الأربعاء، 03 جمادى الأولى 1448| 2026/10/14
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ترکیہ اور یونان کے درمیان تنازع اور کشیدگی کے اسباب

 

تحریر: استاد اسعد منصور

 

(ترجمہ)

 

 

11 تا 13 ستمبر 2026ء کے دوران یونانی وزیرِ اعظم کیریاکوس مِتسوتاکِس (Kyriakos Mitsotakis) کے دورے کے بعد ترکیہ اور یونان کے مابین کشیدگی میں شدت آ گئی۔ انہوں نے بحیرۂ روم میں ترک سرحد کے بالکل قریب واقع یونانی جزائر کا دورہ کیا تاکہ وہاں تعینات یونانی افواج کا معائنہ کر سکیں، بالخصوص جزیرۂ میس (کاسٹیلوریزو) کا، جو ترک ساحل سے محض دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ان کے اس دورے سے یہ بات طشت از بام ہو گئی کہ ان جزائر پر بھی فوجی موجود ہیں جنہیں غیر عسکری علاقے (demilitarized zones) قرار دیا گیا تھا، جس کے ردِعمل میں ترکیہ نے متصل علاقوں میں اپنی فوج تعینات کر دی۔

 

عثمانیوں نے یونان کو فتح کیا تھا اور تقریباً 400 سال تک وہاں اسلامی عدل و انصاف کے تحت نظامِ حکومت چلایا۔ بالآخر برطانیہ، فرانس اور روس نے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف سازش کی اور اس کے خلاف جنگ چھیڑ دی، یہاں تک کہ انہوں نے اسے یونان سے نکال باہر کیا اور 1830ء میں اس ملک کو آزادی دے دی۔ تاہم، پہلی جنگِ عظیم تک بہت سے جزائر بدستور عثمانیوں کے زیرِ انتظام رہے۔ 1923ء کے معاہدۂ لوزان میں، مصطفیٰ کمال،وہ شخص جس نے خلافت اور شریعت کا خاتمہ کیا تھا،نے یہ جزائر یونان کے حوالے کر دیے، اور صرف انہی جزائر کو قبول کیا جو برطانیہ اور فرانس نے ترکیہ کو دیے تھے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض جزائر یونانی سرزمین سے 600 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہیں، جبکہ بحیرۂ ایجین میں وہ ترک ساحل سے بمشکل دو کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔ بحیرۂ ایجین تقریباً 1,800 جزائر، چھوٹے جزائر اور چٹانی سلسلوں پر مشتمل ہے؛ جن میں سے 100 آباد ہیں اور 24 کا رقبہ 100 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

 

یہ تنازعات بنیادی طور پر درج ذیل امور کے گرد گھومتے ہیں:۔

 

·          بہت سے جزائر کی حیثیت ابھی تک غیر طے شدہ ہے؛ ترکیہ ان پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ یونان ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے اور صرف انہی حقوق کو تسلیم کرتا ہے جو معاہدۂ لوزان کے تحت ترکیہ کو دیے گئے تھے۔

·          یہ تنازع ان جزائر سے متعلق ہے جنہیں "ڈوڈیکانیز جزائر" (Dodecanese Islands - جس کا لفظی مطلب "بارہ جزائر" ہے) کہا جاتا ہے، جو درحقیقت چودہ جزائر اور مزید دس چھوٹے جزائر و چٹانی سلسلوں پر مشتمل ہیں۔

·          سمندری حدود پر تنازعات، جن میں یونان اپنے سمندری پانیوں (territorial waters) کو بارہ میل تک وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے،جس اقدام کی ترکیہ مخالفت کرتا ہے۔

·          جزائر کو عسکری رنگ دینے سے متعلق تنازعات،خاص طور پر جسے "مشرقی بحیرۂ ایجین کے جزائر کی غیر عسکری حیثیت کی یونان کی جانب سے خلاف ورزی" کہا جاتا ہے۔ ترکیہ ترک ساحل کے بالکل قریب واقع ان جزائر پر یونانی فوجی موجودگی پر اعتراض کرتا ہے، اور اسے 1947ء کے پیرس امن معاہدے کی خلاف ورزی سمجھتا ہے جو جزائر کو غیر عسکری رکھنے کا پابند بناتا ہے؛ دوسری طرف، یونان سیکیورٹی خطرات کا حوالہ دے کر اس موجودگی کا جواز پیش کرتا ہے۔

·          قبرص کا مسئلہ: یہ جزیرہ منقسم ہے؛ یونان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جنوبی یونانی حصے کی حمایت کرتا ہے اور شمالی حصے کو،جہاں "شمالی قبرص کی ریاست" کا اعلان کیا گیا تھا،اس میں ضم کرنے کا خواہاں ہے۔ اس شمالی وجود کو ترکیہ تسلیم کرتا ہے اور اس کا تحفظ کرتا ہے، جس نے وہاں تقریباً 30,000 فوجیوں پر مشتمل چھاؤنی تعینات کر رکھی ہے۔

·          یونان اور قبرص کے یونانی حصے کے درمیان بجلی کے باہمی رابطے کا منصوبہ (electrical interconnection project)؛ ترکیہ کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے اور اس سے متعلقہ امور پر اس سے باقاعدہ منظوری لی جائے۔

·          یونان اور یہودی وجود کے مابین فوجی تعاون: خطے نے دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ بحری مشقوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ 31 اگست 2026ء کو "ایکلیز شیلڈ" (Achilles' Shield) نامی فضائی دفاعی نظام کا منصوبہ قائم کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا گیا۔ یونان ترکیہ کے ساتھ اپنے تنازعات کو اچھالنے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی طرف مائل رہتا ہے، بالخصوص جب اسے اندرونی مسائل یا ملکی چیلنجز کا سامنا ہو۔ آئندہ سال کے پہلے ششماہی میں عام انتخابات کے پیشِ نظر، یونانی وزیرِ اعظم نے بحیرۂ روم میں ترک سرحد کے بالکل قریب واقع یونانی جزائر کا دورہ کیا،جن میں ترک ساحل سے محض 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جزیرۂ میس بھی شامل ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اس جزیرے پر یونانی افواج کی موجودگی کو ظاہر کیا، حالانکہ دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے معاہدے وہاں فوجی موجودگی کی ممانعت کرتے ہیں۔

 

یونان معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، بحیرۂ ایجین کے جزائر پر اپنی دفاعی صلاحیتوں اور فوجی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر اور اپنی سمندری حدود کو وسعت دینے کی کوشش کر کے ترکیہ کو للکارتا ہے؛ وہ ایسا اس لیے کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود ترکیہ نے ماضی میں اس کے خلاف کبھی کوئی سنجیدہ فوجی کارروائی نہیں کی۔ حالانکہ یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ دونوں ممالک امریکی کمان کے تحت ایک ہی فوجی اتحاد کے اندر اتحادی ہیں۔

 

تاہم، 2020ء میں اسی اتحاد کے دوسرے شراکت دار فرانس نے ترکیہ کے خلاف یونان کی حوصلہ افزائی کی کوشش کی؛ اس نے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی غرض سے بحری جنگی اثاثے تعینات کیے اور مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کیں۔ لیکن امریکہ نے مداخلت کی، یونان پر دباؤ ڈالا اور اعلان کیا کہ وہ اس گیس پائپ لائن کے لیے کوئی مالی یا سیاسی مدد فراہم نہیں کرے گا جسے یونان یورپ کو گیس فراہم کرنے کے لیے یہودی وجود کے ساتھ شراکت داری میں تعمیر کرنا چاہتا تھا۔ نتیجتاً فرانس کے منصوبے ناکام ہو گئے اور یہ منصوبہ ختم ہو گیا۔

 

اردوغان کا ترکیہ امریکہ کے مدار میں گردش کرتا ہے، اسی کے مفادات کی خدمت کرتا ہے اور بیرونِ ملک صرف اسی کے ساتھ تال میل کر کے کارروائی کرتا ہے؛ چنانچہ وہ یونان کے ساتھ اپنے تنازع میں بھی امریکہ پر ہی تکیہ کیے ہوئے ہے اور اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ امریکہ اسے آگے بڑھنے کا کیا اشارہ دیتا ہے۔ ترکیہ نے امریکہ کی ہدایت پر شام، لیبیا اور آذربائیجان میں فوجی تحرک تو دکھایا، لیکن وہ غزہ کے عوام کی مدد کے لیے حرکت میں آنے میں ناکام رہا،جو یہودیوں کے ہاتھوں مسلسل نسل کشی کا شکار ہیں،کیونکہ امریکہ نے جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کا بہانہ بنا کر اسے منع کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ صدر ٹرمپ نے ترکیہ کی اس بات پر تعریف بھی کی کہ جب یہودی وجود نے چالیس دن سے زیادہ عرصے تک ایران پر بمباری کی تو ترکیہ نے کسی قسم کی مداخلت سے گریز کیا۔

 

امریکہ یونان میں اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنا چاہتا ہے، اور یونانی جزائر پر اپنے فوجی اڈوں کو مزید فوجیوں اور ساز و سامان کے ذریعے وسعت دے کر مضبوط بنا رہا ہے۔ اسی لیے وہ نہیں چاہتا کہ ترکیہ یونان کے ساتھ کشیدگی کو بڑھائے؛ بلکہ وہ مفاہمت پر زور دیتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جب بھی کوئی تناؤ پیدا ہو تو دونوں ممالک کے حکام کشیدگی کم کرنے کے لیے آپس میں ملاقات کریں۔

 

یونان امریکہ سے خائف ہے اور یورپی یونین کی رکنیت کے ناطے یورپی حمایت پر انحصار کرتا ہے،بالخصوص فرانس پر، جو بدلتے ہوئے حالات اور اپنے رہنماؤں کی خواہشات کے مطابق وقتی پالیسیاں وضع کرنے اور پھر بعد میں ان سے دستبردار ہو جانے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی جب اس نے ترکیہ کے خلاف یونان کی حمایت کی تھی، تو امریکی اقدام کے بعد وہ پیچھے ہٹ گیا تھا۔ نتیجتاً، یونان کی دھمکیاں ایک مخصوص دائرے تک ہی محدود رہتی ہیں؛ وہ ترکیہ کے ساتھ عسکری تصادم کی سکت نہیں رکھتا، اور یونانی ترکوں سے خوفزدہ ہیں۔ اگر ترکیہ کے حکمرانوں کے پاس عثمانی فاتحین جیسے کہ محمد الفاتح اور سلیمان قانونی جیسی حقیقی، خود مختار مرضی، شجاعت اور اخلاص کی صفات ہوتیں، تو وہ ان جزائر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کرتے۔

 

امریکہ یونان کی سیاسی صورتِ حال خواہ کچھ بھی ہو، اسے تنہا نہیں چھوڑے گا، کیونکہ یہ وہ مغربی ریاست ہے جس کی سرحدیں مشرقی بحیرۂ روم کے مسلم علاقوں سے براہِ راست ملتی ہیں، اور یہ مغرب کے لیے ایک انتہائی اہم فوجی اڈے کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ان جزائر پر اپنی عسکری موجودگی کو مضبوط بنا رہا ہے،شاید ایک پیشگی ہنگامی اقدام کے طور پر تاکہ اگر ترکیہ کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو جائے اور امریکہ کو اپنے اڈے بند کر کے فوجیں نکالنے پر مجبور ہونا پڑے، تو اس کے پاس متبادل موجود ہو۔ امریکہ ایسے کسی بھی منظر نامے سے خوفزدہ ہے، کیونکہ ترکیہ کے عوام مسلمان ہیں، جن میں ایسے مخلص افراد موجود ہیں جو بنیادی اور انقلابی تبدیلی اور نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے کوشاں ہیں۔

Last modified onمنگل, 13 اکتوبر 2026 06:02

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک