بسم الله الرحمن الرحيم
جوں جوں ”دردِ زہ“ شدت اختیار کر رہا ہے، دنیا کس نو مولود کی منتظر ہے؟
تحریر: انجینئر وسام الاطرش
(ترجمہ)
ایران کے ساتھ محاذ آرائی نے یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو اب محض اعداد و شمار کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ ایک ایسی ریاست جو سب سے بڑی افواج، جدید ترین ہتھیاروں، وسیع ترین فوجی اڈوں اور اتحادیوں کے سب سے بڑے نیٹ ورک کی مالک ہو، وہ بھی ایک ایسی حد تک پہنچ کر رک سکتی ہے جس سے آگے بڑھنا اس کے بس میں نہ ہو؛ اس محاذ آرائی میں امریکہ پر اپنی اس صلاحیت کی تنگ دامانی عیاں ہو گئی کہ وہ اپنی عسکری اور تکنیکی برتری کو کسی فیصلہ کن فوجی یا سیاسی نتیجے میں تبدیل کر سکے۔
اس کے برعکس، طاقت اب محض افواج اور معیشت تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا دائرہ ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، توانائی، ڈیٹا، سپلائی چینز اور اس متزلزل دنیا کے اصول و ضوابط پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت تک پھیل چکا ہے۔ چنانچہ، موجودہ واقعات محض ایک طاقت سے دوسری طاقت کی طرف اثر و رسوخ کی منتقلی سے کہیں آگے کے ہیں،جیسا کہ بعض لوگ گمان کر سکتے ہیں،بلکہ یہ بین الاقوامی نظام کی بنیادی ساخت میں پیدا ہونے والے بگاڑ کی عکاسی کرتے ہیں۔ عالمی منظرنامے پر گرفت رکھنے کی پرانے نظام کی صلاحیت دم توڑ رہی ہے، اور اس افراتفری کے بیچ اسے بچانے کی پکاریں بلند ہو رہی ہیں، اگرچہ کسی متبادل کے خدوخال ابھی واضح ہونا باقی ہیں۔ یہیں آ کر ”دردِ زہ“ کی اصطلاح اپنے حقیقی معنی پاتی ہے: یعنی وہ مرحلہ جس میں ایک بگڑا ہوا نظام شکست و ریخت سے دوچار ہوتا ہے جبکہ اس کے بطن میں ایک نئی حقیقت پرورش پا رہی ہوتی ہے، لیکن نو مولود ابھی دنیا کے سامنے نہیں آیا ہوتا۔
اقوام متحدہ میں، دنیا کی ریاستیں ایک ایسے ادارے کے سائے تلے جمع ہوئیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور کے لیے قائم کیا گیا تھا، جبکہ اب خود اس ادارے کی اس اہلیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا وہ اس کہیں زیادہ پیچیدہ دنیا کے بحرانوں اور مسلح تصادم کی حد سے کم تر سرگرمیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ادھر واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین تجارت، ٹیکنالوجی، سپلائی چینز، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں مقابلہ بدستور جاری ہے،یہ ایک ایسی کشمکش ہے جو محض منڈیوں تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کے ضوابط کو تشکیل دینے کی جنگ ہے۔ واشنگٹن میں چینی صدر یہ اعلان کرتے ہیں کہ امریکہ اور چین کو ایک دوسرے کا حریف بننے کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے۔ اسی دوران، یورپ میں سلامتی، توانائی، اسٹریٹجک خودمختاری اور بڑی طاقتوں کے درمیان براعظم کی حیثیت کے حوالے سے خدشات اور سوالات بڑھ رہے ہیں،خاص طور پر روس کی طرف سے پیدا ہونے والے ہائبرڈ خطرات کی لہر کے تناظر میں۔ جہاں تک ٹیکنالوجی کا تعلق ہے، تو وہ محض ایک معاشی شعبے سے آگے بڑھ کر سلامتی، خودمختاری اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کا ناگزیر جزو بن چکی ہے۔ رہے مسلم حکمران، تو ان کا سب سے عام رویہ یہ ہے کہ وہ فلسطین پر دکھ کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ خود اس جرم میں برابر کے شریک ہیں؛ بھلا کیا مسجد اقصیٰ کی آزادی اقوام متحدہ کی چوکھٹ پر ناک رگڑنے میں پنہاں ہے؟
اگرچہ یہ تمام مناظر بظاہر الگ تھلگ دکھائی دیتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ آشکار کرتے ہیں کہ بین الاقوامی نظام اب تنازعات کے تصفیے یا انہیں قابو میں رکھنے کے لیے کافی نہیں رہا، اور نہ ہی اس کے ادارے ان اصولوں کو قائم رکھنے کے قابل ہیں جن پر ان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جنگوں اور پامالیوں نے،بالخصوص غزہ میں،اس نظام کے منشور اور زمینی سطح پر اس کے اداروں کی عملی صلاحیت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو طشت از بام کر دیا ہے۔ اس گہری دراڑ کے بیچ سے اصلاح اور بچاؤ کی دہائیاں بلند ہو رہی ہیں؛ بگاڑ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کی معمولی مرمت ممکن نہیں رہی، اور دنیا بھر کے عوام چشم براہ ہیں کہ کوئی نیا نظام جنم لے،ایک ایسا متبادل بین الاقوامی نظام جس کے خدوخال ابھی ابھرنا باقی ہیں۔ تاہم، یہ بات بالکل یقینی ہے کہ انسانیت کو ایک ایسے نظام کی اشد ضرورت ہے جو زیادہ محفوظ اور عادلانہ ہو، اور جو ظلم، جبر اور سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ بحرانوں اور آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے کہیں زیادہ لیس ہو،ایسی تباہ کاریاں جن کے اثرات اب کسی ایک معاشرے یا ریاست تک محدود نہیں رہے، بلکہ وہ پوری زمین پر ایک بوجھ بن چکے ہیں۔
چونکہ ریاستوں کی بنیاد اصلاً افکار و نظریات پر قائم ہوتی ہے، اس لیے حقیقی طاقت کا آغاز ان قواعد و ضوابط کو قائم کرنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے جو ریاستوں کے طرزِ عمل اور بین الاقوامی لین دین کو منظم کرتے ہیں۔ یہ طاقت ایک ایسے اصولی نظریے کی بنیاد پر بین الاقوامی سیاست پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے پیدا ہوتی ہے جو انسانی وقار کو ترجیحِ اول بناتا ہو۔
لیکن اس کے برعکس، ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی طاقتیں فکری دیوالیہ پن اور تہذیبی بھٹکاؤ کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہیں، اور انہوں نے خود کو ایک ایسے سیاسی تعطل میں جکڑ رکھا ہے جہاں ہر طاقت محض دوسروں کے زوال سے اپنی برتری کشید کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نتیجتاً، آج بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش محض اثر و رسوخ کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ طے کرنے کی جنگ ہے کہ وہ کون ہے جو اس ماحول کو تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے دائرے میں آنے والے کل کی دنیا کا نظام چلے گا۔
تاہم، تبدیلی کا یہ عمل محض بڑی طاقتوں تک ہی محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ خود دنیا کی ساخت کے اندر رونما ہو رہا ہے۔ اگرچہ ریاستیں بدستور بنیادی کردار ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کمپنیوں نے سرحد پار کی صلاحیتیں حاصل کر لی ہیں؛ وہ اپنی قوت سرمائے اور عالمی مالیاتی نیٹ ورکس سے، معلومات، ڈیٹا اور ڈیجیٹل ڈھانچے کی اجارہ داری سے، اور سیاسی و عسکری طاقت کے مراکز کے ساتھ گٹھ جوڑ سے حاصل کرتی ہیں،جن میں یہودی وجود اور صیہونی تحریک سے وابستہ اثر و رسوخ کے نیٹ ورک بھی شامل ہیں۔ یہ چیز ان میں سے بعض کمپنیوں کو حدود سے تجاوز کرنے اور کمزور ریاستوں کے بہت سے ضابطہ کار نظاموں سے بچ نکلنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔
عالمی معیشت اگرچہ باہم مربوط ہے، لیکن سپلائی چینز اب اسٹریٹجک حساب کتاب کا ناگزیر حصہ بن چکی ہیں۔ ٹیکنالوجی اس قدر تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے کہ سیاسی ادارے اس پر قابو پانے کے قواعد وضع کرنے کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہے۔ بین الاقوامی ادارے اپنی جگہ قائم تو ہیں، مگر جن ضوابط پر ان کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ تنِ تنہا ان تمام تر نئی تبدیلیوں کا احاطہ کرنے کے لیے ناکافی ہو چکے ہیں۔
چنانچہ پرانا اور نیا ایک ہی وقت میں اکٹھے موجود ہیں: بیسویں صدی کے ادارے اکیسویں صدی کے وسائل کے ساتھ؛ خود مختار ریاستیں سرحد پار معاشی و تکنیکی طاقتوں کے ہمراہ؛ اور فرسودہ قوانین ہائبرڈ جنگ اور طاقت کے مسلسل بدلتے توازن کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ لیکن، اگر یہ وہ دردِ زہ ہے جس سے دنیا گزر رہی ہے،اپنی تمام تر سفاکی اور انسانی اقدار کی پامالی کے ساتھ،تو پھر اس درد کی کوکھ سے کس قسم کے بچے کا جنم ہوگا؟
یہاں معاملہ محض موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر امریکہ، چین، یورپ اور دیگر کے مابین طاقت کی نئی تقسیم سے کہیں بلند ہے؛ بلکہ یہ سوال اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے: کیا کوئی ایسا نیا نظام وجود میں آئے گا،جو انسانی استحصال کی تمام شکلوں اور معاشروں و انسانی اقدار کی منظم بربادی کا خاتمہ کر دے، اور اس طرح طاقت، حاکمیت اور وحدت کے یکسر مختلف نمونے قائم کرے؟ اس تاریک منظرنامے میں، امتِ مسلمہ اس تہذیبی متبادل کی تشکیل کے عمل کا ایک ناگزیر حصہ بن کر ابھرتی ہے جس کی انسانیت منتظر ہے،اور یہ وہ کردار ہے جس کا تقاضا خود اس کا عقیدہ کرتا ہے۔ یہ وہ امت ہے جو ایک بکھری ہوئی حقیقت کے بوجھ تلے دبی ہے، اپنے قائدانہ کردار، اپنی ہراول حیثیت اور تہذیبی مقام سے محروم ہو جانے کے نتائج بھگت رہی ہے؛ تاہم اس سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا گیا ہے اور وہ اپنے اندر دوبارہ ابھرنے اور اس کردار کو بحال کرنے کی فطری صلاحیت رکھتی ہے جس نے کبھی تاریخ پر انمٹ نقوش ثبت کیے تھے۔
کیونکہ امتِ مسلمہ،جس نے ایک صدی قبل اپنے متحد سیاسی وجود کو کھو دیا تھا اور جس کے بعد اسے کمزور ریاست نماعلاقوں، فرضی سرحدوں اور متضاد سیاسی ایجنڈوں کے انبار میں بانٹ دیا گیا تھا،نہ تو اپنا تہذیبی وجود کھو چکی ہے اور نہ ہی وہ عقیدے کی ڈور جو اسے باہم جوڑتی ہے۔ بلکہ اس کے برعکس، اس نے مسلسل اس شعور کی آبیاری کی ہے جو ایک مرکزی سوال کا جواب دینے کے لیے درکار ہے: کہ امت کس طرح اپنی وحدت، اپنی خود مختاری اور اپنا برحق مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے؟
اس کا جواب نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی پیوند کاری میں مضمر ہے اور نہ ہی غلامی کی ایک شکل کو دوسری شکل سے بدلنے میں؛ بلکہ اس کا جواب اسلام کی بنیاد پر ایک ہمہ گیر سیاسی وجود کی ازسرنو تعمیر میں ہے،ایک ایسا وجود جو مسلمانوں کو ایک واحد قیادت کے ماتحت متحد کرے، جو دین کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور سنت پر مضبوطی سے جم جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دردِ زہ کے اس سارے عمل کی اصل اہمیت کھل کر سامنے آتی ہے۔
اگر ”دردِ زہ“ اس بات کی علامت ہے کہ ایک پرانی حقیقت بے بسی اور زوال کے آخری کنارے پر پہنچ چکی ہے جبکہ ایک نئی حقیقت کے عناصر متشکل ہو رہے ہیں، تو اہل بصیرت کی نگاہ میں یہ نو مولود ایک الٰہی وعدہ اور خوشخبری ہے: یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ۔ یہ وجود عالمی سطح پر ایک فعال اور موثر کردار ادا کرے گا، نہ کہ محض بڑی طاقتوں کی باہمی چپقلش اور کشمکش کا اکھاڑا بنا رہے گا۔
ہو سکتا ہے کہ دردِ زہ کا یہ دور لمبا کھنچ جائے اور ولادت کی کوششیں لڑکھڑا جائیں، لیکن ایک بات طے ہے: دنیا اب ویسی نہیں رہی جیسی وہ کبھی تھی۔ طاقت کا مفہوم خود ایک نیا روپ دھار رہا ہے، اور سرمایہ داریت کے پیدا کردہ اداروں، ضوابط اور اتحادوں کی لرزہ براندام عمارتوں کی بنیادیں شدید خطرات کی زد میں ہیں۔
یہی وہ بات ہے جس کا خوف مغرب پر پہلے سے کہیں زیادہ طاری ہے؛ اسی لیے امت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے اس کی وحشت اور بربریت میں مسلسل شدت آ رہی ہے،کیونکہ وہ بخوبی بھانپ چکا ہے کہ ولادت کا وقت بالکل آن پہنچا ہے۔
حاصلِ کلام یہ کہ ہم اس وقت ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں جو آہستہ آہستہ دم توڑتی ہوئی حقیقت اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اذن سے عنقریب جنم لینے والی نئی حقیقت کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ یہ امت،جس کے بارے میں بعض لوگوں نے گمان کر لیا تھا کہ اس کا سیاسی وجود مٹ چکا ہے اور اس کا کردار تمام ہو گیا،آج بھی پوری قوت سے موجود اور زندہ و پائندہ ہے۔ یہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک اس کے رب کی کتاب اس کے ہاتھوں میں ہے اور مخلص لوگ اسلامی طریقے کے مطابق دوبارہ زندگی کا آغاز کرنے کی دعوت کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾
”اور فتح و نصرت تو بس اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور بڑی حکمت والا ہے“ [سورۃ آل عمران:آیت 126]۔