Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

روہنگیا مسلمانوں کی کسمپرسی: فراموشی کی نذر

 

 

تحریر: استاد بلال المہاجر – ولایہ پاکستان

 

(ترجمہ)

 

برما (روہنگیا) کے مسلمانوں کی حالتِ زار پر گفتگو کرتے ہوئے،جو اس ملک کے بدھ مت حکمرانوں کے ہاتھوں مصائب جھیل رہے ہیں،ہم یہ بات اس لیے کر رہے ہیں کہ زبان یا نسل کا کوئی اشتراک نہ ہونے کے باوجود، ہم زمین کے سب سے مضبوط رشتے یعنی اسلام کے بندھن کے ذریعے ان سے جڑے ہوئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ، وَتَرَاحُمِهِمْ، وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى»"اہلِ ایمان کی باہمی محبت، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی مانند ہے؛ جب اس کا کوئی ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بیداری اور بخار کے ساتھ اس کا ساتھ دیتا ہے"۔

 

یہ حدیث، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو زبانی یاد ہے، محض ان کی حالت ہی بیان نہیں کرتی، بلکہ یہ اس امر کا تقاضا بھی کرتی ہے کہ جب کبھی ان میں سے کوئی ایک بھی مصیبت کا شکار ہو تو پوری جماعت کو اس کی مدد کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ چنانچہ روہنگیا کا بحران،امت کو درپیش دیگر مصائب کی طرح،امت کے جسم پر ایک زخم کی مانند سمجھا جانا چاہیے، جو ہنگامی حالت کے نفاذ اور ایسی حالت کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرنے کا متقاضی ہے۔

 

روہنگیا عوام کی اکثریت مسلمان ہے اور ان کا تعلق میانمار (جسے پہلے برما کہا جاتا تھا) کی ریاست راکھین سے ہے، جو ماضی میں اراکان کے نام سے جانی جاتی تھی۔ میانمار کی آبادی تقریباً 6 کروڑ ہے، اور عام طور پر پیش کیے جانے والے سرکاری تخمینوں کے مطابق مسلمانوں کی آبادی تقریباً 4 فیصد بتائی جاتی ہے،جو اس کل تعداد کے لحاظ سے تقریباً 24 لاکھ مسلمانوں کے برابر بنتی ہے۔ تاہم، اس خطے میں عمومی طور پر اپنائی جانے والی پالیسیوں کی وجہ سے یہ اعداد و شمار غیر درست یا گمراہ کن ہیں؛ مثال کے طور پر، بھارت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 20 فیصد سے زیادہ نہیں بتائی جاتی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا تناسب 40 فیصد سے زائد ہے،جو کہ میڈیا میں بتائی جانے والی یا ریاست کے سرکاری اعداد و شمار میں درج کی گئی تعداد سے دوگنا ہے۔

 

فطری طور پر، روہنگیا عوام کی برادری امتِ مسلمہ کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے؛ درحقیقت، ان کی نسلی بنیادوں میں عرب مسلمان اور ہندوستان کے مغل حکمران دونوں شامل ہیں۔ لفظ "روہنگیا" دراصل روہانگ کے باشندوں کو ظاہر کرتا ہے،جو اراکان کا سابقہ اسلامی نام تھا۔ روہنگیا آبادی تاریخی خطے اراکان میں مرکوز ہے، جو جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے سنگم پر واقع ایک قدیم ساحلی ریاست ہے۔ خلیجِ بنگال پر اپنے ساحلی محلِ وقوع کی بدولت، اراکان نے برما اور بیرونی دنیا کے درمیان بحری تجارت کے ایک اہم مرکز کے طور پر کردار ادا کیا۔ تاریخی اعتبار سے، عرب سرزمین سے آنے والے مسلمان تاجروں نے نویں صدی عیسوی کے اوائل ہی میں اسلام کی رسالت (پیغام) کو اراکان سے متصل جنوب مشرقی بنگال کے ساحلی علاقوں تک پہنچا دیا تھا۔ صدیوں پر محیط اس عرصے میں یہ مسلمان اس بات سے بخوبی باخبر رہے کہ تجارت انہیں اشاعتِ اسلام کے موقع سے غافل نہ کرے، چنانچہ اس کے نتیجے میں بہت سے مشرک بدھ مت والوں نے اسلام قبول کر لیا۔ چنانچہ روہنگیا عوام کی تاریخی جڑیں اسی دور سے ملتی ہیں، اور وہ آج کے دن تک اسلام پر پوری ثابت قدمی سے کاربند ہیں۔

 

روہنگیا کے خلاف بدھ مت والوں کی دشمنی کی اصل جڑ بدطینت برطانوی ہیں؛ جبکہ ایشیا کے عوام عام طور پر امن پسندی اور پرسکون مزاج کے حامل رہے ہیں۔ اسلام نے برصغیر پاک و ہند سمیت اس خطے پر صدیوں حکومت کی اور اس دوران فرقہ وارانہ، عقائدی یا مذہبی تقسیم کی بنیاد پر کسی قسم کے انقلابات، بے چینی یا تنازعات نے جنم نہیں لیا۔ تاہم، جب مکار انگریز اس خطے کو نوآبادی بنانے آئے، تو انہوں نے،اپنی پرانی فطرت کے مطابق،قبائلی، نسلی اور مذہبی کشیدگی کو ہوا دی۔ انہوں نے بدھ مت، ہندومت اور سکھ فلسفوں کو مشرکانہ تصوف کی اشکال سے منظم مذاہب میں تبدیل کر دیا، تاکہ وہ مختلف عقائد کے لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف دست و گریبان کر سکیں۔ اس سے انگریزوں کے لیے ظلم و جبر اور اپنا تسلط قائم کرنا آسان ہو گیا،جو کہ نوآبادیاتی طاقتوں کا سب سے پسندیدہ حربہ رہا ہے۔ لہٰذا، اس دشمنی کی ایک اور وجہ عقائدی ہے؛ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس فرمان کی عکاسی کرتی ہے:

 

﴿لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾

 

"یقیناً آپ اہلِ ایمان کے ساتھ دشمنی میں سب سے سخت یہود اور ان مشرکین کو پائیں گے جنہوں نے شرک کیا" (سورۃ المائدہ:آیت 82)۔

 

فطری طور پر، بدھ مت والے بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے اسی زمرے میں آتے ہیں،جیسا کہ انگریز عیسائی بھی اسی میں شامل ہیں، جو اس خطے کے تمام تر دکھ درد اور مصائب کی بنیادی جڑ تھے۔

 

ہمارے روہنگیا بھائیوں کے موجودہ مصائب کا آغاز 2012 کے اوائل میں ہوا، جب پولیس نے ریاست راکھین میں گشت کرنا شروع کیا۔ بدھ بھکشوؤں نے ایسے رسائل تقسیم کرنا شروع کر دیے جن میں روہنگیا کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ اپنی "بے قابو" شرحِ پیدائش کے باعث ریاست پر قابض ہو جائیں گے۔ انہوں نے مسلمانوں کے مرکزی قصبے سیتوے (Sittwe) میں پمفلٹ بھی تقسیم کیے جن میں اعلان کیا گیا کہ: "تمہیں ان لوگوں کو ختم کرنا ہوگا، ورنہ وہ تمہاری زمین پر قبضہ کر لیں گے"۔ نارزی (Narzi) کا علاقہ، جسے سیتوے میں سب سے بڑی مسلم آبادی اور معاشی مرکز ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا،جہاں تقریباً 10 ہزار روہنگیا آباد تھے،اسے جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ ملبے کے درمیان جو بھی عمارتیں یا ڈھانچے سلامت بچ رہے تھے، انہیں بعد ازاں بلڈوزر چلا کر مسمار کر دیا گیا۔

 

اکتوبر 2012 میں مقامی حکام اور بدھ بھکشوؤں کی باقاعدہ منصوبہ بندی اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ظلم و ستم کا یہ سلسلہ ایک بار پھر بھڑک اٹھا۔ سکیورٹی فورسز یا تو خاموش تماشائی بن کر یہ حملے دیکھتی رہیں یا پھر خود ان میں سرگرمی سے شریک ہو گئیں، جبکہ پولیس نے فرار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں پر گولیاں برسا دیں۔ یوں ریاست راکھین میں حکام کی جانب سے چلائی جانے والی نسلی کشی کی مہم مزید مستحکم ہو گئی۔ سیتوے میں، جہاں 2012 سے پہلے لگ بھگ 75 ہزار روہنگیا آباد تھے، وہاں محض 4 ہزار ہی باقی رہ گئے۔ سن 2012 اور 2013 میں وسطی راکھین کیمپوں کے قیام کے بعد، حکام نے روہنگیا کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے ایک کے بعد ایک پابندیاں مسلط کرنا شروع کر دیں؛ ان اقدامات میں چوکیاں، خاردار تاروں کی باڑیں، کرفیو، پرمٹ کی کڑی شرائط، لازمی پولیس نگرانی، اور روزانہ کی بنیاد پر ہراساں کرنا، دھمکیاں دینا، بھتہ خوری اور رشوت ستانی شامل تھے۔ نسلی کشی کا یہ سلسلہ اگست 2017 کے واقعات تک جاری رہا، جب میانمار کی سکیورٹی فورسز نے سینکڑوں روہنگیا دیہات کو تباہ کر دیا اور شمالی ریاست راکھین میں عورتوں، مردوں اور بچوں کو قتل کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 لاکھ افراد بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ برمی فوج نے ریاست راکھین کے گاؤں ماؤنگ نو (Maung Nu) میں درجنوں روہنگیا مسلمانوں کو بغیر کسی کارروائی کے سرسری طور پر قتل کر دیا۔

 

ابھی حال ہی میں، نومبر 2023 کے دوران ریاست راکھین میں میانمار کی فوجی جنتا کی افواج اور اراکان آرمی کے درمیان لڑائی اور جھڑپیں ایک بار پھر شروع ہو گئیں۔ دونوں فریق سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار رہے ہیں، جن میں شہریوں پر جان بوجھ کر حملے، املاک کو نذرِ آتش کرنا اور جبری و غیر قانونی بھرتی شامل ہے۔ ریاست راکھین میں باقی رہ جانے والے تقریباً 6 لاکھ روہنگیا ظلم و ستم اور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں؛ وہ نقل و حرکت کی آزادی کے بغیر کیمپوں اور دیہات تک محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور انہیں خوراک، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور روزگار تک مناسب رسائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

اگرچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾

 

"اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے" (سورۃ الانفال:آیت 72)،

 

لیکن آج المعتصم، محمد بن قاسم یا اورنگ زیب عالمگیر جیسی کوئی شخصیت موجود نہیں جو روہنگیا کی فریاد کا جواب دے سکے؛ چنانچہ وہ یکے بعد دیگرے آنے والے مشرک بدھ مت حکمرانوں کے زیرِ تسلط دہائیوں سے امتیازی سلوک اور جبر و ستم سہتے آ رہے ہیں۔ یہ مدد مسلمانوں کے موجودہ حکمرانوں کی طرف سے ہرگز نہیں آئے گی، جیسا کہ فلسطین، مقبوضہ کشمیر، بھارت اور مشرقی ترکستان میں مصائب کا شکار مسلمانوں کی مدد کرنے میں ان کی کھلی ناکامی اس کا واضح ثبوت ہے۔

 

اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے حکمران،خاص طور پر بنگلہ دیش اور ملائیشیا کے حکمران،ان لوگوں کو ایسے حالات میں رہنے پر مجبور کر کے ان کی تکالیف میں مزید اضافہ کرتے ہیں جو جانوروں کے رہنے کے لائق بھی نہیں ہیں، اور پھر بالآخر انہیں برما میں ان کے ظالموں کے آگے پھینکنے کے لیے واپس بے دخل کر دیتے ہیں۔

 

حالانکہ بنگلہ دیش، پاکستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا کی بحری افواج برما کے مشرک بدھ مت حکمرانوں کو باآسانی شکست دے سکتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے اورنگ زیب کے دور میں بہادر کمانڈروں نے کیا تھا۔ بلا شبہ، امتِ مسلمہ اور اس کی افواج پر لازم ہے کہ وہ ان حکمرانوں کو،جو امت کے اصل دشمن ہیں،اقتدار سے ہٹا دیں اور اسلامی نظامِ حکومت کی حفاظتی ڈھال کو بحال کریں۔

 

امت کو درپیش مسائل یکساں اور آپس میں جڑے ہوئے ہیں، اور ان کے مصائب بھی تقریباً ایک جیسے ہیں؛ اراکان کی صورتحال غزہ کی صورتحال کا آئینہ دار ہے، بالکل اسی طرح جیسے کشمیر اور مشرقی ترکستان کی زبوں حالی ہے، اور جو کچھ ماضی میں چیچنیا اور بوسنیا و ہرزیگووینا میں پیش آیا۔ ان تمام تر مصائب کا صرف ایک ہی حل ہے،امت کے مسائل کا ایک بنیادی علاج۔ مسئلے کی اصل جڑ مسلمانوں کے وہ حکمران اور نظام ہیں جنہوں نے امت کا گلا دبوچ رکھا ہے؛ انہیں اقتدار سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہے تاکہ ایک ایسے خلیفہ کی تقرری کی راہ ہموار کی جا سکے جو دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کا پرچم بلند کرے اور ان کی نصرت فرمائے۔

Last modified onمنگل, 13 اکتوبر 2026 06:08

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.