بسم الله الرحمن الرحيم
روس کے خلاف سیکیورٹی صف بندی اور یورپی جنگی بیانیے میں بڑھتی ہوئی شدت کے پس پردہ عوامل کا تجزیہ
تحریر: استاد مناجی محمد
(ترجمہ)
حکمتِ عملی کے اعتبار سے روس اور یوکرین کا تنازع بڑی طاقتوں کے مابین ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے،جس میں روس براہِ راست فریق ہے، جبکہ امریکہ اور یورپ پسِ پردہ کارفرما ہیں اور یوکرین جنگ کے میدان کا کردار ادا کر رہا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ عالمی منظرنامے پر اس جنگ کے اسٹریٹیجک اثرات انتہائی نازک اور گہرے ہیں۔
امریکہ کا اصل مقصد روس کو ایک دلدل میں پھنسانا ہے تاکہ چین اور روس کے ممکنہ اتحاد کا راستہ روکا جا سکے اور ساتھ ہی روس کی عسکری طاقت کو مفلوج کر دیا جائے۔ مزید برآں، واشنگٹن کا مقصد اس تنازع کو یورپ کا سب سے بڑا دردِ سر بنانا ہے تاکہ اس پورے براعظم کو بین الاقوامی منظرنامے سے الگ تھلگ کیا جا سکے۔ امریکہ نے اس جنگ کے دائرہ کار اور شدت کو مخصوص حدود کے اندر قابو میں رکھنے کی کوشش کی ہے، تاکہ تنازع اس حد کو پار نہ کرے جہاں وہ ایک ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہو جائے جس میں نیٹو اور خود امریکہ براہِ راست الجھ جائیں۔
دوسری جانب برطانیہ اس جنگ کو اپنے استعماری عزائم کی تکمیل، بین الاقوامی صف بندیوں کو نئے سرے سے ترتیب دینے اور عالمی منظرنامے کو ازسرِ نو تشکیل دینے کا ایک سنہری موقع سمجھتا ہے۔ یوکرین کی حمایت میں اس کی ”زہر آلود فیاضی“ کا مقصد اس تنازع کو ایک بڑی بین الاقوامی جنگ کے دہانے تک دھکیلنا ہے، جس کے پیچھے یہ امید کارفرما ہے کہ عالمی نظام اور طاقت کے توازن کو بدل کر وہ اپنا کھویا ہوا استعماری اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کر لے گا۔
جہاں تک یورپ کا تعلق ہے،جو اس وقت دفاعی تیاریوں اور بڑھتی ہوئی جنگی بیان بازی کی کیفیت میں ہے،تو بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ روس کے خلاف ایک فوری جنگ اور ہمہ گیر جارحیت کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ یورپی منظرنامے اور اس کے رکن ممالک، بالخصوص جرمنی، فرانس اور اٹلی جیسے اہم فریقین کے اسٹریٹیجک اور عسکری مؤقف کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ روس-یوکرین تنازع کے حوالے سے بڑھتے ہوئے جنگی بیانیے اور شدید انتباہات کے باوجود،خاص طور پر جب اس جنگ کو محض یوکرین کے تنازع کے بجائے پورے یورپ کا سیکیورٹی بحران اور گزشتہ کئی دہائیوں میں یورپی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ نیٹو اور یورپ کے خلاف روسی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں، تخریب کاریوں، سائبر حملوں اور ہائبرڈ سرگرمیوں میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے، یورپ کا یہ جنگی بیانیہ کتنا ہی شدید اور تند و تیز کیوں نہ ہو، اپنے پسِ پردہ اصل محرکات، اسباب اور اہداف کو چھپائے ہوئے ہے۔
اگرچہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ بلاشبہ یورپ کے لیے ایک سیکیورٹی خطرہ ہے، تاہم روس خود اس تنازع میں بری طرح الجھا ہوا ہے؛ روسی وزیرِ خارجہ لاوروف مسلسل اور واضح طور پر یہ کہتے رہے ہیں کہ روس یورپ کے ساتھ جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔ 27 ستمبر 2025 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ روس کا ”نیٹو یا یورپی یونین پر حملہ کرنے کا نہ کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی کوئی ارادہ ہے“، اور ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ پیوٹن بارہا ایسے الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔ بعد ازاں، 9 فروری 2026 کو لاوروف نے دوٹوک انداز میں کہا: ”ہم یورپ کے کسی بھی حصے پر حملہ نہیں کریں گے؛ ہمارے پاس ایسا کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے“۔ پھر 16 ستمبر 2026 کو یکاترنبرگ میں انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ روس ”مغربی ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، اور نہ ہی اس کا ایسا کوئی مفاد ہے“،اور یہ وہ مؤقف ہے جس کی ماسکو مسلسل توثیق کرتا رہا ہے۔ مزید یہ کہ روسی ہائبرڈ سرگرمیوں میں اضافہ،بالخصوص روس سے متصل یورپی خطے میں،دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور یوکرین کے لیے یورپ کی بڑھتی ہوئی حمایت پر ردِعمل کی حیثیت رکھتا ہے، نہ کہ یہ یورپی ریاستوں کے خلاف کوئی پیش قدمی یا جارحیت ہے۔ اس کے علاوہ خود یورپی رپورٹس اور انٹیلی جنس جائزے بھی اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ یورپ کی یہ عسکری صف بندی یورپ اور روس کے مابین کسی ناگزیر یا فوری جنگ کا پیش خیمہ ہے۔ سرکاری اور ادارہ جاتی یورپی رپورٹس موجودہ دہائی کے اختتام،یعنی بالخصوص 2029 سے 2030 کے درمیانی عرصے،کو ایک ایسا نازک موڑ قرار دیتی ہیں جب روس کے پاس نیٹو کے کسی رکن ملک کے لیے خطرہ بننے کی ممکنہ صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ رپورٹس اس بات کی نشاندہی نہیں کرتیں کہ روس 2030 میں یورپ پر کوئی فوجی حملہ کر دے گا؛ بلکہ وہ بنیادی طور پر اس امر پر بحث کرتی ہیں کہ روسی عسکری صلاحیتیں ایک فیصلہ کن حد تک پہنچ جائیں گی یا اس کے پاس جنگ چھیڑنے کا ایک متبادل آپشن حاصل ہو جائے گا۔ حقیقت میں یہ رپورٹس روسی عسکری طاقت کی مستقبل کی صورتحال کا تجزیہ ہیں، نہ کہ کسی فوری جنگ کے چھڑنے کی پیشین گوئی۔
یہ صورتحال سب سے اہم سوال کو جنم دیتی ہے: یورپ میں موجودہ سیکیورٹی صف بندی اور بڑھتی ہوئی جنگی بیان بازی کے پسِ پردہ اصل حقیقت کیا ہے؟
اس کا جواب یورپ سے باہر جنم لینے والے ایک ایسے عنصر میں پنہاں ہے جو یورپی اسٹریٹیجک سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت اور سنگین خطرے کا حامل ہے، اور وہ ہے: ریاستہائے متحدہ امریکہ۔ خاص طور پر ”ٹرمپ کا صدمہ“ (Trump shock)،یعنی امریکی سیکیورٹی چھتری کا واپس کھینچی جانا، نیٹو کے وعدوں سے انحراف، اور مالی و عسکری بوجھ یورپ کے کندھوں پر ڈال دینا،یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا مشاہدہ یورپ نے یوکرین کی جنگ کے دوران خود اپنی آنکھوں سے کیا۔
امریکہ پر انحصار کے حوالے سے اس صدمے میں اس وقت مزید شدت آگئی جب امریکی ہتھیاروں پر یورپ کے حد سے زیادہ انحصار کا پردہ چاک ہوا؛ یہ عسکری انحصار اس سطح تک جا پہنچا تھا جہاں یورپ کی اسلحہ جاتی درآمدات کا 64 فیصد حصہ،بالخصوص ہوا بازی (ایوی ایشن) کے شعبے میں، امریکہ سے آتا تھا۔
اس بڑھتی ہوئی جنگی بیان بازی کے پسِ پردہ دراصل امریکی حفاظتی چھتری کے کھو جانے کا صدمہ اور امریکی اسلحے پر انحصار کا وہ بحران چھپا ہوا ہے جس کی ترسیل امریکی حکومتوں کی غیر یقینی تبدیلیوں اور گہری اندرونی سیاسی تقسیم کی وجہ سے شکوک و شبہات کا شکار ہو چکی ہے؛ اس کے یورپ پر مرتب ہونے والے اثرات نے یورپ کی اپنی اسٹریٹیجک اور عسکری کمزوریوں کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
اس یورپی جنگی بیانیے کا بنیادی مقصد اور اصل ہدف یورپ کی خودمختار عسکری، صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں کی ازسرِ نو تعمیر ہے۔ اس عمل کے لیے خطیر اور بھاری اخراجات درکار ہیں جو معاشرے پر زبردست بوجھ ڈالتے ہیں،اور یہ سب کچھ ایک دم گھونٹ دینے والے معاشی بحران، یورپ کے استعماری اثر و رسوخ کے دائرے میں کمی، گھٹتی ہوئی آمدنی اور بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کے ماحول میں ہو رہا ہے۔
یورپ اب یوکرین پر روس کی جنگ کو اپنی عسکری صنعت کی تعمیرِ نو، مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو ترقی دینے اور اس کے بھاری اخراجات کا بوجھ معاشرے پر ڈالنے کے لیے ایک تاریخی موقع سمجھنے لگا ہے،اور اس سارے عمل کا جواز روس کی جانب سے یورپ کو لاحق وجودی سیکیورٹی خطرے کو قرار دیا جا رہا ہے۔
نتیجتاً، یورپ کے دفاعی اخراجات میں غیر معمولی تیزی سے اضافہ ہوا ہے؛ نیٹو کے یورپی ارکان اور کینیڈا کے بنیادی دفاعی اخراجات میں صرف سال 2025 کے دوران ہی تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ روس کی طرف سے لاحق خطرہ حقیقی ہے، تاہم یورپ کی ازسرِ نو مسلح ہونے کی یہ مہم ان اسٹریٹیجک، عسکری، صنعتی، سیاسی اور معاشی محرکات کے تحت بھی چلائی جا رہی ہے جو براہِ راست روسی خطرے کی شدت سے قطع نظر اپنی الگ حیثیت رکھتے ہیں۔
اس کے بعد ”چین کا عنصر“ سامنے آتا ہے،بالخصوص جس طرح چینی صنعت اور ٹیکنالوجی نے یورپ میں یلغار کی ہے، جس نے عملاً یورپ کو ایک چینی منڈی میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ چین کی معاشی پیش قدمی نے، جسے اس کی ضرورت سے زیادہ صنعتی پیداواری صلاحیت نے تقویت بخشی ہے، یورپ کے تجارتی خسارے کو سالانہ 360 ارب یورو تک پہنچا دیا ہے،جو کل یورپی درآمدات کا 22.3 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے یورپ کے صنعتی اور تکنیکی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، کیونکہ چین نے برقی گاڑیوں (EVs)، بیٹریوں، الیکٹرانکس، سافٹ ویئر، عمومی ٹیکنالوجی اور ماحول دوست توانائی (گرین انرجی) جیسے شعبوں میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ صرف 2026 کی دوسری سہ ماہی میں، چین سے یورپی یونین کی درآمدات 153.6 ارب یورو تک پہنچ گئیں، جو کہ اس بلاک کے باہر سے ہونے والی درآمدات کا 21.9 فیصد ہیں۔ چین کے حوالے سے یورپ کا بحران اس وقت اور زیادہ سنگین ہو گیا جب چین کو برآمدات میں کمی اور وہاں سے درآمدات میں اضافے کے باعث یورپ کی صنعتی بنیادیں کھوکھلی ہو گئیں اور اس کے اہم صنعتی شعبوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کی ایک نمایاں مثال جرمنی کی انتہائی اہم آٹوموٹو (گاڑیوں کی) صنعت کو درپیش شدید بحران ہے: صرف جولائی 2026 میں جرمن گاڑیوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ اس شعبے میں 2025 کے اختتام تک ایک لاکھ نو ہزار (109,000) سے زائد ملازمتیں ختم ہو چکی تھیں۔ اس صورتحال نے یورپی کمیشن کو مجبور کر دیا کہ وہ ان عدم توازنات کو دور کرنے اور یورپی یونین اور چین کے تعلقات میں باہمی برابری (reciprocity) کو یقینی بنانے کے حوالے سے کھل کر آواز اٹھائے۔
ان عدم توازنات کی بنیادی وجہ یورپی صنعتوں کا زوال اور پسماندگی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ برقی موٹروں، چپس اور سافٹ ویئر جیسی ٹیکنالوجیز میں جدت اور ترقی کا سست روی کا شکار ہونا ہے۔ یورپی یونین اور اس کی اہم ترین ریاستیں اپنی معیشتوں کی بحالی اور اپنے صنعتی و تکنیکی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو انتہائی اسٹریٹیجک ضرورت قرار دیتی ہیں،جو چینی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے اور امریکہ پر عسکری و تکنیکی انحصار کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ دفاعی صنعت اس کوشش کے لیے ایک بنیادی انجن کا کام دیتی ہے، جو یورپی صنعت اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بنیادی تجربہ گاہ اور ورکشاپ کی حیثیت رکھتی ہے۔
درحقیقت، ”چین کا عنصر“،اور اس سے پیدا ہونے والے چیلنجز،اس صف بندی اور یورپ کی عسکری، صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں کی تعمیر و ترقی کے حق میں اٹھنے والے تند و تیز بیانیے کے پیچھے ایک بنیادی محرک ہیں۔
تاہم، بیانیہ بہرحال بیانیہ ہی رہتا ہے، یعنی محض زبانی جمع خرچ۔ اصل چیلنج عملی اقدامات اور ایک منتشر و منقسم یورپ کی تلخ حقیقت کی عائد کردہ رکاوٹوں میں مضمر ہے: اس کے متضاد اور باہم دست و گریبان اسٹریٹیجک اور استعماری عزائم، اس کی بکھری ہوئی کوششیں، اس کے فلک بوس قرضے، اور ان سب سے بڑھ کر، اس کا فکری و تہذیبی دیوالیہ پن۔ یہ وہ پیچیدہ گرہ ہے جسے کھولنا یورپ، اور مجموعی طور پر پورے مغرب، کے لیے اگر ناممکن نہیں تو انتہائی دشوار ضرور ہے۔ یہ درحقیقت مغرب کے نزع کا عالم اور سکرات کی کیفیت ہے؛ کوئی تعویذ یا تدبیر اس حتمی انجام کو ٹال نہیں سکتی۔