السبت، 04 رمضان 1447| 2026/02/21
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

آج کی دنیا کا مسئلہ کیا ہے؟

 

 

تحریر: استاد محمد عبد الملک – ولایہ یمن

 

(ترجمہ)

 

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامِ قیامت تک ان کے رزق اور خوراک کا ذمہ خود لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَاداً ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ * وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاء لِّلسَّائِلِينَ

 

"آپ کہہ دیجیے کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا اور تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو؟ وہی تمام جہانوں کا رب ہے۔ اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں برکت رکھی اور اس میں (رہنے والوں کی) خوراک کا اندازہ چار دنوں میں مقرر کر دیا، جو کہ ہر سوال کرنے والے کے لیے برابر ہے"(سورۃ  فُصِّلَت: آیات 9- 10)

 

چنانچہ اللہ نے ان کے لیے زمین کی تہوں میں، اس کی سطح پر، اور سمندروں و دریاؤں میں خیرات اور خزانے ودیعت کر دیے اور انہیں انسانوں کے لیے مسخر کر دیا۔ باری تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً

 

"کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ نے اسے تمہارے تابع کر دیا ہے اور اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر مکمل کر دی ہیں"( سورۃ لقمان: آیت 20

 

 

اللہ ہی نے انسان کو ان وسائل تک پہنچنے اور زمین کے سینے سے انہیں نکالنے کے ایسے طریقوں اور اسالیب کی طرف رہنمائی کی جن کا اسے الہام کیا اور اسے توفیق بخشی۔اور اگر اللہ کی مدد اور توفیق نہ ہوتی تو انسان کبھی ایسا نہ کر پاتا۔

 

اللہ کے عدل، اس کی رحمت اور اپنے بندوں کی نگہبانی کا کمال یہ ہے کہ اس نے ان کی طرف ایک ایسی کتاب نازل فرمائی جسے وہ رسول (ﷺ) لے کر آئے جن کا انتخاب اللہ نے انہی میں سے کیا تاکہ وہ ان پر حجت ہوں، اور اپنے رب کی کتاب کو ان کے سامنے واضح کریں اور اس کی تشریح فرمائیں۔ یہ کتاب اپنے دامن میں ایک ایسا منفرد اسلامی معاشی نظام سموئے ہوئے ہے جو ان خزانوں اور نعمتوں کی ایسی تقسیم کا ضامن ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں۔ اس نظام کے ذریعے یہ دولت مشرق و مغرب میں بسنے والے ہر فرد تک پہنچتی ہے، یہاں تک کہ کوئی بھوکا نہیں رہتا مگر یہ کہ اس تک خیر پہنچ جائے، نہ کوئی فقیر رہتا ہے مگر یہ کہ وہ اس نعمت کو محسوس کرے، اور نہ ہی کوئی مسکین باقی رہتا ہے مگر یہ کہ اسے اس کا حصہ مل جائے۔ وہ پاک ذات جس نے مخلوق کو پیدا کیا اور ان کی خوراک کا انتظام کیا، وہی ہے جس نے ان کے درمیان تقسیم کا نظام بھی نازل فرمایا، جیسا کہ اس نے اپنی محکم کتاب میں فرمایا:

 

﴿أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ

 

"بھلا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا؟ اور وہ بڑا باریک بین اور باخبر ہے"(۔ سورۃ  الملک: آیت 14)

 

آج انسانیت یا دنیا کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے، کیونکہ وہ کثرت سے موجود ہیں۔بلکہ اصل مسئلہ ان لوگوں میں ہے جنہوں نے اللہ کے اس منہج اور نظام سے انحراف کیا جو رسول ﷺ لائے تھے، اور علم کے بغیر اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ چنانچہ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا جب انہوں نے ایک ایسا انسان ساختہ  نظام وضع کیا جو ان کی ان ناقص عقلوں کی ایجاد ہے جو وحی کے نور سے دور ہو کر خواہشات کے پیچھے چل پڑیں اور جبلتوں کے تابع ہو گئیں۔ چنانچہ یہ نو زائیدہ سرمایہ دارانہ (Capitalist) نظام، جس نے دین کو زندگی سے الگ کر دیا، زمین پر ہر برائی کا سرچشمہ بن گیا۔ پوری دنیا اس کے افکار کی آگ میں جھلس رہی ہے، بلکہ اس کے بگاڑ اور فساد سے جانور اور پرندے تک متاثر ہوئے ہیں۔ اس نظام نے لوگوں کو بدترین عذاب میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر مسلمانوں کو، جنہوں نے اپنی عزت کا اصل ذریعہ اس وقت کھو دیا جب عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا جو ان کی ڈھال تھی اور انہیں متحد رکھتی تھی۔ مسلمانوں نے قدم بہ قدم اور بالشت بھر بالشت یہودیوں اور عیسائیوں کی پیروی کی اور اس خیر کے بدلے جو ان کے پاس تھی، ایک ادنیٰ چیز کو اپنا لیا۔ انہوں نے اللہ کی شریعت اور اسلام کے نظام کے بدلے ایک جمہوری سرمایہ دارانہ نظام کو اختیار کر لیا جس کے سائے میں غربت، بھوک، ظلم، ہجرت، بدعنوانی، خانہ جنگی اور استعمار پھیل گیا۔ اس نظام نے کھیتوں اور نسلوں کو تباہ کر دیا، بلکہ یہ نظام بدبختی، کسمپرسی، جنگوں، تباہی اور بربادی کا سبب بنا، بالخصوص مسلم ممالک میں۔ اس کے کئی اسباب ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

 

1- ڈالر، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد "بریٹن ووڈز" معاہدے کی پیداوار ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے امریکہ دنیا پر اپنی مالیاتی اور معاشی بالادستی کی بنیادیں رکھنے میں کامیاب رہا، جہاں اس نے ڈالر کو ایک 'ہارڈ کرنسی' کے طور پر پیش کیا جسے ابتدا میں سونے کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا (سونے کا ایک اونس 35 ڈالر کے برابر طے پایا تھا)۔ پھر دیگر تمام کرنسیوں کو ڈالر کے ساتھ جوڑ دیا گیا، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک 1971ء تک اپنے بینکوں میں ڈالر کو زرمبادلہ کے ذخائر  کے طور پر رکھنے پر مجبور ہوئے۔ اسی سال نکسن نے منظر عام پر آ کر ڈالر کا سونے سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ دنیا کے ساتھ کیا گیا سب سے بڑا دھوکہ تھا جسے پوری دنیا کو نگلنا پڑا، اور اس وقت سے لے کر آج تک امریکہ ڈالر کے محض ایک کاغذ کے ٹکڑے کے ذریعے پوری دنیا کو لوٹ رہا ہے اور لوگوں کی تجوریوں اور جیبوں سے مسلسل ان کا مال نکال رہا ہے۔

 

2- عالمی مالیاتی ادارے، جن میں سرِ فہرست بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک ہیں، جنہوں نے پوری دنیا اور بالخصوص مسلم ممالک کی معیشت کو سودی قرضوں کے ذریعے بڑی طاقتوں کی معیشت سے نتھی کر دیا ہے۔ یہ قرضے ملکوں کو قرضوں کے ایسے بھنور میں ڈبو دیتے ہیں کہ وہ اپنے دشمنوں کے ہاتھوں میں ایک آسان شکار بن جاتے ہیں۔پھر ان قرضوں کے بدلے ایسی شرائط تھوپ دی جاتی ہیں جن کے ذریعے قرض لینے والے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جاتی ہے اور ان کے رگ و ریشے سے واقفیت حاصل کر لی جاتی ہے۔ یہ ادارے "معاشی اصلاحات" کے بہانے ان ممالک پر ایسے مالیاتی اقدامات مسلط کرتے ہیں جو درحقیقت معیشت کو تباہ کرنے اور ملک کو برباد کرنے کے اوزار ہوتے ہیں، جن میں کرنسی کی قدر میں کمی (ڈی ویلیویشن)، ٹیکسوں میں اضافہ، آزادانہ تجارت، اور بنیادی ضرورت کی اشیاء و خدمات پر دی جانے والی رعایت (سبسڈی) کا خاتمہ شامل ہے۔ ان اقدامات کا نتیجہ بڑی طاقتوں کی مکمل غلامی، ملک میں معاشی جمود، مقامی کرنسی کی قدر میں گراوٹ، انسانی حالات کی ابتری، اور غربت و مہنگائی میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے، جس سے عوام کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں اور ریاست صرف ٹیکس وصول کرنے والی مشین بن کر رہ جاتی ہے جبکہ عوامی دیکھ بھال اور فلاح کا عنصر ختم ہو جاتا ہے۔

 

3- عوامی ملکیت (ملکیتِ عامہ) کا خاتمہ اور ملکیت کو صرف انفرادی اور ریاستی ملکیت تک محدود کر دینا۔اور ساتھ ہی سرمایہ دارانہ نظریہ تملک (مالک بننے) کی ایسی بے لگام آزادی دیتا ہے جس کی وجہ سے بڑے سرمایہ دار عوامی وسائل اور مشترکہ املاک پر قابض ہو جاتے ہیں، جس سے امیر طبقے کی دولت میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور مال چند ہاتھوں میں سمٹ جاتا ہے، جبکہ باقی عوام مزید غربت کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، عوامی املاک ہی وہ اصل جڑ ہیں جس کے لیے استعماری طاقتوں کے درمیان ایک جنونی رسہ کشی جاری ہے، جو بالخصوص مسلم ممالک کے وسائل لوٹنے کے درپے ہیں اور اس کے لیے "معاشی شراکت داری" یا "معاشی تعاون" جیسے مختلف نام استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے، تو وہ بے بس و لاچار رہ جاتے ہیں اور انہیں صرف اتنا ہی مل پاتا ہے جتنا وہ اپنے ہاتھوں کی مشقت اور ماتھے کے پسینے سے کما پاتے ہیں۔

 

یہ ہے سرمایہ داری کا وہ دلدل جس کے بوجھ تلے یہ دنیا اور خاص طور پر مسلم ممالک سسک رہے ہیں، اور جس کے سائے میں زندگی آگ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ گئی ہے۔

 

لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جی توڑ کوشش کریں اور اس کی جگہ اسلام کا وہ نظام نافذ کریں جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آیا ہے۔یہی وہ نظام ہے جو تمام معاشی مسائل کو حل کرتا ہے اور ہر مشکل کا خاتمہ کرتا ہے۔ یہ نظام شرعی احکامات کے ذریعے دولت کو اس طرح تقسیم کرتا ہے کہ اس کے فوائد ہر فرد تک پہنچیں، اور یہ دولت کو مٹھی بھر لوگوں کے قبضے میں جانے سے روکتا ہے جو انسانی تقدیروں سے کھیلتے ہیں۔ یہ نظام عوامی ملکیت کو اس کے صحیح مقام پر بحال کرتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «النَّاسُ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ» "تمام انسان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراہ گاہ اور آگ (توانائی)"۔چنانچہ ریاست ان وسائل کی نگرانی کرتی ہے تاکہ تمام لوگ فراہم کردہ خدمات کے ذریعے ان کی خیر و برکت کو محسوس کر سکیں، اور ریاست ان وسائل کی طرف بڑھنے والے ہر ظالم ہاتھ کو روکنے کا کام کرتی ہے۔

اسی طرح سود (ربا) کے بارے میں اسلام کا موقف بالکل واضح ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا

 

"اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام قرار دیا" ( سورۃ البقرۃ: آیت 275) 

 

 

اسلام نے سود کو قطعی طور پر حرام قرار دے کر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے، لہٰذا ان بین الاقوامی اداروں کے ساتھ لین دین کرنا حرام ہے جو اس برائی کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں اور اسے دنیا کے کونے کونے میں پھیلا رہے ہیں۔

 

جہاں تک اسلامی مالیاتی نظام کا تعلق ہے، تو وہ ڈالر سے مکمل طور پر جدا ہے اور اس کی بنیاد سونے اور چاندی پر ہے، جس سے قیمتوں میں استحکام رہتا ہے اور لوگوں کی دولت محفوظ رہتی ہے۔

 

اسلام کی خیر و برکت، عدل اور لوگوں پر اس کی رحمت کا بہترین ثبوت وہ حالات ہیں جن میں امتِ مسلمہ خلافت کے سائے میں رہتی تھی۔حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں ریاست کا خزانہ مال سے بھر گیا تھا اور مسلم ممالک میں خوشحالی عام ہو گئی تھی۔ خلافت کے اعلان کرنے والے پکارتے تھے کہ جس پر قرض ہو یا جو شادی کرنا چاہتا ہو وہ مسلمانوں کے بیت المال سے رجوع کرے، یہاں تک کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر غلہ بکھیرا جاتا تھا تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ مسلمانوں کے ملک میں کوئی پرندہ بھوکا رہا، حالانکہ اس وقت ان کے وسائل آج کے خزانوں کے دسویں حصے کے برابر بھی نہ تھے۔

 

پس آج کی دنیا کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ اس صحیح نظام سے دوری ہے جو ان وسائل کی منصفانہ تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ اسلام کے احکامات وہ کٹھ پتلی حکومتیں کبھی نافذ نہیں کریں گی جنہوں نے اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ خیانت کی ہے۔بلکہ ان کا نفاذ صرف وہ دوسری خلافتِ راشدہ ہی کرے گی جس کے قیام کے لیے حزب التحریر دن رات کوشاں ہے۔ تو آج کے وہ انصار کہاں ہیں جو اس کے قیام کے لیے مدد کریں تاکہ وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کر سکیں؟

Last modified onہفتہ, 21 فروری 2026 02:15

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک