بسم الله الرحمن الرحيم
متفرقات الراية – شمارہ نمبر 588
صفحہ اول کی سرخی
اس مبارک مہینے میں ہم تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس سال رمضان کو صرف روزوں، تلاوتِ قرآن، قیام اور صدقات کا مہینہ بنانے کے علاوہ غور و فکر، تدبر، بصیرت اور خلافت پر نظرِ ثانی کا مہینہ بھی بنائیں، اور یہ سوچیں کہ کس طرح یہ خلافت منہجِ نبوی ہے اور ان پر ایک ایسا فرض ہے جس میں تاخیر جائز نہیں۔ اور یہ مہینہ ختم نہ ہو جب تک کہ وہ ہمارے ہاتھوں میں ہاتھ نہ دے دیں، امید ہے کہ اللہ ہمیں اور انہیں قریب ترین فتح سے نوازے تاکہ ہم نبوت کے نقشِ قدم ش پر دوسری خلافتِ راشدہ قائم کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْساً وَأَشَدُّ تَنكِيلاً﴾
"اور مومنوں کو (جہاد پر) ابھارئیے، قریب ہے کہ اللہ کافروں کی طاقت کو روک دے، اور اللہ سب سے زیادہ طاقت والا اور سخت سزا دینے والا ہے" (سورۃ النساء: آیت 84 )
===
صفحہ اول کے لیے
فلسطینی اتھارٹی قدم بقدم یہودیوں کے نقشِ قدم پرچل رہی ہے
سرزمینِ مبارک (فلسطین) میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ: اتوار 15 فروری 2026 کو فلسطینی اتھارٹی کے اداروں نے اللہ اور اہل فلسطین کے خلاف اپنی جرات میں ایک نئی حد پار کر لی ہے، اس سے پہلے کہ وہ مجاہدین، یہودیوں کو مطلوب افراد یا اپنی خیانت کے مخالفین کا خون حلال کر چکی تھی، آج وہ معصوموں اور بچوں کو نشانہ بنانے تک پہنچ گئی ہے، اس جرم میں انہوں نے سامر سمارہ کی گاڑی پر فائرنگ کی جس میں ان کی اہلیہ اور بچے موجود تھے، جس کے نتیجے میں ان کا سولہ سالہ بیٹا علی اور پھر ان کی تین سالہ بیٹی رونزا شہید ہو گئی۔ یہ وہ جرم ہے جو فلسطینی اتھارٹی اور اس کے ادارے پلک جھپکائے بغیر کر رہے ہیں، ایسا جرم جس سے درندے بھی دور بھاگتے ہیں۔ وہ اس کے ذریعے یہودیوں کے جرائم کی برابری کر رہے ہیں جب وہ فلسطین میں بچوں اور عورتوں کو قتل کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ: فلسطینی اتھارٹی ایک طرف تو اس قابض وجود کے سامنے ذلت اور عاجزی کا مظاہرہ کرتی ہے جس نے اس کے اختیارات علاقہ (A) سے بھی ختم کر دیے ہیں، اور جہاں یہودی زمینیں غصب کر رہے ہیں، گھر مسمار کر رہے ہیں اور اس کی آنکھوں کے سامنے فلسطینیوں کو بے دخل کر رہے ہیں، بلکہ یہ ان کے جرائم میں شریک ہو کر لوگوں کے رزق کا پیچھا کرتی ہے تاکہ ان پر زندگی تنگ کر سکے، پھر وہ اپنے (شرعی!) ججوں کی شرکت سے استبدادی قوانین بناتی ہے، اور اس جرم کے ذریعے اہل فلسطین کے خلاف اپنے جرائم کی ایک نئی بے لگام حد قائم کرتی ہے، ایسی حد جو ان کے بچوں اور عورتوں کے خون کی کوئی حرمت باقی نہیں رہنے دیتی، تاکہ یہ سب کچھ فلسطینی اتھارٹی کی اصل تصویر اور اس کے کارندوں کی فطرت کو ظاہر کرے کہ وہ ایسے جرائم کے لیے تیار ہیں جو وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتے، اور وہ یہودیوں کا وہ ہاتھ بننے کے لیے تیار ہیں جو بچوں اور عورتوں سمیت اہل فلسطین کے خون کو حلال سمجھتا ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب فلسطینی اتھارٹی اور اس کے مجرموں نے سرزمینِ مبارک فلسطین سے دستبرداری اور کوتاہی کو جائز کر لیا، اہل فلسطین کے خلاف یہودیوں کی مدد کو جائز کر لیا، عورت اور خاندان سے متعلق اپنے قوانین کے ذریعے دین کی حرمتوں کو پامال کیا، نصابِ تعلیم سے ہر اس چیز کو نکال دیا جس کا تعلق اسلام سے تھا، اور ٹیکسوں کے ذریعے مال و دولت کو حلال کر لیا جس کا بوجھ صاحبِ ثروت لوگ نہیں اٹھا سکتے، عام لوگوں کا تو ذکر ہی کیا۔ پس فلسطینی اتھارٹی اور اس کے سیکورٹی ادارے اہل فلسطین کے ساتھ ویسی ہی دشمنی کرنے لگے ہیں جیسے یہودی کرتے ہیں، بالکل ایک جیسی دشمنی، ایسی دشمنی جس میں مومنوں کے خلاف کینہ بھرا ہوا ہے! گویا اہل فلسطین کے لیے یہودیوں کے جرائم ہی کافی نہ تھے کہ اب فلسطینی اتھارٹی کے کرائے کے قاتل اور بڑے کارندے ان جرائم کو مکمل کریں تاکہ اپنی گرفت مضبوط کر سکیں اور اہل فلسطین پر گھیرا تنگ کر دیں، جس کے بعد ان کے پاس فنا ہونے یا کوچ کر جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچے!
پریس بیان میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا گیا: ہم کہا کرتے تھے کہ فلسطینی اتھارٹی ان جرائم میں شریک ہے جو زمین پر فساد پھیلانے والے کرتے ہیں، وہ اہل فلسطین کی حرمتوں، خون اور مال کو حلال سمجھتے ہیں، اور وہ کسی رکاوٹ کے بغیر دندناتے پھرتے ہیں جبکہ فلسطینی اتھارٹی خاموش تماشائی بنی رہتی ہے، اور اس کے برعکس وہ ہر اس شخص کا پیچھا کرتی ہے جو یہودیوں کو نقصان پہنچائے، لیکن آج یہ اس حد سے بھی آگے بڑھ گئی ہے، اور خود کھلم کھلا راہزنی اور فساد فی الارض کے کاموں میں براہِ راست ملوث ہو گئی ہے، ایسی ڈھٹائی کے ساتھ جسے نہ تو تحقیقات کا ڈھونگ چھپا سکتا ہے اور نہ ہی قانون توڑنے والوں کے تعاقب کے بہانے۔ یہ اس فلسطینی اتھارٹی کی اصل تصویر ہے جو اللہ کی حدود اور اس کی حرمتوں کے خلاف سرکش ہو چکی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ یہودی جتنا اسے مسخ اور ذلیل کرتے ہیں، وہ اللہ کے بندوں پر اتنی ہی جری ہوتی جاتی ہے، گویا وہ امریکہ اور یہودیوں سے کہہ رہی ہے کہ ہمیں ذلت کی کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قسم کے جرائم کے ساتھ باقی رکھو، چاہے ہم یہودیوں کے مجرمانہ اداروں کا باقاعدہ حصہ ہی کیوں نہ بن جائیں!
اور آخر میں ہمیں یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ اہل فلسطین کب تک یوں ہی چلتے رہیں گے: "وہ اپنے زخموں کے صبر کو اپنے سروں پر اٹھائے ہوئے ہیں لیکن وہ اپنے بھائیوں کی طرف سے جہاد، فتوحات اور حمایت کی پکار نہیں سن رہے؟! اور نہ ہی انہیں کوئی ایسا نظر آتا ہے کہ وہ یہودیوں کی طرف سے ان کے حرمتوں کی پامالی کا بدلہ لے، یا فلسطینی اتھارٹی اور اس کے مجرم اداروں میں سے ان سے قصاص لے جنہوں ان کے خون کو حلال سمجھ لیا ہے؟!"
===
مرکزی کالم کے ذیل میں
حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس
خواتین کے شعبے کی مہم "رمضان.. تبدیلی کا حقیقی تصور"
رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام صرف اس لیے آیا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ہدایت اور قرآن و سنت میں موجود نظریے کی روشنی میں دنیا کو تبدیل کرے اور انسانیت کے مسائل کا حل پیش کرے۔ اور جب ہم اس ظلم و ستم اور ان لاتعداد بحرانوں اور مسائل کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت شکار ہے، تو ہم پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمیں اسلام کے پیش کردہ تبدیلی کے درست نظریے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ریاستوں، عالمی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں نے اقوام کے مسائل کا درست، پائیدار اور کامیاب حل پیش کرنے یا نسل کشی، قبضے اور اجتماعی جبر کو روکنے میں اپنی عاجزی اور ناکامی ثابت کر دی ہے۔
اس لیے رمضان المبارک کے مہینے کو ہمارے لیے ایک موقع ہونا چاہیے تاکہ ہم انسانی تبدیلی کے اس حقیقی تصور کو سمجھیں اور اس پر غور کریں جیسا کہ قرآن و سنت میں بیان کیا گیا ہے، نیز اس کے حصول کے طریقے اور اس مقصد تک پہنچنے میں بطور مسلمان اپنے کردار کو پہچانیں۔
اس فضیلت والے مہینے میں، حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کا خواتین کا شعبہ اس موضوع پر بات کرے گا، بشمول ان صفات اور تبدیلیوں کے جو تبدیلی کے اس حقیقی تصور کو حاصل کرنے کے لیے ہم میں بطور مسلمان، بطور امتِ مسلمہ، ہماری سیاسی جماعتوں، ہماری افواج اور ریاستی سطح پر مطلوب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان رکاوٹوں کا بھی ذکر ہوگا جو اس کے حصول کی راہ میں حائل ہیں اور ان پر قابو پانے کا طریقہ بھی بتایا جائے گا۔
ویب سائٹس پر مہم کی پیروی کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں:
عربی
https://hizb-ut-tahrir.info/ar/index.php/women-s-section/dawah-news/107768.html
اردو
https://hizb-ut-tahrir.info/ur/index.php/4312.html
===
لبنانی سیکورٹی ادارے اب بھی لوگوں کے خلاف اغوا کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں!
لبنانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے کے اہلکاروں نے جمعہ 20 فروری 2026ء کو دوپہر تقریباً ایک بجے دارالحکومت بیروت میں کسی قانونی جواز، دستاویز یا عدالتی حکم کے بغیر اور انسان کے بنیادی حقوق اور وقار کا لحاظ کیے بغیر حزب التحریر لبنان کے دو نوجوانوں کو اغوا کر لیا، جن پر یہ بہانہ بنایا گیا کہ وہ پیٹرول پر ٹیکس میں اضافے اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (TVA) میں اضافے کے حوالے سے ایک پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے!
اس واقعے پر حزب التحریر ولایہ لبنان کے میڈیا آفس نے ایک پریس بیان میں کہا: "اگرچہ انہیں آدھی رات کے بعد رہا کر دیا گیا تھا، لیکن اس معاملے اور ان رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اصولی طور پر سیکورٹی اداروں کو لوگوں کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے نہ کہ انہیں خوفزدہ کرنے یا اغوا کرنے کے لیے، مگر یہ ادارے اب بھی لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان کے بحرانوں کی ترجمانی کرنے والی حق کی آواز کو دبانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں، اور یہ لوگوں کے لیے آزادی چھیننے اور عدم تحفظ کا مجموعہ بن چکے ہیں!"
