بسم الله الرحمن الرحيم
اداریہ
مصر اور سامورائی بانڈز کا اجراء
تحریر: استاد محمود اللیثی
(ترجمہ)
یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ مصر دیوالیہ ہو چکا ہے یا ہونے کے قریب ہے، کیونکہ اس کا بیرونی مجموعی قرضہ 164 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور اندرونی قرضہ 15 ٹریلین (کھرب) پاؤنڈز سے زائد ہو گیا ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ اسے بین الاقوامی اداروں، جیسے کہ ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مزید سودی قرضے حاصل کرنے میں بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے، سوائے اس کے کہ امریکہ مداخلت کرے یا سفارش کرے، جیسا کہ ماضی میں کئی بار ہو چکا ہے۔ اسی لیے مصر نے اب ایسے قرض خواہوں یا بالفاظِ دیگر نئے مالی معاونین کی تلاش شروع کر دی ہے جن سے وہ عام طور پر قرض نہیں لیتا تھا، چنانچہ اس نے جاپان سے فنڈنگ یا قرض حاصل کرنے کے لیے 'سامورائی بانڈز' جاری کرنے کا رخ کیا ہے۔
سامورائی بانڈز ایسے قرض بانڈز ہیں جو غیر جاپانی ادارے جاپانی مارکیٹ کے اندر جاری کرتے ہیں۔ یہ جاپانی ین کی قدر میں ہوتے ہیں اور جاپان میں رائج ریگولیٹری قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ فنڈنگ کا ایک ایسا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں جو غیر ملکی ریاستوں اور کمپنیوں کو جاپانی سرمایہ کاروں تک براہِ راست رسائی فراہم کرتے ہیں۔ حالیہ پیشکش میں مصر نے افریقی ترقیاتی بینک گروپ کی جزوی کریڈٹ گارنٹی کے تعاون سے 80 ارب جاپانی ین (50 کروڑ ڈالر) مالیت کے 'پائیدار سامورائی بانڈز' جاری کیے ہیں۔
اس اجراء کو خاص اہمیت اس لیے حاصل ہے کہ اس کا تعلق محض [ نئے قرض کے حصول سے نہیں ہے، بلکہ یہ عوامی قرضوں کے انتظام (ڈیٹ مینجمنٹ) میں ایک ایسے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس کی بنیاد فنڈنگ کی منڈیوں میں تنوع لانے، سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے، اور نسبتاً بہتر شرائط پر طویل مدتی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے ان بانڈز کی اصل نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے، اور پھر ان اسباب کا بیان اہمیت رکھتا ہے جنہوں نے مصر کو اس وقت یہ قدم اٹھانے پر راغب کیا ہے۔
سامورائی بانڈز کی حقیقت یہ ہے کہ یہ قرض حاصل کرنے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو کسی بھی خود مختار یا ادارہ جاتی بانڈ کی طرح ہی ہے، تاہم اس کی انفرادیت تین عناصر میں پوشیدہ ہے: اول یہ کہ اسے جاری کرنے والا ادارہ غیر جاپانی ہوتا ہے، دوم یہ کہ یہ بانڈ جاپانی ین کی قدر میں ہوتا ہے، اور سوم یہ کہ اس کا اجراء جاپانی مارکیٹ کے اندر وہاں کے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر اسے جاپانی منڈیوں میں داخل ہونے اور وہاں کی مقامی بچتوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا ایک راستہ سمجھا جاتا ہے، بالخصوص ان مالیاتی اداروں، سرمایہ کاری فنڈز اور انشورنس کمپنیوں کے لیے جو آمدنی کے متنوع اور مستحکم ذرائع (فکسڈ انکم انسٹرومنٹس) تلاش کر رہی ہوتی ہیں۔
جب مصر اس قسم کے بانڈز جاری کرے گا، تو وہ نہ صرف مصر کی مقامی مارکیٹ سے اور نہ ہی صرف روایتی ڈالر بانڈز کی مارکیٹ سے قرض لے رہا ہو گا، بلکہ وہ کرنسی، سرمایہ کاروں اور قیمتوں کے تعین کی شرائط کے لحاظ سے فنڈنگ کے ایک بالکل مختلف دائرے میں داخل ہو جائے گا۔ مصر کا حالیہ اجراء 5 سال اور 10 سال کی دو اقساط پر مشتمل ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مقصد صرف نقد رقم (لیکویڈیٹی) جمع کرنا نہیں بلکہ ادائیگیوں کی مدت کو طویل وقت پر پھیلانا بھی ہے۔
مصر کی جانب سے ان بانڈز کے اجراء کی پہلی وجہ فنڈنگ کے ذرائع میں تنوع لانا ہے۔ وہ ممالک جو قرض لینے کے لیے محض ایک ہی ذریعے یا ایک ہی مارکیٹ پر انحصار کرتے ہیں، وہ سود (ربا) کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ، سرمایہ کاروں کے بدلتے ہوئے رجحانات، یا کسی خاص کرنسی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے سامنے زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، سامورائی بانڈز کا اجراء مصر کو مغربی منڈیوں یا ڈالر کی قدر والے قرضوں کے آلات پر مکمل انحصار سے دور لے جا کر جاپان میں سرمایہ کاروں کے ایک نئے طبقے تک رسائی فراہم کرے گا۔
دوسری وجہ قرض کی اوسط مدت میں اضافہ کرنا ہے۔ جب وزارتِ خزانہ 5 اور 10 سال کی مدت کے بانڈز جاری کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو اس سے مستقبل قریب میں واجب الادا ادائیگیوں کا دباؤ نسبتاً کم ہو جاتا ہے، اور اسے نقد بہاؤ (کیش فلو) کے انتظام اور عوامی قرضوں کی ادائیگی (ڈیٹ سروسنگ) میں زیادہ گنجائش مل جاتی ہے۔ یہ نکتہ مصر کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ وہ جمع شدہ مالیاتی دباؤ کو مؤخر کرنے اور بیرونی و اندرونی قرضوں کے بیک وقت بڑھتے ہوئے حجم سے پیدا ہونے والے "برف کے گولے" (اسنو بال ایفیکٹ) کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تیسری وجہ فنڈنگ کی لاگت میں کمی یا اس کی شرائط کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔ افریقی ترقیاتی بینک گروپ کی جانب سے جزوی کریڈٹ گارنٹی کی موجودگی سرمایہ کاروں کے پائے جانے والے خدشات کو کم کرتی ہے، اور یہ کسی غیر ضمانتی اجراء کے مقابلے میں قیمتوں (سود کی شرح) کے تعین کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، جاپان جیسی منظم مارکیٹ میں اس اجراء کی کامیابی مصر کی متنوع مارکیٹوں تک رسائی کی صلاحیت کے بارے میں ایک مثبت اشارہ دے گی، جو مستقبل کے دیگر اجراء میں بھی اس کے لیے سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔
جہاں تک مصری اجراء کے 'پائیدار' پہلو کا تعلق ہے، تو معاملہ صرف 'ین' کرنسی میں اجراء تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان بانڈز کو باقاعدہ 'پائیدار سامورائی بانڈز' قرار دیا گیا ہے، یعنی ان سے حاصل ہونے والی رقم مصر میں پائیدار خودمختار فنڈنگ کے فریم ورک کے تحت منظور شدہ منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ یہ عالمی مالیاتی منڈیوں کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے عین مطابق ہے جہاں سرمایہ کاروں کا ایک طبقہ اب ایسے مالیاتی آلات کو ترجیح دیتا ہے جو واضح اور قابلِ نگرانی ترقیاتی، ماحولیاتی یا سماجی منصوبوں سے جڑے ہوں۔ یہ وہ موقف ہے جو سرمایہ کاروں کو مطمئن کرنے کے لیے سرکاری طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ یہ رقوم بھی بدعنوانی، اقربا پروری اور نمائشی منصوبوں کی نذر ہو سکتی ہیں۔
مالیاتی نقطہ نظر سے، اس اجراء سے مصر کو کئی براہِ راست اور بالواسطہ فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے؛ ان میں سے پہلا فائدہ 80 ارب ین کی صورت میں طویل مدتی فنڈنگ کا حصول ہے، جو پائیدار فنڈنگ کے فریم ورک کے تحت اہل منصوبوں کی مالی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔ دوسرا فائدہ قرضوں کے ڈھانچے میں بہتری ہے، جو کہ ادائیگیوں کو قلیل مدت کے شدید دباؤ میں مرکوز کرنے کے بجائے درمیانی اور نسبتاً طویل مدت پر پھیلا کر حاصل کی جائے گی۔
اسی طرح، افریقی ترقیاتی بینک گروپ کی جانب سے فراہم کردہ جزوی کریڈٹ گارنٹی سرمایہ کاروں کے مطالبہ کردہ 'رسک پریمیم' (خطرہ مول لینے کا معاوضہ) کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس کا مطلب ایسی صورتوں کے مقابلے میں قرض کی لاگت میں کمی ہے جہاں اس طرح کی مدد میسر نہ ہو۔ جہاں تک اس کے بالواسطہ اثر کا تعلق ہے، تو یہ مصر کے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے دائرے کو وسعت دینے اور ایک بڑی ایشیائی مارکیٹ میں اس کی موجودگی کو بہتر بنانے کی صورت میں ظاہر ہو گا، جو مستقبل میں متنوع کرنسیوں یا فنڈنگ کے مختلف ڈھانچوں کے ساتھ نئے اجراء کے لیے راستہ کھول سکتا ہے۔ تاہم، یہ نتائج اس بات پر منحصر ہیں کہ موجودہ نظام ایسے حقیقی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے میں کتنا سنجیدہ ہے جو اتنی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں جو معیشت کی بہتری، قرضوں کی سروسنگ اور ان کی واپسی میں معاون ثابت ہو سکے۔
سامورائی بانڈز محض ایک دلکش مالیاتی اصطلاح نہیں ہے، بلکہ یہ فنڈنگ کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو غیر جاپانی ممالک کو جاپانی مارکیٹ سے جاپانی ین میں قرض لینے کی اجازت دیتا ہے، جو انہیں سرمایہ کاروں کے ایک مختلف طبقے تک رسائی اور فنڈنگ کی ایسی شرائط فراہم کرتا ہے جو مخصوص حالات میں موزوں ہو سکتی ہیں۔مصر نے اس آپشن کا انتخاب اس لیے کیا ہے کیونکہ وہ فنڈنگ کے ذرائع میں تنوع لانا، قرضوں کی ادائیگی کی مدت (میچورٹی) کو طویل کرنا، اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے طویل مدتی فنڈنگ کا انتظام کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اجراء کی کشش بڑھانے کے لیے جزوی کریڈٹ گارنٹی سے فائدہ اٹھانا بھی اس کے پیشِ نظر ہے۔
اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصر کی جانب سے سامورائی بانڈز کا اجراء مالیاتی پالیسی میں اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس کا رخ فنڈنگ کے متنوع ذرائع استعمال کرنے اور صرف روایتی راستوں پر اکتفا نہ کرنے کی طرف ہے، اور جس کا مقصد ایک طرف فنڈنگ کی ضرورت اور دوسری طرف قرضوں اور خطرات کے بہتر انتظام کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے، جس کے ساتھ ساتھ فنڈنگ کے ایسے ذرائع کی مسلسل تلاش جاری ہے جو جمع شدہ بوجھ کے باوجود ریاست کو نقل و حرکت کے لیے اضافی گنجائش فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ولایہ مصر میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن




