بسم الله الرحمن الرحيم
آبنائے ہرمز: ایک کھویا ہوا اسٹریٹجک ہتھیار؛
ہماری دیگر بحری گزرگاہوں اور ہمارے کھوئے ہوئے اسٹریٹجک ہتھیاروں پر ایک نظر!
(ترجمہ)
https://www.alwaie.org/archives/article/20239
الوعي میگزین – شمارہ نمبر،477
چالیسواں سال، شوال 1447ھ
بمطابق، اپریل 2026ء
تحریر : أستاذ مناجي محمد
امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ نے ان حقائق میں سے ایک حقیقت کو آشکار کر دیا ہے جنہیں جنگیں عموماً بے نقاب کرتی ہیں، کیونکہ جنگ وہ لمحۂ حقیقت ہوتی ہے جس میں پوشیدہ اور مخفی اسٹریٹجک اور جیو اسٹریٹجک حقائق سامنے آ جاتے ہیں۔ جنگ ان امور کو ظاہر کرنے کے لئے سب سے مؤثر اور آزمودہ جانچ پرکھ کا ایک میدان ہوتی ہے۔
آج، امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں جو حقیقت سامنے آئی ہے وہ آبنائے ہرمز کی حقیقت ہے، جسے ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ سمجھا جاتا ہے جو انتہائی سکیورٹی حساسیت کی حامل ہے، ایک تنگ گلی کی مانند اور نقطۂ رکاوٹ، جسے اس جنگ نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ اس وقت ایران کے ہاتھ میں تقریباً سب سے طاقتور ایک اسٹریٹجک ہتھیار ہے!
آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ توانائی کی تجارت کے لئے سب سے اہم، کلیدی نوعیت کی حامل اور اسٹریٹجک سمندری راستوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ یہ گزرگاہ شمالی خلیج کو جنوب کی طرف خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔ اس بحری گزرگاہ کا جغرافیائی محل وقوع اسے انتہائی اہم اسٹریٹجک اہمیت دیتا ہے: بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے گزرنے کے لئے آبنائے ہرمز میں سے ہو کر جانے والا اصل جہاز رانی کا راستہ نہایت تنگ ہے، جو ہر ممکنہ اطراف سے بمشکل تین کلومیٹر چوڑا ہے۔ تیل بردار ٹینکر لائنوں میں سے گزرتے ہوئے دو بحری راستے استعمال کرتے ہیں—ایک اس آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے لئے اور دوسرا نکلنے کے لئے—اور ہر راستے کی چوڑائی تقریباً تین کلومیٹر تک ہے، جو اسے ایک نہایت تنگ گزرگاہ بنا دیتی ہے۔
یوں یہ تنگ راستہ آبنائے ہرمز کو ایک حساس گزرگاہ اور کڑی نگرانی میں سے ہونے والا مقام بنا دیتا ہے، جس پر مکمل کنٹرول اس کے ہاتھ میں آ سکتا ہے جو وسیع وژن اور خودمختار فیصلہ سازی کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت اور اس سے وابستہ خطرہ اس بات سے مزید بڑھ جاتا ہے کہ اس گزرگاہ کا کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں ہے۔ اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں متبادل پائپ لائنوں کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر انرجی سینٹرز اور امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق اس گزرگاہ سے گزرنے والی زیادہ تر کھیپوں کے پاس اس خطے سے نکلنے کا کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔
اسی لئے آبنائے ہرمز ایشیا اور دنیا کی دیگر منڈیوں کی طرف ترسیل کئے جانے والے بڑے تیل بردار اور گیس کے ٹینکروں کی بنیادی شہ رگ ہے، جو سعودی عرب، کویت، عراق، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران سے انرجی کی وہ کھیپ لے کر جاتے ہیں—جو اسلامی ممالک کا تیل اور گیس ہے اور مسلمانوں کی لوٹی جانے والی دولت ہے!
آبنائے ہرمز توانائی کی تجارت کے لئے دنیا کی سب سے اہم اور حساس بحری تنگ گزرگاہ ہے۔ دنیا میں سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے خام تیل کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اس سے گزرتا ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 38 فیصد بنتا ہے۔ روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل خام تیل اور پیٹروکیمیکل مال کی ترسیل اسی راہداری سے ہو کر گزرتی ہیں۔
آبنائے ہرمز مائع قدرتی گیس (LNG) کے لئے بھی ایک اہم مرکز ہے، جہاں سے عالمی ایل این جی تجارت کا تقریباً 20 سے 33 فیصد حصہ اسی راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ قطر اپنی گیس کی برآمدات کے لئے مکمل طور پر اسی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے تاکہ اپنی (LNG) کی کھیپیں ایشیا اور دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچا سکے۔ لہٰذا، آبنائے ہرمز ایشیائی منڈیوں کے لئے توانائی کی بنیادی شہ رگ ہے، خصوصاً بڑی معیشتوں جیسے چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کے لئے۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز، کھاد اور کیمیکل مواد کی تجارت کے لئے بھی ایک اہم راستہ ہے۔ 2026ء کے اعداد وشمار اور اندازوں کے مطابق نائٹروجن کھادیں، خصوصاً یوریا کی 25 سے 30 فیصد برآمدات اسی راستے سے ہو کر گزرتی ہیں، اسی طرح کیمیائی مصنوعات، خاص طور پر سلفر، جس کی عالمی تجارت کا تقریباً 45 فیصد حصہ اسی راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ واضح رہے کہ فاسفیٹ کھادوں کی تیاری کے لئے سلفر ایک بنیادی عنصر ہے۔
اور اسی طرح اس راہداری سے گزرنے والی عالمی تجارت کا یہ سلسلہ خام مال اور معدنیات جیسے ایلومینیم، تانبہ، سلفر، لیتھیم اور کوبالٹ تک بھی پھیلا ہوا ہے، جو کہ صنعتی اور ٹیکنالوجی کی سپلائی چینز پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سلفیورک ایسڈ کا مرکب سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کے لئے نہایت اہم ہے اور سیمی کنڈکٹرز جدید ٹیکنالوجی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں، اور اس کے علاوہ بھی بے شمار اشیاء اسی راستے سے گزرتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سلامتی کے لئے حقیقی مرکز ہے، اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر منڈیوں اور تجارت کو ہلا سکتی ہے۔ ”دنیا کے تیل اور ایل این جی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ عمومی طور پر اسی آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے، جو دنیا کو ایندھن فراہم کرنے والے آئل و گیس کے بڑے برآمد کنندگان کے لئے واحد سمندری راستہ ہے۔ اوپیک کے رکن ممالک—سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق—اپنا زیادہ تر تیل سمندری راستوں سے برآمد کرتے ہیں، جبکہ قطر، جو کہ مائع قدرتی گیس کے حوالے سے دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے، وہ اپنی تقریباً تمام تر ایل این جی اسی گزرگاہ کے ذریعے سے بھیجتا ہے“۔(ماخذ: رائٹرز)
یوں اس طرح اہم ترین مال کی یہ تجارت، توانائی کی ترسیل اور خام مال کی سپلائی چینز کے ذریعے آبنائے ہرمز کو سرمایہ دارانہ معیشت اور سرمایہ دارانہ صنعت و ٹیکنالوجی کی زندگی کے لئے ایک شہ رگ کی مانند بنا دیتی ہے، جبکہ توانائی اور یہ خام مال فیکٹریوں اور پروڈکشن مراکز کو چلانے کے لئے بنیادی عنصر ہیں۔ یہ گزرگاہ زراعت کے لئے درکار ان کھادوں اور کیمیکلز کی ترسیل کے لئے بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے جن سے سرمایہ دارانہ مارکیٹیں رواں دواں ہیں، اور عالمی سرمایہ دارانہ تجارت کے لئے بھی ایک شریان کی حیثیت رکھتی ہے۔
لہٰذا آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ درحقیقت ایک اسٹریٹجک عسکری مزاحمتی طاقت اور برتری کا ہتھیار ہے، جو تقریباً نیوکلئیر مزاحمت کا حامل ہونے کے برابر ہے بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ سرمایہ دارانہ معیشت کے قلب پر ضرب لگا سکتی ہے۔ اس تجارتی نقل وحمل میں رکاوٹ کا اثر سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں تک جا پہنچتا ہے، یعنی سرمایہ دارانہ نظام کی معیشت، اور پھر اس سے براہ راست متاثٔر ہونے والی سرمایہ دارانہ ریاست، معاشرہ اور روزمرہ کی زندگی، چاہے وہ مغرب میں ہو یا چین میں۔
روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ کی جزوی بندش نے ہی شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے، تیل کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، اور عالمی معیشت پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔
خبر رساں ادارے، وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اس گزرگاہ کی بندش کے نتیجے میں امریکہ کی بڑی آئل کمپنیوں، ایگزون موبل، شیورون اور کونوکو فلپس، کے سربراہان نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش جاری رہی تو توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ اخبار نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ان کمپنیوں کے سربراہان نے وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس میں شرکت کی اور اس کے علاوہ امریکی وزیر توانائی اور وزیر داخلہ کے ساتھ سلسہ وار ملاقاتوں کے دوران اس بندش کے سنگین اثرات کا جائزہ لینے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
چنانچہ آبنائے ہرمز ٹرمپ کے لاپرواہ امریکہ کے لئے ایک بڑی مشکل اور پیچیدہ بحران بن چکی ہے، ایک ایسا مسئلہ جس نے ٹرمپ کے تکبر اور اس کی اکڑفوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ ٹرمپ کے لئے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خلیج میں موجود اس کے فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملے ہوئے ہیں، بلکہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس آبنائے ہرمز کی بندش نے ٹرمپ کو چین، یورپ اور نیٹو سے مدد مانگنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے لئے دباؤ ڈالیں۔
مارچ 2026ء کے وسط میں ٹرمپ نے اپنے نیٹو اتحادیوں اور یورپی پارٹنرز سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک فوجی اتحاد میں شامل ہوں تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے اور اس راستے سے جہازرانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ٹرمپ نے واضح طور پر چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ کا نام لے کر کہا کہ اس نے تقریباً ان سات ممالک سے، جو مشرق وسطیٰ کے آئل پر انحصار کرتے ہیں، اس اتحاد میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے تاکہ وہ اس گزرگاہ میں سکیورٹی کو ممکن بنانے کے لئے ایک اتحاد قائم کریں کیونکہ اس گزرگاہ کی بندش سے تیل کی عالمی تجارت کا پانچواں حصہ متاثٔر ہو رہا ہے۔
تاہم مذکورہ بال تمام ممالک نے ٹرمپ کی اس درخواست پر تحفظات ظاہر کئے، جو دراصل ایک خاموش انکار تھا۔ یہاں تک کہ واشنگٹن پوسٹ کے اداریہ نے حالیہ ایران کے تنازعہ کے تناظر میں امریکی حکمت عملی پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا اور "فتح کا اعلان کر کے واپس پیچھے ہٹنے کو" جمود کی اس صورتحال ختم کرنے کا واحد راستہ قرار دیا۔
نیز یہ کہ زمینی حملے کا آپشن بہت سے امریکی سیاستدانوں اور فوجی کمانڈروں کے نزدیک ویتنام اور افغانستان کی یاد تازہ کرنے والے ایک ڈراؤنا خواب کی طرح سمجھا جا رہا ہے، ایک ایسی تباہ کن دلدل جو امریکی ریاست کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مغرب کی تباہی اس کی افواج اور عسکری سازوسامان کی تباہی میں نہیں ہے، بلکہ سرمایہ دارانہ مغرب کی حقیقی کمزوری اس کی سرمایہ دارانہ معیشت کے انہدام میں ہے۔ معیشت سرمایہ دارانہ نظام کا دل ہے، وہ محرک قوت جو اس کے سیاسی نظام اور اسٹریٹجک نقطۂ نظر کو تشکیل دیتی ہے۔ یوں اس لحاظ سے مغرب کا دل و دماغ اس کی سرمایہ دارانہ معیشت ہیں۔
سرمایہ داریت کی کلیدی بنیاد بین البراعظمی تجارت ہے، جو منافع اور دولت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اور توانائی وہ ایندھن ہے جو سرمایہ داریت کے پروڈکشن انجن کو چلاتی ہے، اور سرمایہ داریت کی اقتصادی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی یعنی توانائی کی اس سپلائی کے تعطل میں سرمایہ داریت کی بنیادی کمزوری پنہاں ہے۔ اس تعطل سے پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو بالآخر سنگین افراطِ زر، روزمرہ زندگی اور معمول کے اخراجات میں اضافے، اور قوتِ خرید میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ نتیجتاً معاشرتی کشیدگی، بے اطمینانی اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ممکنہ بے چینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یوں درج بالا اس تمام تناظر میں بحری تنگ گزرگاہیں (chokepoints)اسٹریٹجک نوعیت کی عسکری طاقت کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں جو مغرب کی طاقت کو حدود میں رکھنے اور اس میں بڑھوتری کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ کوئی ایسی ریاست موجود ہو جو نظریاتی وژن اور خودمختار سیاسی عزم رکھتی ہو۔ ایسی صورت میں یہ چوک پوائنٹس محض حکمتِ عملی کی چالیں، مذاکرات یا سودے بازی کے حربے کی حیثیت ہی نہیں رکھتے بلکہ ایسے جوابی اقدام بن جاتے ہیں جو کسی بھی جارحیت کو پہلے ہی مرحلہ پر روک سکتے ہیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ان قدرتی تنگ بحری گزرگاہوں کی اسٹریٹجک اہمیت واضح ہوتی ہے کہ وہ کس قدر اہم سمندری راستے، کلیدی چوک پوائنٹساور انتہائی تباہ کن اسٹریٹجک ہتھیار کی حیثیت کے حامل ہیں۔ بحری آبنائیں بین البراعظمی سرمایہ دارانہ تجارت کی شریانیں ہیں، جن میں تیل، گیس، معدنیات، اسلحہ، خام مال، اشیاء اور دیگر سامان شامل ہیں۔ بلکہ یہ آبنائیں سرمایہ دارانہ معیشت اور اس کی ریاستوں اور معاشروں کی زندگی کے لئے رگوں میں دوڑتے خون کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ان تنگ سمندری راستوں پر کنٹرول ہونا اور انہیں اپنے قابو میں رکھنا دراصل مغربی سرمایہ دارانہ معیشت پر ایک مضبوط اور عملی کنٹرول کے مترادف ہے۔ اور جب کوئی ایسی ریاست موجود ہو جو ایسا نظریاتی وژن اور خودمختار سیاسی عزم رکھتی ہو جو اس کے اپنے عقیدہ سے پھوٹتا ہو، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب یہ آبنائے اس ریاست کی خودمختاری اور اس کے اسٹریٹجک دائرۂ اثر کا حصہ ہو تو ان سمندری راستوں پر کنٹرول ہونے سے مغربی ریاستوں اور معاشروں پر دباؤ ڈالنے اور اثر انداز ہونے کا ذریعہ فراہم ہو گا۔
تکلیف دہ المیہ تو یہ ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز اسلامی دنیا کے جغرافیہ کا حصہ ہے، اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت اسے اسلام اور اس کی امت کے مسائل کی خدمت کے لئے ایک طاقتور ذریعہ بنا سکتی تھی، نہ کہ محض دباؤ ڈالنے، چال بازی، سودے بازی اور جنگی حکمت عملی کے ایک ایسے حربہ کے طور پر، جو محدود قومیت پرستانہ مفادات کے لئے استعمال ہوتے۔
یہ المیہ اس وقت اور بھی شدید ہو جاتا ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کی بہت سی اہم ترین بحری گزرگاہیں اور ایسے پیچیدہ چوک پوائنٹس کے مقامات اسلامی سرزمینوں میں واقع ہیں، اور وہ ان کے قدرتی جغرافیہ اور جیو اسٹریٹجک دائرے کا حصہ ہیں۔ اگر کوئی نظریاتی اور بااثر سیاسی قیادت موجود ہو تو یہ تنگ گزرگاہیں ہمارے اہم سمندری راستے، ہمارے اسٹریٹجک ہتھیار اور ہماری جیو اسٹریٹجک طاقت کا مرکز ہیں۔