بیان میں مزید کہا گیا: "حزب التحریر ولایہ لبنان نے اپنے اس بیان میں - بلکہ اپنے تمام بیانات میں - جو بات کہی ہے وہ ملک کے عوام کا ایک عمومی مسئلہ ہے، جس میں ریاست کے ملازمین اور اس کے اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں! تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ ظالمانہ ٹیکس نافذ ہو جائیں اور لوگوں کی روزی روٹی کے ساتھ یہ کھلواڑ کسی روک ٹوک اور حساب کتاب کے بغیر چلتا رہے؟! اور اگر ریاست میں بنیادی تبدیلی سے مایوسی کی وجہ سے عوام خاموش رہنے کے عادی ہو گئے ہیں، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اہل علم و فکر بھی ان حقوق کے بارے میں خاموش ہو جائیں؟! ایسا کبھی نہیں ہوگا یہاں تک کہ اللہ عزوجل ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے"۔
===
بنگلہ دیش کے انتخابات میں انتخابی منشور: نمائشی حل جن میں حقیقی حل کا فقدان ہے
حال ہی میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے اپنے تفصیلی انتخابی منشور پیش کیے ہیں، جو کہ اگرچہ بعض پہلوؤں میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن مجموعی طور پر دونوں ہی مغربی سرمایہ دارانہ ماڈل سے ماخوذ ریاست کا وژن پیش کرتے ہیں۔ بی این پی کا منشور، جس کا عنوان "بنگلہ دیش سب سے پہلے" ہے، ایک جمہوری معیشت کے حامل ملک کی تعمیر کے منصوبے پر مرکوز ہے، اور اس کا مقصد 2034 تک بنگلہ دیش کو ایک ایسی ریاست بنانا ہے جس کی آمدنی اوسط سے زیادہ ہو اور معیشت کا حجم ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے۔ دوسری طرف، جماعتِ اسلامی کا منشور بعنوان "محفوظ اور انسانی بنگلہ دیش کا منشور" واضح طور پر ایک شفاف اور جوابدہ ریاست کے قیام کی دعوت دیتا ہے، اور اس کی توجہ انصاف، ادارہ جاتی اصلاحات اور سماجی تحفظ پر مرکوز ہے۔
اس کے پیشِ نظر، حزب التحریر ولایہ بنگلہ دیش کے میڈیا آفس نے ایک پریس بیان میں کہا ہے: ہم واضح طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ منشور محض نمائشی وعدوں اور کھوکھلی تقاریر کے سوا کچھ نہیں، اور یہ اپنی اصل میں حقیقی آزادی اور خودمختار ترقی حاصل کرنے سے قاصر ہیں، کیونکہ یہ جدید نوآبادیاتی استحصال کے بنیادی طریقہ کار، جیسے زراعت پر سبسڈی ختم کرنے، نجکاری اور مقامی صنعتوں کو تباہ کرنے والی پالیسیوں سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کے احکامات کو چیلنج کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ جب کہ یہ جماعتیں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور کھلی منڈیوں کی تشہیر کرتی ہیں، وہ درحقیقت توانائی کے شعبے جیسے مقامی اثاثے شیورون (Chevron) اور ایکسون موبل (ExxonMobil) جیسی کمپنیوں کے حوالے کر رہی ہیں، اور سٹریٹیجک بندرگاہیں نجی شعبے کے سپرد کر رہی ہیں، جس سے معاشی غلامی کا تسلسل یقینی ہوتا ہے۔ آخر کار، جب تک اس استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور "ٹپکتی ہوئی ترقی" (trickle-down development) کے اس ماڈل کو مسترد کرنے کا حقیقی عزم نہیں کیا جاتا جو عوامی دولت کو لوٹتا ہے، تب تک یہ منشور اس بدعنوانی اور ڈھانچہ جاتی جبر کا کوئی حقیقی متبادل پیش نہیں کرتے جو لوگوں کو غریب بناتا ہے اور حقیقی آزادی کی راہ بند کر دیتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا: لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر سیاسی حکمران بدل بھی جائیں تب بھی جابرانہ سرمایہ دارانہ نظام عام لوگوں کو نقصان پہنچاتا رہے گا تاکہ چند اشرافیہ اور ان کے نوآبادیاتی اتحادیوں کو نواز سکے۔ لہٰذا، کوئی بھی ایسا وعدہ جو اس نظام کو جڑ سے نہیں اکھاڑتا، وہ صرف ایک نمائشی تبدیلی ہے جو حقیقی آزادی کی طرف نہیں لے جا سکتی۔ اس لیے ہم تمام لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کی کوشش میں متحد ہو جائیں، کیونکہ یہی وہ واحد نظام ہے جو انصاف کی ضمانت دینے، خود انحصاری پر مبنی صنعت سازی کو بااختیار بنانے اور امت کا وقار بحال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔
===
اے امتِ مسلمہ کے بیٹو! شرعی اور عقلی طور پر آپ پر واجب ہےکہ
ان 'رویبضہ' (نااہل و جاہل) مسلم حکمرانوں اور ان کے حواریوں بشمول وزراء، نمائندوں اور مندوبین نے ذلت و رسوائی کو اس حد تک اپنا لیا ہے کہ یہ اب ان کی فطرت کا حصہ بن چکی ہے، اور وہ حیا کے ہر قطرے سے محروم ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ انہیں حکم دیتا ہے تو وہ فوراً لبیک کہتے ہوئے دوڑ پڑتے ہیں، وہ یہودی وجود کی حفاظت اور اس کا دفاع کرتے ہیں، انہوں نے اسے سرزمینِ مبارک (فلسطین) میں جو چاہے کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، اور وہ اپنے فضائی راستے اس (یہودی وجود) کے طیاروں اور میزائلوں کے لیے کھول دیتے ہیں تاکہ وہ دندناتے پھریں اور مسلمانوں کے ممالک کی حرمتیں پامال کریں اور لبنان، شام، یمن اور ایران میں ان کا خون بہائیں۔
پس اے مسلمانو! یہ رویبضہ حکمران کب تک تمہیں تمہارے دشمنوں کے ہاتھوں بیچتے رہیں گے اور تمہارے مسائل کو برباد اور ضائع کرتے رہیں گے؟۔ اور یہ استعماری طاقتوں کو تم پر اور تمہارے ممالک پر قابض کروانے میں کس حد تک آگے جائیں گے۔ حالانکہ اللہ نے تمہیں جن سمندروں اور آبی گزرگاہوں سے نوازا ہے ان کے ذریعے تم ان دشمنوں کا گلا گھونٹ سکتے ہو، اور اللہ نے تمہیں جو دولت عطا فرمائی ہے اس کے ذریعے تم ان کی زندگی کی راہیں کاٹ سکتے ہو؟۔ تو کیا ان ممالک کے لیے تمہارے ملکوں پر قبضہ کرنا ممکن ہوتا اگر یہ نادان حکمران نہ ہوتے؟۔
اے امتِ مسلمہ کے بیٹو اور اس کے اہل قوت اور باثرافراد! شرعی اور عقلی طور پر آپ پر یہ واجب ہے کہ آپ اپنا معاملہ طے کریں اور اپنا فیصلہ کن ارادہ کریں۔ ان غدار حکمرانوں اور ان کے نظاموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، اور ایک ایسا خلیفہ مقرر کریں جو آپ سب پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق حکمرانی کرے۔ اور یہ حزب التحریر ، وہ رہنما جو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا، تمہارے درمیان اور تمہی میں سے ہے، پس اس کے ساتھ مل کر کام کرنے اور نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے اس کی نصرت کرنے میں جلدی کرو، جو تمہیں اس ذلت سے نجات دلائے گی۔
===
جب نگہبان (راعی) غائب ہو اور ریاست ٹیکس وصول کرنے والی بن جائے، تو لوگ ڈوب کر مرتے ہیں!
حزب التحریر ولایہ سوڈان کے سرکاری ترجمان جناب ابراہیم عثمان (ابو خلیل) نے ایک پریس بیان میں کہا: خبریں موصول ہوئی ہیں کہ ہفتہ 14 فروری 2026ء کو سفید نیل میں 'ود الزاکی' کے علاقے میں 'الصوفی' سے آنے والی ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اور بدھ 11 فروری 2026ء کو دریائے نیل عبور کرتے ہوئے ایک اور کشتی ڈوبنے سے 21 افراد جاں بحق ہو گئے، یہ کشتی ولایتِ نیل میں 'طیبۃ الخواض' اور 'دیم القرائی' کے درمیان مسافروں کو لے جا رہی تھی۔
استاد ابو خلیل نے مزید کہا: اس معاملے میں اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں حادثات عدمِ توجہی اور ذمہ داری کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہوئے، ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ ناقص انتظام تھا کیونکہ ایسے واقعات سوڈان کے کئی علاقوں میں بار بار ہوتے ہیں، اور ان سب کی وجہ ایک ہی ہے۔ وہ یہ کہ ریاست لوگوں کو دریا عبور کرنے کے لیے محفوظ کشتیاں فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی اور نہ ہی لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال کا اپنا شرعی فریضہ پورا کر رہی ہے۔ سوڈان میں قائم موجودہ ریاست 'دولتِ رعایت' (عوام کا خیال رکھنے والی ریاست) نہیں بلکہ 'دولتِ جبایہ' (ٹیکس بٹورنے والی ریاست) ہے، اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ ڈوب کر مریں، بھوک سے مریں، بیماری سے مریں یا کسی مصنوعی جنگ کی نذر ہو جائیں، اسے تو بس لوگوں کی جیبوں سے غرض ہے جیسا کہ وزیر خزانہ نے خود صاف الفاظ میں کہا ہے۔ بلکہ حکومت تو ان لوگوں کے خلاف لڑ رہی ہے جو 'دولتِ رعایت' یعنی اسلامی ریاست، نبوت کے نقشِقدم پر خلافتِ راشدہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ 'الابیض' شہر میں حزب التحریر کے نوجوانوں کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات درج کر رہی ہے، انہیں جیلوں میں ڈال رہی ہے اور انہیں ضمانت کے حق سے بھی محروم کر رہی ہے تاکہ وہ اتوار 22 فروری 2026ء کو سماعت کے دن تک تقریباً ایک ماہ جیل میں ہی رہیں۔
ابو خلیل نے کہا: لیکن ہم حزب التحریر ولایہ سوڈان میں جیلوں سے نہیں ڈریں گے اور نہ ہی یہ مقدمات ہمیں خوفزدہ کر سکتے ہیں، کیونکہ ہم ایک عظیم فریضہ سرانجام دے رہے ہیں جس سے بہت سے لوگ پیچھے ہٹ چکے ہیں، باوجود اس کے کہ نبی ﷺ نے اس فرض سے پیچھے ہٹنے والوں کو جاہلیت کی موت کی وعید سنائی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: «وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»"اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں (خلیفہ کی) بیعت نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرا"۔ پس اے سوڈان کے لوگو! اپنے رب کے فرض، اپنی عزت کے منبع اور اپنے معاملات کی حقیقی نگہبان 'خلافت' کے قیام کے لیے حزب التحریر کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے آگے بڑھو، اسی میں تمہارے رب کی رضا ہے۔
===
اقتدار کے ایوانوں میں اسلام کی واپسی کافر مغرب کی نیندیں اڑا رہی ہے
ایک ایسی ریاست کے سائے میں اسلام کی اقتدار میں واپسی جو اسے زندگی کی حقیقتوں میں نافذ کرے اور اسے پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور رحمت کا پیغام بنا کر پیش کرے، مغرب کے سیاست دانوں اور مفکرین کے لیے ایک ایسا ڈراونا خواب ہے جس نے ان کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اسی لیے ہم انہیں اس کے قیام کو روکنے اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے خلاف بین الاقوامی اتحاد بناتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل باروٹ کا یہ بیان کہ شام میں (دہشت گردی) کی واپسی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، درحقیقت خلافت کے قیام سے شدید خوف اور بے چینی کا اظہار ہے۔ مغرب نے انقلابِ شام کے ان تمام مبارک سالوں کے دوران یہ کوشش کی کہ انقلابیوں کے دلوں سے شریعت کے نفاذ کا تصور نکال دیا جائے اور انہیں نئے بدنما چہروں کے ساتھ سیکولر نظام کو قبول کرنے پر مجبور کیا جائے، لیکن شام کے عوام اور مجاہدین میں موجود طاقتور انقلابی اور جہادی جذبے نے امریکہ کو لرزہ براندام کر دیا ہے، کیونکہ امریکہ کی جانب سے اسے دبانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ جذبہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ وہ شام میں اقتدار کی طاقت کے ستونوں یعنی مجاہدین اور ان کے حامی مسلمان عوام کو ریاست سے دور کرنے اور باقی ماندہ گروہوں اور چھوٹی نسلوں کو ریاست اور فوج میں ضم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ عمومی فضا کو خراب کیا جا سکے، جہادی جذبے کو ختم کیا جا سکے اور سچے لوگوں کو اقتدار اور فوج سے دور رکھا جا سکے، تاکہ فوج اسلامی جذبے سے خالی ہو جیسا کہ امریکہ منصوبہ بندی کر رہا ہے اور شام کے نئے سیاست دان اس پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔
امریکہ اور کافر مغرب یہی چاہتے ہیں، تو کیا مجاہدین اور ان کے حامی عوام ایک اسلامی دستور کو اپنا کر اور اسے ایک ایسی ریاست میں نافذ کر کے کوئی دوسرا اور فیصلہ کن موقف اختیار کریں گے جو امریکہ کی چالوں کو باطل کر دے اور بیت المقدس کی آزادی اور دنیا بھر میں اسلام کے ابدی پیغام کی اشاعت کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو؟
===
تاریخ آپ پر گواہ ہے اور مستقبل آپ کا منتظر ہے
امتِ مسلمہ اپنی قوت کے بہت سے عناصر کھو چکی ہے، اور یہ تعداد یا ساز و سامان کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی اس تہذیبی وراثت سے کٹ چکی ہے جو عدل و انصاف کو سیاست کی بنیاد اور عزت و وقار کو اعتراف کی شرط قرار دیتی ہے۔ اس وراثت کی بحالی محلات یا مذمتی بیانات سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ امت میں اس شعور کی تعمیرِ نو سے شروع ہوتی ہے کہ اس کی قوت اور عزت اس کی ریاست اور اس کے دین میں ہے، اور یہ کہ غلبہ و تحفظ صرف اسلامی ریاست ہی میں ممکن ہے۔ امت کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ عزت و وقار خیرات میں نہیں ملتا بلکہ اسے چھینا جاتا ہے، اور جو آج اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہوگا، وہ کل اپنی زمین سے بھی دستبردار ہو جائے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ امتِ مسلمہ اپنی خود اعتمادی بحال کرے، اور وہ تابع بننے کی بجائے گواہ (رہنما) کے مقام پر واپس آئے، اور تماشائی بننے کے بجائے صاحبِ معاملہ بنے۔ اے امتِ مسلمہ کے بیٹو! تمہاری عزت کبھی بھی دوسروں کی غلامی یا ان کی اندھی تقلید میں نہیں تھی، بلکہ تمہاری عزت تمہارے اس عقیدے میں تھی جس نے حکمران سے پہلے انسان کی تعمیر کی اور عمارتوں سے پہلے ریاست کی بنیاد رکھی۔ تمہارا مقام نعروں سے نہیں بلکہ اسلام کو بطور ضابطہ حیات بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ محنت سے، اور اپنی اس ریاست کی طرف واپسی سے حاصل ہوگا جس میں تمہاری عزت ہے، تاکہ تمہارا رعب و دبدبہ بحال ہو اور دنیا تمہاری طاقت کا لوہا مانے۔ تاریخ تم پر گواہ ہے اور مستقبل تمہارا منتظر ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا وعدہ ہے:
﴿وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ﴾
"اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا"(سورۃ الحج، آیت 40)
===
مسلمان حکمران اور ان کے حواری: مسلمانوں پر قہر، کافروں پر مہر
انڈونیشیا کے صدر نے 'پیس کونسل' کے اجلاس کے دوران، جمعرات کو کہا کہ "ہم استحکام فورس میں شرکت کے لیے 8000 سے زائد فوجی فراہم کرنے کے پابند ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے صدر ٹرمپ کے منصوبے سے اتفاق کیا ہے اور اس کے پابند ہیں، اسی لیے ہم پیس کونسل میں شامل ہوئے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے پرعزم ہیں"۔
الرایہ: مسلمان حکمرانوں نے اپنی افواج کو غزہ کو اس نسل کشی سے بچانے کے لیے حرکت نہیں دی جو یہودی دو سال سے زیادہ عرصے سے وہاں برپا کیے ہوئے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس کا حکم دیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ۔ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِماً سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے (دشمن کے حوالے کر کے) بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ اور جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ اس کی ضرورت پوری فرماتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی سختی دور کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن کی سختیوں میں سے اس کی سختی دور فرمائے گا، اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا" (بخاری ومسلم)۔
لیکن یہ حکمران ٹرمپ کی کونسل میں شامل ہونے، رقوم فراہم کرنے، وعدے اور تعاون کرنے اور مسلمانوں کی افواج بھیجنے کے لیے قطاریں لگا کر پہنچ گئے تاکہ اس (ٹرمپ) کے مقصد کو پورا کر سکیں، جو کہ غزہ کو غیر مسلح کر کے، اسے نوآبادی بنا کر اور سیاحتی مراکز میں تبدیل کر کے یہودی وجود کو تحفظ فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے خلاف خود یہ گواہی دے دیں کہ وہ مسلمانوں کے لیے جنگ اور کافروں و استعمار پسندوں کے لیے امن کا ذریعہ ہیں۔ اور یہ انڈونیشیا کا صدر ان حکمرانوں کی ایک مثال ہے جو امت کے دشمنوں کے ساتھ صف آرا ہو گئے ہیں، اللہ ان حکمرانوں کو غارت کرے جنہوں نے اپنے دین کے بدلے دوسروں کی دنیا خرید لی!۔




