السبت، 29 ذو القعدة 1447| 2026/05/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

کیا یورپ اور امریکہ ایک دوسرے سے علیحدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

 

 

تحریر: استاد احمد الخطوانی

 

(ترجمہ)

 

 

یہ واضح ہے کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور  اسٹریٹجک فاصلے بڑح گئے ہیں، اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ان کے درمیان ایسا کبھی نہیں ہوا۔

 

ان کے درمیان معاملہ صرف امریکہ کی جانب سے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر بھاری کسٹم ڈیوٹی (ٹیرف) عائد کرنے تک محدود نہیں رہا، جسے ان کے خلاف اس طرح کی پابندیاں تصور کیا گیا جیسے وہ امریکہ کے حلیف نہیں بلکہ حریف یا دشمن ممالک ہوں، اور نہ ہی یہ معاملہ امریکہ سے درآمد کی جانے والی توانائی کی ان بلند قیمتوں تک محدود ہے جو یورپ یوکرین جنگ کے بعد تیزی سے امریکہ سے حاصل کر رہا ہے، کیونکہ اس جنگ کی وجہ سے روس سے سستی توانائی کی سپلائی منقطع ہو گئی ہے۔

 

امریکہ پر یورپی رہنماؤں کا اعتماد پہلے ہی شدید متزلزل ہو چکا تھا، خاص طور پر جب ٹرمپ نے جزیرہ گرین لینڈ اور کینیڈا کو (امریکہ میں) ضم کرنے کا مطالبہ کیا، اور یہ اعتماد اس وقت دوبارہ متزلزل ہوا جب ٹرمپ نے انہیں حقیر سمجھا اور یوکرین کے معاملے پر امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں انہیں شامل نہیں کیا، جس سے ان پر یہ واضح ہو گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اب یورپ کی قیمت پر روس کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے۔

 

امریکہ کے ان تلخ رویوں کا اثر یورپی ممالک پر بھی پڑا جنہوں نے بحر اوقیانوس (اٹلانٹک) کے دائرے سے باہر نئی شراکت داریاں تلاش کرنا شروع کر دیں۔ چنانچہ برطانیہ کے وزیر اعظم سٹارمر اور فرانس کے صدر میکرون چین کے دورے پر گئے تاکہ امریکی دائرہ اثر سے دور وہاں اپنے مفادات تلاش کریں، جس سے ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کو شدید پریشانی ہوئی کیونکہ وہ امریکہ سے کسی مفاہمت کے بغیر اس کے دشمن ملک چین کے ساتھ تال میل پیدا کرنے لگے تھے۔

 

فرانس نے اپنی تاریخ میں پہلی بار امریکہ کے خزانوں میں موجود اپنا بقیہ سونا واپس نکال لیا، سپین نے ایران جانے والے امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا، اور سپین و اٹلی دونوں نے 'یہودی وجود' (اسرائیل) کے ساتھ فوجی تعاون کی یادداشتیں معطل کر دیں۔ جبکہ جرمنی نے امریکی چھتری سے ہٹ کر اپنی مسلح سازی کے لیے خود انحصاری کا فیصلہ کیا، اور دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار اسلحہ اٹھانے کے قابل افراد پر لازمی فوجی سروس نافذ کر دی۔

 

امریکہ کے بغیر ایک نئے یورپی 'نیٹو' اتحاد کے قیام کی باتیں ہونے لگی ہیں، اور یہ ٹرمپ کی جانب سے اس اتحاد پر بارہا حملوں کے بعد ہوا ہے، جسے اس نے امریکہ پر ایک بوجھ قرار دیا تھا، اور دھمکی دی تھی کہ اگر یورپی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کیا تو امریکہ اس اتحاد میں اپنا تعاون کم کر دے گا۔ اس صورتحال نے یورپ کو امریکی چھتری سے دور اپنی سلامتی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔

ٹرمپ کی جانب سے کئی بین الاقوامی معاہدوں سے دستبرداری نے یورپیوں کو بہت نقصان پہنچایا جن میں سب سے اہم پیرس ماحولیاتی معاہدہ تھا، جس میں ٹرمپ نے یورپ کے سیکیورٹی اور ماحولیاتی مفادات کو واضح طور پر نظر انداز کیا۔ اسی وجہ سے یورپی ممالک ٹرمپ کے دور میں امریکہ کو ایک قابل اعتماد اور محفوظ حلیف کے بجائے ایک ایسا 'ناپسندیدہ شراکت دار' سمجھنے لگے جو ان پر مسلط کر دیا گیا ہو۔

 

یورپیوں کے سامنے ایسے بہت سے اشارے ظاہر ہوئے جن سے پتا چلتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب یورپ کو ایک ایسے 'دشمن' کے طور پر دیکھتی ہے جو ٹرمپ کی حامی 'ماگا' (MAGA) تحریک کے نعروں کے مطابق 'امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے' کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ یورپیوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں یورپی یونین کے ساتھ ایک متحد بلاک کے طور پر نمٹنے کے بجائے یورپی ممالک کے ساتھ انفرادی طور پر دو طرفہ معاملات کو ترجیح دینے لگی ہیں، اور وہ یورپیوں کے ساتھ بطور اتحاد ڈیل کرنے کے بجائے ہر ملک کی عوامی اور انتہا پسند قوم پرست جماعتوں کی علیحدہ علیحدہ حمایت کر رہی ہیں۔

 

امریکہ کی ان پالیسیوں نے یورپ کو تیزی سے امریکہ سے علیحدگی، اپنی ذات میں سمٹنے، اور اپنی دفاعی و صنعتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی طرف دھکیل دیا ہے تاکہ امریکہ کی طرف سے مکمل طور پر تحفظ ختم کر دیے جانے کے کسی بھی امکان کا مقابلہ کیا جا سکے۔

 

ایران کے خلاف جنگ کے بعد ٹرمپ نے اپنا تمام تر غصہ یورپی رہنماؤں پر نکالا کیونکہ انہوں نے ایران کے خلاف اس کی جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا، چنانچہ وہ انہیں برا بھلا کہنے لگے اور ان کے ملکوں کی صلاحیتوں کو حقیر جاننے لگے، اور انہیں نقصان پہنچانے، شرمندہ کرنے، بلکہ ان کی تذلیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی!

 

حالیہ رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ارجنٹائن کے ساحلوں کے قریب واقع جزائر فاک لینڈ پر برطانیہ کی خودمختاری کی حمایت کے اپنے تاریخی موقف پر نظر ثانی کرنے پر غور کر رہی ہے، کیونکہ (برطانوی وزیر اعظم) سٹارمر نے ایران پر امریکی حملے میں تعاون نہیں کیا تھا۔ اس طرح امریکہ اسے برطانیہ پر جنگ میں اپنے پیچھے چلنے کے لیے ایک سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی قریبی سمجھی جانے والی ارجنٹائن کی ہاویئر ملی حکومت نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اس دراڑ کا فائدہ اٹھایا اور اس کے وزیر خارجہ نے برطانیوں کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی تاکہ اس جزیرے کی اس حیثیت کو ختم کیا جا سکے جسے انہوں نے 'نوآبادیاتی صورتحال' قرار دیا۔ تاہم برطانیہ نے اس دعوت کو مسترد کر دیا اور کہا کہ فاک لینڈ پر برطانیہ کی خودمختاری ناقابلِ گفت و شنید ہے، اور یہ کہ 2013 میں وہاں ہونے والے ریفرنڈم نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہاں کے باشندوں نے برطانوی تاج کے زیرِ انتظام رہنے کا انتخاب کیا ہے۔

 

یوں فاک لینڈ ایک ایسا نیا دباؤ اور سودے بازی کا مہرہ بن گیا جسے امریکہ برطانیہ کے ساتھ اپنے سیاسی اختلافات میں استعمال کر رہا ہے، حالانکہ برطانیہ کو اس کا قریب ترین اتحادی ملک تصور کیا جاتا تھا۔

 

ٹرمپ کی پالیسیوں نے حلیفوں کے درمیان سیاسی افراتفری پھیلا دی اور ایک ایسی وسیع دراڑ پیدا کر دی ہے جسے پُر کرنا مشکل ہے۔ یورپیوں اور امریکہ کے درمیان اختلافات سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں سے بڑھ کر اب تہذیبی اور اقدار کے دائرے تک پہنچ چکے ہیں، جہاں ٹرمپ نے یورپی لبرل اقدار پر شدید حملہ کیا، اور انجیلی (مسیحی) ثقافت، سفید فام نسل کی بالادستی، اور ہجرت کے خلاف ایک بھرپور مہم کے اعلان پر توجہ مرکوز کی۔ یہ ایک ایسا غیر مہذب طریقہ کار ہے جسے یورپی برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے اکثر ممالک بڑھاپے (آبادی میں کمی) کے مسائل کا شکار ہیں اور انہیں افرادی قوت کے لیے ہجرت کی اشد ضرورت ہے۔

 