آبنائے ملاکا :
آبنائے ملاکا ملائیشیا اور انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے درمیان سب سے چھوٹا سمندری راستہ ہے، جو اسے عالمی تجارت کا ایک اہم سنگ میل بنا دیتا ہے۔ اس گزرگاہ سے سالانہ تقریباً 82,000 بحری جہاز گزرتے ہیں، اور یہ راستہ عالمی تجارت کے 40 فیصد سے زیادہ حصے کو سنبھالتا ہے۔
آبنائے ملاکا کی یہ گزرگاہ چین کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 80 فیصد بھی منتقل کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان کو بھی توانائی کی بڑی مقدار اسی راستے کے ذریعے فراہم ہوتی ہے۔ اس طرح یہ گزرگاہ بھی ایشیا کی بڑی معیشتوں، خصوصاً چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے لئے توانائی کی ایک اہم شریان کی حیثیت رکھتی ہے۔
جیو اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے، آبنائے ملاکا چین کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ یہ اس کی معیشت کے لئے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس گزرگاہ پر کنٹرول ہونا یا اس راستے پر اثر و رسوخ ہونا ایشیا کی بڑی طاقتوں، خصوصاً چین، پر نمایاں دباؤ ڈال سکتا ہے۔
آبنائے باسفورس اور دردہ نیل :
آبنائے باسفورس اور دردہ نیل، بحیرہ اسود کی جان اور یوریشیا کی کنجی ہیں۔ سمندری پانیوں میں سے گزرتے یہ راستے استنبول کے قلب میں سے ہوتے ہوئے ایک سمندری راہداری کو تشکیل دیتے ہیں، جو بحیرہ اسود کو بحیرہ مرمرہ سے اور دردہ نیل کے ذریعے بحیرہ ایجیئن سے ہوتے ہوئے بحیرہ روم تک ملاتے ہیں۔
ان راہداریوں کی اسٹریٹجک اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ ایشیا اور یورپ کو ملانے والا واحد سمندری راستہ ہیں، اور چاروں طرف سے بند بحیروں کو کھلے سمندروں سے ملا دیتے ہیں۔ یہ سمندری راہداریاں بحیرہ اسود کے ممالک کے لئے واحد راستہ ہیں اور روس، یوکرین، جارجیا، رومانیہ اور بلغاریہ جیسے ممالک کے لئے”زندہ رہنے کا ذریعہ“ہیں، جو انہیں گرم پانیوں یعنی بحیرۂ روم اور عالمی سمندروں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔
ان بحری راستوں سے سالانہ 40,000 سے زائد بحری جہاز گزرتے ہیں، جو عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 3 فیصد آئل لے کر جاتے ہیں، جس میں خصوصاً روس اور قازقستان سے نکلنے والا آئل شامل ہے۔ یہ راہداریاں یوکرین اور روس کی اناج برآمدات کا بھی بنیادی راستہ ہیں، جو عالمی خوراک کی سپلائی چینز میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مختصراً یہ کہ یہ راہداریاں کسی بھی خودمختار سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ایک طاقتور اسٹریٹجک ذریعہ ہیں، جو روس، بحیرہ اسود کے خطے اور یوریشیا کے ایک حساس اور اہم حصے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
آبنائے باب المندب :
آبنائے باب المندب جزیرہ نما عرب اور افریقہ کا سینگ (ہارن آف افریقہ) میں خصوصاً جبوتی اور اریٹریا کے درمیان واقع ہے۔ یہ ایک تنگ آبی راستہ ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے اور پھر بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ آبنائے باب المندب کو مصر کی نہر سویز کے جنوبی داخلی راستے کی کنجی بھی مانا جاتا ہے۔
یہ گزرگاہ نہر سویز تک واحد براہِ راست سمندری رسائی فراہم کرتی ہے اور یورپ و ایشیا کے درمیان بنیادی رابطہ ہے۔ یوں اس طرح یہ گزرگاہ عالمی سرمایہ دارانہ تجارت کی ایک اہم شریان ہے، جو سالانہ تقریباً 10 سے 12 فیصد عالمی تجارت کو سنبھالتی ہے۔
اس گزرگاہ پر کنٹرول ہونا عالمی تجارتی راستوں اور متعلقہ پالیسیوں پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ باب المندب میں کسی بھی رکاوٹ کا فوری اثر عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے، کیونکہ اس سے سپلائی چینز متاثر ہو جاتی ہیں، لاجسٹک اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور شپنگ اخراجات مہنگے ہو جاتے ہیں۔ یہ بات غزہ کی جنگ کے دوران واضح ہوئی، جب بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی نے مؤثر انداز میں نہر سویز کے جنوبی راستے کو محدود کر دیا تھا۔
نتیجتاً بڑی شپنگ کمپنیوں کو اپنے بحری جہاز جنوبی افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ Cape of Good Hope کے راستے سے گزارنے پڑے، جو کہ بہت طویل راستہ ہے، جس سے شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، اور اس کے نتیجے میں پیداوار کی لاگت، اشیاء کی قیمتیں اور عالمی افراطِ زر بڑھ گیا۔
آبنائے جبل الطارق (جبرالٹر) :
آبنائے جبل الطارق یورپ کا دروازہ اور مغربی اسلامی دنیا اور افریقہ کا داخلی راستہ ہے۔ یہ بحیرۂ روم کو بحرِ اوقیانوس سے ملانے والی ایک گزرگاہ ہے، جو اندلس کے جنوبی کنارے اور مغربی عرب (مراکش، الجزائر، تیونس) کے شمال مغرب کے درمیان واقع ہے۔
یہ گزرگاہ انتہائی اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔ جبل الطارق پورٹ اتھارٹی کے مطابق سالانہ تقریباً 60,000 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں، جو تیل، قدرتی گیس، خوراک اور تیار شدہ مصنوعات جیسی بنیادی اشیاء لے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ جبل الطارق بحیرۂ روم کی مصروف ترین ایندھن فراہم کرنے والی بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔
اس گزرگاہ کی جیو اسٹریٹجک اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ برطانیہ کا اہم بحری اڈہ یہاں موجود ہے، جو کہ (His Majesty's Naval Base Gibraltar (HMNB Gibraltar)) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ بحری اڈہ خطے میں سمندری نقل و حرکت کی نگرانی کرتا ہے اور برطانوی فوج اور فضائیہ کی موجودگی کے ذریعے زمینی و فضائی سرگرمیوں کی نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ افواج مرمت، سپلائی اور لاجسٹک خدمات کی آڑ میں کام کرتی ہیں۔
ان تمام حقائق سے آبنائے جبل الطارق کی قدرتی اہمیت اور جیو اسٹریٹجک حساسیت ظاہر ہوتی ہے۔ اصولی طور پر اس گزرگاہ کی حیثیت ایک خودمختار سیاسی قیادت کی موجودگی پر منحصر ہے جو واضح اسٹریٹجک وژن رکھتی ہو، اور جو اسے اس کے اسلامی جغرافیائی تناظر میں واپس لائے، بیرونی فوجی کنٹرول کو محدود کرے، اور کسی بھی بیرونی طاقت کو اس گزرگاہ پر غلبہ حاصل کرنے سے روکے۔
مذکورہ بالا بحری گزرگاہیں وہ چند مثالیں ہیں جو ہماری کھوئی ہوئی اسٹریٹجک آبنائیں ہیں اور ان کی اس قدر جیواسٹریٹجک اہمیت ہے جو کہ نظر انداز شدہ ہے۔ درحقیقت یہ راہداریاں دنیا کی کنجیاں اور تالے ہیں، اور اس سے کہیں آگے بڑھ کر یہ راہداریاں اسلام کی سرزمین اور اس کے قدرتی اسٹریٹجک جغرافیہ کا حصہ ہیں۔
ایران کے خلاف جاری جنگ نے ان گزرگاہوں کی اہمیت اور اسٹریٹجک حساسیت کو آشکار کر دیا ہے۔ جیسے ہی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا، بحری انشورنس کمپنیوں نے متفقہ طور پر اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں اور ٹینکروں کے لئے مہیا کردہ کوریج کو جنگ سے متعلقہ خطرات کے باعث واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔
رائٹرز کے مطابق بحری جہازوں کے لئے بڑی انشورنس کمپنیوں جیسے گارڈ، سکولڈ، نارتھ اسٹینڈرڈ، لندن پی اینڈ آئی کلب اور امریکن کلب نے یکم مارچ کو اپنی ویب سائٹس پر نوٹس جاری کر دئیے کہ 5 مارچ سے ان کی کوریج ختم ہو جائے گی۔
دریں اثناء، بڑی کنٹینر شپنگ کمپنیوں، بشمول میرسک اور ہاپاگ لائیڈ (Maersk and Hapag-Lloyd)، نے آبنائے ہرمز کے ذریعے نقل و حمل معطل کر دی، جس سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی اور توانائی و خام مال کی فراہمی میں اچھی خاصی تاخیر ہوئی، جس سے عالمی تجارت کی رفتار سست پڑ گئی۔
عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے بھی خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ اور توانائی کی سپلائی میں خلل سے عالمی سطح پر افراطِ زر میں اضافہ کا خدشہ ہے اور اگر تیل و گیس کی بلند قیمتیں زیادہ عرصہ تک برقرار رہیں تو یہ معاشی ترقی میں سست روی کا باعث بن سکتا ہے۔ (رائٹرز، 19 مارچ، 2026ء)۔
نیز یہ کہ عالمی سرمایہ دار بنک، گولڈمین ساکس (Goldman Sachs) نے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی پیش گوئی کی ہے، اور اندازہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سپلائی میں خلل اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش یونہی جاری رہی تو برینٹ خام تیل کی قیمت اپنی 2008ء کی سابقہ بلند ترین سطح، یعنی 147 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
یوں اس کے نتیجے میں گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس سے کمپنیوں اور حکومتوں، دونوں کے لئے ہی توانائی کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے صنعتی پیداوار پر دباؤ آ رہا ہے اور سرمایہ دارانہ معیشتوں میں آئندہ سالوں کے لئے مالی منصوبہ بندی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
اسی وجہ سے یورپ، جو پہلے ہی روس-یوکرین جنگ اور روسی تیل و گیس پر عائد پابندیوں کے باعث شدید توانائی بحران کا سامنا کر رہا ہے، یورپ نے ایک بڑے جھٹکے کی توقع کرنا شروع کر دی ہے، جو اس تنازعے کے باعث مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یورپ سپلائی میں خلل کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش میں مبتلا ہے اور اسی کے مطابق اپنی گیس ذخیرہ کرنے کی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہا ہے۔
یوں ایک نئے عالمی توانائی بحران کے امکانات دوبارہ ابھر رہے ہیں۔ جس نے یورپی حکومتوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ—مجبوری اور منڈی پر انحصار کے باعث—کشیدگی میں کمی کو ترجیح دینے اور ٹرمپ کی جانب سے کسی قسم کے جنگی اتحاد میں شامل ہونے سے گریز کرنے کی طرف مائل ہو گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں خلل کی اقتصادی قیمت نہایت زیادہ ہے، خصوصاً یورپ کے لئے۔ جیسا کہ سرمایہ دارانہ دنیا کا معروف قول ہے: ”سرمایہ بزدل ہوتا ہے“، جو ہمیشہ اپنے تحفظ اور استحکام کی تلاش میں رہتا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ ٹرمپ کے لئے ایک عسکری دلدل بن چکی ہے، بالکل ویسی ہی جیسا کہ ٹرمپ کے پیش روؤں کے لئے ماضی میں افغانستان اور عراق کی جنگیں رہی تھیں۔ تاہم اس تصادم میں جو کچھ بھی سامنے آیا وہ فوری تیز اور حیران کن تھا، جس نے مغربیت کے زوال کی حد اور اس کی سرکردہ طاقت (امریکہ) کو درپیش اندرونی نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔
آبنائے ہرمز اور اس کی جزوی بندش کے اثرات نے امریکہ کے ساتھ ساتھ مغرب کے وسیع تر علاقوں کو ایک شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ خصوصاً یورپ اس وقت ایک ایسے منظرنامے کا سامنا کر رہا ہے جو عظیم کساد بازاری سے مشابہ ہے، جس کی بڑی وجہ خلیجی تیل پر یورپ کا شدید انحصار ہے، خاص طور پر روس-یوکرین جنگ اور پابندیوں کے باعث روسی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ کے بعد۔
اس جنگ نے طاقت کے وہ کارڈز ظاہر کر دئیے ہیں جو گرچہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود ہیں لیکن جو ایک متحد ریاست کی عدم موجودگی کے باعث کہیں کھو گئے ہیں۔ اس جنگ نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ ان میں سے چند کارڈز مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے مرکز پر کس قدر مؤثر اور مہلک اثر ڈال سکتے ہیں۔
