Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

قومی بجٹ کانفرنس - خود انحصار اسلامی بجٹ کا خاکہ

 

 

تفصیل:

عبوری حکومت، طلبہ اور عوام کی لاشوں پر اقتدار میں آنے کے باوجود، گرے ہوئے حسینہ نظام کی چھوڑی ہوئی کمزور معیشت کی بحالی کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہ کر سکی۔ بلکہ آخری وقت میں اس نے امریکہ کے ساتھ باہمی تجارت کے معاہدے (ART) پر دستخط کیے، جس سے ملک کی معاشی خودمختاری خطرے میں پڑ گئی۔

 

بی این پی حکومت نے 9380 ارب ٹکا کا بجٹ منظور کیا ہے، جس میں معاشی بحالی، افراطِ زر پر قابو، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے وعدے کیے گئے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ بجٹوں کے مقابلے میں یہ بجٹ عددی فرق کے علاوہ کسی ساختی تبدیلی کی عکاسی نہیں کرتا۔ خاص طور پر سامراجی قرض کے جال اور استحصالی ویٹ-ٹیکس پر مبنی آمدنی کے ڈھانچے میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

 

اس پس منظر میں، یہ کانفرنس ایک خود انحصار معیشت کے قیام اور عوام کے مفادات کی خدمت کے لیے اسلامی بجٹ کا خاکہ پیش کرے گی۔

 

اللہ ﷻ فرماتے ہیں: ”...تاکہ مال تم میں سے صرف دولت مندوں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے“ [سورۃ الحشر: 07]

 

گفتگو 01:

 

سامراجی قرض اور استحصالی سرمایہ دارانہ معاشی ماڈل میں جکڑے قومی بجٹ (2026-2027) کی حقیقت کو بے نقاب کرنا

 

گفتگو 02:

 

خود انحصار معیشت اور عوامی مفاد کے لیے اسلامی بجٹ کا خاکہ

عنوان: قومی بجٹ کانفرنس - خود انحصار اسلامی بجٹ کا خاکہ

تاریخ: 24 جولائی، 2026

 

وقت: 04:30 شام (مدینہ وقت)

 

07:30 شام (بنگلہ دیش وقت)

 

دورانیہ: 01 گھنٹہ 30 منٹ

 

 

 

 

Last modified onجمعرات, 23 جولائی 2026 05:49

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.