بسم الله الرحمن الرحيم
مالی میں بگڑتے ہوئے حالات
تحریر: استاد احمد الخطوانی
(ترجمہ)
مالی میں اس وقت ایک بڑی کشیدگی اور صورتحال کی سنگینی دیکھی جا رہی ہے، جو ازوادی جنگجوؤں اور القاعدہ سے وابستہ 'نصرۃ الاسلام والمسلمین' اتحاد کی جانب سے مالی کی فوج کے ٹھکانوں پر کیے گئے مربوط حملوں کے سلسلے کا نتیجہ ہے۔ ان حملوں میں مالی کی فوج کو روسی 'افریقہ کور' (سابقہ ویگنر گروپ) کی مدد حاصل تھی۔
یہ ازوادی جنگجو 'عوامی محاذ برائے آزادیِ ازواد' کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں اکثریت طوارق نسل کے لوگوں کی ہے۔ یہ لوگ شمالی مالی، نائجر اور صحرائے اعظم کے باشندے ہیں۔ ان کو القاعدہ سے وابستہ اسلامی گروہوں کی حمایت اور اتحاد حاصل ہے، جو شمالی مالی کے وسیع علاقوں پر قبضے کے لیے طوارق کے ساتھ مل کر اپنے حملوں کی مکمل ہم آہنگی اور منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
عوامی محاذ نے 'جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین' کے ساتھ مل کر کيدال شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، اور ان مربوط حملوں میں شمال کے پانچ دیگر سٹریٹیجک مقامات یعنی گاو، اغیلہوک اور انفیف، وسطی علاقے میں سیفاری، اور دارالحکومت باماكو کے قریب واقع انتہائی اہم 'کینیوروبا' جیل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اب دارالحکومت باماكو بھی حملوں کی زد میں آ چکا ہے۔ ان حملہ آور قوتوں نے کاتی کے علاقے میں مالی کے وزیرِ دفاع کی رہائش گاہ کو نشانہ بنا کر انہیں ہلاک کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی، جس نے مالی کی ریاست کی کمزوری اور ناپائیداری کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
دوسری جانب، مالی کی فوج نے ڈرون طیاروں اور روسی افریقہ کور کے اہلکاروں کی مدد سے ان حملوں کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے حملوں کی زد میں آنے والے اکثر علاقوں میں صورتحال پر دوبارہ قابو پا لیا ہے اور حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
مالی کی یہ حکومت جس نے ایک طویل استعمار کے بعد فرانس کو ملک سے نکالنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی، اور جس نے برکینا فاسو اور نائجر کے ساتھ مل کر افریقی براعظم میں فرانسیسی اثر و رسوخ کے خلاف ایک فعال سہ فریقی سیاسی بلاک بنانے میں بھی کامیابی حاصل کی؛ خارجہ پالیسی میں ان تمام بڑی کامیابیوں کے بعد، اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہی حکومت اپنے اندرونی علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اسے نہ صرف ازواد کے بیشتر علاقوں میں شکست کا سامنا ہے بلکہ وہ اپنے عوام کو متحد کرنے اور اپنی سرزمین پر اپنی خودمختاری قائم کرنے میں بھی ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ طاقت کا توازن اب مخالف قوتوں یعنی 'عوامی محاذ برائے آزادیِ ازواد' اور اس کے ساتھ متحد اسلامی گروہ کے حق میں جھک رہا ہے۔ مالی کی ریاست کی مدد کرنے والی روسی افواج (روسی کور) بھی مخالف قوتوں کی پیش قدمی روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مالی کی حکومت ازواد کے خطے سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھونے کے قریب ہے۔
مالی کا خطہ ازواد اور ریاست کے بہت سے دیگر علاقوں سے محروم ہونا دراصل ریاست کے پاس کسی ایسے ہمہ گیر اصولی و نظریاتی تصور کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے جو اس کے تمام نسلی گروہوں کو ایک لڑی میں پرو سکے۔ ریاستِ مالی کا فرانسیسی استعمار سے چھٹکارا حاصل کر لینا اسے اپنے عوام کی طرف سے کوئی 'بلینک چیک' (کھلی چھوٹ) فراہم نہیں کرتا، خاص طور پر اس صورت میں جب وہ ایک استعمار کو دوسرے استعمار سے بدل رہی ہو؛ کیونکہ روسی کور کی حالت فرانسیسی استعمار سے کچھ مختلف نہیں ہے، یہ بھی قاتلوں اور کرائے کے فوجیوں پر مشتمل ایک لشکر ہے۔ اگر حقیقت یہی ہے، تو مالی کی ریاست اپنے عوام سے یہ امید کیسے رکھ سکتی ہے کہ وہ اس (روس) کے ساتھ اتحاد پر مطمئن ہو جائیں گے؟
مزید برآں، فرانس، امریکہ، برطانیہ اور افریقہ میں ان کے آلہ کار ممالک اس نئی مالی ریاست کی مدد نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ مغربی اثر و رسوخ کو نکال کر روسی اثر و رسوخ کو اس کے متبادل کے طور پر لانا چاہتی ہے۔
اس طرح مالی نے خود کو ایک بڑے بھنور میں پھنسا ہوا پایا ہے؛ وہ نہ تو تنِ تنہا اپنی زمین پر اپنا کنٹرول بحال کرنے کے قابل ہے، اور نہ ہی روسی افواج نے اس حوالے سے اس کی کوئی مدد کی ہے، بلکہ شاید فرانس اور دیگر مغربی ممالک اس کی اس حالت پر خوش ہو رہے ہوں؛ مالی اس وقت ایک ایسی ناگفتہ بہ صورتحال سے دوچار ہے جس پر رشک نہیں کیا جا سکتا۔
اگر موجودہ حالات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو بعید نہیں کہ مالی دو حصوں میں تقسیم ہو جائے؛ ایک ریاست شمال میں طوارق اور ازوادیوں کے لیے، اور دوسری جنوب میں افریقی باشندوں کے لیے۔ مالی ہو یا کوئی اور ملک، وہ نسلی مسائل اور غیر ملکی تسلط سے اس وقت تک حقیقی معنوں میں نجات حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اسلام کو بطور عقیدہ اور سیاسی نظام اختیار نہ کر لے۔ جب تک مالی قوم پرستی اور وطن پرستی کے نظریات میں جکڑا رہے گا، وہ نسلی و لسانی تنازعات کے ایک لاحاصل چکر میں گھومتا رہے گا اور اسے فرانسیسی اثر و رسوخ نکال باہر کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔
لہٰذا مالی کے لیے واحد حل یہی ہے کہ وہ ایک حقیقی اسلامی ریاست میں بدل جائے جس میں مالی، طوارق اور افریقی باشندے اسلام اور اسلامی عقیدے کی بنیاد پر اکٹھے زندگی بسر کریں۔ پھر دیگر افریقی ممالک اس کے ساتھ مل کر ایک ایسی طاقتور ریاست میں متحد ہو جائیں جس میں تمام نسلی گروہ اسلام کے سانچے میں ڈھل کر ایک ہو جائیں۔
Latest from
- الرایۃ کے متفرقات – شمارہ نمبر 608
- سوڈان میں ہیضہ کا پھیلاؤ: اس کے اسباب اور اس سے بچاؤ
- ”تیل کے بدلے خوراک“ سے ”نقد کے بدلے غذائیت“ تک! یمن میں منظم غربت پیدا کرنے کا کفار کا آلہ کار
- فورتھ جنریشن وار(Fourth Generation War) اور سوڈانی ریاست کا بتدریج خاتمہ
- صدارتی تقرریوں کے ذریعے شامی عوامی اسمبلی (مجلس الشعب) کی تشکیل کی تکمیل شرعی خلاف ورزیاں اور سیاسی خطرات