طاقت کے ان کارڈز میں توانائی کے وسائل شامل ہیں، جو مسلم ممالک میں موجود وافر دولت ہیں، اور جو مغرب کی صنعتی پیداوار، منڈیوں پر مبنی زراعت، ٹیکنالوجی، شپنگ اور عالمی سرمایہ دارانہ تجارتی راستوں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
اسی طرح طاقت کے ان کارڈز میں سمندروں اور بحیروں کے اہم چوک پوائنٹس پر کنٹرول بھی شامل ہے، جو توانائی، خام مال، معدنیات اور صنعتوں کے لئے ضروری سامان، ٹیکنالوجی اور زراعت کی ترسیل کے لئے قدرتی شریانیں ہیں، اور یہ سب عناصر مل کر سرمایہ دارانہ عالمی معیشت کی سپلائی چینز اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو منظم کرتے ہیں۔
ٹرمپ کی امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ نے ایک واضح حقیقت کی تصدیق کی ہے: اور وہ یہ کہ، مسلمانوں کا مغرب کے ساتھ مسئلہ بنیادی طور پر عسکریت کے درجہ کا نہیں بلکہ اصل میں سیاسی نوعیت کا ہے۔ مغرب اس خطے میں جس بات کا فائدہ اٹھا رہا ہے وہ ایک متحد ریاستی ڈھانچے کی عدم موجودگی ہونا ہے اور مغرب یہ استحصال اس لئے کر رہا ہے تاکہ اپنی عسکری مشکل کو ایک سیاسی راستۂ فرار میں بدل سکے۔
اور بعینہٖ یہی وہ سیاسی چال ہے جو آج ایران کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھول کر کی جا رہی ہے، تاکہ عسکری تعطل سے نکلنے اور کشیدگی کم کرنے کا راستہ تلاش کیا جا سکے۔
مسلمانوں کے معاملے میں بنیادی مسئلہ ایک نظریاتی سیاسی قیادت کی اشد ضرورت ہے—ایک خودمختار ریاست جس کے پاس ایک واضح آئیڈیالوجیکل وژن ہو—جو مسلمانوں کے پاس موجود اسٹریٹجک وسائل کو فعال کرے تاکہ مغرب کی پیش قدمی کو روکا جا سکے اور اس کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ مباحثے بھی ہوتے ہیں کہ مغرب حقیقی دباؤ اور اپنے نظام میں موجود نقائص کے باعث اندرونی کمزوریوں کا شکار ہے۔ اس نقطۂ نظر سے اگر ایک بھر پور اور جامع مقابلہ کیا جائے، جو مغرب کے اقتصادی اور لاجسٹک راستوں کو سختی سے محدود کر دے، تو نظریاتی طور پر مغرب کو شدید تھکاوٹ اور کمزوری کا شکار بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم ایسے کسی بھی منظرنامے کا نتیجہ بالآخر اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی حقیقی سیاسی قوت موجود ہو جو مرکزی فیصلہ سازی اور مربوط حکمت عملی کی صلاحیت رکھتی ہو۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ نے اس حقیقت کو ظاہر کر دیا ہے کہ مسلم دنیا کے پاس اسٹریٹجک اور جیو اسٹریٹجک طاقت کے وہ کارڈز موجود ہیں جو استعمال میں نہیں لائے جا رہے، جبکہ بیرونی طاقتیں انہیں اپنے مفاد کے لئے اس لئے استعمال کر پا رہی ہیں کیونکہ مسلمانوں کے پاس ایک متحد ریاستی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔
اس تناظر میں مسلم دنیا میں مرکزی سیاسی قیادت کی عدم موجودگی کو ایک بڑا اسٹریٹجک خلا سمجھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی اجتماعی صلاحیت، قدرتی قوتوں اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کا بے تحاشا نقصان ہوا ہے۔ یہ وسائل اور صلاحیتیں، جو مسلم دنیا کے فائدے کے لئے استعمال ہونی چاہئیں تھیں، لیکن ایک مربوط کنٹرول کی عدم موجودگی کے باعث ایسے ذرائع اور آلۂ کار بن چکی ہیں جو خود اس امت کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔
ہمارے یہ ذرائع ہماری ہی دولت ہیں؛ ایک ایسے وقت میں جبکہ اسلامی ریاست موجود نہیں ہے تو ہماری یہ آبنائیں اور یہ ذرائع ہمارے کھوئے ہوئے اسٹریٹجک وسائل ہیں۔ یہ ہمیں تب تک واپس نہیں مل پائیں گے جب تک موجودہ استعماری نظام کو ختم نہ کر دیا جائے اور اس استعماری نظام کے ملبے پر اسلامی ریاست کو قائم کر کے اس جیو اسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل خلا کو بند نہ کر دیا جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾
’’اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘] سورۃ الیوسف؛ 12:21[




