بسم الله الرحمن الرحيم
وسطی ایشیا پلس آذربائیجان کونسل کے مقاصد
تحریر: استاد عقیل بیک اسحاقوف
(ترجمہ)
31جولائی 2026ء کو قرغیزستان کے علاقے "ایسیک کول" میں وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے سربراہانِ مملکت کا ایک غیر رسمی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے دوران صدور نے "چولپون آتا" اعلامیے پر دستخط کیے۔
اجلاس کے دوران، قرغیزستان کے صدر صدر جباروف نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سرحدوں سے متعلق تاریخی معاہدے طے پائے ہیں، اور اس نے باہمی اعتماد کو مضبوط کرنے اور علاقائی تعاون کو ایک نئے معیاری درجے تک لے جانے میں مدد دی ہے۔
جبکہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے وسطی ایشیا میں ایک بڑی آئل ریفائنری قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔
اور ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشاورتی اجلاسوں میں آذربائیجان کی شمولیت علاقائی روابط کو میکرو ریجنل (بڑے علاقائی) درجے تک بلند کر دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسطی ایشیا، جنوبی قفقاز اور افغانستان کو آپس میں جوڑنے والے ایک متحدہ ترقیاتی زون کو قائم کرنے کا ایک تاریخی موقع میسر آیا ہے۔
اور 2018ء سے یہ مشاورتی کونسل صرف وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان کی شرکت تک محدود تھی، لیکن آذربائیجان نے 2023ء سے اس میں بطور اعزازی مہمان شرکت کرنا شروع کی، اور 2025ء میں اسے مکمل رکن کا درجہ حاصل ہو گیا۔
وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے قائدین کی ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب مشرقِ وسطیٰ کے حالات کشیدہ ہو رہے تھے اور روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی ڈرون حملوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان تنازعات کی وجہ سے دنیا بھر میں، بشمول اس خطے کے، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ اس بحران نے وسطی ایشیا کو دوسرے خطوں سے جوڑنے والی گزرگاہوں (کوریڈورز) کی اہمیت کو بھی بڑھا دیا۔ مثال کے طور پر، بحیرہ اسود سے گزرنے والی تیل کی پائپ لائن کا کام ڈرون حملوں کی وجہ سے تقریباً معطل ہو گیا۔ اور قازقستان کی تیل کی برآمدات کا تقریباً 80فیصد بحیرہ اسود کے راستے سے گزرتا ہے۔ یہ چیز قازقستان کو "وسطی گزرگاہ" (مڈل کوریڈور) کو مستحکم کرنے پر راغب کر رہی ہے۔ اور اس طرح کا قدم قدرتی طور پر خطے کو روس سے دور کرنے اور آذربائیجان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کا باعث بنے گا۔
یہاں آذربائیجان اور قرغیزستان کے درمیان اس بڑے منصوبے کو یاد دلانا بھی اہم ہے جو اب تک تعطل کا شکار چلا آ رہا تھا۔ اس سے قبل قرغیزستان میں آذربائیجان کی سرکاری کمپنی "سوک ار" (SOCAR) کے ساتھ مل کر سالانہ بیس لاکھ ٹن ایندھن تیار کرنے کے لیے ایک مشترکہ پلانٹ لگانے پر اتفاق ہوا تھا۔ تاہم، ملک کے اس اسٹریٹجک شعبے میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے روس کے دباؤ کے باعث اس منصوبے پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور یہ رک گیا۔ حال ہی میں آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے قرغیزستان کے سرکاری دورے کے دوران مذکورہ منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں دیکھی گئی ہیں۔
چنانچہ، وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے قائدین کی یہ ملاقات بنیادی طور پر ان منصوبوں میں سے ایک ہے جو اس خطے کو روس سے دور کر رہے ہیں۔ اور اگر ہم یہ کہیں تو غلط نہ ہوگا کہ یہ کونسل ایک ایسا اجتماع ہے جو "ترک ریاستوں کی تنظیم" کو اضافی طاقت فراہم کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ امریکہ کی طرف سے کی جانے والی تنوع (ڈائیورسیفکیشن) کی ان کوششوں میں سے ایک ہے جس کا مقصد خطے کی دولت کو اپنے زیرِ اثر علاقوں کی طرف کھینچنا ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ بڑی طاقتیں وسطی ایشیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے خطے کی سٹریٹیجک گزرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ امریکہ "C5+امریکہ سربراہی اجلاس"، ترک ریاستوں کی تنظیم اور وسطی ایشیا و آذربائیجان کونسل کے ذریعے خطے میں روس اور چین کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنا چاہتا ہے، تاکہ وسطی ایشیا کو اپنے زیرِ اثر لا سکے۔ اگرچہ خطے کو روس سے دور کرنے کی امریکی کوششیں آگے بڑھ رہی ہیں، لیکن وسطی ایشیائی ریاستوں کے اشرافیہ کے ایک بڑے حصے اور وہاں کے حکومتی اداروں میں اب بھی روسی اثر و رسوخ قائم ہے۔ اس کے علاوہ، روسی زبان اب بھی رابطے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ مزید برآں، ہجرت پر انحصار اور دفاعی شعبے میں تعاون بھی اس کی وجوہات ہیں۔ البتہ تاجکستان اور قرغیزستان کے توانائی کے شعبے میں روس کا اثر و رسوخ رفتہ رفتہ کم ہو رہا ہے۔
جہاں تک چین کا تعلق ہے، تو وہ اپنے اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے، اور باقاعدگی سے تجارت میں باہمی انحصار کی سطح کو بڑھا رہا ہے، قرضہ جات کی فراہمی میں توسیع کر رہا ہے، اور نقل و حمل اور توانائی کے شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔
لہٰذا، یہ توقع کی جاتی ہے کہ مستقبل میں وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ کے حصول کے لیے استعماری قوتوں کا مقابلہ مزید بڑھے گا۔ بالخصوص وسائل کے حصول کی جنگ تیز ہونے کے سائے میں وسطی ایشیا کی اہمیت اور بھی بڑھ جائے گی۔ اس لیے، ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ہم خطے کے سٹریٹیجک مقامات اور اپنی معدنی دولت کو ان قوتوں کی سازشوں کا اکھاڑا نہ بننے دیں، بلکہ اس کے برعکس، اللہ کے حکم کے مطابق، ہمیں متحد ہونا چاہیے اور "نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ" کی ریاست قائم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے، جو مسلمانوں کی ڈھال ہے، تاکہ استعماری کافروں کو ہمارے ممالک پر اپنا اثر و رسوخ پھیلانے، ہم پر تسلط قائم کرنے، ہمارے ارادے اور وسائل کو اپنے قبضے میں لینے اور ہماری دولت و مقدرات کو لوٹنے سے روکا جا سکے۔
Latest from
- متفرقات الرايہ – شمارہ 612
- بحرانوں کی تند و تیز ہوائیں خطۂ کردستان کو جھنجھوڑ رہی ہیں تو پھر نجات اور خلاصی کی راہ کیا ہے؟
- مراکشی نوجوانوں کی سبتہ اور ملیلیہ کی جانب اجتماعی ہجرت کے المیے کا ایک جائزہ
- سوڈان میں جنگ کے المیے: حقیقت اور حل
- سیسی خالی کارتوسوں جیسے پیغامات کے ساتھ جولائی کے انقلاب کی یاد تازہ کر رہاہے