ایران پر امریکی جنگ نے امریکہ اور یورپ کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے اور ان کے درمیان اختلاف کی دوری کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں برطانیہ نے یورپی یونین کے ساتھ دوبارہ اسی قدر قربت کی پالیسی اختیار کرنا شروع کر دی ہے جس قدر وہ امریکہ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر جب ایک کے بعد ایک ایسے امریکی بیانات سامنے آ رہے ہیں جو ان سابقہ حلیفوں کے درمیان تعلقات منقطع ہونے کی بات کرتے ہیں، ان میں سے تازہ ترین بیان امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیٹ کا ہے کہ "یورپ میں امریکی فوجی موجودگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوگی"۔ یہ بات یورپ کو تیزی سے اس طرف دھکیل رہی ہے کہ وہ اس بارے میں سنجیدگی سے سوچے کہ اگر امریکہ اچانک اپنی دفاعی چھتری ہٹانے کا فیصلہ کر لے تو اسے امریکہ کی اس حمایت کے بغیر کیا کرنا چاہیے جس کا وہ گزشتہ اسی سالوں سے عادی رہا ہے،اور یہ کوئی بعید  نہیں ہے، خاص طور پر جب وہ یوکرین میں روس کے ساتھ ایک طویل تھکا دینے والی جنگ میں مصروف ہے۔

 

گزشتہ اسی سالوں سے یورپی افواج نے امریکہ کی لامحدود حمایت پر انحصار کیا ہے، اور اس حمایت کا متبادل پیدا کرنے میں طویل وقت لگے گا، اس کے لیے بڑی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا پڑے گا اور کثیر رقم درکار ہوگی۔ بیلجیئم کے وزیر دفاع تھیو فرینکن نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ "یورپ میں دفاع کے بیشتر بنیادی نظام امریکہ سے لیے گئے تھے، اور جب ہم F-35 طیاروں اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز کی بات کرتے ہیں تو وہ تقریباً تمام کے تمام امریکی ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا: "امریکی چینوک طیارے بھاری ہیلی کاپٹروں کے معاملے میں بہترین انتخاب ہیں"، اور یہی حال دیگر تمام ہتھیاروں کا بھی ہے۔

 

یورپ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے تقدیر ساز فیصلوں میں متحد نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، روس کے سامنے یوکرین کے دفاع کا معاملہ ایسا ہے جس میں یورپی ممالک کے درمیان اس قدر اختلاف پایا جاتا ہے جو انہیں کافی حد تک کمزور کر دیتا ہے۔ پولینڈ نے اپنے فوجی یوکرین بھیجنے پر اعتراض کیا ہے، حالانکہ وہ اگلے مورچوں پر واقع ملک ہے اور یورپ کی بڑی افواج میں سے ایک اس کے پاس ہے۔ ایک پولش اہلکار نے یہ عذر پیش کرتے ہوئے کہ پولینڈ کی روس کے علاقے کیلینن گراڈ اور روس کے حلیف ملک بیلاروس کے ساتھ لمبی سرحدیں ہیں جنہیں پولش افواج کے ذریعے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، کہا کہ: "پولینڈ کے پاس یوکرین میں فوج بھیجنے کی اضافی گنجائش سرے سے موجود ہی نہیں ہے"۔

 

ایسا لگتا ہے کہ یوکرین کے دفاع کا فوجی بوجھ صرف برطانیہ اور فرانس کے کندھوں پر ہے کیونکہ وہ دونوں اس خیال پر متفق ہو گئے ہیں، جبکہ جرمن چانسلر اولاف شولتز نے ذمہ داری سے بچتے ہوئے کہا: "یوکرین میں امن دستے بھیجنے کے حوالے سے کوئی بھی بحث قبل از وقت اور انتہائی نامناسب ہے"۔ حالانکہ یوکرین میں جنگ جاری ہے اور وہاں فوج بھیجنے کی اشد ضرورت ہے۔

 

برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ "یورپی ممالک کو اخراجات اور یوکرین کو فراہم کی جانے والی صلاحیتوں، دونوں لحاظ سے اپنی کوششوں میں تیزی لانا ہوگی"۔ یورپیوں نے اب دفاعی اخراجات میں اضافے اور پہلے سے کہیں زیادہ خود انحصاری کی ضرورت کو محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہالینڈ کے وزیر اعظم ڈک شوف نے کہا: "یورپ نے امریکہ کا یہ پیغام سمجھ لیا ہے کہ اسے اب خود ہی مزید اقدامات کرنے ہوں گے"۔ بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں کے درمیان یہ خلیج بلاشبہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی نظام اب نئی طاقتوں کے حق میں تبدیل ہونے کے قریب ہے، جن میں سرِ فہرست اللہ کے حکم سے عنقریب قائم ہونے والی اسلامی ریاست کی قوت ہے۔

 

 

Last modified onہفتہ, 16 مئی 2026 17:43

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک