الخميس، 23 رمضان 1447| 2026/03/12
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

کیا کرغیزستان میں ایک اور بغاوت ہو رہی ہے؟

 

 

تحریر: استاد ایلڈر خمزین

 

(ترجمہ)

 

10 فروری 2026 کو کرغیز صدر  جباروف کی ویب سائٹ پر یہ اطلاع دی گئی: "کامچی بیک تاشئیف کو نائب وزیر اعظم اور قومی سلامتی کی ریاستی کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ کرغیزستان کے  صدر جباروف نے ایک فرمان پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دستورِ کرغیزستان کی دفعہ 70، حصہ 1، پیراگراف 4 اور دفعہ 71 کے مطابق کامچی بیک کیدیرشائیویچ تاشئیف کو نائب سربراہ کابینہ اور قومی سلامتی کی ریاستی کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے"۔

 

کامچی بیک تاشئیف صدر جباروف کے دیرینہ دوست ہیں۔ ان دونوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک ساتھ 2010 میں کیا تھا، اور وہ تاشئیف ہی تھے جنہوں نے ملک میں ہونے والے گزشتہ انقلاب کے دوران 2020 میں جباروف کو جیل سے نکالنے میں مدد کی تھی۔ جباروف نے 2017 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن انہیں گرفتار کر لیا گیا اور دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جباروف جنوری 2021 میں صدر بنے اور انہوں نے فوراً ہی اپنے دوست تاشئیف کو قومی سلامتی کی ریاستی کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔

 

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران، ان دونوں نے کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا ہے۔ تاشئیف کا تعلق ملک کے جنوبی قبیلے سے ہے، جبکہ جباروف کا تعلق شمالی قبیلے سے ہے۔ صدر جباروف اقتدار کا ظاہری چہرہ ہیں، جبکہ تاشئیف اس کا طاقتور بازو رہے ہیں۔ جب جباروف سیاسی اور قانونی معاملات میں مصروف رہے، تو تاشئیف نے اندرونی طور پر تمام مشکل کام سنبھالے، جن میں بدعنوانی کا خاتمہ، تاجروں، اپوزیشن اور مجرموں کی گرفتاریاں وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے ملک کو ناپسندیدہ اور بے لگام عناصر سے پاک کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ صدر کے بعد ملک کی سب سے بااثر شخصیت بن گئے۔

 

کرغیزستان اب بھی روس کے زیرِ اثر ہے، کیونکہ اس کی معیشت، تجارت، توانائی اور محنت کشوں کی ہجرت روس ہی کے دائرہ اثر میں ہے۔ جہاں تک سیکیورٹی فورسز کا تعلق ہے، کرغیزستان نے گزشتہ پانچ سالوں میں اپنے حفاظتی اداروں، خاص طور پر قومی سلامتی کی ریاستی کمیٹی کے حجم میں کئی گنا اضافہ کیا ہے اور اسے وسیع اختیارات دیے ہیں۔ یہ سب کچھ روس کی مالی امداد اور اس کی قیادت میں ہوا ہے۔ کرغیزستان کریملن کے منصوبوں جیسے کہ 'اجتماعی سلامتی کے معاہدے کی تنظیم' (CSTO)، 'یوریشین اکنامک یونین' اور 'شنگھائی تعاون تنظیم' (SCO) میں بھی شریک ہے۔

 

یقیناً، ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے: صدر جباروف نے اپنے لیے اتنی اہمیت رکھنے والی شخصیت کو کیوں الگ کر دیا، جبکہ وہ اب بظاہر سہارے کے بغیر ہیں؟ اور کسی نئے انقلاب کی صورت میں اب ان کی حفاظت کون کرے گا؟ کیونکہ آخر کار کرغیزستان کے عوام جلد مشتعل ہونے والے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی تاریخ رکھتے ہیں، جیسا کہ 24 مارچ 2005 کے ٹیولپ انقلاب، 7 اپریل 2010 کے انقلاب، اور 5-6 اکتوبر 2020 کے واقعات میں دیکھا گیا۔

 

جباروف نے تاشئیف کو اس وقت عہدے سے ہٹایا جب وہ جرمنی میں زیرِ علاج تھے۔ کرغیزستان واپسی پر تاشئیف کو گرفتار نہیں کیا گیا، جیسا کہ ایسے ممالک میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مزید برآں، تاشئیف نے اس فیصلے کو انتہائی تحمل اور خاموشی سے تسلیم کیا اور اپنے خطاب میں لوگوں سے ملک کے امن و استحکام کی خاطر "کوئی بھی غیر قانونی کام نہ کرنے" کی اپیل کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سارا عمل پہلے سے طے شدہ تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ماسکو، جو اس جوڑی کی نگرانی کرتا ہے، مکمل طور پر خاموش رہا اور اس اقدام پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

 

تاشئیف کی برطرفی کے فوراً بعد، جباروف نے قومی سلامتی کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کے احکامات جاری کر دیے۔ قومی سلامتی کے ادارے کے ماتحت کام کرنے والے بارڈر گارڈز (سرحدی محافظوں) اور نویں سروس کو اسٹیٹ سیکیورٹی سروس (ریاستی حفاظتی سروس) میں منتقل کر دیا گیا، تاکہ وہ براہِ راست صدر کے ماتحت ہو جائیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ تمام طاقتیں جو تاشئیف کے زیرِ استعمال تھیں، بغیر کسی مزاحمت کے صدر کے براہِ راست کنٹرول میں منتقل کر دی گئیں۔ عوام میں ایک غیر معمولی خاموشی چھائی ہوئی ہے، نہ تو کوئی بڑے پیمانے پر جھڑپیں ہو رہی ہیں اور نہ ہی کسی بدامنی یا انقلاب کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

 

یہ پورا عمل جنوری 2027 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل، نومبر 2025 میں جباروف نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا تھا اور قبل از وقت انتخابات کرائے تھے، تاکہ 2027 کے انتخابات سے قبل ایک ایسی پارلیمنٹ تشکیل دی جا سکے جو زیادہ سے زیادہ وفادار ہو، حالانکہ اگلے پارلیمانی انتخابات نومبر 2026 تک شیڈول نہیں تھے۔ جہاں تک خود ان انتخابات کا تعلق ہے، جباروف جنوری 2021 میں 2010 کے پرانے دستور کے تحت منتخب ہوئے تھے، جس میں دوبارہ انتخاب کے حق کے بغیر چھ سالہ صدارتی مدت مقرر تھی۔ جباروف اب دستور میں ترمیم کرنے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد قانون میں ایسی تبدیلی لانا ہے جو انہیں پانچ پانچ سال کی دو مدتوں کے لیے صدارتی امیدوار بننے کی اجازت دے سکے۔ اس طرح کے ممالک میں یہ ایک عام طریقہ کار ہے، اور اگر کوئی شخص طاقتور ہو اور اسے عوامی حمایت حاصل ہو، تو وہ تاحیات برسرِ اقتدار رہتا ہے، جیسا کہ تاجکستان، بیلاروس، روس اور دیگر ممالک میں دیکھا جا سکتا ہے۔

 

کرغیزستان ایک طویل عرصے تک لبرل رہا، لیکن تاشئیف اور جباروف کی جوڑی کے برسرِ اقتدار آنے سے وہاں کی صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کرغیزستان میں اب ایک آمرانہ نظام قائم ہو چکا ہے۔ کرغیزستان بالآخر لبرل جمہوری ممالک کی صفوں سے نکل کر وسطی ایشیا کی ان دیگر ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں تمام تر طاقت ایک ہی شخص کے ہاتھ میں مرکوز ہوتی ہے اور قوانین اس کے مقاصد اور خواہشات کے مطابق ڈھالے جاتے ہیں۔

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے رکن

 

 

 

Last modified onبدھ, 11 مارچ 2026 20:12

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک