بسم الله الرحمن الرحيم
جزب التحریر ولايۃ ترکیہ:آذربائیجان کے اسکولوں میں خمار پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے!
امت کی پکار پر مسلمانوں نے منگل 13/10/2026 کی شام انقرہ میں آذربائیجان کے سفارت خانے اور استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے باہر جمع ہو کر علییف حکومت کی جانب سے سر پر اسکارف، جو اسلام کے فرائض میں سے ایک ہے، پر عائد پابندی کے خلاف احتجاج کیا۔
آذربائیجان میں 21 ستمبر کو منظور کیے گئے لباس کے ضابطے کے ذریعے اسکولوں میں سر پر اسکارف پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ علییف کی قیادت میں ہونے والے اس ظلم کے خلاف آذربائیجانی عوام سڑکوں پر نکل آئے، اور اس اہم مزاحمت کی حمایت ترکیہ سے بھی کی گئی۔
انقرہ اور استنبول میں منعقدہ اجتماعات میں پریس بیانات پیش کیے گئے۔
انقرہ میں آذربائیجان کے سفارت خانے کے باہر بیان ماہرِ الٰہیات اور مصنف عبداللہ امام اوغلو نے پڑھا، جبکہ استنبول میں قونصل خانے کے باہر بیان محمد امین یلدرم نے پڑھا۔
پریس بیان میں صہیونیوں کی دوست قرار دی گئی علییف حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے گئے:
”تم نے ان سرزمینوں کی ایمان سے لبریز تاریخ، جنہیں صدیوں پہلے صحابۂ کرام نے فتح کیا تھا، اور اس امت کے سچے بیٹوں اور بیٹیوں کی مقدس اقدار کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام سے تمہاری دشمنی ہمیں غزہ میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو بے رحمی سے قتل کرنے والی قابض یہودی ریاست کے ساتھ تمہاری دوستی سے معلوم ہے۔ آج تم ’سیکولرازم‘ کے نام پر ان سرزمینوں کے اہلِ ایمان پر وہی جبر اور ظلم ڈھا رہے ہو جو کل سوویت ملحد حکومت نے کیا تھا۔ چند مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے لگائی گئی پابندیوں کے ذریعے تم اس عزت کے تاج کو ہماری خواتین کے سروں سے نہیں اتار سکتے جو اللہ نے انہیں عطا کیا ہے! ہم تمہیں ہرگز ایسا نہیں کرنے دیں گے۔“
بیان میں مزید حکمران اے کے پارٹی کو، جس نے اس پابندی کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا تھا، اور اس ٹرول ذہنیت کو مخاطب کیا گیا جو ظلم کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کرنے والے مخلص مسلمانوں پر ’اسرائیل کی خدمت‘ کا الزام لگاتی ہے:
”اگر سر پر اسکارف تمہاری اقدار میں سے ایک ہے تو آذربائیجان میں اس پر ہونے والے ظلم کے بارے میں تم نے ایک لفظ بھی کیوں نہیں کہا؟ یہ خاموشی کیوں؟ کیا ناانصافی کے سامنے خاموش رہنا گونگے شیطان کا طرزِ عمل نہیں؟ کیا سر پر اسکارف اب ایسی قدر نہیں رہا جس کا بلند آواز سے دفاع کیا جائے؟ تمہاری اخوت اور قرابت کہاں گئی؟ تم نے مشرقی ترکستان کے مظالم کو نظرانداز کیا۔ تم نے غزہ کے مسلمانوں کی آزادی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ کیا اب تم ان مسلمانوں کو بھی تنہا چھوڑ دو گے جنہیں کل بورالتان پل پر چھوڑ دیا گیا تھا؟ کیا تم ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کی اقدار کو معمولی دنیاوی مفادات پر قربان کر دو گے؟ اگر ایسا ہے تو ہم تم سے رسول اللہ ﷺ کے الفاظ میں کہتے ہیں: ’اگر تمہیں شرم نہیں تو جو چاہو کرو۔‘“
بیان کے آخری حصے میں علییف انتظامیہ سے یہ اپیل کی گئی:
”اے ظالم علییف حکومت، تم سے ہمارا آخری کلام یہ ہے: ہماری مسلمان بہنوں کے حجاب سے اپنے ہاتھ دور رکھو۔ یہ پابندی فوراً واپس لو! نہ اپنے تخت پر بھروسا کرو، نہ اپنے آقاؤں پر اور نہ اپنے کارندوں پر! اللہ کے غضب اور اس مظلوم امت کی بغاوت سے ڈرو! آج شاید کوئی ایسا قائد نہ ہو جو تمہارے تکبر اور ظلم کو روک سکے، لیکن کل جب خلافتِ راشدہ کی ریاست قائم ہوگی تو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیے گئے تمام مظالم کا حساب لیا جائے گا۔“
بیانات کے دوران بار بار تکبیر بلند کی گئی۔ نعروں میں یہ شامل تھے: ”حجاب سے ہاتھ دور رکھو!“؛ ”حجاب عزت کا مسئلہ ہے، اس پر پابندی نہیں لگ سکتی!“؛ ”مسلمان ظلم کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتے!“؛ ”علییف، ظالم اور اسلام کا دشمن!“؛ ”علییف، صہیونیوں کا کٹھ پتلی اور دوست!“؛ ”علییف، حجاب سے اپنے ہاتھ دور رکھو!“؛ ”ظالموں کے لیے جہنم زندہ باد!“؛ ”ترکیہ، بیدار ہو اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کا ساتھ دو!“؛ ”ہم اللہ، قرآن اور حجاب کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں گے!“؛ اور ”ایک ریاست، ایک امت، ایک حل: خلافت!“
استنبول کے اجتماع میں ماہرِ الٰہیات اور مصنف ڈاکٹر عبدالرحیم شین اور کارکن و مصنف شکری حسین اوغلو نے اس موضوع پر الگ الگ تقاریر کیں۔ دعاؤں کے بعد پریس بیانات اختتام پذیر ہوئے۔
مرکزی میڈیا دفتر کے مندوب
جزب التحریر ولايۃ ترکیہ
بروز منگل 02 جمادی الاول 1448ھ بمطابق 13 اکتوبر 2026ء
https://www.hizb-ut-tahrir.info/ur/index.php/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA/%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA%DB%8C-%D8%B3%D8%B1%DA%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/4832.html#sigProId35a259ec22
مزید تفصیلات کے لیے برائے مہربانی حزب التحریر/ولایہ ترکیہ کی ویب سائٹس دیکھیں:
حزب التحریر/ولایہ ترکی کی سرکاری ویب سائٹ
حزب التحریر/ولایہ ترکی کا فیس بک پیج
حزب التحریر/ولایہ ترکی کا ٹویٹر صفحہ
حزب التحریر/ولایہ ترکی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ
حزب التحریر/ولایہ ترکی کا یوٹیوب چینل
ریڈیکل چینج میگزین کی ویب سائٹ




