الثلاثاء، 02 جمادى الأولى 1448| 2026/10/13
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

امریکہ اور ایران کے مابین جنگ: غالب قوت بمقابلہ ابھرتی ہوئی طاقت

 

تحریر: استاذ سالم ابو سبیتان

 

(ترجمہ)

 

حالیہ تصادم نے ایک ایسی غالب قوت کو، جو افرادی قوت اور اسلحے کے اعتبار سے بے پناہ ہے، زبردست فضائی برتری رکھتی ہے، ایک بے مثال اور دیوقامت بحریہ کی مالک ہے، نفری اور رسد دونوں لحاظ سے وسیع بری افواج سے لیس ہے، اور دنیا بھر میں فوجی اڈوں کا ایک عالمگیر نیٹ ورک رکھتی ہے،  ایک حریف کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے ۔ یہ غالب طاقت اپنے مدار میں ایسی مضبوط ریاستوں کے ایک جھرمٹ کے ساتھ متحرک ہے جو اس کے مفادات کی نگہبانی کرتی ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ایسی ماتحت اور فرمانبردار ریاستیں بھی موجود ہیں جن کے وجود کا مقصد ہی محض اس کے احکامات کی بجا آوری ہے۔

 

یہ غیر ملکی سرزمین پر جنگ لڑتی ہے، اور اپنی اسٹریٹجک  گہرائی،یعنی خود اپنی امریکی سرزمین،کو دشمنوں کی پہنچ سے بہت دور محفوظ رکھتی ہے؛ جسے سمندروں، طویل فاصلوں، جوہری ڈیٹرنس، زمین کے چپّے چپّے پر نظر رکھنے والی سیٹلائٹ نگرانی، اور دنیا کی طاقتور ترین انٹیلی جنس ایجنسیوں کا تحفظ حاصل ہے۔

 

تاہم، اس دیوقامت فوجی مشین،جس کی سیاسی قیادت نے ایرانی میدانِ جنگ کے حقائق کا غلط اندازہ لگایا،کے مدِمقابل ایک نسبتاً چھوٹی قوت کھڑی ہے، جو نفری، سازوسامان اور صلاحیتوں کے اعتبار سے محدود ہے، اور خستہ حال بنیادی ڈھانچے کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ یہیں سے وہ اٹل الٰہی وعدہ سامنے آتا ہے جو ایک وسیع تر اور گہرے تناظر میں منظرنامے کی نئی تشکیل کرتا ہے: کہ بادشاہت و اقتدار کا حقیقی مالک صرف اللہ (سبحانہ وتعالیٰ) ہے؛ وہ جس سے چاہتا ہے، جب چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے،خواہ وہ امریکہ جیسی عالمی سپر پاور ہی کیوں نہ ہو،اور جس کو چاہتا ہے، جب چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے، چاہے وہ بہت ہی کم تر طاقت ہو، قطع نظر اس کے کہ ایسی طاقت کے روایتی مادی اسباب موجود ہوں یا نہ ہوں۔

 

ہماری اپنی ہی زندگی میں،محض پچھلے پچاس برسوں کے دوران،موجود رہنے والی سلطنتوں کے زوال اور خاتمے کا جو مشاہدہ آج ہم کر رہے ہیں، وہ ہمیں ٹھہر کر غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ برطانوی، فرانسیسی اور سوویت سلطنتیں ابھریں اور پوری دنیا پر چھا گئیں، انہوں نے اقوام کو بے دردی سے غلام بنایا اور بے رحمی سے ان کے وسائل کو نچوڑا؛ لیکن اس کے باوجود وہ کسی ایسی براہِ راست جنگ کے بغیر ہی حیرت انگیز طور پر منہدم اور برباد ہو گئیں جو ان کی شکست کا سبب بنتی، اور اپنے پیچھے سوائے اپنے اصل ناموں،فرانس، برطانیہ اور روس،کے کچھ نہ چھوڑ گئیں۔

 

ان سلطنتوں کے سقوط کے اسباب کا گہرا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ روایتی معنوں میں کوئی عسکری شکست نہیں تھی؛ بلکہ اس کے پسِ پشت متعدد عوامل کا باہمی ملاپ کارفرما تھا، جس نے فوجی مہمات اور عوامی مزاحمت کو محض "اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا" بنا کر رکھ دیا تھا۔ ان عوامل کا معروضی انداز میں جائزہ لینا ضروری ہے:

 

• نوآبادیاتی پھیلاؤ اور توسیع پسندی

• فساد پھیلانا اور قوموں کو غلام بنانا

• محکوم قوموں کے وسائل کی لوٹ مار، اور ساتھ ہی انہیں بھوک اور ذلت سے دوچار کرنا

• خود سلطنتوں کے مابین باہمی تنازعات اور سازشیں

• ان اصولوں کی ناقص بنیاد جن پر وہ قائم کی گئی تھیں،ایسے اصول جن کی جڑیں ذاتی مفاد اور بدعنوانی میں پیوست تھیں

• تکبر اور بڑائی کا وہ حد سے بڑھا ہوا احساس جس نے اللہ (سبحانہ وتعالیٰ) کی آفاقی سنتوں (قوانین) کو چیلنج کیا؛ کیونکہ جو کوئی بھی اللہ (سبحانہ وتعالیٰ) کی عظمت و کبریائی کے معاملے میں اس سے سرکشی کرتا ہے، وہ (سبحانہ وتعالیٰ) اسے لازماً ذلیل و خوار کر دیتا ہے

• ان سلطنتوں کے اندر عدل و انصاف کا فقدان

 

ماضی کی یہ سلطنتیں آج محض اپنی بقا کی جدوجہد کر رہی ہیں، کیونکہ انہیں احساس ہے کہ ان کا حتمی زوال ناگزیر ہے۔

 

امریکہ بھی اس تاریخی روش سے مستثنیٰ نہیں ہے؛ وہ وسیع سمندروں کے پار اپنی طاقت مستحکم کرنے اور لاکھوں مقامی امریکیوں (ریڈ انڈینز) کو فنا کے گھاٹ اتارنے کے بعد عالمی منظرنامے پر ابھرا،جس نے انہیں عملاً لوک کہانیوں اور قصے کہانیوں کے دائرے تک محدود کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم نے اسے وہ موقع فراہم کیا جو خود اس کی گود میں آ گرا، جس کے نتیجے میں وہ چوتھی بڑی سلطنت بن گیا اور سوویت یونین کے ساتھ عالمی غلبے میں شراکت دار بنا۔ دونوں نے مل کر پرانی سلطنتوں،جن میں سب سے بڑھ کر "عظیم" برطانیہ اور فرانس شامل تھے،کا بستر گول کرنے پر اتفاق کیا۔ جب ان کا اثر و رسوخ محدود ہو گیا، تو امریکہ نے اپنی سازشوں اور چالوں کا رخ سوویت یونین کی طرف موڑ دیا، جس میں اسے کمیونسٹ آئیڈیالوجی (نظریے) کے فکری دیوالیہ پن اور اپنے تسلط تلے کراہتے عوام کو کوئی قابلِ قدر چیز فراہم کرنے میں اس کی ناکامی سے مدد ملی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سلطنت بھی منہدم ہو گئی، سیاسی نقشے سے غائب ہو گئی، اور سمٹ کر آج کا روس بن گئی،ایک ایسی ریاست جو اب اپنے دارالحکومت ماسکو یا اپنی سرزمین تک کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے۔

 

اپنے پیشروؤں کا انجام امریکہ،جو عالمی سلطنتوں کی آخری کڑی ہے،کے لیے کوئی سامانِ عبرت نہ بن سکا، اور نہ ہی اس نے تاریخ کے اسباق سے کوئی نصیحت پکڑی۔ اس کے برعکس، اس کے تکبر اور غرور میں مزید اضافہ ہی ہوا؛ اس نے ریاستوں کی دولت کو نچوڑا، ان کے عوام کو کنگال کیا، اور ان کی فاقہ کشی پر بھی جشن منایا۔ اس کی سرکشی اس حد تک بڑھ گئی کہ اس نے بستیوں کے قتلِ عام اور ان کے علاقوں کی بربادی کو فطری اور ناگزیر عمل سمجھ لیا۔ اس نے ویتنام کو تباہ کیا، جاپان پر ایٹم بم گرائے، اور افغانستان، عراق، شام، لیبیا، یمن، لبنان اور ایران میں تباہی مچائی،اور اس دوران وہ زمین پر اپنے بے لگام ظلم اور فساد پر مسلسل قائم رہا۔ اس کے یکطرفہ غلبے اور بے پناہ طاقت نے اسے اللہ (سبحانہ وتعالیٰ) کی ان الٰہی سنتوں (قوانین) سے اندھا کر دیا جنہوں نے اس کے پیشروؤں کو تباہ کیا تھا،وہ سنتیں جو اب اس پر بھی بالکل وہی عذاب اور انجام لا رہی ہیں جو انہوں نے پہلوں پر نازل کیا تھا۔

 

امریکہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور مکڑی کے جالے سے مشابہ ہو گیا ہے،اور حقیقت یہ ہے کہ سب سے کمزور ترین گھر مکڑی کا جالا ہی ہے، کاش وہ یہ بات جان لیتے۔ امریکہ کے کئی دانشوروں اور مفکرین نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے اور وہ فی الوقت اس کمزوری اور زوال کو بیان کر رہے ہیں؛ لیکن طاقت کے نشے، تکبر، اور دوسروں پر اس کے چھائے ہوئے خوف کی پیدا کردہ اندھی کیفیت نے اسے اپنی ہی رسوائی اور بے بسی کو دیکھنے سے قاصر کر دیا ہے، یا وہ اس بے مثال سماجی انتشار، اخلاقی انحطاط، غربت، بھوک، بحرانوں، اور 40 ٹریلین (کھرب) ڈالر سے زائد کے ناقابلِ ادائیگی قرضے کو دیکھنے سے عاجز ہے جو اسے اندر سے چاٹ رہا ہے۔

 

یہ ایک لا علاج اندھا پن اور ایک ایسا زوال ہے جس سے پلٹنا ممکن نہیں؛ چنانچہ امریکہ کا مقدر داخلی انتشار و انہدام اور عالمی منظرنامے سے پسپائی ہے، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے، اور خواہ وہ اسے تسلیم کرے یا نہ کرے۔ وہ زمین پر ظالموں، جابروں، متکبروں اور فساد برپا کرنے والوں کے بارے میں جاری الٰہی قوانین کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ ہم اللہ (سبحانہ وتعالیٰ) سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اس  عظیم اور زمین ہلا دینے والے زوال کی گھڑی دکھائے، اور یہ کہ یہ ہمارے ہاتھوں وقوع پذیر ہو۔ اللہ (سبحانہ وتعالیٰ) کا ارشاد ہے:

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

 

"اور اس دن مومن اللہ کی نصرت سے خوش ہوں گے؛ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہی زبردست اور نہایت رحم کرنے والا ہے" [سورۃ الروم:آیت 4-5]۔

Last modified onمنگل, 13 اکتوبر 2026 06:17

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک