الأربعاء، 14 ربيع الأول 1443| 2021/10/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    7 من صـفر الخير 1443هـ شمارہ نمبر: 09 / 1442
عیسوی تاریخ     منگل, 14 ستمبر 2021 م

پریس ریلیز

خلافت کی میڈیا پالیسی امت کو حکمران کے احتساب کا حق دیتی ہے اور معاشرے میں اسلامی افکار کی ترویج اور دنیا کو اسلام کی دعوت پیش کرنے کے لیے ریاست اور امت کا آلہ کار ہے

 

پاکستان کی صحافی برادری، میڈیا تنظیمیں، وکلاء، اپوزیشن پارٹیاں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں دوسرے دن پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ بل کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور اس بل کو میڈیا کا گلا گھونٹنے کا بل قرار دے رہی ہیں جس کے بعد میڈیا کی بچی کچی آزادی بھی ختم ہو جائے گی، جبکہ دوسری طرف حکومت اسے میڈیا ریگولیشن کے اصلاحات، جعلی خبروں کی روک تھام اور میڈیا ورکرز کو حقوق دلانے سے تعبیر کر رہی ہے۔  تاہم پاکستان کے عوام  دونوں سے بیزار ہیں۔

 

وہ دیکھ رہے ہیں کہ حکومت ہر قسم کے محاسبے کا گلہ گھونٹ رہی ہے اور ہر تنقیدی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جیسا کہ حال ہی میں حزب التحریر کے چھ کارکنان کو کراچی سے دن دہاڑے اغوا کر لیا گیا اور ان کا کچھ اتا پتا معلوم نہیں، کیونکہ وہ  افغانستان کے معاملے میں حکومت کی امریکہ نواز پالیسی کو بے نقاب کر رہے تھے۔ حکومت وقتاً فوقتاً صحافیوں کو اغوا کرتی ہے اور انھیں حکومتی بیانیے کو پھیلانے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح امت یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ حکومتی یا بیرونی طاقتوں کی چاکری، دولت کی پوجا اور مغربی افکار کی ترویج کے باعث عملاً استعمار کا ایک ہتھیار بن چکا ہے جو امت کے اصل ایشوز سے صَرفِ نظر کرکے غیر اسلامی بیانیے پھیلا کر امت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مین اسٹریم میڈیا اپنا اعتبار کھو چکا ہے اور امت غیر روایتی میڈیا کی جانب مبذول ہے۔نتیجتا، امت اس پورے معاملے سے مجموعی طور پر لاتعلق نظر آتی ہے۔

 

ریاست خلافت میں میڈیا  ریاست کا ایک مستقل شعبہ ہے ۔ سرکاری اور نجی دونوں طرح کا میڈیا خلافت کے اندر موجود ہو گا۔ میڈیا ریاست کی اسلام کو دنیا بھر میں غالب کرنے کی دعوتی پالیسی کا مستقل بالذات حصہ ہے ۔ میڈیا کی کسی بھی شکل کیلئے کوئی لائسنس نہیں چاہئے ہوتا، بلکہ ریاست کو اس کی نوعیت کی اطلاع دینا کافی ہوتا ہے۔ ہر میڈیا ہاؤس اپنی چھاپی ہوئی خبر کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اور میڈیا پالیسی کے خلاف خبر  کی صور ت میں آزاد اسلامی عدلیہ کے سامنے ذمہ دار ہوتا ہے۔  ریاست کے محاسبے کی بنیاد امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اسلامی پالیسی ہے نہ کہ آزادی اظہار رائے، جو کہ مغربی لبرل تہذیب سے ماخوذ ہے۔ کسی میڈیا ہاؤس کو کسی غیر ملکی حکومت یا ادارے سے تعلقات رکھنے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح میڈیا کوئی غیر اسلامی مواد نشر نہیں کر سکتا،  نہ ہی ریاست خلافت کی بنیادیں کمزور کرنے والا پروپیگنڈا کر سکتا ہے۔ ہاں انھیں حکمران اور حکومتی عہدیداروں کا اسلامی بنیاد پر مکمل محاسبہ کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔  جیسا کہ ایک عرب بدو نے عمر سے دو چادروں پر سب کے سامنے سوال کیا، یا ایک عورت نے مسجد میں عمر کو مہر سے متعلق اپنے فرمان پر ازسرنو جائزہ لے کر تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ درحقیقت اسلامی میڈیا پوری دنیا کے سامنے اسلامی آئیڈیالوجی کی عظمت ثابت کرنے کے اہم ترین ہتھیاروں میں سے ہے۔  

جمہوریت  اور آمریت میں قوانین انسانوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ پس کبھی حکومت اپنے حق سے تجاوز کرکے استعماری اور ذاتی مفادات میں اپنا کنٹرول مستحکم کرنے کیلئے میڈیا کا گلہ گھونٹنے والے قوانین جاری کرتی ہے، تو کبھی طاقتور میڈیا مالکان بیرونی ایماء پر استعماری مفادات کیلئے میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔ دیگر شعبوں کی طرح میڈیا بھی اس نظام میں ایک مذاق بن چکا ہے ۔ یہ خلافت کا میڈیا ہو گا جوشریعت کی ناقابل تبدیل پالیسی کے تحت کام کرے گا، جس کو خلیفہ یا مجلس امت بھی تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ میڈیا سرمایہ دارانہ ریاستوں کے خلاف ایک عالمی مہم چلا کر ان کے استعماری اسالیب، مکاری اور خباثت کو بے نقاب کرے گا تا کہ اسلامی افواج کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ ریاستیں اسلام کی فکری و نظریاتی طاقت کے سامنے سرنگوں ہوں چکی ہوں، اسلامی فوجی طاقت کا غلبہ ان کے دلوں پر چھایا ہوا ہو اور وہاں کے عوام اسلام کے عدل کا نظارہ کرنے کو بے تاب ہوں۔ یہ وہ میڈیا ہو گا جو دنیا کیلئے سچائی، حق اور بہادری کی مثال قائم کرے گا۔ اور یہ وہ میڈیا ہو گا جو حاکم کا احتساب  کرے گا۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک