریکہ ابھی تک اس تنازعے کے بنیادی مرکز سے دور ہے ۔ اس کے باوجود فرانس اور اس کے ایجنٹ یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اور خطے میں اس کے ایجنٹ، برطانیہ کے خلاف تیونس میں اسے مضبوط بنائیں۔ تو آپ دیکھتے ہیں کہ فرانس تیونس میں اپنے ایجنٹوں کو مصر میں امریکہ کے ایجنٹ کی طرف دھکیل رہا ہے ، لیکن تیونس میں مصر کا اثر و رسوخ الجزائر میں برطانوی ایجنٹوں کے اثر سے بہت کم ہے ، جو تیونس سے براہ راست ملحق ہے۔ الجزائر کے صدر نے تیونس اور فرانس کے ساتھ اس کے تعلقات کی طرف اشارہ کیا جب انہوں نے کہا کہ "فرانس الجیریا کو سنجیدگی سے لیتا ہے "۔ صحافی نے جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا فرانس اب بھی الجزائر کو ایک فرانسیسی صوبہ کے طور پر دیکھتا ہے ، تو اس نے جواب دیا " نہیں نہیں"، اور بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا، "آپ کا مطلب ہے کہ کوئی دوسرا ملک ہے جو احکامات دیتا ہے ، جبکہ وہ ان کے بارے میں خاموش رہتا ہے اور ان کو نافذ کرتا ہے۔" کچھ لوگوں نے سمجھا کہ الجزائر کے صدر کے الفاظ تیونس کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، خاص طور پر صدر جمہوریہ قیس سعید کے اپنے فرانس کے دورے کے بیانات کے بعد ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تیونس نوآبادیات کے تحت نہیں تھا بلکہ محافظت کے تحت تھا۔ (الہوسری ویب سائٹ، 8 جولائی 2021)

 

                  ان تمام بین الاقوامی طاقتوں کے قول و فعل سے یہ بات واضح ہے کہ فرانس تیونس میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے برطانیہ کے ساتھ تنازعہ میں ہے ، لیکن تنازع یورپ کے اندر ہے ، اور امریکہ اس تنازعے میں ملوث نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اصطلاحات کے لحاظ سے ہم اسے بین الاقوامی تنازع کی درجہ بندی میں نہیں رکھتے کیونکہ اس تنازعے میں امریکہ موجود نہیں ہے ، بلکہ جیسا کہ ہم نے اوپر کہا ، یہ یورپ کے اندر ایک تنازعہ ہے؛خاص طور پر ایک طرف فرانس اور جرمنی اور دوسری طرف برطانیہ ہے۔۔۔

 

                  اس لیے یہ ایک طویل تنازعہ کی شکل اختیار نہیں کرے گا۔ بلکہ متفقہ فارمولا واپس آئے گا اور غالب امکان ہے کہ برطانیہ کا اثر و رسوخ تیونس کو نہیں چھوڑے گا۔ برطانیہ نے سیاسی چالاکی میں مہارت حاصل کر لی ہے جس کا فرانس میں فقدان ہے۔۔۔۔

                  تاہم ، ہم اللہ ، القوی العزیز سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان تنازعہ کو سخت کرے ، اور ہمارے ہاتھوں سے خلافت قائم کر کے ہمیں عزت سے سرفراز کرے ، لہٰذا وہ (اللہ سبحانہ و تعالیٰ) اسلام اور مسلمانوں کی عزت کرتا ہے ، اور کفر اور کفار کو ذلیل کرتا ہے:

 

(وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ)

"۔۔اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے، (یعنی) اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے"(الروم، 5-4)

 

Last modified onمنگل, 17 اگست 2021 05:27

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک